TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

قتل اور دوسرے جرائم کے مسائل اور خونوں کے احکام - قتل اور دوسرے جرائم کے مسائل اور خونوں کے احکام - Book 109 of Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Book 109 of Musnad Ahmad, with 38 chapters and 181 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.

181 Hadith · 38 Chapters
گھریلو سانپوں کو مارنے کی ممانعت کا بیان، الا یہ کہ پہلے ان کو متنبہ کیا جائے، مگر چھوٹی دم والا موذی سانپ اور وہ سانپ جس کی پشت پر دو دھاریاں ہوں، ان دونوں کو ہر صورت میں قتل کیا جائے گا
۔ (۶۵۰۰)۔ عَنْ اَبِیْ السَّائِبِ أَنَّہُ قَالَ: أَتَیْتُ أَبَا سَعِیْدٍ الْخُدْرِیَّ فَبَیْنَمَا أَنَا جَالِسٌ عِنْدَہُ إِذْ سَمِعْتُ تَحْتَ سَرِیْرِہِ تَحْرِیْکَ شَیْئٍ فَنَظَرْتُ فَاِذَا حَیَّۃٌ فَقُمْتُ، فَقَالَ أَبُوْ سَعِیْدٍ: مَا لَکَ؟ قُلْتُ: حَیَّۃٌ ھَاھُنَا، فَقَالَ: فَتُرِیْدُ مَاذَا؟ قُلْتُ: أُرِیْدُ قَتْلَہَا، فَاَشَارَ لِیْ إِلٰی بَیْتٍ فِیْ دَارِہِ تِلْقَائَ بَیْتِہِ، فَقَالَ: اِنَّ ابْنَ عَمٍّ لِیْ کَانَ فِیْ ھٰذَا الْبَیْتِ فَلَمَّا کَانَ یَوْمُ الْاَحْزَابِ اسْتَأْذَنَ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم إِلٰی أَھْلِہِ وَکَانَ حَدِیْثَ عَہْدٍ بِعُرْسٍ فَاَذِنَ لَہُ وَأَمَرَہُ أَنْ یَتَأَھَّبَ بِسَلَاحِہِ مَعَہُ فَأَتٰی دَارَہُ فَوَجَدَ اِمْرَ أَتَہُ قَائِمَۃً عَلٰی بَابِ الْبَیْتِ فَأَشَارَ اِلَیْہَا بِالرُّمْحِ فَقَالَتْ: لَا تَعْجَلْ حَتّٰی تَنْظُرَ مَا اَخْرَجَنِیْ، فَدَخَلَ الْبَیْتَ فَاِذَا حَیَّۃٌ مُنْکَرَۃٌ فَطَعَنَہَا بِالرُّمْحِ ثُمَّ خَرَجَ بِہَا فِی الرُّمْحِ تَرْتَکِضُ، ثُمَّ قَالَ: لَا اَدْرِیْ أَیُّہُمَا کَانَ اَسْرَعَ مَوْتًا، اَلرَّجُلُ أَوِ الْحَیَّۃُ، فَأَتٰی قَوْمُہُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالُوْا: ادْعُ اللّٰہَ اَنْ یَرُدَّ صَاحِبَنَا، قَالَ: ((اسْتَغْفِرُوْا لِصَاحِبِکُمْ۔)) مَرَّتَیْنِ، ثُمَّ قَالَ: ((اِنَّ نَفَرًا مِنَ الْجِنِّ اَسْلَمُوْا فَاِذَا رَأَیْتُمْ اَحَدًا مِنْہُمْ فَحَذِّرُوْہُ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ثُمَّ اِنْ بَدَا لَکُمْ بَعْدُ أَنْ تَقْتُلُوْہُ فَاقْتُلُوْہُ بَعْدَ الثَّالِثَۃِ۔)) (مسند احمد:۱۱۳۸۹)
۔ ابو سائب کہتے ہیں: میںسیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس آیا اور ان کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ میں نے ان کی چارپائی کے نیچے کسی چیز کی حرکت محسوس کی،میں نے دیکھا کہ ایک سانپ تھا، پس میں کھڑا ہو گیا، سیدناابو سعید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: کیا بات ہے؟ میں نے کہا کہ یہاں سانپ ہے، انھوں نے کہا:کیا ارادہے؟میں نے کہا: اس کو مار دینے کا۔ انہوں نے اپنے گھر کے سامنے ایک گھر کی طرف اشارہ کیا اور کہا: میرا ایک بھتیجا اس گھر میں رہائش پذیر تھا، جب وہ غزوئہ احزاب سے واپس آیا تو اس نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے اپنے گھر آنے کی اجازت طلب کی، اس کی نئی نئی شادیہوئی تھی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اسے اجازت دے دی اور یہ حکم دیا کہ مسلح ہو کر جانا، پس جب وہ اپنے گھر آیا تو دیکھا کہ اس کی بیوی دروازے پر کھڑی ہے، اس نے غیرت کے مارے نیزہ اس کی طرف سیدھا کیا، لیکن اتنے میں اس نے کہا: جلد بازی میں نہ پڑ، پہلے وہ چیز دیکھ جس نے مجھے نکال دیا،جب وہ گھر کے اندر داخل ہوا تو اس نے دیکھا تو ایک مکروہ قسم کا سانپ تھا، اس نوجوان نے اس کو نیزہ مارا اور نیزے کے ساتھ اس کو باہر نکالنا چاہا، وہ سانپ تڑپ رہا تھا، میں نہیں جانتا کہ بندہ پہلے مرے گا یا سانپ۔ پھر اس کی قوم کے لوگ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس حاضر ہوئے اور عرض کی: اللہ تعالی سے دعا کیجئے کہ وہ ہمارا ساتھی واپس لوٹا دے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے دو مرتبہ فرمایا: اپنے ساتھی کے لئے مغفرت طلب کرو۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جنوں میں سے کچھ افراد اسلام لا چکے ہیں، جب تم انہیں دیکھو تو انہیں تین مرتبہ یعنی تین دن تک ڈرائو آگاہ کرو۔ اگر پھر بھی نظر آئیں تو تین دن کے بعد اگر انہیں مارانا چاہو تو مار سکتے ہو۔
Takhreej
(۶۵۰۰) تخریج: أخرجہ بنحوہ مسلم: ۲۲۳۶، وابوداود!: ۵۲۵۷(انظر: ۱۱۳۶۹)
Explanation
