TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

قتل اور دوسرے جرائم کے مسائل اور خونوں کے احکام - قتل اور دوسرے جرائم کے مسائل اور خونوں کے احکام - Book 109 of Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Book 109 of Musnad Ahmad, with 38 chapters and 181 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.

181 Hadith · 38 Chapters
حیوانیا انسان کو باندھ کر قتل کرنے یا اذیت والی چیز سے قتل کرنے اور پھر انسان کا مثلہ کرنے سے ممانعت کا بیان
۔ (۶۵۴۰)۔ عَنْ عُبَیْدِ بْنِ تِعْلِی قَالَ: غَزَوْنَا مَعَ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ خَالِدِ بْنِ الْوَلِیْدِ فَأُتِیَ بِأَرْبَعَۃِ أَعْلَاجٍ مِنَ الْعَدُوِّ فَأَمَرَ بِہِمْ فَقُتِلُوْا صَبْرًا بِالنَّبْلِ، فَبَلَغَ ذَالِکَ أَبَا اَیُوْبَ فَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَنْھٰی عَنْ قَتْلِ الصَّبْرِ۔ (مسند احمد: ۲۳۹۸۸)
۔ عبید بن تِعلی کہتے ہیں: ہم نے عبد الرحمن بن خالد بن ولید کے ساتھ غزوہ کیا، جب ان کے پاس چار عجمی دشمن لائے گئے،تو انہوں نے حکم دیا کہ ان کو باندھ کر تیروں سے قتل کر دیا جائے، جب یہ بات سیدنا ابو ایوب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو پہنچی تو انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے باندھ کر قتل کرنے سے منع فرمایا ہے۔
Takhreej
(۶۵۴۰) المرفوع منہ صحیح لغیرہ، وھذا اسناد ضعیف، فان فیہ علی الصواب بین بکیر بن عبد اللہ وبین ابن تعلی والدَ بکیر عبدَ اللہ بن الاشج، وھو مجھول۔ أخرجہ ابوداود: ۲۶۸۷(انظر: ۲۳۵۹۰)
6540
Sahih
حیوانیا انسان کو باندھ کر قتل کرنے یا اذیت والی چیز سے قتل کرنے اور پھر انسان کا مثلہ کرنے سے ممانعت کا بیان
۔ (۶۵۴۱)۔ (وعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) عَنْ اَبِیْ اَیُّوْبَ، قَالَ: نَھٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَنْ صَبْرِ الدَّابَّۃِ، قَالَ أَبُوْ أَیُّوْبَ: لَوْ کَانَتْ لِیْ دَجَاجَۃٌ مَا صَبَرْتُہَا۔ (مسند احمد: ۲۳۹۸۷)
۔ (دوسری سند) سیدنا ابوایوب انصاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے جانور کو باندھ کر قتل کرنے سے منع فرمایا ہے، پھر سیدنا ابوایوب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اگر میرے پاس مرغی بھی ہوتو میں اسے باندھ کر قتل نہیں کروں گا۔
Takhreej
(۶۵۴۱) تخریج: انطر الحدیث بالطریق الاول
6541
Sahih
ہر روح والی چیز کو آگ سے جلانے کی ممانعت کا بیان
۔ (۶۵۴۲)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((نَزَلَ نَبِیٌّ مِنَ الْأَنْبِیَائِ تَحْتَ شَجَرَۃٍ فَلَدَغَتْہُ نَمْلَۃٌ فَأَمَرَ بِجَہَازِہِ فَأُخْرِجَ مِنْ تَحْتِہَا ثُمَّ أَمَرَ بِہَا فَأُحْرِقَتْ بِالنَّارِ، فَأَوْحَی اللّٰـہُ عَزَّوَجَلَّ إِلَیْہِ فَہَلَّا نَمْلَۃً وَاحِدَۃً۔)) (مسند احمد: ۹۸۰۰)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ایک نبی نے ایک درخت کے نیچے پڑاؤ ڈالا اور ایک چیونٹی نے اس کو کاٹ لیا، پاس اس وجہ سے اس نے حکم دیا کہ اس کا سامان اس درخت کے نیچے سے ہٹا لیا جائے، پھر ان چیونٹیوں کو جلانے کا حکم دیا، اُدھر اللہ تعالی نے اس نبی کییہ وحی کر دی کہ صرف ایک چیونٹی کو کیوں نہیں جلایا۔
Takhreej
(۶۵۴۲) تخریج: أخرجہ البخاری: ۳۳۱۹، ومسلم: ۲۲۴۱(انظر: ۹۷۹۹)
Explanation
فوائد:… صحیح بخاری کی ایک روایت میںہے: ((فَأَوْحَی اللّٰہ اِلَیْہِ اَنْ قَرَصَتْکَ نَمْلَۃٌ اَحْرَقْتَ اُمَّۃً مِّنَ الْاُمَمِ تُسْبِحُ اللّٰہَ۔))… ’’پس اللہ تعالی اس نبی کی طرف وحی کہ ایک چیونٹی نے تجھے کاٹا تھا، لیکن تو نے ایک ایسی امت کو جلا دیا، جو اللہ تعالی کی تسبیح بیان کرتی تھی۔‘‘ ممکن ہے کہ اس نبی کی شریعت کے مطابق آگ کا عذاب دینا جائز ہو، اس لیے جلانے پر سرزنش نہیں کی گئی، بلکہ دوسری چیونٹیوں کو جلانے پر ڈانٹا گیا۔
6542
Sahih
ہر روح والی چیز کو آگ سے جلانے کی ممانعت کا بیان
