TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

قتل اور دوسرے جرائم کے مسائل اور خونوں کے احکام - قتل اور دوسرے جرائم کے مسائل اور خونوں کے احکام - Book 109 of Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Book 109 of Musnad Ahmad, with 38 chapters and 181 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.

181 Hadith · 38 Chapters
والدین کو اولاد کے بدلے میں قتل نہ کرنے اور ایک مقتول کے قصاص میں دو افراد کو قتل کرنے کا بیان
۔ (۶۵۶۰)۔ حَدَّثَنَا أَبُوْ نُعَیْمٍ قَالَ: ثَنَا الْوَلِیْدُ بْنُ جَمِیْعٍ قَالَ: حَدَّثَنِیْ عَبْدُ الرَّحْمٰنِ بْنُ خَلَّادٍ الْأَنْصَارِیُّ وَجَدَّتِیْ عَنْ أُمِّ وَرَقَۃَ بِنْتِ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ الْحَارِثِ أَنَّ نَبِیَّ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ یَزُوْرُھَا کُلَّ جُمُعَۃٍ وَأَنَّہَا قَالَتْ: یَانَبِیَّ اللّٰہِ! یَوْمَ بَدْرٍ أَتَأْذَنُ فَاَخْرُجُ مَعَکَ أُمَرِّضُ مَرْضَاکُمْ وَأُدَاوِیْ جَرْحَاکُمْ لَعَلَّ اللّٰہَ یُہْدِیْ لِیْ شَہَادَۃً؟ قَالَ: ((قَرِّیْ فَاِنَّ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ یُہْدِیْ لَکَ شَہَادَۃً۔)) وَکَانَتْ أَعْتَقَتْ جَارِیَۃً لَھَا وَغُلَامًا عَنْ دُبُرٍ مِنْہَا فَطَالَ عَلَیْہِمَا فَغَمَّاھَا فِی الْقَطِیْفَۃِ حَتّٰی مَاتَتْ وَھَرَبَا، فَأُتِیَ عُمَرُ فَقِیْلَ لَہُ: إِنَّ أُمَّ وَرَقَۃَ قَدْ قَتَلَہَا غُلَامُہَا وَجَارِیَتُہَا وَھَرَبَا، فَقَامَ عُمَرُ فِیْ النَّاسِ فقَالَ: إِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ یَزُوْرُ أُمَّ وَرَقَۃَیَقُوْلُ: انْطَلِقُوْا نَزُوْرُ الشَّہِیْدَۃَ وَأَنَّ فُلَانَۃً جَارِیَتَہَا وَفُلَانًا غُلَامَہَا غَمَّاھَا ثُمَّ ھَرَبَا فَـلَا یُؤْوِیْہِمَا اَحَدٌ، وَمَنْ وَجَدَھُمَا فَلْیَأْتِ بِہِمَا، فَأُتِیَ بِہِمَا فَصُلِبَا فَکَانَا أَوَّلَ مَصْلُوْبَیْنِ۔ (مسند احمد: ۲۷۸۲۵)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: أَنَّ غُلَامًا قُتِلَ غِیلَۃً فَقَالَ عُمَرُ لَوْ اشْتَرَکَ فِیہَا أَہْلُ صَنْعَاء َ لَقَتَلْتُہُمْ۔ … ایک لڑکا دھوکے سے قتل کر دیا گیا، سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اگر اہل صنعاء سارے اس کوقتل کرنے میں شریک ہوتے تو میں ان سب کو قتل کر دیتا۔ (صحیح بخاری)
Takhreej
(۶۵۶۰) تخریج: حسن، قالہ الالبانی۔ أخرجہ ابوداود: ۵۹۱، ۵۹۲ (انظر: ۲۷۲۸۲)
6560
Sahih
حکمرانوں سے قصاص لیے جانے کا بیان، الا یہ کہ مستحق صلح کر لے یا معاف کر دے
۔ (۶۵۶۱)۔ عَنْ اَبِیْ سَعِیْدٍ الْخُدْرِیِّ قَالَ: بَیْنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقْسِمُ شَیْئًا أَقْبَلَ رَجُلٌ فَأَلَبَّ عَلَیْہِ فَطَعَنَہُ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِعُرْجُوْنٍ کَانَ مَعَہُ فَجُرِحَ بِوَجْہٍ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((تَعَالَ فَاسْتَقِدْ۔)) قَالَ: قَدْ عَفَوْتُ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ!۔ (مسند احمد: ۱۱۲۴۷)
۔ سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ ایک دفعہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مال تقسیم کر رہے تھے، ایک آدمی آگے بڑھا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے سامنے آ گیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس کھجور کی ایک ٹہنی تھی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کو وہ مار دی، جس سے اس کا چہر ہ زخمی ہو گا، پھر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: آگے آ اور مجھ سے قصاص لے لے۔ اس نے کہا : اے اللہ کے رسول! میں نے آپ کو معاف کر دیا ہے۔
Takhreej
(۶۵۶۱) تخریج: حدیث حسن لغیرہ۔ أخرجہ ابوداود: ۴۵۳۶، والنسائی: ۸/۳۲ (انظر: ۱۱۲۲۹)
Explanation
فوائد:… معلوم ہوا کوئی فرد قصاص کے قانون سے مستثنی نہیں ہے، اگر سید الانبیاء کییہ صورتحال ہے تو اوروں کا اندازہ از خود ہو جانا چاہیے۔
6561
Sahih
حکمرانوں سے قصاص لیے جانے کا بیان، الا یہ کہ مستحق صلح کر لے یا معاف کر دے
۔ (۶۵۶۲)۔ عَنْ اَبِیْ فِرَاسٍ قَالَ: خَطَبَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ (فَذَکَرَ حَدِیْثًا طَوِیْلًا فِیْہ: أَلَا اِنِّیْ وَاللّٰہِ! مَا أُرْسِلُ عُمَّالِیْ اِلَیْکُمْ لِیَضْرِبُوْا أَبْشَارَکُمْ وَلَا لِیَأْخُذُوْا أَمْوَالَکُمْ، وَلٰکِنْ أُرْسِلُہُمْ إِلَیْکُمْ لِیُعَلِّمُوْکُمْ دِیْنَکُمْ وَسُنَّتَکُمْ فَمَنْ فُعِلَ بِہِ شَیْئٌ سِوٰی ذَالِکَ فَلْیَرْفَعْہُ إِلَیَّ، فَوَالَّذِیْ نَفْسِیْ بِیَدِہِ إِذًا لَاُقِصَّنَّہُ مِنْہُ، فَوَثَبَ عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ فَقَالَ: یَا أَمِیْرَ الْمُؤْمِنِیْنَ! أَوَ رَاَیْتَ إِنْ کَانَ رَجُلٌ مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ عَلٰی رَعِیَّۃٍ فَأَدَّبَ بَعْضَ رَعِیَّتِہِ أَئِنَّکَ لَمُقْتَصُّہُ مِنْہُ؟ قَالَ: اِیْ وَالَّذِیْ نَفْسُ عُمَرَ بِیِدِہِ! إِذًا لَاُقِصَّنَّہُ مِنْہُ، وَقَدْ رَاَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُقِصُّ مِنْ نَفْسِہِ۔ (مسند احمد: ۲۸۶)
۔ ابو فراس سے روایت ہے کہ سیدنا عمر بن خطاب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے خطبہ دیا، جس میں انھوں نے ایک لمبی حدیث ذکر کی اور کہا: خبر دار! میں تم پر حکومتی کارندوں کو اس لیے نہیں بھیجتا کہ وہ تمہارے جسموں پر ضربیں لگائیں اور تمہارے مال چھین لیں، میں تو ان کو تمہار ے پاس اس لیے بھیجتا ہوں کہ وہ تمہیں دین اور سنت کی تعلیم دیں، جس کے ساتھ کوئی اور کاروائی کی جائے، وہ مجھے بتائے، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! میں اس سے ضرور ضرور قصاص دلوائوں گا، سیدنا عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اچھل کر کھڑے ہوئے اور کہا: اے امیر المومنین، آپ بتائیں کہ ایکآدمی رعایا پر مقرر ہوتا ہے اور اسے ادب سکھانے کے لیے سزا دیتا ہے، کیا آپ اس سے بھی قصاص لیں گے؟ انھوں نے کہا: جی بالکل، اس ذات قسم جس کے ہاتھ میں عمر کی جان ہے! میں اس کو ضرورقصاص دلواؤں گا، میں نے تو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو دیکھا تھا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اپنے نفس سے قصاص دلواتے تھے۔