فوائد:… یہ سانپ دراصل جِن تھا۔ مطلبیہ ہے بہت جلد سانپ مرگیا اور وہ نوجوان بھی فوت ہوگیا۔ ان دونوں کے بہت جلد مرنے کی صراحت صحیح مسلم میں ہے۔ زیر مطالعہ حدیث سے بھییہی بات سمجھ آرہی ہے۔ (عبداللہ رفیق)
6500
Sahih
گھریلو سانپوں کو مارنے کی ممانعت کا بیان، الا یہ کہ پہلے ان کو متنبہ کیا جائے، مگر چھوٹی دم والا موذی سانپ اور وہ سانپ جس کی پشت پر دو دھاریاں ہوں، ان دونوں کو ہر صورت میں قتل کیا جائے گا
۔ (۶۵۰۱)۔ (وَمِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) عَنْ صَیْفِیٍّ عَنْ اَبِیْ سَعِیْدٍ الْخُدْرِیِّ قَالَ: وَجَدَ رَجُلٌ فِیْ مَنْزِلِہِ حَیَّۃً فَأَخَذَ رُمْحَہَ فَشَکَّہَا فِیْہِ فَلَمْ تَمُتِ الْحَیَّۃُ حَتّٰی مَاتَ الرَّجُلُ، فَأُخْبِرَ بِہِ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: ((اِنَّ مَعَکُمْ عَوَامِرَ فَاِذَا رَاَیْتُمْ مِنْہُمْ شَیْئًا فَحَرِّجُوْا عَلَیْہِ ثَلَاثًا، فَاِنْ رَأَیْتُمُوْہُ بَعْدَ ذَالِکَ فَاقْتُلُوْہُ۔)) (مسند احمد: ۱۱۲۳۳)
۔ (دوسری سند) سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے اپنے گھر میں سانپ دیکھا اور اس نے نیزہ لے کر اس میں پیوست کر دیا، تو سانپ نہ مرا، حتیٰ کہ وہ بندہ فوت ہو گیا، جب نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو اس واقعہ کی خبر دی گئی تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تمہارے ساتھ گھروں میں جن بھی آباد ہیں، اس لیے جب تم ان میں سے کوئی چیز دیکھو تو تین دن تک ان پر تنگی پیدا کرو، اگر تم تین دن کے بعد بھی ان کو دیکھو توپھر انہیںقتل کر دو۔
Takhreej
(۶۵۰۱) تخریج: حدیث صحیح، وھذا اسناد منقطع، وانظر الحدیث بالطریق الاول
Explanation
فوائد:… ان احادیث ِ مبارکہ میں گھریلوں سانپوںکو قتل سے منع کیا گیا ہے، صرف دو قسم کے سانپوںکو مستثنی کیا گیا،یعنی ان کو ہر صورت میں قتل کر دیا جائے۔ صحیح مسلم کے الفاظ یہ ہیں: آپa نے فرمایا: ((فَإِذَا رَأَیْتُمْ مِنْہُمْ شَیْئًا فَآذِنُوہُ ثَلَاثَۃَ أَیَّامٍ فَإِنْ بَدَا لَکُمْ بَعْدَ ذَلِکَ فَاقْتُلُوہُ فَإِنَّمَا ہُوَ شَیْطَانٌ۔))… ’’جب تم ان گھریلو سانپوں میں سے کوئی دیکھو تو تین دنوں تک اس کو آگاہ کرو، پس اگر وہ اس مدت کے بعد بھی نظر آ جائے تو اس کو قتل کر دو، کیونکہ وہ شیطان ہے۔‘‘ صحیح مسلم کی ایک روایت کے الفاظ یہ ہیں: آپa نے فرمایا: ((إِنَّ لِہَذِہِ الْبُیُوتِ عَوَامِرَ فَإِذَا رَأَیْتُمْ شَیْئًا مِنْہَا فَحَرِّجُوا عَلَیْہَا ثَلَاثًا فَإِنْ ذَہَبَ وَإِلَّا فَاقْتُلُوہُ فَإِنَّہُ کَافِرٌ۔))… ’’بیشک ان گھروں میں رہنے والے جن بھیہوتے ہیں، لہذا جب تم ان میں سے کسی کو دیکھو تو تین (دنوں) تک ان پر تنگی کرو، اگر وہ چلا جائے تو ٹھیک، وگرنہ اس کو قتل کر دو، کیونکہ وہ کافر ہے۔‘‘ گھروں میںرہنے والے سانپ عموماً گھر والوں کو نقصان نہیں پہنچاتے، بچوں تک کو نہیں کاٹتے، ان کے بارے میں قتل نہ کرنے کا حکم اس بنا پر ہے کہ شایدیہ جن کی کوئی قسم ہوں اور جنوں کو مارنا جائز نہیں، نیز قتل کی وجہ ایذا ہے، جب وہ ہمیں کچھ نہیں کہتے تو ہم انہیں کیوں کچھ کہیں، البتہ آبادی سے باہر رہنے والے سانپ موذی ہوتے ہیں، لہذا انہیں فوراً مار دینا چاہیے۔ تنگی کرنے سے اور آگاہ کرنے سے مراد یہ ہے کہ اس کو کہا جائے کہ تیرے لیے ہمارے ذمہ تنگی ہے ، اگر تو نہ گیایا واپس آ گیا تو ہم تیرا پیچھا کر کے یا تجھے دھتکار کر یا تجھے قتل کر کے تجھ پر تنگی کر دیں گے، مزید اس قسم کا انداز اختیار کر کے اس کو آگاہ کیا جا سکتاہے۔ اگر ہم اپنے معاشرے کے افراد کی طبع اور جلد بازی کو دیکھیں تو ان احادیث ِ مبارکہ پر عمل کرناخاصا مشکل نظر آتا ہے، کیونکہ آجکل اگر کسی گھر میں سانپ نظر آ جائے تو گھر کے سارے افراد اس وقت تک بے سکون رہیں گے اور اس گھر میں چین سے نہ بیٹھیں گے، نہ سوئیں گے، جب تک اس سانپ کو قتل نہیں کر دیں گے۔ بہرحال اگر آپa کے ارشادات پر کامل ایمان ہو تو ایسے احکام پر عمل کرنا آسان ہو جاتا ہے، اصل محافظ تو اللہ تعالی ہی ہے، دیکھیں حدیث نمبر (۶۵۰۰) کے مطابق جس نوجوان نے سانپ کو سانپ سمجھ کر مارنا چاہا، وہ خود بھی مر گیا، کیونکہ وہ سانپ دراصل جن تھا۔
6501
Sahih
چھپکلی کو قتل کرنے کے مستحب ہونے اور اس کو مارنے والے کے اجر و ثواب کا بیان
۔ (۶۵۰۲)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنْ قَتَلَ الْوَزَغَ فِی الضَّرْبَۃِ الْأُوْلٰی فَلَہُ کَذَا وَکَذَا مِنْ حَسَنَۃٍ وَمَنْ قَتَلَہُ فِی الثَّانِیَۃِ فَلَہُ کَذَا وَکَذَا مِنْ حَسَنَۃٍ، وَمَنْ قَتَلَہُ فِیْ الثَّالِثَۃِ فَلَہُ کَذَا وَکَذَا۔)) قَالَ سُہَیْلٌ: اَلْأُوْلٰی أَکْثَرُ۔ (مسند احمد: ۸۶۴۴)