۔ (۶۵۴۳)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ قَالَ: نَزَلَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مَنْزِلًا فَانْطَلَقَ لِحَاجَتِہِ فَجَائَ وَقَدْ أَوْقَدَ رَجُلٌ عَلٰی قَرْیَۃِ نَمْلٍ إِمَّا فِی الْأَرْضِ وَإِمَّا فِی شَجَرَۃٍ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((أَیُّکُمْ فَعَلَ ھٰذَا؟)) فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ: اَنَا یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! قَالَ: ((اَطْفِہَا اَطْفِہَا۔)) (مسند احمد: ۳۷۶۳)
۔ سیدنا عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ایک جگہ اترے اور قضائے حاجت کے لئے کہیں تشریف لے گئے، جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم واپس آئے تو دیکھا کہ ایک آدمی زمینیا درخت پر موجود چیونٹیوں کے گھر جلا رہا تھا،رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم میں سے یہ کام کس نے کیاہے؟ ایک آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں نے یہ کام کیا ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اسے بجھائو بجھائو۔
Takhreej
(۶۵۴۳) تخریج: حسن لغیرہ (انظر: ۳۷۶۳)
6543
Sahih
ہر روح والی چیز کو آگ سے جلانے کی ممانعت کا بیان
۔ (۶۵۴۴)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) قَالَ: کُنَّا مَعَ النَّبِیّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَمَرَرْنَا بِقَرْیَۃِ نَمْلٍ فَأُحْرِقَتْ، فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَا یَنْبَغِیْ لِبَشَرٍ أَنْ یُعَذِّبَ بِعَذَابِ اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ۔)) (مسند احمد: ۴۰۱۸)
۔ (دوسری سند) وہ کہتے ہیں: ہم نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ تھے، ہم چیونٹیوں کی بلوں کے پاس سے گزرے اور دیکھا کہ انہیں جلا دیا گیا تھا، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کسی بشر کے لیے لائق نہیں ہے کہ وہ کسی کو اللہ تعالیٰ کے عذاب کی مانند عذاب دے۔
Takhreej
(۶۵۴۴) تخریج: صحیح۔ أخرجہ مطولا ابوداود: ۲۶۷۵، ۵۲۶۸ (انظر: ۴۰۱۸)
Explanation
فوائد:… آگ کا عذاب بہت سخت، خوفناک اور اذیت ناک ہے، یہ کسی انسان کے لائق نہیں ہے کہ وہ اس کے ذریعے کسی کو اذیت دے، مزید دیکھیں: احادیث نمبر (۵۰۰۸، ۵۰۰۹)۔
6544
Sahih
قصاص کے ابواب قتل عمد پر قصاص کے ثابت ہونے اور اس کے مستحق کو قصاص اور دیت میں اختیار دینے کا بیان
۔ (۶۵۴۵)۔ عَنْ اَبِیْ شُرَیْحٍ الْخُزَاعِیِّ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم (وَفِیْ لَفْظٍ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ): ((مَنْ أُصِیْبَ بِدَمٍ أَوْ خَبْلٍ وَالْخَبْلُ الْجِرَاحُ، فَہُوَ بِالْخِیَارِ بَیْنَ اِحْدٰی ثَلَاثٍ، إِمَّا أَنْ یَقْتَصَّ أَوْ یَأْخُذَ الْعَقْلَ أَوْ یَعْفُوَ، فَاِنْ أَرَادَ رَابِعَۃً فَخُذُوْا عَلٰییَدَیْہِ، فَاِنْ فَعَلَ شَیْئًا مِنْ ذَالِکَ ثُمَّ عَدَا بَعْدُ، فَلَہُ النَّارُ خَالِدًا فِیْہَا مُخَلَّدًا۔)) (مسند احمد: ۱۶۴۸۸)
۔ سیدنا ابو شریح خزاعی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس کا قتل ہو جائے یاجس کو کوئی زخم لگ جائے، اس کو تین باتوں میں سے ایک کا اختیار ہے: (۱) وہ قصاص لے لے، یا (۲) دیت لے لے یا پھر (۳) معاف کر دے، اگر کوئی چوتھی صورت چاہے تو اسے روک دو، اگر کوئی آدمیان تین میں سے ایک چیز اختیار کرلے اور پھر اس کے بعد زیادتی کرے، تو اس کے لئے دوزخ ہے، وہ اس میں ہمیشہ ہمیشہ رہے گا۔
Takhreej
(۶۵۴۵) تخریج: اسنادہ ضعیف لضعف سفیان بن ابی العوجاء السلمی۔ أخرجہ ابوداود: ۴۴۹۶، وابن ماجہ: ۲۶۲۳(انظر: ۱۶۳۷۵)
Explanation
فوائد:… اس حدیث کا بعض مضمون اس آیت میں بیان کیا گیا ہے: {فَمَنِ اعْتَدٰی بَعْدَ ذَالِکَ فَلَہٗعَذَابٌاَلِیْمٌ} ’’پس جس نے (قبولِ دیت) کے بعد زیادتی کی، اس کے لیے درد ناک عذاب ہو گا۔‘‘ (بقرہ: ۱۷۸)شریعت ِ مطہرہ نے مظلوم کے حق کا بھی تعین کر دیا ہے، ظالم کے ظلم کا یہ مطلب نہیں ہے کہ اس کے ساتھ زیادتی ہو جائے۔
6545
Zaeef