Takhreej
(۶۵۶۲) تخریج: ابو فراس النھدی، وقال ابو زرعہ: لا اعرفہ۔ أخرجہ ابوداود: ۴۵۳۷، والنسائی: ۸/۳۴ (انظر: ۲۸۶)
Explanation
فوائد:… عبد اللہ بن عتبہ کہتے ہیں کہ سیدنا عمر b نے کہا: إِنَّ أُنَاسًا کَانُوا یُؤْخَذُونَ بِالوَحْیِ فِی عَہْدِ رَسُولِ اللَّہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، وَإِنَّ الوَحْیَ قَدِ انْقَطَعَ، وَإِنَّمَا نَأْخُذُکُمُ الآنَ بِمَا ظَہَرَ لَنَا مِنْ أَعْمَالِکُمْ، فَمَنْ أَظْہَرَ لَنَا خَیْرًا، أَمِنَّاہُ، وَقَرَّبْنَاہُ، وَلَیْسَ إِلَیْنَا مِنْ سَرِیرَتِہِ شَیْء ٌ اللَّہُ یُحَاسِبُہُ فِی سَرِیرَتِہِ، وَمَنْ أَظْہَرَ لَنَا سُوء ًا لَمْ نَأْمَنْہُ، وَلَمْ نُصَدِّقْہُ، وَإِنْ قَالَ: إِنَّ سَرِیرَتَہُ حَسَنَۃٌ۔… بیشک عہد ِ نبوی میں وحی کے ذریعے لوگوں کا مؤاخذہ ہو جاتا تھا، اب وحی تو منقطع ہو چکی ہے، پس اب ہم تمہارے ظاہری اعمال کی روشنی میں تمہاری گرفت کریں گے، جو ہمارے لیے خیر و بھلائی کا اظہار کرے گا، ہم اس کو امین سمجھیں گے اور اس کو اپنے قریب کریں گے، جبکہ اس کے باطن سے ہمارا کوئی تعلق نہیں ہو گا، اللہ تعالی اس کے باطن کا محاسبہ کرے گا، اور جو آدمی ہمارے لیے برے اعمال کو ظاہر کرے گا، ہم اس کو امین سمجھیں گے نہ اس کی تصدیق کریں گے، اگرچہ اس کا باطن پاک ہو۔ (صحیح بخاری: ۲۶۴۱)
6562
Zaeef
حکمرانوں سے قصاص لیے جانے کا بیان، الا یہ کہ مستحق صلح کر لے یا معاف کر دے
۔ (۶۵۶۳)۔ عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بَعَثَ أَبَاجَہْمٍ مُصَدِّقًا فَلَاجَّہُ رَجُلٌ فِیْ صَدَقَتِہِ فَضَرَبَہُ أَبُوْ جَہْمٍ فَشَجَّہُ فَأَتَوُا النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالُوْا: الْقَوَدَ، یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَکُمْ کَذَا وَکَذَا۔)) فَلَمْ یَرْضَوْا، قَالَ: ((فَلَکُمْ کَذَا وَکَذَا۔)) فَلَمْ یَرْضَوْا، قَالَ: ((فَلَکُمْ کَذَا وَکَذَا۔)) فَرَضُوْا، فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((إِنِّیْ خَاطِبٌ عَلَی النَّاسِ وَمُخْبِرُھُمْ بِرِضَاکُمْ۔)) قَالُوْا: نَعَمْ، فَخَطَبَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: ((اِنَّ ھٰؤُلَائِ اللَّیْثِیِّیْنَ أَتَوْنِیْیُرِیْدُوْنَ الْقَوَدَ فَعَرَضْتُ عَلَیْہِمْ کَذَا وَکَذَا فَرَضُوْا، أَ رَضِیْتُمْ؟)) قَالُوْا: لَا، فَہَمَّ الْمُہَاجِرُوْنَ بِہِمْ فَأَمَرَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنْ یَکُفُّوْا فَکَفُّوْا ثُمَّ دَعَاھُمْ فَزَادَھُمْ وَقَالَ: ((أَرَضِیْتُمْ؟)) قَالُوْا: نَعَمْ، قَالَ: ((فَاِنِّیْ خَاطِبٌ عَلَی النَّاسِ وَمُخْبِرُھُمْ بِرَضَاکُمْ۔)) فَخَطَبَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((أَرَضِیْتُمْ؟)) قَالُوْا: نَعَمْ۔ (مسند احمد: ۲۶۴۸۵)
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیدنا ابو جہم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو صدقہ کی وصولی کے لیے بھیجا، ایک آدمی نے صدقہ دینے میں ان سے جھگڑا کیا، جواباً ابو جہم نے اسے مار کر اس کا سرزخمی کر دیا، وہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آئے اور قصاص کا مطالبہ کر دیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اتنا کچھ لے لو۔ لیکن وہ راضی نہ ہوئے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: چلو تمہیں اتنا کچھ مل جائے گا۔ لیکن وہ پھر بھی راضی نہ ہوئے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: چلو، تم کو اتنا کچھ دے دیتے ہیں۔ پس اب کی بار وہ راضی ہوگئے، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان سے فرمایا: میں لوگوں سے خطاب کرتا ہوں اور ان کو تمہاری رضا مندی سے آگا ہ کرتا ہوں؟ انہوں نے کہا: جی ٹھیک ہے، پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے لوگوں سے مخاطب ہوئے اور فرمایا: لیث قبیلے کے یہ افراد میرے پاس آئے، انھوں نے قصاص کا مطالبہ کیا، میں نے ان پر اتنا مال پیش کیا اور ان سے پوچھا: کیا اب راضی ہو گئے ہوں؟ انھوں نے کہا: جی نہیں، مہاجرین نے ان کو کچھ کہنا چاہا، لیکن جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کو رکنے کا حکم دیا تو وہ رک گئے، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کو بلایا اور مزید دے کر فرمایا: اب راضی ہو گئے ہو؟ انھوں نے کہا: جی ہاں، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: پس بیشک میں لوگوں کو خطاب کر کے ان کو تمہاری رضا کے بارے میں بتلانے والا ہوں۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مخاطب ہوئے اور فرمایا: کیا تم لوگ اب راضی ہو گئے ہو؟ انھوں نے کہا: جی ہاں۔
Takhreej
(۶۵۶۳) اسنادہ صحیح۔ أخرجہ ابوداود: ۴۵۳۴، والنسائی: ۸/ ۳۵، وابن ماجہ: ۲۶۳۸ (انظر: ۲۵۹۵۸)
Explanation
فوائد:… اگر بادشاہ اور کوئی صاحب ِ اختیار و اقتدار حکمران کسی کے ساتھ اس قسم کی زیادتی اور مار کٹائی والا معاملہ کرے، جیسا کہ سیدنا ابو جہم b نے کیا تھا تو اس سے قصاص لیا جائے گا، تاہم فریقِ ثانی کو کچھ دے دلا کر بھی معاملہ رفع دفع کیا جا سکتا ہے۔ اس حدیثسےیہ بھی معلوم ہوا کہ جب مظلوم قصاص کا ہی مطالبہ کر رہا ہو تو اس کو اس کی دیت سے زیادہ دے کر اس کو راضی کیا جا سکتا ہے۔ دیہاتی طبعاً سخت مزاج اور لاعلم ہوتے ہیں، اسی بنا پر انھوں نے نبی کریمa کے ساتھ یہ رویہ اختیار کیا، آپa نے اپنی وسعت ِ ظرفی اور حسن اخلاق کی روشنی میں ان کے اس رویے سے در گزر فرمایا۔
6563
Sahih
قصاص لینے کا مستحق ہونے کے بعد معاف کر دینے والے کی فضیلت کا بیان