۔ سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس نے چھپکلی کو پہلی ضرب میں مارا، اسے اتنی اتنی نیکیاں ملیں گی، جس نے دوسری ضرب سے مارا اسے اتنی اتنی ملیں گی اور جس نے تیسری ضرب میں مارا، اسے اتنی اتنی ملیں گی۔ سہیل کہتے ہیں: پہلی ضرب زیادہ اجر وثواب والی ہے۔
Takhreej
(۶۵۰۲) تخریج: أخرجہ مسلم: ۲۲۴۰(انظر: ۸۶۵۹)
Explanation
فوائد:… صحیح مسلم کی ایک روایت میں پہلی ضرب میں مارنے والے کے لیے سو نیکیوں اور ایک روایت میں ستر نیکیوں کا ذکر ہے، دوسرییا تیسری ضرب میں مارنے والے کے لیے اس سے کم ثواب ہو گا۔
6502
Sahih
چھپکلی کو قتل کرنے کے مستحب ہونے اور اس کو مارنے والے کے اجر و ثواب کا بیان
۔ (۶۵۰۳)۔ عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدِ بْنِ اَبِیْ وَقَّاصٍ عَنْ اَبِیْہِ قَالَ: أَمَرَ رَسُوْلُ اللّٰہِ بِقَتْلِ الْوَزَغِ وَسَمَّاہُ فُوَیْسِقًا۔ (مسند احمد: ۱۵۲۳)
۔ سیدنا سعد بن ابی وقاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے چھپکلی کو قتل کرنے کا حکم دیا ہے اور اسے موذی اور فاسق قرار دیا ہے۔
Takhreej
(۶۵۰۳) تخریج: أخرجہ مسلم: ۲۲۳۸(انظر: ۱۵۲۳)
Explanation
فوائد:… چونکہ دوسرے حشرات کی بہ نسبت چھپکلی زیاد ہ مضر اور تکلیف دہ ہے، اس لیے اس کو فاسق قرار دیا گیا ہے۔
6503
Sahih
چھپکلی کو قتل کرنے کے مستحب ہونے اور اس کو مارنے والے کے اجر و ثواب کا بیان
۔ (۶۵۰۴)۔عَنْ سَائِبَۃَ مَوْالَاۃٍ لِلْفَاکِہِ بْنِ الْمُغِیْرَۃِ أَنَّھَا دَخَلَتْ عَلٰی عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا فَرَاَتْ فِیْ بَیْتِہَا رُمْحًا مَوْضُوْعًا، فَقَالَتْ: یَا أُمَّ الْمُؤْمِنِیْنَ! مَاذَا تَصْنَعِیْنَ بِہٰذَا الرُّمْحِ؟ قَالَتْ: ھٰذَا لِھٰذِہِ الْأَوْزَاغِ، نَقْتُلُہُنَّ بِہِ فَاِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حَدَّثَنَا أَنَّ اِبْرَاہِیْمَ عَلَیْہِ الصَّلَاۃُ وَالسَّلَامُ حِیْنَ أُلْقِیَ فِیْ النَّارِ لَمْ تَکُنْ فِی الْأَرْضِ دَابَّۃٌ اِلَّا تُطْفِیئُ النَّارَعَنْہُ غَیْرَ الْوَزَغِ کَانَ یَنْفَخُ عَلَیْہِ فَأَمَرَنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِقَتْلِہِ۔ (مسند احمد: ۲۵۲۸۹)
۔ فاکہ بن مغیرہ کی آزاد کردہ لونڈی سائبہ سے مروی ہے کہ وہ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے پاس گئی اور ان کے گھر میں ایک نیزہ دیکھا اور اس کے بارے میں پوچھا: اے ام المؤمنین! آپ اس نیزے کو کیا کرتی ہیں؟ انھوں نے کہا:ہم اس کے ساتھ یہ چھپکلیاں مارتی ہیں، کیونکہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمیں بیان کیا ہے کہ جب ابراہیم علیہ السلام کو آگ میں ڈالا گیا تو روئے زمین کا ہر جانور آگ بجھاتا تھا، ما سوائے اس چھپکلی کے کہ یہ آگ پر پھونک مارتی تھی، اس لئے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمیں اس کے قتل کرنے کا حکم دیا۔
Takhreej
(۶۵۰۴) تخریج: الأمر بقتل الوزغ، وانہ کان ینفخ علی ابراہیمGصحیح لغیرہ، وھذا اسناد ضعیف۔ أخرجہ ابن ماجہ: ۳۲۳۱ (انظر: ۲۴۷۸۰)
Explanation
فوائد:… چھپکلی کی پھونک آتش نمرود میں کوئی اشتعال پیدا نہ کر سکتی تھی، اس سے اس کی بدی اور خبث ِ باطن کا اظہار ہو رہا ہے۔
6504
Zaeef
چھپکلی کو قتل کرنے کے مستحب ہونے اور اس کو مارنے والے کے اجر و ثواب کا بیان
۔ (۶۵۰۵)۔ عَنْ عُرْوَۃَ أَنَّ عَائِشَۃَ أَخْبَرَتْہُ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ لِلْوَزَغِ: ((فُوَیْسِقٌ۔)) وَلَمْ أَسْمَعْہُ أَمَرَ بِقَتْلِہِ۔ (مسند احمد: ۲۵۰۷۵)
۔ عروہ بیان کرتے ہیں کہ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے اس کو بتایا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے چھپکلی کو موذی اور فاسق جانور قرار دیا،لیکن انھوں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے اس قسم کی حدیث نہیں سنی کہ جس میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کو قتل کرنے کا حکم دیا ہو۔
Takhreej
(۶۵۰۵) تخریج: أخرجہ البخاری: ۱۸۳۱، ۳۳۰۶، ومسلم: ۲۲۳۹ (انظر: ۲۴۵۶۸)
Explanation
فوائد:… چھپکلی کو قتل کرنے کی روایت سیدہ عائشہ c سمیت کئی صحابہ سے مروی ہے، ممکن ہے سیدہ کی مراد یہ ہو کہ انھوں نے بنفس نفیس نبی کریمa کو ایسے فرماتے ہوئے نہیں سنا۔
6505
Sahih
چھپکلی کو قتل کرنے کے مستحب ہونے اور اس کو مارنے والے کے اجر و ثواب کا بیان