قصاص کے ابواب قتل عمد پر قصاص کے ثابت ہونے اور اس کے مستحق کو قصاص اور دیت میں اختیار دینے کا بیان
۔ (۶۵۴۶)۔ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَیْبٍ عَنْ اَبِیْہِ عَنْ جَدِّہٖأَنَّرَسُوْلَاللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَنْ قَتَلَ مُتَعَمِّدًا دُفِعَ إِلٰی أَوْلِیَائِ الْقَتِیْلِ فَاِنْ شَائُ وْا قَتَلُوْہُ، وَإِنْ شَائُ وْا أَخَذُوْا الدِّیَۃَ وَھِیَ ثَلَاثُوْنَ حِقَّۃً وَثَلَاثُوْنَ جَذَعَۃً وَأَرْبَعُوْنَ خَلِفَۃً وَذَالِکَ عَقْلُ الْعَمْدِ وَمَا صَالَحُوْا عَلَیْہِ فَہُوَ لَھُمْ وَذَالِکَ تَشْدِیْدُ الْعَقْلِ))(مسند احمد:۶۷۱۷)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس نے قصداً قتل کیا، اسے مقتول کے لواحقین کے حوالے کر دیاجائے گا، اگر وہ چاہیں تو اس کو قتل کردیں، چاہیں تو دیت لے لیں، جس کی تفصیلیہ ہے: تیس حِقّے، تیس جذعے اور چالیس گابھن اونٹنیاں،یہقتل عمد کی دیت ہے، نیز وہ جس چیز پر صلح کرلیں، وہ ان کی ہو گی،یہ سخت ترین دیت ہے۔
Takhreej
(۶۵۴۶) تخریج: اسنادہ حسن۔ أخرجہ الترمذی: ۱۳۸۷، وابن ماجہ: ۲۶۲۶(انظر: ۶۷۱۷)
Explanation
فوائد:… حِقّہ: وہ اونٹنی جو چوتھے سال میں داخل ہوچکی ہو، جذعہ: وہ اونٹنی جو پانچویں سال میں داخل ہو چکی ہو، خَلِفَہ: حاملہ اونٹنی کو کہتے ہیں۔ اس حدیث ِ مبارکہ میں قتل عمد کی دیت بیان کی گئی ہے۔ ’’نیز وہ جس چیز پر صلح کرلیں‘‘ اس سے مراد مذکورہ دیت کے علاوہ کوئی چیز ہو سکتی ہے، یعنی جب مظلوم قصاص ہی کا مطالبہ کر ر ہا ہو تو اس کو اس کی دیت سے زیادہ دے دلا کر اس کو راضی کیا جا سکتا ہے، اسی طرح دیت کی ادائیگی کا وقت اور مقام بھی اس میںشامل ہیں، دونوں فریق ان امور کے پابند ہوں گے۔ مسلمان کے خون کا اندازہ لگائیںکہ اگر اولیائے مقتول قصاص معاف کر کے دیت لینے پر راضی ہو جائیں تو ان کو (۱۰۰) اونٹ دیئے جائیں اور وہ بھی عام اونٹ نہیں ہیں، بلکہ تیس حِقّے، تیس جذعے اور چالیس گابھن اونٹنیاں ہیں۔ کاش ہم بھی اسلام کی وجہ سے مسلمان کے وجود کی معرفت حاصل کر لیتے۔
6546
Sahih
قصاص کے ابواب قتل عمد پر قصاص کے ثابت ہونے اور اس کے مستحق کو قصاص اور دیت میں اختیار دینے کا بیان
۔ (۶۵۴۷)۔ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((لَا أُعْفِیْ مَنْ قَتَلَ بَعْدَ أَخْذِہِ الدِّیَۃَ۔)) (مسند احمد: ۱۴۹۷۳)
۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس نے دیت وصول کرلینے کے بعد بھی قاتل کو قتل کر دیا، میں اس کو معاف نہیں کروں گا۔
Takhreej
(۶۵۴۷) تخریج: اسنادہ ضعیف، الحسن البصری لم یسمع من جابر، ومطر بن طھمان ضعفہ غیر واحد۔ أخرجہ ابوداود: ۴۵۰۷(انظر: ۱۴۹۱۱)
6547
Zaeef
اس چیز کا بیان کہ مسلمان کو کافر کے بدلے قتل نہیں کیا جائے گا اور آزاد کو غلام کے بدلے قتل کیے جانے کا مسئلہ
۔ (۶۵۴۸)۔ عَنْ اَبِیْ جُحَیْفَۃَ قَالَ: سَأَلْنَا عَلِیًّا ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ھَلْ عِنْدَکُمْ مِنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم شَیْئٌ بَعْدَ الْقُرْآنِ؟ قَالَ: لَا، وَالَّذِیْ فَلَقَ الْحَبَّۃَ وَبَرَأَ النَّسَمَۃَ اِلَّا فَہْمٌ یُؤْتِیْہِ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ رَجُلًا فِی الْقُرْآنِ أَوْ مَا فِی الصَّحِیْفَۃِ، قُلْتُ: وَ مَا فِی الصَّحِیْفَۃِ؟ قَالَ: الْعَقْلُ وَفِکَاکُ الْأَسِیْرِ وَلَا یُقْتَلُ مُسْلِمٌ بِکَافِرٍ۔ (مسند احمد: ۵۹۹)
۔ سیدنا ابو حجیفہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم نے سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے سوال کیا کہ قرآن پاک کے علاوہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے تم لوگوں کو کوئی اور چیز بھی دی ہے؟ انھوں نے کہا: نہیں، اس ذات کی قسم جس نے دانے کو پھاڑا اور روح کو پیدا کیا ہے!کوئی چیز نہیں دی، ما سوائے اس فہم و بصیرت کے جو اللہ تعالیٰ کسی آدمی کو قرآن میں عطا کردیتا ہے، یا پھر وہ چیز ہے جو اس صحیفے میں ہے۔ میں نے کہا: اس میں کیا ہے؟ انھوں نے کہا: دیت کے مسائل،قیدی کو آزاد کرنا اور یہ کہ مسلمان کو کافرکے بدلے قتل نہیں کیا جائے گا۔