۔ (۶۵۶۴)۔ عَنْ اَبِی السَّفَرِ قَالَ: کَسَرَ رَجُلٌ مِنْ قُرَیْشٍ سِنَّ رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ فَاسْتَعْدٰی عَلَیْہِ مُعَاوِیَۃَ فَقَالَ الْأَنْصَارِیُّ: اِنَّ ھٰذَا دَقَّ سِنِّیْ، قَالَ مُعَاوِیَۃ: کَلَّا اِنَّا سَنُرْضِیْکَ، قَالَ: فَلَمَّا اَلَحَّ عَلَیْہِ الْأَنْصَارِیُّّ قَالَ مُعَاوِیَۃُ: شَأْنَکَ بِصَاحِبِکَ؟ وَأَبُو الدَّرْدَائِ جَالِسٌ، فَقَالَ أَبُو الدَّرْدَائِ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((مَا مِنْ مُسْلِمٍ یُصَابُ بِشَیْئٍ فِیْ جَسَدِہِ یَتَصَدَّقُ بِہِ اِلَّا رَفَعَہُ اللّٰہُ بِہِ دَرَجَۃً وَحَطَّ عَنْہُ بِہِ خَطِیْئَۃً۔)) قَالَ: فَقَالَ الْأَنْصَارِیُّ: اَنْتَ سَمِعْتَ ھٰذَا مِنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ؟ قَالَ: نَعَمْ سَمِعَتْہُ أُذُنَایَ وَوَعَاہُ قَلْبِیْ،یَعْنِیْ فَعَفَا عَنْہُ۔ (مسند احمد: ۲۸۰۸۴)
۔ ابو سفر کہتے ہیں: قریش کے ایک آدمی نے ایک انصاری آدمی کا دانت توڑ دیا، وہ فریاد رسی کے لیے سیدنا امیر معاویہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس گیا، انصاری نے کہا: اس نے میرا دانت توڑ دیا ہے، سیدنا معاویہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: یقینا ہم تجھے راضی کر دیں گے، جب انصاری نے قصاص لینے پر اصرار کیا تو سیدنا امیر معاویہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: تیرا معاملہ تیرے ساتھی کے سپرد ہے، سیدنا ابو درداء ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ پاس ہی بیٹھے ہوئے تھے انھوںنے کہا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو مسلمان بھی اپنے جسم میں لگ جانے والے زخم کو معاف کر دیتا ہے، اللہ تعالی اس کا درجہ بلند کر دیتا ہے اور اس کا گناہ خطا مٹا دیتا ہے۔ انصاری نے کہا: کیا تم نے یہ حدیث رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سنی ہے؟ انھوں نے کہا : جی ہاں! میرے کانوں نے سنی ہے او میرے دل نے اس کو یاد کیاہے، پس اس انصاری نے قریشی کو معاف کر دیا۔
Takhreej
(۶۵۶۴) تخریج: المرفوع منہ صحیح لغیرہ، وھذا اسناد ضعیف لانقطاعہ، ابو السفر، قال احمد: لا اعرف لہ سماعا من ابی الدردائ، بل قال الحافظ: ما اظنہ ادرکہ، فان ابا الدرداء قدیم الموت۔ أخرجہ الترمذی: ۱۳۹۳، وابن ماجہ: ۲۶۹۳(انظر: ۲۷۵۳۴)
6564
Sahih
قصاص لینے کا مستحق ہونے کے بعد معاف کر دینے والے کی فضیلت کا بیان
۔ (۶۵۶۵)۔ عَنْ عُبَادَۃَ بْنِ الصَّامِتِ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((مَا مِنْ رَجُلٍ یُجْرَحُ فِیْ جَسَدِہِ جِرَاحِۃٌ فَیَتَصَدَّقُ بِہَا اِلَّا کَفَّرَ اللّٰہُ عَنْہُ مِثْلَ مَاتَصَدَّقَ بِہِ۔)) (مسند احمد: ۲۳۰۷۷)
۔ سیدنا عبادہ بن صامت ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس آدمی کو اس کے جسم میں زخم لگایا جاتا اور وہ معاف کر دیتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی معافی کے بقدر اس کے گناہ مٹا دیتا ہے۔
Takhreej
(۶۵۶۵) تخریج: صحیح بشواہدہ۔ أخرجہ الطیالسی: ۵۸۷، والبیھقی: ۸/ ۵۶، والنسائی فی ’’الکبری‘‘: ۱۱۱۴۶ (انظر: ۲۲۷۰۱)
6565
Sahih
قصاص لینے کا مستحق ہونے کے بعد معاف کر دینے والے کی فضیلت کا بیان
۔ (۶۵۶۶)۔ عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ: مَا رُفِعَ اِلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَمْرٌ فِیْہِ الْقِصَاصُ اِلَّا أَمَرَ فِیْہِ بِالْعَفْوِ۔ (مسند احمد: ۱۳۲۵۲)
۔ سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس جب بھی قصاص والا معاملہ پیش کیا جاتا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پہلے معاف کرنے کا حکم دیتے۔
Takhreej
(۶۵۶۶) اسنادہ قوی۔ أخرجہ ابوداود:۴۴۹۷، والنسائی:۸/ ۳۷، وابن ماجہ: ۲۶۹۲(انظر: ۱۳۲۲۰)
Explanation
فوائد:… معلوم ہوا کہ قصاص کو معاف کردینا باعث ِ اجر عمل ہے اور یہ معافی کی بڑی قسموں میں سے ہے، اگر دیت کو بھی معاف کر دیا جائے تو یہ وسعت ِ ظرفی کی اعلی مثال ہو گی۔
6566
Sahih
دانت توڑنے کے قصاص کا بیان
۔ (۶۵۶۷)۔ عَنْ حُمَیْدِ نِ الطَّوِیْلِ عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ اَنَّ الرُّبَیِّعَ بِنْتَ النَّضْرِ عَمَّۃَ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ کَسَرَتْ ثَنِیَّۃَ جَارِیَۃٍ فَعَرَضُوْا عَلَیْہِمُ الْأَرْشَ فَاَبَوْا، طَلَبُوْا الْعَفْوَ فَأَبَوْا، فَأَتَوُا النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَأَمَرَ بِالْقِصَاصِ فَجَائَ أَخُوْھَا أَنَسُ بْنُ النَّضْرِ عَمُّ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ فَقَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! اَتُکْسَرُ ثَنِیَّۃُ الرُّبَیِّعِ؟ لَا، وَالَّذِیْ بَعَثَکَ بِالْحَقِّ لَا تُکْسَرُ ثَنِیَّتُہَا، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((یَا أَنَسُ! کِتَابُ اللّٰہِ الْقِصَاصُ۔)) قَالَ: فَعَفَا الْقَوْمُ، قَالَ: فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِنَّ مِنْ عِبَادِ اللّٰہِ مَنْ لَوْ أَقْسَمَ عَلَی اللّٰہِ لَأَبَرَّہُ۔)) (مسند احمد: ۱۲۷۳۴)
۔ سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ ان کی پھوپھی ربیع بنت نضر نے ایک لونڈی کا دانت توڑ دیا، جب انہوں نے اس لونڈی کے ورثاء کے سامنے دیت پیش کی تو انہوں نے قبول کرنے سے انکار کر دیا، انہوں نے معافی کا مطالبہ کیا، لیکن وہ معاف کرنے پر بھی راضی نہ ہوئے، پس نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے قصاص لینے کا حکم جاری کر دیا، سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی پھوپھی کا بھائی اور ان کا چچا سیدنا انس بن نضر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ آیا اور کہا: اے اللہ کا رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ! کیا میری بہن ربیع کے دانت توڑے جائیں گے، نہیں، اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث کیا! اس کے دانت نہیں توڑے جائیں گے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے انس بن نضر! اللہ تعالی کی کتاب کامطالبہ قصاص کا ہے۔ اتنے میں مظلوم لوگوں نے معاف کر دیا، اس وقت رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کے بعض بندے ایسے بھی ہیں کہ اگر وہ اللہ تعالیٰ پر قسم اٹھادیں تو وہ اس کو پورا کر دیتاہے۔
Takhreej
(۶۵۶۷) تخریج: أخرجہ البخاری: ۲۷۰۳، ۴۴۹۹، ۶۸۹۴، ومسلم: ۱۶۷۵(انظر: ۱۲۷۰۴)