۔ (۶۵۰۶)۔ عَنْ نَافِعٍ مَوْلَی ابْنِ عُمَرَ أَنَّ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا اَخْبَرَتْہُ أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اُقْتُلُوْا الْوَزَغَ فِاِنَّہُ کَانَ یَنْفَخُ عَلٰی اِبْرَاھِیْمَ النَّارَ۔)) قَالَ: وَکَانَتْ عَائِشَۃُ تَقْتُلُہُنَّ۔ (مسند احمد: ۲۶۱۶۲)
۔ مولائے ابن عمر امام نافع سے مروی ہے کہ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: چھپکلی کو قتل کر دیا کرو، کیونکہیہ ابراہیم علیہ السلام پر جلائی گئی آگ پر پھونک مارتی تھی۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا خود بھی چھپکلیوں کو مار دیا کرتی تھیں۔
Takhreej
(۶۵۰۶) تخریج: حدیث صحیح (انظر: ۲۵۶۴۳)
6506
Sahih
چھپکلی کو قتل کرنے کے مستحب ہونے اور اس کو مارنے والے کے اجر و ثواب کا بیان
۔ (۶۵۰۷)۔ عَنِ ابْنِ الْمُسَیَّبِ اَنَّ اُمَّ شَرِیْکٍ أَخْبَرَتْہُ أَنَّہَا اسْتَأْمَرَتِ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَتْلَ الْوَزَغَاتِ فَأَمَرَھَا بِقَتْلِ الْوَزَغَاتِ۔ (مسند احمد: ۲۷۹۰۹)
۔ سعید بن مسیب بیان کرتے ہیں کہ سیدہ ام شریک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا بیان کرتی ہیں کہ انھوں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے چھپکلیوں کو قتل کرنے کا حکم دریافت کیا، تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے انہیں چھپکلیاں مارنے کا حکم دیا۔
Takhreej
(۶۵۰۷) تخریج: أخرجہ البخاری: ۳۳۵۹، ومسلم: ۲۲۳۷ (انظر: ۲۷۳۶۵)
Explanation
فوائد:… چھپکلی زہریلا جانور ہے، اگرکسی کھانے پینے کی چیز میں گر جائے تو اسے زہریلا کر دیتا ہے، حتی کہ موت کا سبب بھی سکتا ہے، لہذا اس کو مارنے کا حکم ہے۔
6507
Sahih
کتوں کو قتل کرنے اور انہیں پالنے کا بیان کتوں کو قتل کرنے کے حکم اور اس کے سبب کا بیان
۔ (۶۵۰۸)۔ عَنْ اَبِیْ سَلَمَۃَ عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا قَالَتْ: وَاعَدَ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جِبْرِیْلُ فِیْ سَاعَۃٍ أَنْ یَأْتِیَہُ فِیْہَا فَرَاثَ عَلَیْہِ أَنْ یَأْتِیَہُ فِیْہَا فَخَرَجَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَوَجَدَہُ بِالْبَابِ قَائِمًا، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِنِّی انْتَظَرْتُکَ لِمِیْعَادِکَ۔ فَقَالَ: إِنَّ فِی الْبَیْتِ کَلْبًا وَلَا نَدْخُلُ بَیْتًا فِیْہِ کَلْبٌ وَلَا صُوْرَۃٌ۔)) وَکَانَ تَحْتَ سَرِیْرِ عَائِشَۃَ جِرْوُ کَلْبٍ فَأَمَرَ بِہِ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَأُخْرِجَ ثُمَّ أَمَرَ بِالْکِلَابِ حِیْنَ أَصْبَحَ فَقُتِلَتْ۔ (مسند احمد: ۲۵۶۱۳)
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے کہ جبریل علیہ السلام نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے ایک مقررہ وقت میں آنے کا وعدہ کیا، پھر انہوں نے تاخیر کر دی، جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم باہر نکلے تو جبریل علیہ السلام باہر دروازے پر کھڑے تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان سے فرمایا: میں توآپ کے وعدے کے مطابق آپ کا انتظار کرتا رہا، سیدنا جبریل علیہ السلام نے کہا: گھر میں ایک کتا ہے اور جس گھر میں کتا اورتصویر ہوں،ہم اس میں داخل نہیںہوتے۔ دراصل سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کی چار پائی کے نیچے کتے کا ایک پلا تھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کو باہر نکالنے کا حکم دیا، پس اس کو نکال دیا گیا، اور پھر جب صبح ہوئی تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کتوں کو مار ڈالنے کا حکم دے دیا اور ان کو قتل کیا جانے لگا۔
Takhreej
(۶۵۰۸) تخریج: أخرجہ مسلم: ۲۱۰۴ دون امر قتل الکلاب، وامرہV بقتل الکلاب ورد من حدیث میمونۃ عند مسلم (انظر: ۲۵۱۰۰)
Explanation
فوائد:… اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جہاں تصویر اور کتا ہو اس گھر میں فرشتہ نہیں آتا، آج مسلمانوں کے گھروں میں ان دونوں چیزوں کی بھرمار ہے۔ حفاظت، شکار وغیرہ کی ضرورت کے تحت کتا رکھنا اس سے مستثنیٰ ہیں۔ شاید اسی وجہ سے آج گھروں سے برکت ورحمت ختم ہوتی جارہی ہے۔ رحمت کے فرشتے داخل نہیں ہوتے، وگرنہ کاتب، محافظ اور موت کے فرشتے تو ہر گھر میں جاتے ہیں۔ تصویر سے مراد ذی روح چیز کی تصویر ہے، خواہ وہ آدمی کی ہو یا حیوان کی، اس سے وہ تصویریں مستثنی ہیں، جو ناگزیر مقاصد کے لیے ہوں اور جن کے بغیر کوئی چارۂ کار نہ ہو، مثلا پاسپورٹ، شناختی کارڈ، لائسنس وغیرہ کے لیے، لیکن بہتر یہ ہے کہ ان کو بھی محفوظ یا بند جگہ میں رکھا جائے اور آویزاں نہ کیا جائے۔