Takhreej
(۶۵۴۸) تخریج: أخرجہ البخاری: ۱۱۱، ۳۰۴۷، ۶۹۱۵(انظر: )
Explanation
فوائد:… ابوحجیفہb کے سوال کا پس منظر یہ تھا کہ شیعہ کے ایک گروہ کا عقیدہ ہے کہ اہل بیت کے پاس خصوصاً سیدنا علیbکو نبی کریمa نے خاص علم کی خبر دی ہے، جواباً سیدنا علیb نے بڑے جامع انداز میں اس نظریہ کی تردید کر دی ہے۔ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اگر مسلمان کافر کو قتل کر دے تو قصاصاً مسلمان کو قتل نہیں کیا جائے گا۔ معلوم ہوتا ہے کہ علیb کی زندگی میں ہی لوگوں کے اندر یہ غلط فہمی عام ہو رہی تھی کہ نبی کریمa نے ان کو کوئی خاص علم سکھایا ہے۔ جس کا ازالہ انہوں نے کیا ہے۔
6548
Sahih
اس چیز کا بیان کہ مسلمان کو کافر کے بدلے قتل نہیں کیا جائے گا اور آزاد کو غلام کے بدلے قتل کیے جانے کا مسئلہ
۔ (۶۵۴۹)۔ عَنْ عَلِیٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((الْمُؤْمِنُوْنَ تَتَکَافَأُ دِمَاؤُھُمْ وَھُمْ یَدٌ عَلٰی مَنْ سَوَاھُمْ یَسْعٰی بِذِمَّتِہِمْ أَدْنَاھُمْ، أَلَا لَا یُقْتَلُ مُؤْمِنٌ بِکَافِرٍ وَلَا ذُوْعَہْدٍ فِیْ عَہْدِہِ۔)) (مسند احمد: ۹۹۱)
۔ سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مؤمنوں کے خون آپس میں برابر ہیں،یہ اپنے دشمنوں کے خلاف تعاون میں سب ایک جیسے ہیں، ادنی مسلمان بھی تمام مسلمانوں کے عہد وپیمان کا حق رکھتا ہے، خبر دار! مؤمن کو کافر کے بدلے میں قتل نہیں کیا جائے گااور کسی ذمّی کو اس کے معاہدے کے دوران قتل نہیں کیا جائے گا۔
Takhreej
(۶۵۴۹) تخریج: أخرجہ البخاری:۳۱۷۲، ۶۷۵۵، ۷۳۰۰، ومسلم: ۱۳۷۰ (انظر: ۹۹۱)
Explanation
فوائد:… اسلام نے احکام کو مرتّب کرتے وقت ادنی و اعلی کی تمیز ختم کر دی ہے، جو دنیا پر راج کرنے کا سب سے بڑا ہتھیار ہے، لیکن اہل اسلام اس قانون کو سمجھنے کی اہلیت نہیں رکھتے۔ ’’ادنی مسلمان بھی تمام مسلمانوں کے عہد وپیمان کا حق رکھتا ہے‘‘اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر کوئی مسلمان مرد یا عورت کسی حربی کافر کو امان دے دے، تو تمام مسلمانوں کو اس امان کو قبول کرنا پڑے گا اور کسی کو اجازت نہیں ہو گی کہ وہ اس کو توڑ سکے۔ ذمّی اس شخص کو کہتے ہیں، جس کا تعلق دار الحرب سے ہو،لیکن وہ امان لے کر مسلمانوں کے ملک میں آیا ہوا ہو، ایسے شخص کو قتل کرنا حرام ہے، معاہدے کے مطابق اس کی امان برقرار رہے گی۔
6549
Sahih
اس چیز کا بیان کہ مسلمان کو کافر کے بدلے قتل نہیں کیا جائے گا اور آزاد کو غلام کے بدلے قتل کیے جانے کا مسئلہ
۔ (۶۵۵۰)۔ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَیْبٍ عَنْ اَبِیْہِ عَنْ جَدِّہٖأَنَّرَسُوْلَاللّٰہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَضٰی أَنْ لَا یُقْتَلَ مُسْلِمٌ بِکَافِرٍ (زَادَ فِیْ رِوَایَۃٍ) وَدِیَۃُ الْکَافِرِ نِصْفُ دِیَۃِ الْمُسْلِمِ۔(مسنداحمد:۷۰۱۲)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یہ فیصلہ کیا کہ مسلمان کو کافر کے بدلے قتل نہیں کیا جائے گا، ایک روایت میں ہے: کافر کی دیت مسلمان کی نصف دیت کے برابر ہے۔
Takhreej
(۶۵۵۰) تخریج: صحیح۔ أخرجہ الترمذی: ۱۵۸۵(انظر: ۷۰۱۲ )
Explanation
فوائد:… مسلمان اور کافر کی شان برابر نہیں ہو سکتی، لیکن اسلام زیادتی کو بھی پسند نہیں کرتا، اس لیے اگر کوئی مسلمان کسی کافر کو قتل کر دیتا ہے، تو اس کے لواحقین کو نصف دیت دینا ہو گی۔
6550
Sahih
اس چیز کا بیان کہ مسلمان کو کافر کے بدلے قتل نہیں کیا جائے گا اور آزاد کو غلام کے بدلے قتل کیے جانے کا مسئلہ
۔ (۶۵۵۱)۔ عَنْ قَتَادَۃَ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ سَمُرَۃَ بْنِ جُنْدُبٍ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَنْ قَتَلَ عَبْدَہُ قَتَلْنَاہُ وَ مَنْ جَدَعَہُ جَدَعْنَاہُ۔)) قَالَ یَحْیٰی: ثُمَّ نَسِیَ الْحَسَنُ بَعْدُ فَقَالَ: لَا یُقْتَلُ بِہِ۔ (مسند احمد: ۲۰۴۷۷)