6567
Sahih
دانت توڑنے کے قصاص کا بیان
۔ (۶۵۶۸)۔ (وَمِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ أَنَّ اُخْتَ الرُّبَیِّعِ أُمَّ حَارِثَۃَ جَرَحَتْ إِنْسَانًا فَاخْتَصَمُوْا إِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((الْقِصَاصُ،الْقِصَاصُ۔)) فَقَالَتْ أَمُ الرُّبَیِّعِ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! أَیُقْتَصُّ مِنْ فُلَانَۃَ، لَا وَاللّٰہِ! لَا یُقْتَصُّ مِنْہَا أَبَدًا، قَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((سُبْحَانَ اللّٰہِ! یَا أُمَّ رُبَیِّعٍ، کِتَابُ اللّٰہِ۔)) قَالَتْ: لَا وَاللّٰہِ! لَا یُقْتَصُّ مِنْہَا أَبَدًا، قَالَ: فَمَا زَالَتْ حَتّٰی قَبِلُوْا مِنْہَا الدِّیَۃَ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِنَّ مِنْ عِبَادِ اللّٰہِ مَنْ لَوْ أَقْسَمَ عَلَی اللّٰہِ لَأَبَرَّہُ۔)) (مسند احمد: ۱۴۰۷۳)
۔ (دوسری سند) سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ ربیع کی بہن ام حارثہ نے ایک انسان کو زخمی کر دیا، وہ جھگڑا لے کر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس پہنچے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: قصاص ہوگا، قصاص۔)) لیکن ام ربیع نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا فلاںعورت سے قصاص لیا جائے گا، نہیں، اللہ کی قسم! اس سے کبھی بھی قصاص نہیں لیا جائے گا، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: سبحان اللہ ! اے ام ربیع! اللہ تعالیٰ کی کتاب کا مسئلہ ہے۔ لیکن ام ربیع نے پھر کہا: نہیں، میں کہہ رہی ہوں کہ اللہ کی قسم ہے اس سے قصاص نہیں لیا جائے گا، وہ یہ کہتی رہیں،یہاں تک کہ وہ لوگ دیت قبول کرنے پر رضا مند ہوگئے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کے بعض بندے ایسے ہیں کہ اگر وہ اللہ تعالیٰ پر قسم اٹھادیں تو وہ اس کی قسم پوری کر دیتا ہے۔
Takhreej
(۶۵۶۸) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الاول
Explanation
فوائد:… ان دو احادیث میں جو مسئلہ پیش کیا گیا ہے، اس میں قصاص ہی ہے، آپa نے بھی قصاص کا ہی مطالبہ کیا، حقیقت میں اس باب میں قسم اٹھانا مفید نہیں ہوتا، سارا اختیار مظلوم کے ہاتھ میں ہوتا ہے، وہ قصاص لے، یا دیت لے، یا معاف کر دے، لیکن جب ان صحابہ نے قسم اٹھا لی تو اللہ تعالی نے ان کا لحاظ کیا اور متأثرہ لوگوں نے قصاص کا مطالبہ چھوڑ دیا اور دیت لینے پر راضی ہو گئے۔ پہلی سند کے مطابق ربیع بنت نضر نے دانت توڑا اور دوسری سندکے مطابق یہ کام ربیع کی بہن ام حارثہ نے کیا، امام نوویk کی رائے یہ ہے کہ یہ دو الگ الگ واقعات ہیں، دوسری رائے یہ ہے کہ یہ ایک ہی واقعہ ہے اور ام حارثہ، ربیع بنت نضر کی ہی کنیت ہے، نہ کہ اس کی بہن کی۔ دوسرا شکال یہ ہے کہ ایک روایت میں دانت نہ توڑنے کی قسم سیدنا انس بن نضر b نے کھائی تھی اور دوسری روایت میں ہے کہ یہ قسم سیدہ ام ربیعc نے کھائی تھی، اس کا حل یہ ہے کہ دونوں نے ہی قسم اٹھا لی تھی، دو روایتوں میں علیحدہ علیحدہ ذکر کیا گیا۔
6568
Sahih
کان کا بعض حصہ کاٹنے میں قصاص لینے کا بیان
۔ (۶۵۶۹)۔ عَنِ الْعَلَائِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ یَعْقُوْبَ عَنْ رَجُلٍ مِنْ قُرَیْشٍ مِنْ بَنِیْ سَہْمٍ عَنْ رَجُلٍ مِنْہُمْ یُقَالُ لَہُ: مَاجِدَۃُ، قَالَ: عَارَمْتُ غُلَامًا بِمَکَّۃَ فَعَضَّ اُُذُنِیْ فَقَطَعَ مِنْہَا أَوْ عَضِضْتُ أُذُنَہُ فَقَطَعْتُ مِنْہُا، فَلَمَّا قَدِمَ إِلَیْنَا أَبُوْبَکْرٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ حَاجًّا رُفِعْنَا إِلَیْہِ فَقَالَ: انْطَلِقُوْا اِلٰی عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ فَاِنْ کَانَ الْجَارِحُ بَلَغَ أَنْ یُقْتَصَّ مِنْہُ فَلْیَقْتَصَّ قَالَ: فَلَمَّا انْتُہِیَ بِنَا اِلٰی عُمَرَ نَظَرَ اِلَیْنَا فَقَالَ: نَعَمْ قَدْ بَلَغَ ھٰذَا اَنْ یُقْتَصَّ مِنْہُ، اُدْعُوْ لِیْ حَجَّامًا، فَلَمَّا ذَکَرَ الْحَجَّامَ قَالَ: اَمَا اِنِّیْ قَدْ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلَ: ((قَدْ أَعْطَیْتُ خَالَتِیْ غُلَامًا وَأَنَا اَرْجُوْ أَنْ یُبْارِکَ اللّٰہُ لَھَا فِیْہِ وَقَدْ نَہَیْتُہَا أَنْ تَجْعَلَہُ حَجَّامًا أَوْ قَصَّابًا أَوْ صَائِغًا۔)) (مسند احمد: ۱۰۲)
۔ بنو سہم کے ماجدہ نامی آدمی سے روایت ہے، وہ کہتا ہے: میں مکہ میں ایک غلام سے جھگڑ پڑا، اب اس نے میرے کان پر کاٹا جس سے اس کا ایک حصہ کٹ کر علیحدہ ہو گیا،یا میں نے اس کے کان پر کاٹا تھا، جب سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ حج کے لیے ہمارے ہاں تشریف لائے تو ہمارے اس معاملے کو ان کی عدالت میں پیش کیا گیا، انہوں نے کہا: ان کو عمر بن خطاب کی طرف لے چلو، اگر زخم قصاص لینے کے قابل ہے تو وہ قصاص دلوائیں، جب ہم کو سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس لایا گیا تو انھوں نے دیکھا اور کہا: جییہ زخم قصاص کی حد تک پہنچ چکا، ایک حجام کو بلاؤ، جب انھوں نے حجام کا ذکر کیا تو انھوں نے کہا: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کویہ فرماتے ہوئے سنا: میں نے اپنی خالہ کو ایک غلام دیا اور میں امید رکھتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ اس کے لیے غلام میں برکت کرے گا اور میں نے اس کواس سے منع کیا کہ وہ اس کو سینگی لگانے والا، قصاب یا سنار بنائے۔
Takhreej
(۶۵۶۹) تخریج: اسنادہ ضعیف لجھالۃ الرجل الذی من بنی سھم، وجھالۃ ماجدۃ، ویقال: ابن ماجدۃ و أبو ماجدۃ ایضا۔ أخرجہ ابوداود: ۳۴۳۰، ۳۴۳۱ (انظر: ۱۰۲)
Explanation
فوائد:… یہ روایت تو ضعیف ہے، لیکن ارشادِ باری تعالی ہے: {وَالْاُذُنَ بِالْاُذُنِ}… ’’اور کان کے بدلے کان کا (بدلہ ہے)۔‘‘ (سورۂ مائدہ: ۴۵) اس لیے کان کا جو زخم قصاص کے قابل ہو گا، اس کا قصاص لیا جائے گا۔
6569
Zaeef
اس چیز کا بیان کہ ایک آدمی کسی کا ہاتھ کاٹنے کے لیے منہ میں ڈالے اور وہ اپنا ہاتھ کھینچے جس کے نتیجے میں اس کے سامنے والا دانت گر جائے