6508
Sahih
کتوں کو قتل کرنے اور انہیں پالنے کا بیان کتوں کو قتل کرنے کے حکم اور اس کے سبب کا بیان
۔ (۶۵۰۹)۔ عَنْ اَبِیْ رَافِعٍ مَوْلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((یَا أَبَا رَافِعٍ! اُقْتُلْ کُلَّ کَلْبٍ بِالْمَدِیْنَۃِ۔)) قَالَ: فَوَجَدْتُ نِسْوَۃً مِنَ الْأَنْصَارِ بِالصَّوْرَیْنِ مِنَ الْبَقِیْعِ لَھُنَّ کَلْبٌ فَقُلْنَ: یَا أَبَا رَافِعٍ! اِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَدْ أَغْزٰی رِجَالَنَا وَإِنَّ ھٰذَا الْکَلْبَ یَمْنَعُنَا بَعْدَ اللّٰہِ، وَاللّٰہِ! مَا یَسْتَطِیْعُ أَحَدٌ أَنْ یَأْتِیَنَا حَتّٰی تَقُوْمَ امْرَأَۃٌ مِنَّا فَتَحُوْلُ بَیْنَہُ وَبَیْنَہُ فَاذْکُرْہُ لِلنَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، فَذَکَرَہُ أَبُوْ رَافَعٍ لِلنَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: ((یَا أَبَا رَافِعٍ! اُقْتُلْہُ فَاِنَّمَا یَمْنَعُہُنَّ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ۔)) (مسند احمد: ۲۴۳۶۷)
۔ مولائے رسول سیدنا ابو رافع ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے ابو رافع! مدینہ کے ہر کتے کو مارڈال۔ وہ کہتے ہیں: میں نے بقیع کے قریب صورین جگہ میں چند انصاری عورتوں کو پایا،ان کے ساتھ ایک کتا تھا، انھوں نے کہا: اے ابو رافع! رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمارے مردوں کو جنگ میں بھیج رکھا ہے اور اللہ کے بعد اب یہ کتا ہماری حفاظت کرتا ہے، اللہ کی قسم! اس کتے کے خوف کی وجہ سے کوئی مرد ہم تک اس وقت تک آنے کی کوئی جرأت نہیں کرتا، جب تک ہم میں کوئی اٹھ کر اس کتے کو پیچھے نہ ہٹا دے، تم جاؤ اور نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ ساری بات بتلاؤ، چنانچہ سیدنا ابو رافع ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو ان کی بات بتلائی، لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے ابو رافع! تو اس کتے کو قتل کر دے، اللہ تعالی خود ان خواتین کی حفاظت کرے گا۔
Takhreej
(۶۵۰۹) تخریج: اصل الحدیث صحیح لغیرہ بغیر ھذہ السیاقۃ کما سیأتی بالرقم الآتی، وھذا اسناد ضعیف، الفضل بن عبید اللہ لم یدرک جدہ ابا رافع، والعباس بن ابی خداش من رجال ’’التعجیل‘‘۔ أخرجہ البزار: ۳۸۶۹،و ابن ابی شیبۃ: ۵/ ۴۰۵، والحاکم: ۲/ ۳۱۱، والطبرانی فی ’’الکبیر‘‘: ۹۷۱ (انظر: ۲۳۸۶۵)
6509
Sahih
کتوں کو قتل کرنے اور انہیں پالنے کا بیان کتوں کو قتل کرنے کے حکم اور اس کے سبب کا بیان
۔ (۶۵۱۰)۔ وَعَنْہُ اَیُضًا قَالَ: أَمَرَنِیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنْ أَقْتُلَ الْکِلَابَ فَخَرَجْتُ أَقْتُلُہَا، لَاأَرٰی کَلْبًا اِلَّا قَتَلْتُہُ فَاِذَا کَلْبٌ یَدُوْرُ بِبَیْتٍ فَذَھَبْتُ لِأَقْتُلَہُ فَنَادَانِیْ إِنْسَانٌ مِنْ جَوْفِ الْبَیْتِیَاعَبْدَ اللّٰہِ! مَا تُرِیْدُ أَنْ تَصْنَعَ؟ قُلْتُ: أُرِیْدُ أَنْ أَقْتُلَ ھٰذَا الْکَلْبَ، فَقَالَتْ: اِنِّیْ امْرَأَۃٌ مَضِیْعَۃٌ وَاِنَّ ھٰذَا الْکَلْبَ یَطْرُدُ عَنِّی السَّبُعَ وَیُؤُذِنُنِیْ بِالْجَائِیْ، فَأْتِ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَاذْکُرْ ذَالِکَ لَہُ، قَالَ: فَأَتَیْتُ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَذُکِرَ ذَالِکَ لَہُ فَأَمَرَنِیْ بِقَتْلِہِ۔ (مسند احمد: ۲۷۷۳۰)
۔ سیدنا ابو رافع ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے ہی مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے کتوں کو قتل کر نے کا حکم دیا، پس میں ان کو قتل کرنے کے لیے نکلا، جو کتابھی مجھے نظر آتا، میں اسے قتل کر دیتا، ایک کتا ایک گھر کے گرد گھوم رہا تھا، جب میں اسے مارنے لگا تو گھر کے اندر سے ایک انسان نے مجھے آواز دی اور کہا: اواللہ کے بندے! تو کیا کرنا چاہتاہے؟ میں نے کہا: میں اس کتے کو مارنا چاہتاہوں، اس عورت نے کہا: میں اس جنگل بیاباں میں رہتی ہے، (جو کہ ضیاع و ہلاکت کا سبب ہے) اور یہ کتا درندوں کو مجھ سے دفع کرتا ہے اور اس کی وجہ سے آنے جانے والوں کی مجھے اطلاع ہو جاتی ہے، اس لیے تو نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس جا اور میرییہ بات بتلا، پس میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا اور یہ بات بتلائی، لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے اس کتے کو قتل کرنے کا ہی حکم دیا۔