۔ سیدنا سمرہ بن جندب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس نے اپنے غلام کوقتل کیا، ہم اس کے بدلے اس کو قتل کریں گے اور جس نے اس کا کوئی عضو کاٹا، ہم بھی اس کا وہ عضو کاٹیں گے۔ اس کے بعد حسن راوی بھول گئے اور کہا: غلام کے بدلے مالک کو قتل نہیں کیا جائے۔
Takhreej
(۶۵۵۱) تخریج: اسنادہ ضعیف ، الحسن البصری لم یسمع من سمرۃ۔ أخرجہ ابوداود:۴۵۱۵، والترمذی:۱۴۱۴، والنسائی: ۸/۲۰(انظر: ۲۰۲۱۴)
6551
Zaeef
اس چیز کا بیان کہ مسلمان کو کافر کے بدلے قتل نہیں کیا جائے گا اور آزاد کو غلام کے بدلے قتل کیے جانے کا مسئلہ
۔ (۶۵۵۲)۔ (وَمِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) عَنِ الْحَسَنِ عَنْ سَمُرَۃَ اَیْضًا قَالَ: ((وَمَنْ أَخْصٰی عَبْدَہُ أَخْصَیْنَاہُ۔)) (مسند احمد: ۲۰۴۶۱)
۔ (دوسری سند) سیدنا سمرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو اپنے غلام کو خصی کرے گا، ہم قصاصاً اس کو خصی کریں گے۔
Takhreej
(۶۵۵۲) تخریج: اسنادہ ضعیف، ابو امیۃ شیخ مجھول لم نتبینہ، وفیہ الحسن البصری مدلس ولم یسمع ھذا الحدیث من سمرۃ۔ انظر الحدیث السابق (انظر: ۲۰۱۹۸)
Explanation
فوائد:… مالک یا آزاد سے غلام کا قصاص لیا جائے گا یا نہیں؟ اس موضوع سے متعلقہ واضح روایات تو ضعیف ہیں اور غلام کے حقوق کم ہونے کی وجہ سے اس مسئلے پر مختلف جہات سے بحثیں بھی بہت زیادہ کی گئی ہیں، ہم اس رائے کے قائل ہیں کہ اگر غلام مسلمان ہے تو قصاص والے معاملات میں آقا کے مقابلے میں اس کی حیثیت بھی مسلم ہو گی،یعنی غلام کو قتل کرنے والے مالک سے قصاص لیا جائے گا، اس رائے کی دلیل حدیث نمبر( ۶۵۴۹) ہے، اس حدیث کے مطابق نبی کریمa نے فرمایا: ((اَلْمُؤْمِنُوْنَ تَتَکَافَأُ دِمَاؤُھُمْ۔))… ’’مؤمنوں کے خون آپس میں برابر ہیں۔‘‘ امام نسائی نے اس حدیث پر یہ باب قائم کیاہے: ’’باب القود بین الاحرار و الممالیک فی النفس‘‘ (آزاد اور غلام کے درمیان قصاص کا بیان) یہی مؤقف سعید بن مسیّب، ابراہیم نخعی، قتادہ، سفیان ثوری اور ابو حنیفہj کا تھا، شیخ الاسلام ابن تیمیہi نے بھی اسی مؤقف کو ترجیح دی ہے، اس کے برعکس اہل علم کی ایک جماعت کے نزدیک آزاد کو غلام کے بدلے قتل نہیں کیا جائے گا، لیکن اول الذکر مسلک راجح نظر آتا ہے۔
6552
Zaeef
مرد کو عورت کے بدلے اور عورت کو عورت کے بدلے قتل کرنے اور بھاری آلے سے قتل کرنے اور قاتل کو اسی انداز میں قتل کرنے کا بیان، جس میں اس نے کیا ہو
۔ (۶۵۵۳)۔ عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ اَنَّ رَجُلًا مِنَ الْیَہُوْدِ قَتَلَ جَارِیَۃً مِنَ الْأَنْصَارِ عَلٰی حُلِیٍّ لَھَا ثُمَّ أَلْقَاھَا فِیْ قَلِیْبٍ وَرَضَخَ رَأْسَہَا بِالْحِجَارَۃِ فَاُخِذَ فَأُتِیَ بِہ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَأَمَرَ بِہِ أَنْ یُرْجَمَ حَتّٰییَمُوْتَ فَرُجِمَ حَتّٰی مَاتَ۔ (مسند احمد: ۱۲۶۹۶)
۔ سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ ایکیہودی نے ایک انصاری کی لونڈی کو اس کے زیورا ت کے لالچ میں قتل کر دیا، پھر اس کو کنویں میں پھینک دیا، اس نے اس کا سر پتھر سے کچل دیا تھا، پھر اس آدمی کو گرفتار کر کے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس لایا گیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اسے رجم کرنے کا حکم دیا، پس اس کو سنگسار کیا گیا،یہاں تک کہ وہ مر گیا۔
Takhreej
(۶۵۵۳) تخریج: أخرجہ البخاری:۶۸۸۵، ومسلم: ۱۶۷۲(انظر: ۱۲۶۶۷)
6553
Sahih
مرد کو عورت کے بدلے اور عورت کو عورت کے بدلے قتل کرنے اور بھاری آلے سے قتل کرنے اور قاتل کو اسی انداز میں قتل کرنے کا بیان، جس میں اس نے کیا ہو
۔ (۶۵۵۴)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) أَنَّ جَارِیَۃً خَرَجَتْ، عَلَیْہَا أَوْضَاحٌ،فَأَخَذَھَا یَہُوْدِیٌّ فَرَضَخَ رَأْسَہَا وَأَخَذَ مَا عَلَیْہَا، فَأُتِیَ بِہَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَبِہَا رَمَقٌ فَقَالَ لَھَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنْ قَتَلَکِ فُلَانٌ؟)) فَقَالَتْ: بِرَأْسِہَا لَا، فَقَالَ: ((فُلَانٌ؟)) فَقَالَتْ: بِرَأْسِہَا لَا، قَالَ: ((فَفُلَانٌ الْیَہُوْدِیُّ؟)) فَقَالَتْ: بِرَأْسِہَا نَعَمْ، فَأَخَذَہُ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَرَضَخَ رَأْسَہُ بَیْنَ حَجَرَیْنِ۔ (مسند احمد: ۱۳۱۳۸)