۔ (۶۵۷۰)۔ عَنْ یَعْلَی بْنِ أُمَیَّۃَ وَسَلَمَۃَ بْنِ أُمَیَّۃَ قَالَا: خَرَجْنَا مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِیْ غَزْوَۃِ تَبُوْکَ، مَعَنَا صَاحِبٌ لَنَا، فَاقْتَتَلَ ھُوَ وَرَجُلٌ مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ فَعَضَّ ذَالِکَ الرَّجُلُ بِذِرَاعِہِ فَاجْتَبَذَ یَدَہُمِنْ فِیْہِ فَطَرَحَ ثَنِیَّتَہُ فَذَھَبَ الرَّجُلُ اِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَسْأَلُہُ الْعَقْلَ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((یَنْطَلِقُ أَحَدُکُمْ اِلٰی أَخِیْہِیَعَضُّہُ عَضِیْضَ الْفَحْلِ ثُمَّ یَأْتِیْیَلْتَمِسُ الْعَقْلَ، لَادِیَۃَ لَکَ۔)) فَأَطْلَقَہَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَعْنِیْ فَاَبْطَلَھَا۔ (مسند احمد: ۱۸۱۱۷)
۔ سیدنایعلی بن امیہ اور سلمہ بن امیہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم غزوۂ تبوک میںرسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ نکلے، ہمارے ساتھ ایک اور دوست بھی تھا، اس کی اور ایک مسلمان کی آپس میں لڑائی ہو گئی، اس آدمی نے دوسرے کے بازو پرکاٹا، اس نے اس کے منہ سے اپنا ہاتھ کھینچا اور اس کا اگلا دانت گرا دیا، اس آدمی نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس جا کر دیت کا مطالبہ کر دیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم میں سے ایک آدمی اپنے بھائی کو سانڈ کی طرح کاٹتا ہے اور پھر آکر دیت کا مطالبہ کرتا ہے، اس کے لیے کوئی دیت نہیں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کی دیت کو باطل قرار دیا۔
Takhreej
(۶۵۷۰) تخریج: حدیث صحیح۔ أخرجہ ابن ماجہ: ۲۶۵۶، والنسائی: ۸/ ۳۰، وانظر الحدیث بالطریق الثانی الآتی (انظر: ۱۷۹۵۳)
6570
Sahih
اس چیز کا بیان کہ ایک آدمی کسی کا ہاتھ کاٹنے کے لیے منہ میں ڈالے اور وہ اپنا ہاتھ کھینچے جس کے نتیجے میں اس کے سامنے والا دانت گر جائے
۔ (۶۵۷۱)۔(وَمِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) عَنْ صَفْوَانَ بْنِ یَعْلٰی عَنْ یَعْلَی بْنِ اُمَیَّۃَ قَالَ: غَزَوْتُ مَعَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جَیْشَ الْعُسْرَۃِ وَکَانَ مِنْ أَوْثَقِ أَعْمَالِیْ فِیْ نَفْسِیْ وَکَانَ لِیْ أَجِیْرٌ فَقَاتَلَ اِنْسَانًا فَعَضَّ أَحَدُھُمَا صَاحِبَہُ فَانْتَزَعَ اِصْبَعَہُ فَأَنْدَرَ ثَنِیَّتَہُ، وَقَالَ: ((اَفَیَدَعُیَدَہُ فِیْ فِیْکَ تَقْضَمُہَا؟)) قَالَ: أَحْسَبُہُ قَالَ: ((کَمَا یَقْضَمُ الْفَحْلُ۔)) (مسند احمد: ۱۸۱۲۹)
۔ (دوسری سند) سیدنایعلی بن امیہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ تنگی والے لشکر یعنی غزوۂ تبوک میں شریک ہوا، یہ غزوہ میرے ان اعمال میں سے ہے، جن پر مجھے سب سے زیادہ اعتماد ہے، میرا ایک مزدور تھا، وہ ایک آدمی سے لڑپڑا، ان میں سے ایک نے دوسرے کو کاٹا، دوسرے نے اپنی انگلی کھینچی، جس سے اس کادانت گرگیا، وہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس شکایت لے کر گیا لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیا وہ اپنا ہاتھ تیرے منہ میں دیئے رکھتا اور تو سانڈ کی طرح اس کو چباتا رہتا۔
Takhreej
(۶۵۷۱) تخریج: أخرجہ البخاری: ۲۲۶۵، ومسلم: ۱۶۷۴(انظر: ۱۷۹۶۶)
6571
Sahih
اس چیز کا بیان کہ ایک آدمی کسی کا ہاتھ کاٹنے کے لیے منہ میں ڈالے اور وہ اپنا ہاتھ کھینچے جس کے نتیجے میں اس کے سامنے والا دانت گر جائے
۔ (۶۵۷۲)۔ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَیْنٍ قَالَ: قَاتَلَ یَعْلَی بْنُ مُنْیَۃَ أَوِ ابْنُ أُمَیَّۃَ رَجُلًا فَعَضَّ أَحَدُھُمَا یَدَ صَاحِبِہِ فَانْتَزَعَ یَدَہُ مِنْ فِیْہِ فَانْتَزَعَ ثَنِیَّتَہُ، وَ قَالَ حَجَّاجٌ: ثَنِیَّتَیْہِ، فَاخْتَصَمَا إِلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: ((یَعَضُّ أَحُدُکُمَا أَخَاہُ کَمَا یَعَضُّ الْفَحْلُ لَادِیَۃَ لَہُ۔)) وَفِیْ لَفْظٍ: فَأَبْطَلَہَا وَقَالَ: ((أَرَدْتَ أَنْ تَقْضَمَ لَحْمَ أَخِیْکَ کَمَا یَقْضَمُ الْفَحْلُ۔)) (مسند احمد: ۲۰۰۶۷)
۔ سیدنا عمران بن حصین ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ یعلی بن عینیہیا ابن امیہ کی ایک آدمی سے لڑائی ہوگئی، ایک نے دوسرے کے ہاتھ پر کاٹا، اس نے بچانے کے لیے اپنا ہاتھ کھینچا، جس کی وجہ سے کاٹنے والے کا ایکیا دو دانت گر پڑے، جب یہ دونوں جھگڑا لے کر نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس گئے تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیا تم میں سے ایک آدمی اپنے بھائی کو سانڈ کی مانند کاٹتا ہے، کوئی دیت نہیں ہے ایسے آدمی کے لیے۔ ایک روایت میں ہے: آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کی دیت کو باطل قرار دیا اور فرمایا: کیا تو چاہتا تھا کہ سانڈ کی طرح اپنے بھائی کے گوشت کو چبائے؟
Takhreej
(۶۵۷۲) تخریج: أخرجہ البخاری:۶۸۹۲، ومسلم: ۱۶۷۳(انظر: ۱۹۸۲۹)
Explanation
فوائد:… کسی شخص پر حملہ ہو تو اسے اپنا دفاع کرنے کا حق حاصل ہے، اگر دفاعی کروائی کے دوران حملہ آور کا کوئی نقصان ہو جائے، حتی کہ وہ مر بھی جائے تو کوئی قصاص، دیتیا معاوضہ یا تاوان نہیں ہو گا، البتہ اگر دفاع کرنے والا کوئی جارحانہ کاروائی کرے گا تو وہ ذمہ دار ہو گا، یہ فیصلہ عدالت کرے گی کہ فلاں آدمی کی کاروائی جارحانہ ہے یا دفاعی۔ ان احادیث کے مطابق ایک آدمی نے دوسرے کی انگلیاں کاٹنا شروع کر دیں، وہ دفاع کرنے کے لیےیہی کچھ کر سکتا ہے کہ اپنا ہاتھ اس کے منہ سے باہر کھینچے، لیکن کاٹنے والے نے انگلیاں اتنی مضبوطی سے پکڑی ہوئی تھیں کہ اس کے دانت بھی باہر آ گئے، ایسے میں دفاعی کاروائی کرنے والا ذمہ دار نہیں ہے۔
6572
Sahih
زخم کے درست ہونے سے پہلے قصاص لینے کی ممانعت کا بیان