Takhreej
(۶۵۱۰) تخریج: اسنادہ صحیح ان ثبت سماع سالم بن عبد اللہ من أبی رافع۔ أخرجہ الطحاوی فی ’’شرح مشکل الآثار‘‘: ۴۶۶۸(انظر: ۲۷۱۸۸)
6510
Sahih
کتوں کو قتل کرنے اور انہیں پالنے کا بیان کتوں کو قتل کرنے کے حکم اور اس کے سبب کا بیان
۔ (۶۵۱۱)۔ عَنْ جَابِرٍ الْأَنْصَارِیِّ اَمَرَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِکِلَابِ الْمَدِیْنَۃِ اَنْ تُقْتَلَ فَجَائَ ابْنُ أُمِّ مَکْتُوْمٍ فَقَالَ: اِنَّ مَنْزِلِیْ شَاسِعٌ وَلِیَ کَلْبٌ فَرَخَّصَ لَہُ أَیَّامًا ثُمَّ أَمَرَ بِقَتْلِ کَلْبِہِ۔ (مسند احمد: ۱۴۵۴۸)
۔ سیدنا جابر انصاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مدینہ منورہ کے کتوں کو قتل کرنے کا حکم دیا، سیدنا ابن ام مکتوم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ آ پ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آئے اور کہا: میرا گھر آبادی سے دور ہے اور میرا ایک کتا ہے جو اس کی رکھوالی کرتا ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے چند دن کے لئے ان کو رخصت دی، لیکنپھر اس کتے کو بھی مارنے کا حکم دے دیا۔
Takhreej
(۶۵۱۱) اسنادہ ضعیف لضعف عیسی بن جاریۃ۔ أخرجہ ابویعلی: ۱۸۰۴، ۱۸۸۶ (انظر: ۱۴۴۹۴)
6511
Zaeef
کتوں کو قتل کرنے اور انہیں پالنے کا بیان کتوں کو قتل کرنے کے حکم اور اس کے سبب کا بیان
۔ (۶۵۱۲)۔ عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَمَرَ بِقَتْلِ الْکِلَابِ حَتّٰی قَتَلْنَا کَلْبَ امْرَأَۃٍ جَائَ تْ مِنَ الْبَادِیَۃِ۔ (مسند احمد: ۴۷۴۴)
۔ سیدنا ابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کتوں کو مارنے کا حکم دیا (اور ہم نے کتے مارنے شروع کر دیئے) یہاں تک کہ ہم نے دیہات سے آنے والی ایک عورت کا کتا بھی مار ڈالا۔
Takhreej
(۶۵۱۲) تخریج: أخرجہ مسلم: ۱۵۷۰، ۱۵۷۱(انظر: )
6512
Sahih
کتوں کو قتل کرنے اور انہیں پالنے کا بیان کتوں کو قتل کرنے کے حکم اور اس کے سبب کا بیان
۔ (۶۵۱۳)۔ عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا قَالَتْ: أَمَرَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِقَتْلِ الْکِلَابِ الْعِیْنِ۔ (مسند احمد: ۲۵۲۹۵)
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کشادہ آنکھوں والے کتوں کو قتل کرنے کا حکم دیا۔
Takhreej
(۶۵۱۳) تخریج: صحیح لغیرہ دون قولہ ’’العین‘‘، وھذا اسناد ضعیف لانقطاعہ، ابراہیم بن یزید النخعی لم یسمع من عائشۃ، والمغیرۃ ابن مقسم ضعیف فی روایتۃ عن ابراہیم النخعی (انظر: ۲۴۷۸۵)
6513
Sahih
کتوں کو قتل کرنے اور انہیں پالنے کا بیان کتوں کو قتل کرنے کے حکم اور اس کے سبب کا بیان
۔ (۶۵۱۴)۔ عَنِ الْحَسَنِ قَالَ: شَہِدْتُ عُثْمَانَ یَأْمُرُ فِیْ خُطْبَتِہِ بِقَتْلِ الْکِلَابِ وَذَبْحِ الْحَمَامِ۔ (مسند احمد: ۵۲۱)
۔ سیدنا حسن بصری ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کہتے ہیں:میں سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے خطبہ میں موجود تھا، انھوں نے اپنے خطبے میں کتوں کو قتل کرنے اور کبوتروں کو ذبح کرنے کا حکم دیا۔
Takhreej
(۶۵۱۴) اسنادہ ضعیف، مبارک بن فضالۃ ضعفہ النسائی۔ أخرجہ عبد الرزاق: ۱۹۷۳۳ (انظر: ۵۲۱)
Explanation
فوائد:… اس باب میں کتوں کو قتل کرنے کا حکم دیا گیا ہے، مزید تفصیل اگلے باب میں آ رہی ہے۔
6514
Zaeef
کالے سیاہ کتے کے علاوہ باقی کتوں کو قتل نہ کرنے کی رخصت کا بیان
۔ (۶۵۱۵)۔ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ قَالَ: أَمَرَنَا النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِقَتْلِ الْکِلَابِ حَتّٰی إِنَّ الْمَرْأَۃَ تَقْدَمُ مِنَ الْبَادِیَۃِ بِکَلْبِہَا فَنَقْتُلُہُ ثُمَّ نَہَی النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَنْ قَتْلِہَا وَقَالَ: ((عَلَیْکُمْ بِالْأَسْوَدِ الْبَہِیْمِ ذِیْ النُّقْطَتَیْنِ فَاِنَّہُ شَیْطَانٌ۔)) (مسند احمد: ۱۴۶۲۹)
۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمیں کتے مارنے کا حکم دیا اور (پھر ہم نے کتوں کا قتل کیا) یہاں تک کہ ہم دیہات سے آنے والی عورت کے کتے بھی قتل کر دیتے، لیکن بعد میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کتوں کو قتل کرنے سے منع کر دیا اور فرمایا: آنکھوں پر سفید رنگ کے دو نقطوں والے سیاہ رنگ کے کتے کو مار دو، کیونکہ وہ شیطان ہے۔
Takhreej
(۶۵۱۵) تخریج: أخرجہ مسلم: ۱۵۷۲(انظر: ۱۴۵۷۵)
6515
Sahih
کالے سیاہ کتے کے علاوہ باقی کتوں کو قتل نہ کرنے کی رخصت کا بیان