۔ (دوسری سند) ایک لونڈی باہر نکلی، اس نے زیور پہنا ہوا تھا، ایکیہودی نے اس کو پکڑ لیا اور اس کا سر کچل کر اس کا زیور اتار کر لے گیا، جب اس لونڈی کو نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس لایاگیا تو اس میں ابھی تک جان باقی تھی۔ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس سے فرمایا: تجھے کس نے قتل کیا ہے؟ کیافلاں نے قتل کیا ہے؟ اس نے سر سے اشارہ کر کے نہیں میں جواب دیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تو پھر فلاں نے قتل کے ہے؟ اس نے سر سے اشارہ کرتے ہوئے نہیں میں جواب دیا۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کہا: کیا فلاں یہودی نے قتل کیا ہے؟ اس نے سر سے اشارہ کر کے ہاں میں جواب دیا، پس نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس یہودی کو پکڑا اور اس کا سر دو پتھروں کے درمیان رکھ کر کچل دیا۔
Takhreej
(۶۵۵۴) تخریج: انظر الحدیث السابق
6554
Sahih
مرد کو عورت کے بدلے اور عورت کو عورت کے بدلے قتل کرنے اور بھاری آلے سے قتل کرنے اور قاتل کو اسی انداز میں قتل کرنے کا بیان، جس میں اس نے کیا ہو
۔ (۶۵۵۵)۔ (وَمِنْ طَرِیْقٍ ثَالِثٍ) عَنْ قَتَادَۃَ عَنْ أَنَسٍ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِمِثْلِ الطَّرِیْقِ الثَّانِیَۃِ اِلَّا أَنَّ قَتَادَۃَ قَالَ فِیْ حَدِیْثِہِ: فَاعْتَرَفَ الْیَہُوْدِیُّ۔ (مسند احمد: ۱۳۱۳۹)
۔ (تیسری سند) سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے ہی روایت ہے، یہ دوسری سند کی حدیث کی مانند ہے، البتہ اس میں قتادہ نے کہا ہے: اس یہودی نے قتل کرنے کا اعتراف کیا۔
Takhreej
(۶۵۵۵) تخریج: انظر الحدیث السابق
6555
Sahih
مرد کو عورت کے بدلے اور عورت کو عورت کے بدلے قتل کرنے اور بھاری آلے سے قتل کرنے اور قاتل کو اسی انداز میں قتل کرنے کا بیان، جس میں اس نے کیا ہو
۔ (۶۵۵۶)۔ عَنْ حَمْلِ بْنِ النَّابِغَۃِ قَالَ: کُنْتُ بَیْنَ بَیْتَیِ امْرَأَتَیَّ فَضَرَبَتْ إِحْدَاھُمَا الْأُخْرٰی بِمِسْطَحٍ فَقَتَلَتْہَا وَجَنِیْنَہَا، فَقَضَی النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِیْ جَنِیْنِہَا بِغُرَّۃٍ وَأَنْ تُقْتَلَ بِہَا۔ (مسند احمد: ۱۶۸۴۹)
۔ سیدنا حمل بن نابغہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں اپنی دو بیویوں کے گھروں کے درمیان میں تھا، ان میں سے ایک نے دوسری کو ایک لکڑی ماری، جس سے وہ خاتون بھی مر گئی اور اس کے پیٹ کا بچہ بھی ضائع ہو گیا، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فیصلہ کیا کہ اس کے پیٹ کے بچے کے عوض ایک لونڈییا غلام دیا جائے گا اور عورت کو قصاص میں قتل کر دیا جائے گا۔
Takhreej
(۶۵۵۶) تخریج: صحیح، قالہ الالبانی۔ أخرجہ ابوداود: ۴۵۷۲، والنسائی: ۸/۲۱، وابن ماجہ: ۲۶۴۱(انظر: ۱۶۷۲۹)
Explanation
فوائد:… ان احادیث سے دو مسئلے تو بالنص ثابت ہوئے: (۱) عورت کے غیر مسلم قاتل کو قصاصاً قتل کیا جائے گا، اور (۲) عورت کی قاتل عورت کو بھی قصاصاً قتل کیا جائے گا۔ رہایہ مسئلہ کہ جب مسلمان مرد، مسلمان عورت کو قتل کر دے تو اس سے قصاص لیا جائے گا یا نہیں، تو جمہور اہل علم کے نزدیک ایسے مرد سے عورت کا قصاص لیا جائے گی، اس رائے کی دلیل حدیث نمبر (۶۵۴۹) ہے، جس میں آپa نے تمام اہل اسلام کے خونوں کو برابر قرار دیا ہے۔ امام ابن منذر kنے کہا: سیدنا علیb، امام حسن بصری اور امام عطاء سے منقول روایت کے علاوہ عورت کے بدلے مرد کو قتل کرنے پر اجماع ہے۔ (الاجماع لابن المنذر: ص ۱۴۴، رقم: ۶۵۳)
6556
Sahih
والدین کو اولاد کے بدلے میں قتل نہ کرنے اور ایک مقتول کے قصاص میں دو افراد کو قتل کرنے کا بیان
۔ (۶۵۵۷)۔ عَنْ مُجَاھِدٍ قَالَ: حَذَفَ رَجُلٌ اِبْنًا لَہُ بِسَیْفِہِ فَقَتَلَہُ فَرُفِعَ إِلٰی عُمَرَ فَقَالَ: لَوْلَا أَنِّیْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((لَا یُقَادُ الْوَالِدُ مِنْ وَلَدِہِ۔)) لَقَتَلْتُکَ قَبْلَ أَنْ تَبْرَحَ۔ (مسند احمد: ۹۸)