۔ (۶۵۷۳)۔عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَیْبٍ عَنْ اَبِیْہِ عَنْ جَدِّہٖقَالَ: قَضٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِیْ رَجُلٍ طَعَنَ رَجُلًا بِقَرْنٍ فِی رِجْلِہِ فَقَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! أَقِدْنِیْ، فَقَالَ لَہُ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَاتَعْجَلْ حَتّٰییَبْرَأَ جُرْحُکَ۔)) قَالَ: فَأَبَی الرَّجُلُ اِلَّا أَنْ یَسْتَقِیْدَ فَأَقَادَہُ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِنْہُ، قَالَ: فَعَرِجَ الْمُسَتَقِیْدُ وَبَرَأَ الْمُسْتَقَادُ مِنْہُ، فَأَتَی الْمُسْتَقِیْدُ إِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! عَرِجْتُ وَبَرَأَ صَاحِبِیْ، فَقَالَ لَہُ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((أَ لَمْ آمُرْکَ أَنْ لَّا تَسْتَقِیْدَ حَتّٰییَبْرَأَ جُرْحُکَ فَعَصَیْتَنِیْ فَاَبْعَدَکَ اللّٰہُ وَبَطَلَ جُرْحُکَ۔)) ثُمَّ أَمَرَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بَعْدَ الرَّجُلِ الَّذِیْ عَرِجَ ((مَنْ کَانَ بِہِ جُرْحٌ أَنْ لَّا یَسْتَقِیْدَ حَتّٰی تَبْرَأَ جِرَاحَتُہُ، فَاِذَا بَرِئَتْ جِرَاحَتُہُ اسْتَقَادَ۔)) (مسند احمد: ۷۰۳۴)
۔ سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے دوسرے کو سینگ مار کر اس کے پائوں کو زخمی کر دیا، زخمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ مجھے اس سے قصاص دلوائیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جلدی نہ کر، یہاں تک کہ تیرا زخم ٹھیک ہو جائے۔ لیکن جب اس آدمی نے قصاص لینے پر ہی اصرار کیا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کو قصاص دلوا دیا، لیکن اس کے بعد قصاص لینے والا لنگڑا ہوگیا اور جس سے قصاص لیا گیا تھا وہ صحت مند ہوگیا، اب وہ قصاص لینے والا پھر نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا: اے اللہ کے رسول!میں لنگڑا ہو گیا ہوں اور میرے متعلقہ آدمی صحت یاب ہو گیا ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس سے فرمایا: کیا میں نے تجھے حکم نہیں دیا تھا کہ اپنے زخم کے درست ہونے تک قصاص نہ لے، لیکن تو نے میری نافرمانی کی، پس اللہ تعالی نے تجھے شفا سے محروم کر دیا اور تیرا زخم رائیگاں ہو گیا۔ پھر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے لنگڑا ہو جانے والے اس آدمی کے واقعہ کے بعد یہ حکم دیا ہے کہ جس کو کوئی زخم لگ جائے، وہ اس وقت تک قصا ص نہ لے، جب تک اس کا زخم درست نہ ہوجائے، جب اس کا زخم درست ہو جائے تو تب وہ قصاص لے۔
Takhreej
(۶۵۷۳) تخریج: اسنادہ ضعیف، ابن اسحاق مدلس، وقد عنعن۔ أخرجہ البیھقی: ۸/ ۶۷، والدارقطنی: ۳/۸۸(انظر: ۷۰۳۴)
Explanation
فوائد:… ملا علی قاری نے اس حکم کی وجہ یہ بیان کی ہے کہ زخموں میں انجام کو دیکھا جاتا ہے، نہ ان کی حالیہ صورتحال کو، کیونکہ ممکن ہے کہ وہ زخم جان لیوا ثابت ہو جائے۔ بہرحال یہ روایت ضعیف ہے۔(مرقاۃ المفاتیح)
6573
Zaeef
کیا حرم یا دیگر مساجد میںقصاصیا حدیں لگائی جا سکتی ہیں؟
۔ (۶۵۷۴)۔عَنْ حَکِیْمِ بْنِ حِزَامٍ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَا تُقَامُ الْحُدُوْدُ فِی الْمَسَاجِدِ وَلَا یُسْتَقَادُ فِیْہَا۔)) (مسند احمد: ۱۵۶۶۴)
۔ سیدنا حکیم بن حزام ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مسجدوں میں نہ حدیں لگائی جائیں اور نہ قصاص لیا جائے۔
Takhreej
(۶۵۷۴) تخریج: اسنادہ ضعیف لجھالۃ العباس بن عبد الرحمن المدنی۔ أخرجہ ابن ابی شیبۃ: ۱۰/ ۴۲، والطبرانی فی ’’الکبیر‘‘: ۳۱۳۱، والدارقطنی فی ’’السنن‘‘: ۳/ ۸۶ (انظر: ۱۵۵۷۹)
Explanation
فوائد:… یہ روایت درج ذیل الفاظ کے ساتھ صحیح ہے: سیدنا حکیم بن حزام b کہتے ہیں: نَہٰی رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَنْ یُسْتَقَادَ فِی الْمَسْجِدِ، وَأَنْ تُنْشَدَ فِیہِ الْأَشْعَارُ، وَأَنْ تُقَامَ فِیہِ الْحُدُودُ۔… رسول اللہa نے اس سے منع فرمایا ہے کہ مسجد میں قصاص لیا جائے، اس میں اشعار پڑھے جائیں اور اس میں حدیں لگائی جائیں۔ (ابوداود: ۴۴۹۰) معلوم ہوا کہ مسجد میں نہ کوئی حد لگائی جائے اور نہ قصاص لیا جائے، کیونکہ مسجد کی تعمیر کا مقصد اللہ تعالی کا ذکر، تلاوت اور نماز ہے۔ ابن خطل کو قتل کرنے کا حکم اس لیے دیا گیا تھا کہ یہ مرتد ہوگیا تھا، یہ نبی کریمa کی ہجو کیا کرتا تھا، اس نے آپa کے ایک خادم مسلمان کو قتل کیا تھا اور اس کی دو لونڈیاں بھی نبی کریمa اور مسلمانوں کی مذمت کیا کرتی تھیں۔ (عبداللہ رفیق)
6574
Zaeef
کیا حرم یا دیگر مساجد میںقصاصیا حدیں لگائی جا سکتی ہیں؟
۔ (۶۵۷۵)۔عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَیْبٍ عَنْ اَبِیْہِ عَنْ جَدِّہٖقَالَ: قَالَرَسُوْلُاللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِنَّ أَعْدَی النَّاسِ عَلَی اللّٰہِ مَنْ قَتَلَ فِی الْحَرْمِ، أَوْ قَتَلَ غَیْرَ قَاتِلِہِ، أَوْ قَتَلَ بِذُحُوْلِ الْجَاھِلِیَّۃِ۔)) (مسند احمد: ۶۹۳۳)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے زیادہ زیادتی کرنے والا وہ شخص ہے جو حرم میں قتل کرے، یا غیر قاتل کو قتل کر دے، یا جاہلیت کا انتقام لے۔
Takhreej
(۶۵۷۵) تخریج: اسنادہ حسن (انظر: ۶۹۳۳)
Explanation
فوائد:… آپa نے جاہلیت کی تمام زیادتیوں کی معافی کا اعلان کر دیا تھا اور عملاً معاف کیا بھی تھا۔
6575
Sahih
کیا حرم یا دیگر مساجد میںقصاصیا حدیں لگائی جا سکتی ہیں؟
۔ (۶۵۷۶)۔عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم دَخَلَ مَکَّۃَ عَامَ الْفَتْحِ وَعَلٰی رَأْسِہِ الْمِغْفَرُ فَلَمَّا نَزَعَہُ جَائَ رَجُلٌ وَقَالَ: اِبْنُ خَطْلٍ مُتَعَلِّقٌ بِأَسْتَارِ الْکَعْبَۃِ فَقَالَ: ((اقْتُلُوْہُ۔)) (مسند احمد: ۱۲۹۶۲)
۔ سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ فتح مکہ والے سال رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مکہ میں داخل ہوئے جبکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے سر پر خود تھا، جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کو اتارا تو ایک آدمی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا اور کہا: ابن خطل کعبہ کے پردوں کے ساتھ لٹکا ہوا ہے، آپ نے فرمایا: اس کو قتل کردو۔
Takhreej
(۶۵۷۶) أخرجہ البخاری: ۱۸۴۶، ۳۰۴۴، ومسلم: ۱۳۵۷، وابوداود!: ۲۶۸۵(انظر: ۱۲۹۳۲)
Explanation