۔ (۶۵۱۶)۔ عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ مُغَفَّلٍ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَوْلَا أَنَّ الْکِلَابَ أُمَّۃٌ مِنَ الْأُمَمِ لَأَمَرْتُ بِقَتْلِہَا، فَاقْتُلُوْا مِنْہَا کُلَّ أَسْوَدَ بَہِیْمٍ۔)) (مسند احمد: ۲۰۸۲۱)
۔ سیدنا عبداللہ بن مغفل ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگر کتے بھی مختلف امتوں میں سے ایک امت نہ ہوتے تو میں ان کو مکمل طور پر قتل کرنے کا حکم دے دیتا، اب تم ان میں سے ہر سیاہ کالے کو قتل کر دیا کرو۔
Takhreej
(۶۵۱۶) تخریج: حسن۔ أخرجہ ابوداود: ۲۸۴۵، والترمذی: ۱۴۸۶، والنسائی: ۷/۱۸۵، وابن ماجہ: ۳۲۰۵(انظر: ۲۰۵۴۷)
Explanation
فوائد:… نبی کریمa کے اس فرمان کا مقصد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی مخلوقات میں سے ہر ایک کو پیدا کرنے میں کوئی نہ کوئی حکمت اور مصلحت رکھی ہوتی ہے، اس لئے اس کی مخلوق میں سے ایک قوم کو صفحہ ہستی سے مٹا دینا مناسب نہیں، تاہم ان میں سے شریر قسم کے کتے جو کالی سیاہ رنگت والے ہیں انہیں ماردو، باقیوں کو قتل نہ کرو۔
6516
Sahih
کالے سیاہ کتے کے علاوہ باقی کتوں کو قتل نہ کرنے کی رخصت کا بیان
۔ (۶۵۱۷)۔ عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا قَالَتْ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَلْکَلْبُ الْاَسْوَدُ الْبَہِیْمُ شَیْطَانٌ۔)) (مسند احمد: ۲۵۷۵۷)
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کالا سیاہ کتا شیطان ہوتا ہے۔
Takhreej
(۶۵۱۷) تخریج: صحیح لغیرہ۔ أخرجہ الطبرانی فی ’’الاوسط‘‘ (انظر: ۲۵۲۴۳)
Explanation
فوائد:… کالے سیاہ کتے کو شیطان قرار دینے کا مقصد یہ ہے کہ اس کا ضرر دوسرے کتوں سے زیادہ ہوتا ہے، مجازی طور پر اس کو شیطان کہا گیا ہے، ویسے بھی عربوں کے کلام میں ہر سر کش کو شیطان کہہ دیتے ہیں۔ جیسے برے اور شرارتی انسان کو شیطان کہہ دیا جاتا ہے، اسی طرح ڈراؤنے اور موذی کتے کو بھی شیطان کہا گیا ہے، شیطان کسی کا نام نہیں ہے، بلکہ یہ وصف ہے، جس میں بھی پایا جائے گا، اس کو شیطان کہیں گے۔
6517
Sahih
کالے سیاہ کتے کے علاوہ باقی کتوں کو قتل نہ کرنے کی رخصت کا بیان
۔ (۶۵۱۸)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ مُغَفَّلٍ قَالَ: أَمَرَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِقَتْلِ الْکِلَابِ ثُمَّ قَالَ: ((مَا لَکُمْ وَالْکِلَابَ۔)) ثُمَّ رَخَّصَ فِیْ کَلْبِ الصَّیْدِ وَالْغَنَمِ۔ (مسند احمد: ۲۰۸۴۰)
۔ سیدنا عبداللہ بن مغفل ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کتوں کو ماردینے کا حکم دیا اور پھر فرمایا: تمہارا کتوں کے ساتھ کیا تعلق ہے۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے شکاری کتے اور بکریوں کی حفاظت کرنے والے کتوں کی اجازت دے دی۔
Takhreej
(۶۵۱۸) تخریج: أخرجہ مسلم: ۲۸۰، ۱۵۷۳(انظر: ۲۰۵۶۶)
Explanation
فوائد:… اس باب کی احادیث سے معلوم ہوا کہ کتوں کو قتل کرنے کا عام حکم منسوخ ہو چکا ہے، البتہ کالے سیاہ کتے کو قتل کرنے کا حکم باقی ہے، رہا مسئلہ کہ گھر کے اندر کتا رکھا جا سکتا ہے یا نہیں، اس کی تفصیل اگلے باب میں آ رہی ہے۔
6518
Sahih
اس چیز کا بیان کہ اِس رخصت کے بعد کون سے کتے پالنا جائز ہیں اور کون سے ناجائز
۔ (۶۵۱۹)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنْ أَمْسَکَ کَلْبًا فَاِنَّہُ یُنْقَصُ مِنْ عَمَلِہِ کُلَّ یَوْمٍ قِیْرَاطٌ، اِلَّا کَلْبَ حَرْثٍ أَوْ مَاشِیَۃٍ۔)) (مسند احمد: ۱۰۱۱۹)
۔ سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس نے کتا پالا، روزانہ اس کے عمل میں سے ایک قیراط کی کمی ہو جاتی ہے، الّا یہ کہ وہ کتا کھیتی اور مویشیوں کی حفاظت کے لئے ہو۔
Takhreej
(۶۵۱۹) تخریج: أخرجہ مسلم: ۱۵۷۵(انظر: ۱۰۱۱۵)
Explanation
فوائد:… کھیتی اور جانوروںکی حفاظت کے لیے اور شکار کرنے کی خاطر کتا رکھا جا سکتا ہے، اسی طرح اشد ضرورت کی بنا پر گھر کی رکھوالی کے لیے بھی اس کی اجازت ہو سکتی ہے، جس نے مذکورہ صورتوں کے علاوہ کتا رکھا تو وہ شخص خسارے میں ہے، اس کے نیک اعمال سے روزانہ ایک قیراط وزن کم کر دیا جائے گا۔ اگلی حدیث میں دو قیراط کا ذکر ہے۔ قیراط کا اطلاق دو طرح کے وزن پر ہوتا ہے: (۱) معمولی وزن پر اور وہ اس طرح کہ ایک دینار بیس قیراط کا ہوتا ہے اور دینار ساڑھے چار ماشے (یعنی: ۳۷۴.۴گرام) کا ہوتا ہے، گویا ایک قیراط کا وزن تقریباً (۲۲۰) ملی گرام بنتا ہے۔ (۲) غیر معمولی وزن پر، رسول اللہ a نے مخصوص احادیث میں قیراط کو احد پہاڑ کے برابر قرار دیا ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ اس باب کی احادیث میں قیراط سے مراد کیا ہے؟ تو اس کی بابت اہل علم کی آراء مختلف ہیں، بعض نے معمولی وزن مراد لیا اور بعض نے غیر معمولی۔ درج ذیل دو نکات کی وجہ سے اس مقام پر مطلق قیراط کو معمولی مراد لینا چاہیے: (۱) اللہ تعالی کا فضل و کرم اور رحمت و مغفرت بڑی وسیع ہے، بلکہ اس کے غصے اور سزا سے زیادہ ہے، اس لیے اس کا تقاضا یہ ہے کہ کم نیکیاں کاٹی جائیں۔ (۲) شریعت ِ مطہرہ کا مزاج نرمی ہے، نہ سختی اور نرمی معمولی قیراط مراد لینے میںہے۔