۔ مجاہد کہتے ہیں کہ ایک آدمی نے تلوار سے اپنے بیٹے کی گردن اڑا کر اسے مار ڈالا، جب یہ مقدمہ سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی عدالت میں لایا گیا تو انہوں نے کہا: اگر میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے یہ نہ سنا ہوتا کہ والد سے اولاد کے بدلے قصاص نہیں لیا جاتا تو میں تجھے اسی جگہ قتل کر دیتا۔
Takhreej
(۶۵۵۷) تخریج: حسن لغیرہ۔ أخرجہ الترمذی: ۱۴۰۰، وابن ماجہ: ۲۶۶۲(انظر: ۹۸)
6557
Sahih
والدین کو اولاد کے بدلے میں قتل نہ کرنے اور ایک مقتول کے قصاص میں دو افراد کو قتل کرنے کا بیان
۔ (۶۵۵۸)۔ عَنْ عَبْدِ اللُّہِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ قَالَ: قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((لَا یُقَادُ لِوَلَدٍ مِنْ وَالِدِہِ۔)) (مسند احمد: ۱۴۸)
۔ سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا عمر بن خطاب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اولاد کا والدین سے قصاص نہیں لیا جائے گا۔
Takhreej
(۶۵۵۸) تخریج: انظر الحدیث السابق
Explanation
فوائد:… ان روایات سے ثابت ہوا کہ والدین کو بیٹے کے بدلے قتل نہیں کیا جائے گا، اس کی وجہ یہ ہے کہ والدین ہی اس بچے کے وجود کا سبب تھے، اس لیے اگر وہ اس کی زندگی ختم کر دیں تو اس کے عوض ان کی زندگی کو ختم نہ کیا جائے، دوسری وجہ والدین کا احترام بھی ہو سکتا ہے۔ لیکن ایسی صورت میں باپ سے دیت لی جائے گی اور اس کو بیٹے کی میراث سے محروم کر دیا جائے گا، کیونکہ قاتل اپنے قتل کی وجہ سے مقتول کا وارث نہیں بن سکتا۔
6558
Sahih
والدین کو اولاد کے بدلے میں قتل نہ کرنے اور ایک مقتول کے قصاص میں دو افراد کو قتل کرنے کا بیان
۔
۔ سیدہ ام ورقہ بنت عبداللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے کہ رسول کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہر جمعہ کو ان کی ملاقات کے لیے تشریف لاتے تھے، ایک دن میں نے کہا: اے اللہ کے نبی! کیا بدر کے دن آپ مجھے اجازت دیں گے، تاکہ میں بھی آپ کے ہمراہ جائوں اوربیماروں کی تیمار داری کروں اور زخمیوں کا علاج معالجہ کروں، شاید اللہ تعالیٰ مجھے بھی شہادت عطا کر دے ؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اپنے گھر ہی ٹھہری رہو، اللہ تعالیٰ تجھے شہادت عطا کریں گے۔ سیدہ ام ورقہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے اپنی وفات کے بعد ایک غلام اور ایک لونڈی کو آزاد کر رکھا تھا، جب ان دونوں کے لیےیہ مدت طویل نظر آئی تو انھوں نے ایک چادر کے ذریعے اس کو ڈھانپ دیا،یہاں تک کہ وہ فوت ہو گئیں اور وہ دونوں بھاگ گئے، جب سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو اطلاع دی گئی کہ ام ورقہ کو اس کے غلام اور لونڈی نے قتل کر دیا ہے اور وہ بھاگ گئے ہیں، تو وہ لوگوں میں کھڑے ہوئے اور کہا: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سیدہ ام ورقہ کی ملاقات کے لیے تشریف لے جاتے تھے، پھر انھوں نے کہا: چلو، اس شہید خاتون کی زیارت کرتے ہیں، فلاں لونڈی اور فلاں غلام نے اس کو ڈھانپ کر مار دیا اور وہ خود بھاگ گئے ہیں، کوئی آدمی ان کو جگہ نہ دے،بلکہ جو بھی ان کو پائے، وہ ان کو میرے پاس لے آئے، پس ان دونوں کو لایا گیا اور ان کو سولی پر لٹکا دیا گیا،یہ اسلام میں پہلے دو افراد تھے، جن کو سولی پر چڑھایا گیا۔
Explanation
فوائد:… سیدنا عمر b نے صحابۂ کرام کی موجود گی میں ایک مقتول کے عوض دو قاتل افراد سے قصاص لیا، اسی طرح ایک اور روایت ہے: سعید بن مسیب کہتے ہیں: أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِB قَتَلَ نَفَرًا خَمْسَۃً أَوْ سَبْعَۃً بِرَجُلٍ وَاحِدٍ قَتَلُوْہٗقُتِلَغِیْلَۃً وَقَالَ عُمَرُ: لَوْ تَمْالَأُ عَلَیْہِ أَہْلُ صَنْعَائَ لَقَتَلْتُہُمْ جَمِیْعًا۔ … ’’سیدنا عمر b نے پانچ یا سات افراد کو ایک آدمی کے بدلے میں قتل کیا، انھوں نے اس آدمی کو دھوکہ دیتے ہوئے قتل کیا اور انھوں نے کہا: اگر اہل صنعاء سارے اس قتل پر جمع ہوتے تو میں ان سب کو قتل کر دیتا۔‘‘ (مؤطا امام مالک)