فوائد:… نبی کریمa نے ابن خطل کو کعبہ میں اس وقت قتل کروایا تھا، جب آپa نے کے لیے کچھ وقت کے لیے لڑائی جائز قرار دی گئی تھی، فتح مکہ کے موقع پر جب لڑائی کا معینہ وقت گزر گیا تو پھر آپa نے اس کی حرمت کا اعلان کر دیا، جو روزِ قیامت تک برقرار رہے گی۔ وعظ و نصیحت، کافروں کی مذمت اور دیگر کسی اچھے مقصد کے لیے اشعار مسجد میں پڑھنے جائز ہیں۔ نبی کریمa نے حسانb کو فرمایا تھا مشرکوں کو میری طرف سے جواب دے پھر آپ نے اس کے لیے دعا کی ’’اللہم ایدہ بروح القدس‘‘ اے اللہ! جبریل کے ساتھ اس کی مدد فرما۔ (بخاری: ۶۱۵۰/۶۰۵۱) (عبداللہ رفیق)
6576
Sahih
قسامہ کا بیان
۔ (۶۵۷۷)۔ عَنْ بُشَیْرِ بْنِ یَسَارٍ عَنْ سَہْلِ بْنِ اَبِیْ حَثْمَۃَ قَالَ: خَرَجَ عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ سَہْلٍ اَخُوْ بَنِیْ حَارِثَۃَیَعْنِی فِیْ نَفَرٍ مِنْ بَنِیْ حَارِثَۃَ إِلٰی خَیْبَرَیَمْتَارُوْنَ مِنْہَا تَمَرًا، قَالَ: فَعُدِیَ عَلٰی عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ سَہْلٍ فَکُسِرَتْ عُنُقُہُ ثُمَّ طُرِحَ فِیْ مَنْہَرٍ مِنْ مَنَاھِرِ عُیُوْنِ خَیْبَرَ وَفَقَدَہُ أَصْحَابُہُ فَالْتَمَسُوْہُ حَتّٰی وَجَدُوْہُ فَغَیَّبُوْہُ، قَالَ: ثُمَّ قَدِمُوْا عَلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، فَأَقْبَلَ أَخُوْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنُ سَہْلٍ وَاِبْنَا عَمِّہِ حُوَیِّصَۃُ وَمُحَیِّصَۃُ وَھُمَا کَانَا أَسَنَّ مِنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ وَکَانَ عَبْدُ الرَّحْمٰنِ ذَا قَدَمٍ مِنَ الْقَوْمِ وَصَاحِبُ الدَّمِ فَتَقَدَّمَ لِذٰلِکَ، فَکَلَّمَ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَبْلَ اِبْنَیْ عَمِّہِ حُوَیِّصَۃَ وَمُحَیِّصَۃَ، قَالَ: فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَلْکُبَرَ الْکُبَرَ۔)) فَاسْتَأْخَرَ عَبْدُ الرَّحْمٰنِ وَتَکَلَّمَ حُوَیِّصَۃُ، ثُمَّ تَکَلَّمَ مُحَیِّصَۃُ، ثُمَّ تَکَلَّمَ عَبْدُ الرَّحْمٰنِ، فَقَالُوْا: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! عُدِیَ عَلٰی صَاحِبِنَا فَقُتِلَ وَلَیْسَ بِخَیْبَرَ عَدُوٌّ اِلَّا یَہُوْدَ، قَالَ: فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((تُسَمُّوْنَ قَاتِلَکُمْ تَحْلِفُوْنَ عَلَیْہِ خَمْسِیْنَیَمِیْنًْا ثُمَّ نُسْلِمُہُ؟)) قَالَ: فَقَالُوْا: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! مَا کُنَّا لِنَحْلِفَ عَلٰی مَا لَمْ نَشْہَدْ، قَالَ: ((فَیَحْلِفُوْنَ لَکُمْ خَمْسِیْنَیَمِیْنًا وَیَبْرَؤُنَ مِنْ دَمِ صَاحِبِکُمْ؟)) قَالُوْا: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! مَاکُنَّا لِنَقْبَلَ اِیْمَانَیَہُوْدَ، مَاھُمْ فِیْہِ مِنَ الْکُفْرِ أَعْظَمُ مِنْ أَنْ یَحْلِفُوْا عَلٰی إِثْمٍ، قَالَ: فَوَدَاہُ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ تَبَارَکَ وَ تَعَالٰی وَعَلٰی آلِہِ وَصَحْبِہِ وَسَلَّمَ مِنْ عِنْدِہِ مِائَۃَ نَاقَۃٍ، قَالَ: یَقُوْلُ سَہْلٌ: مَا أَنْسٰی بَکَرَۃً مِنْہَا حَمْرَائَ رَکَضَتْنِیْ وَأَنَا أَحُوْزُھَا۔ (مسند احمد: ۱۶۱۹۴)
۔ سیدنا سہل بن ابی حثمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے بنوحارثہ کے بھائی عبداللہ، بنوحارثہ کے چند افراد کے ہمراہ کھجوروں کا غلہ لینے خیبر کی جانب نکلے، سیدنا عبداللہ بن سہل ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی گردن توڑ دی گئی (یعنی ان کو قتل کر دیا گیا اور خیبر کے چشموں میں سے ایک چشمہ کے پانی کے بہائو کیجگہ پر پھینک دیا گیا، جب انہوں نے اپنے ساتھی کو گم پایا تو اس کی تلاش میں نکلے، یہاں تک کہ اسے مقتول پایا، پھر انہوں نے اس کو دفن کیا اور بعد ازاں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، عبداللہ کا بھائی عبد الرحمن بن سہل اور اس کے دو چچا کے بیٹے حویصہ اور محیصہ جو کہ عبد الرحمن سے بڑے تھے، مگر عبد الرحمن ان سب سے بڑھ کر جرأت مند تھا اور مقتول کے خون کا وارث بھی تھا، یہ افراد رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آئے اور عبد الرحمن نے اپنے چچا کے بیٹوں حویصہ اور محیصہ سے پہلے آپ سے بات کرنا شروع کی، لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بڑے کو بات کرنے دو، بڑے کو بات کرنے دو۔ سو عبدالرحمن پیچھے ہٹ گئے اور حویصہ نے بات کی، اس کے بعد محیصہ نے اور آخر میں عبد الرحمن نے صورت حال بتائی اور انہوں نے کہا : اے اللہ کے رسول ! ہمارے بھائی پر حملہ ہوا ہے اور خیبر میں ہمارے دشمن صرف یہودی ہیں، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم اپنے قاتل کو اس طرح نامزدکرو کہ تم میں سے پچاس آدمی قسمیں اٹھائیں کہ ہم اس قاتل کو تم لوگوں کے حوالے کر دیں گے۔ انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ! ہم جس واقعہ پرحاضر نہیں تھے، اس کے بارے میں قسمیں کیسے اٹھائیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تو پھر یہودی لوگ پچاس قسمیں اٹھائیں گے اور تمہارے ساتھی کے خون سے بری ہو جائیں گے۔ انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہم تو یہودیوں کی قسمیں قبول کرنے والے نہیں ہیں، جس کفر میں وہ مبتلا ہیں، وہ گناہ والی قسم سے بڑا جرم ہے، پھر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنے پاس سے سو اونٹنیوں کی صورت میں اس مقتول کی دیت ادا کر دی، سہل کہتے ہیں : میں ابھی تک یہ بات نہیں بھولا کہ ان میں ایک سرخ رنگ کی اونٹنی تھی، اس نے مجھے لات ماری تھی، جبکہ میں اس کو نرمی سے ہانک رہا تھا۔
Takhreej
(۶۵۷۷) تخریج: أخرجہ البخاری:۳۱۷۳، ۶۸۹۸، ومسلم: ۱۶۶۹(انظر: ۱۶۰۹۶)
6577
Sahih
قسامہ کا بیان
۔ (۶۵۷۸)۔ عَنْ اَبِیْ سَلَمَۃَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ وَ سُلَیْمَانَ بْنِ یَسَارٍ عَنْ إِنْسَانٍ مِنَ الْأَنْصَارِمِنْ اَصْحَابِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنَّ الْقَسَامَۃَ کَانَتْ فِی الْجَاھِلِیَّۃِ قَسَامَۃَ الدَّمِ، فَأَقَرَّھَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَلٰی مَاکَانَتْ عَلَیْہِ فِی الْجَاھِلِیَّۃِ وَقَضٰی بِہَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بَیْنَ أُنَاسٍ مِنَ الْأَنْصَارِ مِنْ بَنِیْ حَارِثَۃَ فِیْ قَتِیْلٍ اِدَّعَوْہُ عَلَی الْیَہُوْدِ۔ (مسند احمد: ۱۶۷۱۵)