6519
Sahih

Chapters

38
01
مؤمن کے قتل پر سخت وعید اور سختی کا بیان
13 Hadith
02
مسلمانوں پر ہتھیار اٹھانے والے کی وعید کا بیان
8 Hadith
03
مسلمان کا خون کو جائز قرار دینے والے امور کا بیان
5 Hadith
04
ذمیوں اورمعاہدہ والوں کے قتل کے حرام ہونے اور اس معاملے میں سختی کا بیان
4 Hadith
05
خود کشی کرنے پر وعید کا بیان، وہ جس چیز سے مرضی خود کشی کرے
8 Hadith
06
نفس کی حفاظت کرنے اوراسے ہلاکت سے بچانے کے واجب ہونے کا بیان
3 Hadith
07
اس چیز کے ابواب کہ کون سے حیوان قتل کرنا جائز ہیں اور کون سے ناجائز فاسق حیوانات کو قتل کرنے کے حکم کا بیان
13 Hadith
08
گھریلو سانپوں کو مارنے کی ممانعت کا بیان، الا یہ کہ پہلے ان کو متنبہ کیا جائے، مگر چھوٹی دم والا موذی سانپ اور وہ سانپ جس کی پشت پر دو دھاریاں ہوں، ان دونوں کو ہر صورت میں قتل کیا جائے گا
8 Hadith
09
چھپکلی کو قتل کرنے کے مستحب ہونے اور اس کو مارنے والے کے اجر و ثواب کا بیان
6 Hadith
10
کتوں کو قتل کرنے اور انہیں پالنے کا بیان کتوں کو قتل کرنے کے حکم اور اس کے سبب کا بیان
7 Hadith
11
کالے سیاہ کتے کے علاوہ باقی کتوں کو قتل نہ کرنے کی رخصت کا بیان
4 Hadith
12
اس چیز کا بیان کہ اِس رخصت کے بعد کون سے کتے پالنا جائز ہیں اور کون سے ناجائز
5 Hadith
13
جس گھر میں کتا یا تصویر ہو، اس میں فرشتوں کے داخل نہ ہونے کا بیان
6 Hadith
14
ان حیوانات کا بیان، جن کا قتل کرنا جائز نہیں ہے
2 Hadith
15
حیوانیا انسان کو باندھ کر قتل کرنے یا اذیت والی چیز سے قتل کرنے اور پھر انسان کا مثلہ کرنے سے ممانعت کا بیان
10 Hadith
16
ہر روح والی چیز کو آگ سے جلانے کی ممانعت کا بیان
3 Hadith
17
قصاص کے ابواب قتل عمد پر قصاص کے ثابت ہونے اور اس کے مستحق کو قصاص اور دیت میں اختیار دینے کا بیان
3 Hadith
18
اس چیز کا بیان کہ مسلمان کو کافر کے بدلے قتل نہیں کیا جائے گا اور آزاد کو غلام کے بدلے قتل کیے جانے کا مسئلہ
5 Hadith
19
مرد کو عورت کے بدلے اور عورت کو عورت کے بدلے قتل کرنے اور بھاری آلے سے قتل کرنے اور قاتل کو اسی انداز میں قتل کرنے کا بیان، جس میں اس نے کیا ہو
4 Hadith
20
والدین کو اولاد کے بدلے میں قتل نہ کرنے اور ایک مقتول کے قصاص میں دو افراد کو قتل کرنے کا بیان
4 Hadith
21
حکمرانوں سے قصاص لیے جانے کا بیان، الا یہ کہ مستحق صلح کر لے یا معاف کر دے
3 Hadith
22
قصاص لینے کا مستحق ہونے کے بعد معاف کر دینے والے کی فضیلت کا بیان
3 Hadith
23
دانت توڑنے کے قصاص کا بیان
2 Hadith
24
کان کا بعض حصہ کاٹنے میں قصاص لینے کا بیان
1 Hadith
25
اس چیز کا بیان کہ ایک آدمی کسی کا ہاتھ کاٹنے کے لیے منہ میں ڈالے اور وہ اپنا ہاتھ کھینچے جس کے نتیجے میں اس کے سامنے والا دانت گر جائے
3 Hadith
26
زخم کے درست ہونے سے پہلے قصاص لینے کی ممانعت کا بیان
1 Hadith
27
کیا حرم یا دیگر مساجد میںقصاصیا حدیں لگائی جا سکتی ہیں؟
3 Hadith
28
قسامہ کا بیان
3 Hadith
29
دیت کے ابواب نفس، اعضاء اور اعضاء کی منفعتوں کی دیت کا جامع تذکرہ اور اس میں قتل خطا، قتل عمد اور قتل شبہ عمد کا بیان
3 Hadith
30
شبہ عمد کے مقتول کی دیت کا بیان
6 Hadith
31
محض قتلِ خطا کی دیت کا بیان
4 Hadith
32
قتل کے علاوہ اعضا اور زخموں وغیرہ کی دیت کا بیان
6 Hadith
33
ذمیوں اور مکاتَب کی دیت کا بیان
6 Hadith
34
جنین کی دیت کا بیان
5 Hadith
35
اس شخص کا بیان کہ جس کے والد کو از راہِ خطا قتل کر دیا گیا اور پھر اس نے اس کی دیت کو مسلمانوں پر خیرات کر دیا
1 Hadith
36
قتل کا سبب بننے کی وجہ سے دیت کے واجب ہونے کا بیان اورگڑھے میں گرنے والوں کا واقعہ
1 Hadith
37
عاقلہ اور دیت کی ذمہ داری اٹھانے والوں کا بیان
5 Hadith
38
کسی شخص کا دوسرے کے جرم کی وجہ سے مؤاخذہ نہیں ہو گا، اگرچہ وہ اس کا سب سے قریبی رشتہ دار ہو
4 Hadith
No chapter matched that.