6559
Sahih

Chapters

38
01
مؤمن کے قتل پر سخت وعید اور سختی کا بیان
13 Hadith
02
مسلمانوں پر ہتھیار اٹھانے والے کی وعید کا بیان
8 Hadith
03
مسلمان کا خون کو جائز قرار دینے والے امور کا بیان
5 Hadith
04
ذمیوں اورمعاہدہ والوں کے قتل کے حرام ہونے اور اس معاملے میں سختی کا بیان
4 Hadith
05
خود کشی کرنے پر وعید کا بیان، وہ جس چیز سے مرضی خود کشی کرے
8 Hadith
06
نفس کی حفاظت کرنے اوراسے ہلاکت سے بچانے کے واجب ہونے کا بیان
3 Hadith
07
اس چیز کے ابواب کہ کون سے حیوان قتل کرنا جائز ہیں اور کون سے ناجائز فاسق حیوانات کو قتل کرنے کے حکم کا بیان
13 Hadith
08
گھریلو سانپوں کو مارنے کی ممانعت کا بیان، الا یہ کہ پہلے ان کو متنبہ کیا جائے، مگر چھوٹی دم والا موذی سانپ اور وہ سانپ جس کی پشت پر دو دھاریاں ہوں، ان دونوں کو ہر صورت میں قتل کیا جائے گا
8 Hadith
09
چھپکلی کو قتل کرنے کے مستحب ہونے اور اس کو مارنے والے کے اجر و ثواب کا بیان
6 Hadith
10
کتوں کو قتل کرنے اور انہیں پالنے کا بیان کتوں کو قتل کرنے کے حکم اور اس کے سبب کا بیان
7 Hadith
11
کالے سیاہ کتے کے علاوہ باقی کتوں کو قتل نہ کرنے کی رخصت کا بیان
4 Hadith
12
اس چیز کا بیان کہ اِس رخصت کے بعد کون سے کتے پالنا جائز ہیں اور کون سے ناجائز
5 Hadith
13
جس گھر میں کتا یا تصویر ہو، اس میں فرشتوں کے داخل نہ ہونے کا بیان
6 Hadith
14
ان حیوانات کا بیان، جن کا قتل کرنا جائز نہیں ہے
2 Hadith
15
حیوانیا انسان کو باندھ کر قتل کرنے یا اذیت والی چیز سے قتل کرنے اور پھر انسان کا مثلہ کرنے سے ممانعت کا بیان
10 Hadith
16
ہر روح والی چیز کو آگ سے جلانے کی ممانعت کا بیان
3 Hadith
17
قصاص کے ابواب قتل عمد پر قصاص کے ثابت ہونے اور اس کے مستحق کو قصاص اور دیت میں اختیار دینے کا بیان
3 Hadith
18
اس چیز کا بیان کہ مسلمان کو کافر کے بدلے قتل نہیں کیا جائے گا اور آزاد کو غلام کے بدلے قتل کیے جانے کا مسئلہ
5 Hadith
19
مرد کو عورت کے بدلے اور عورت کو عورت کے بدلے قتل کرنے اور بھاری آلے سے قتل کرنے اور قاتل کو اسی انداز میں قتل کرنے کا بیان، جس میں اس نے کیا ہو
4 Hadith
20
والدین کو اولاد کے بدلے میں قتل نہ کرنے اور ایک مقتول کے قصاص میں دو افراد کو قتل کرنے کا بیان
4 Hadith
21
حکمرانوں سے قصاص لیے جانے کا بیان، الا یہ کہ مستحق صلح کر لے یا معاف کر دے
3 Hadith
22
قصاص لینے کا مستحق ہونے کے بعد معاف کر دینے والے کی فضیلت کا بیان
3 Hadith
23
دانت توڑنے کے قصاص کا بیان
2 Hadith
24
کان کا بعض حصہ کاٹنے میں قصاص لینے کا بیان
1 Hadith
25
اس چیز کا بیان کہ ایک آدمی کسی کا ہاتھ کاٹنے کے لیے منہ میں ڈالے اور وہ اپنا ہاتھ کھینچے جس کے نتیجے میں اس کے سامنے والا دانت گر جائے
3 Hadith
26
زخم کے درست ہونے سے پہلے قصاص لینے کی ممانعت کا بیان
1 Hadith
27
کیا حرم یا دیگر مساجد میںقصاصیا حدیں لگائی جا سکتی ہیں؟
3 Hadith
28
قسامہ کا بیان
3 Hadith
29
دیت کے ابواب نفس، اعضاء اور اعضاء کی منفعتوں کی دیت کا جامع تذکرہ اور اس میں قتل خطا، قتل عمد اور قتل شبہ عمد کا بیان
3 Hadith
30
شبہ عمد کے مقتول کی دیت کا بیان
6 Hadith
31
محض قتلِ خطا کی دیت کا بیان
4 Hadith
32
قتل کے علاوہ اعضا اور زخموں وغیرہ کی دیت کا بیان
6 Hadith
33
ذمیوں اور مکاتَب کی دیت کا بیان
6 Hadith
34
جنین کی دیت کا بیان
5 Hadith
35
اس شخص کا بیان کہ جس کے والد کو از راہِ خطا قتل کر دیا گیا اور پھر اس نے اس کی دیت کو مسلمانوں پر خیرات کر دیا
1 Hadith
36
قتل کا سبب بننے کی وجہ سے دیت کے واجب ہونے کا بیان اورگڑھے میں گرنے والوں کا واقعہ
1 Hadith
37
عاقلہ اور دیت کی ذمہ داری اٹھانے والوں کا بیان
5 Hadith
38
کسی شخص کا دوسرے کے جرم کی وجہ سے مؤاخذہ نہیں ہو گا، اگرچہ وہ اس کا سب سے قریبی رشتہ دار ہو
4 Hadith
No chapter matched that.