۔ ایک انصاری صحابی سے مروی ہے کہ جاہلیت میں خون بہنے کی صورت میں قسامہ تھا، رسو ل اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کو اسی طرح برقرار رکھا، جیسے وہ جاہلیت میں تھا، اور بنو حارثہ کے چند انصاری لوگوں نے اپنے ایک مقتول کی تہمت یہودیوں پر لگا دی تھی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے قسامہ کی روشنی میں فیصلہ کیا تھا۔
Takhreej
(۶۵۷۸) تخریج: أخرجہ مسلم: ۱۶۷۰(انظر: ۱۶۵۹۸)
6578
Sahih
قسامہ کا بیان
۔ (۶۵۷۹)۔ عَنْ اَبِیْ سَعِیْدٍ الْخُدْرِیِّ قَالَ: وَجَدَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَتِیْلًا بَیْنَ قَرْیَتَیْنِ فَأَمَرَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَذِرِعَ مَا بَیْنَہُمَا، قَالَ: وَکَأَنِّیْ أَنْظُرُ إِلٰی شِبْرِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَأَلْقَاہُ عَلٰی أَقْرَبِہِمَا۔ (مسند احمد: ۱۱۳۶۱)
۔ سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے دو بستیوں کے درمیان ایک مقتول پایا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان دونوں بستیوں کے درمیان فاصلہ کو ماپنے کا حکم دیا، گویا کہ میں اب بھی رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی بالشت کو دیکھ رہا ہوں،پھر آپ نے قریب والی بستی کو اس قتل کا ذمہ دار قرار دیا۔
Takhreej
(۶۵۷۹) تخریج: اسنادہ ضعیف جدا، لضعف ابی اسرائیل الملائی، وعطیۃ العوفی۔ أخرجہ البزار: ۱۵۳۴، والبیھقی فی ’’السنن‘‘: ۸/ ۱۲۶(انظر: ۱۱۳۴۱)
Explanation
فوائد:… نبی کریمa نے اسلام سے پہلے کے کچھ اصول و ضوابط برقرار رکھے، ان میں ایک ضابطہ قسامہ ہے، قسامہ قسم کی ایک خاص صورت ہے اور وہ یہ کہ جب کوئی شخص کسی علاقے میں مقتول پایا جائے، لیکن اس کے قاتل کا پتہ نہ چلے یا کچھ لوگوں پر شک ہو کہ وہ قتل میں ملوث ہیں، مگر کوئی ثبوت نہ ہو تو مدعی لوگوں سے پچاس قسمیں لی جائیں گی، اگر وہ پچاس قسمیں اٹھا لیں تو وہ دیت کے مستحق قرار پائیں گے، اور اگروہ یہ قسمیں نہ دیں تو مدعٰی علیہ لوگوں کے پچاس معتبر آدمیوں سے قسم لی جائے کہ نہ انھوں نے اس کو قتل کیا ہے اور نہ وہ اس کے قاتل کو جانتے ہیں، ایسی صورت میں اس علاقے کے لوگ قتل کے الزام سے بری ہو جائیں گے۔
6579
Zaeef

Chapters

38
01
مؤمن کے قتل پر سخت وعید اور سختی کا بیان
13 Hadith
02
مسلمانوں پر ہتھیار اٹھانے والے کی وعید کا بیان
8 Hadith
03
مسلمان کا خون کو جائز قرار دینے والے امور کا بیان
5 Hadith
04
ذمیوں اورمعاہدہ والوں کے قتل کے حرام ہونے اور اس معاملے میں سختی کا بیان
4 Hadith
05
خود کشی کرنے پر وعید کا بیان، وہ جس چیز سے مرضی خود کشی کرے
8 Hadith
06
نفس کی حفاظت کرنے اوراسے ہلاکت سے بچانے کے واجب ہونے کا بیان
3 Hadith
07
اس چیز کے ابواب کہ کون سے حیوان قتل کرنا جائز ہیں اور کون سے ناجائز فاسق حیوانات کو قتل کرنے کے حکم کا بیان
13 Hadith
08
گھریلو سانپوں کو مارنے کی ممانعت کا بیان، الا یہ کہ پہلے ان کو متنبہ کیا جائے، مگر چھوٹی دم والا موذی سانپ اور وہ سانپ جس کی پشت پر دو دھاریاں ہوں، ان دونوں کو ہر صورت میں قتل کیا جائے گا
8 Hadith
09
چھپکلی کو قتل کرنے کے مستحب ہونے اور اس کو مارنے والے کے اجر و ثواب کا بیان
6 Hadith
10
کتوں کو قتل کرنے اور انہیں پالنے کا بیان کتوں کو قتل کرنے کے حکم اور اس کے سبب کا بیان
7 Hadith
11
کالے سیاہ کتے کے علاوہ باقی کتوں کو قتل نہ کرنے کی رخصت کا بیان
4 Hadith
12
اس چیز کا بیان کہ اِس رخصت کے بعد کون سے کتے پالنا جائز ہیں اور کون سے ناجائز
5 Hadith
13
جس گھر میں کتا یا تصویر ہو، اس میں فرشتوں کے داخل نہ ہونے کا بیان
6 Hadith
14
ان حیوانات کا بیان، جن کا قتل کرنا جائز نہیں ہے
2 Hadith
15
حیوانیا انسان کو باندھ کر قتل کرنے یا اذیت والی چیز سے قتل کرنے اور پھر انسان کا مثلہ کرنے سے ممانعت کا بیان
10 Hadith
16
ہر روح والی چیز کو آگ سے جلانے کی ممانعت کا بیان
3 Hadith
17
قصاص کے ابواب قتل عمد پر قصاص کے ثابت ہونے اور اس کے مستحق کو قصاص اور دیت میں اختیار دینے کا بیان
3 Hadith
18
اس چیز کا بیان کہ مسلمان کو کافر کے بدلے قتل نہیں کیا جائے گا اور آزاد کو غلام کے بدلے قتل کیے جانے کا مسئلہ
5 Hadith
19
مرد کو عورت کے بدلے اور عورت کو عورت کے بدلے قتل کرنے اور بھاری آلے سے قتل کرنے اور قاتل کو اسی انداز میں قتل کرنے کا بیان، جس میں اس نے کیا ہو
4 Hadith
20
والدین کو اولاد کے بدلے میں قتل نہ کرنے اور ایک مقتول کے قصاص میں دو افراد کو قتل کرنے کا بیان
4 Hadith
21
حکمرانوں سے قصاص لیے جانے کا بیان، الا یہ کہ مستحق صلح کر لے یا معاف کر دے
3 Hadith
22
قصاص لینے کا مستحق ہونے کے بعد معاف کر دینے والے کی فضیلت کا بیان
3 Hadith
23
دانت توڑنے کے قصاص کا بیان
2 Hadith
24
کان کا بعض حصہ کاٹنے میں قصاص لینے کا بیان
1 Hadith
25
اس چیز کا بیان کہ ایک آدمی کسی کا ہاتھ کاٹنے کے لیے منہ میں ڈالے اور وہ اپنا ہاتھ کھینچے جس کے نتیجے میں اس کے سامنے والا دانت گر جائے
3 Hadith
26
زخم کے درست ہونے سے پہلے قصاص لینے کی ممانعت کا بیان
1 Hadith
27
کیا حرم یا دیگر مساجد میںقصاصیا حدیں لگائی جا سکتی ہیں؟
3 Hadith
28
قسامہ کا بیان
3 Hadith
29
دیت کے ابواب نفس، اعضاء اور اعضاء کی منفعتوں کی دیت کا جامع تذکرہ اور اس میں قتل خطا، قتل عمد اور قتل شبہ عمد کا بیان
3 Hadith
30
شبہ عمد کے مقتول کی دیت کا بیان
6 Hadith
31
محض قتلِ خطا کی دیت کا بیان
4 Hadith
32
قتل کے علاوہ اعضا اور زخموں وغیرہ کی دیت کا بیان
6 Hadith
33
ذمیوں اور مکاتَب کی دیت کا بیان
6 Hadith
34
جنین کی دیت کا بیان
5 Hadith
35
اس شخص کا بیان کہ جس کے والد کو از راہِ خطا قتل کر دیا گیا اور پھر اس نے اس کی دیت کو مسلمانوں پر خیرات کر دیا
1 Hadith
36
قتل کا سبب بننے کی وجہ سے دیت کے واجب ہونے کا بیان اورگڑھے میں گرنے والوں کا واقعہ
1 Hadith
37
عاقلہ اور دیت کی ذمہ داری اٹھانے والوں کا بیان
5 Hadith
38
کسی شخص کا دوسرے کے جرم کی وجہ سے مؤاخذہ نہیں ہو گا، اگرچہ وہ اس کا سب سے قریبی رشتہ دار ہو
4 Hadith
No chapter matched that.