TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

قتل اور دوسرے جرائم کے مسائل اور خونوں کے احکام - قتل اور دوسرے جرائم کے مسائل اور خونوں کے احکام - Book 109 of Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Book 109 of Musnad Ahmad, with 38 chapters and 181 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.

181 Hadith · 38 Chapters
دیت کے ابواب نفس، اعضاء اور اعضاء کی منفعتوں کی دیت کا جامع تذکرہ اور اس میں قتل خطا، قتل عمد اور قتل شبہ عمد کا بیان
۔ (۶۵۸۰)۔ حَدَّثَنَا یَعْقُوْبُ ثَنَا اَبِی عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ اِسْحَاقَ فَذَکَرَ حَدِیْثًا، قَالَ ابْنُ اِسْحَاقَ: وَذَکَرَ عَمْرُو بْنُ شُعَیْبِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ عَنْ اَبِیْہِ عَنْ جَدِّہِ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنْ قَتَلَ مُؤْمِنًا مُتَعَمِّدًا فَاِنَّہُ یُدْفَعُ اِلٰی اَوْلِیَائِ الْقَتِیْلِ فِاِنْ شَائُ وْا قَتَلُوْا، وَإِنْ َشَائُ وْا أَخَذُوْا الدِّیَۃَ۔)) وَھِیَ ثَلَاثُوْنَ حِقَّۃً وَثَلَاثُوْنَ جَذَعَۃً وَأَرْبَعُوْنَ خَلِفَۃً فَذَالِکَ عَقْلُ الْعَمْدِ وَمَا صَالَحُوْا عَلَیْہِ مِنْ شَیْئٍ فَہُوَ لَھُمْ وَذَالِکَ شَدِیْدُ الْعَقْلِ، وَعَقْلُ شِبْہِ الْعَمْدِ مُغَلَّظَۃٌ مِثْلُ عَقْلِ الْعَمْدِ، وَلَا یُقْتَلُ صَاحِبُہُ وَذَالِکَ اَنْ یَنْزَغَ الشَّیْطَانُ بَیْنَ النَّاسِ فَتَکُوْنَ دِمَائٌ فِیْ غَیْرِ ضَغِیْنَۃٍ وَلَا حَمْلِ سَلَاحٍ، فَاِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ یَعْنِی: ((مَنْ حَمَلَ عَلَیْنَا السَّلَاحَ فَلَیْسَ مِنَّا۔)) وَلَا رَصَدَ بِطَرِیْقٍ، فَمَنْ قُتِلَ عَلٰی غَیْرِ ذَالِکَ فَہُوَ شِبْہُ الْعَمْدِ وَعَقْلُہُ مُغَلَّظَۃٌ، وَلَا یُقْتَلُ صَاحِبُہُ وَھُوَ بِالشَّہْرِ الْحَرَامِ وَلِلْحُرْمَۃِ وَلِلْجَارِ، وَمَنْ قُتِلَ خَطَائً فَدِیَتُہُ مِائَۃٌ مِنَ الْاِبِلِ، ثَلَاثُوْنَ اِبْنَۃُ مَخَاضٍ وَثَلَاثُوْنَ اِبْنَۃُ لَبُوْنٍ وَثَلَاثُوْنَ حِقَّۃٌ، وَعَشْرُ بَکَارَۃٍ بَنِیْ لَبُوْنٍ ذُکُوْرٍ، قَالَ: وَکَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُقِیْمُہَا عَلٰی أَھْلِ الْقُرٰی اَرْبَعَمِائَۃِ دِیْنَارٍ اَوْ عِدْلَہَا مِنَ الْوَرِقِ، وَکَانَ یُقِیْمُہَا عَلٰی اَثْمَانِ الْاِبِلِ، فَاِذَا غَلَتْ رَفَعَ فِیْ قِیْمَتِہَا وَاِذَا ھَانَتْ نَقَصَ مِنْ قِیْمَتِہَا عَلٰی عَہْدِ الزَّمَانِ مَا کَانَ، فَبَلَغَتْ عَلٰی عَھْدِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مَا بَیْنَ اَرْبَعِمِائَۃِ دِیْنَارٍ اِلٰی ثَمَانِمِائَۃِ دِیْنَارٍ أَوْ عِدْلُھَا مِنَ الْوَرِقِ ثَمَانِیَۃُ آلافِ دِرْھَمٍ، وَقَضٰی أَنَّ مَنْ کَانَ عَقْلُہُ عَلٰی أَھْلِ الْبَقَرِ فِیْ الْبَقَرِ مِأَتَیْ بَقَرَۃٍ، وَقَضٰی اَنَّ مَنْ کَانَ عَقْلُہُ عَلٰی أَھْلِ الشَّائِ فَأَلْفَیْ شَاۃٍ، وَقَضٰی فِی الْأَنْفِ اِذَا جُدِعَ کُلُّہُ بِالْعَقْلِ کَامِلًا، وَاِذَا جُدِعَتْ اَرْنَبَتُہُ فَنِصْفُ الْعَقْلِ، وَقَضٰی فِی الْعَیْنِ نِصْفَ الْعَقْلِ خَمْسِیْنَ مِنَ الْاِبِلِ أَوْعِدْلَھَا ذَھَبًا أَوْ وَرِقًا أَوْ مِائَۃَ بَقَرَۃٍ اَوْ أَلْفَ شَاۃٍ، وَالرِّجْلِ نِصْفُ الْعَقْلِ، وَالْیَدِ نِصْفُ الْعَقْلِ، وَالْمَأْمُوْمَۃِ ثُلُثُ الْعَقْلِ ثَلَاثٌ وَثَلَاثُوْنَ مِنَ الْاِبِلِ أَوْ قِیْمَتُہَا مِنَ الذَّھَبِ اَوِ الْوَرِقِ اَوِ الْبَقَرِ اَوِ الشَّائِ، وَالْجَائِفَۃِ ثُلُثُ الْعَقْلِ، وَالْمُنَقِّلَۃِ خَمْسَ عَشَرَۃَ مِنَ الْاِبِلِ، وَالْمُوَضِّحَۃِ خَمْسٌ مِنَ الْاِبِلِ، وَالْاَسْنَانُ خَمْسٌ مِنَ الْاِبِلِ۔ (مسند احمد: ۷۰۳۳)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس نے قصداً قتل کیا، اسے مقتول کے لواحقین کے حوالے کر دیاجائے گا، اگر وہ چاہیں تو اس کو قتل کردیں، چاہیں تو دیت لے لیں، جس کی تفصیلیہ ہے: تیس حِقّے، تیس جذعے اور چالیس گابھن اونٹنیاں،یہقتل عمد کی دیت ہے، نیز وہ جس چیز پر صلح کرلیں، وہ ان کے لیے ہو گی،یہ سخت ترین دیت ہے، شبہ عمد قتل کی دیت بھی قتل عمد کی طرح مغلظہ ہے، البتہ شبہ عمد والے قاتل کو قصاصاً قتل نہیں کیا جائے گا، یہ اس لیے ہے کہ شیطان لوگوں کے درمیان فساد برپا کر دیتا ہے اور پھر کینہ اور ہتھیاروں کے بغیر قتل ہو جاتے ہیں، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس نے ہمارے خلاف ہتھیار اٹھایا، وہ ہم میں سے نہیں۔ اور نہ ایسے قتل کے لیے گھات لگایا جاتا ہے، جوا ن صورتوں کے علاوہ قتل کیا جائے وہ شبہ عمد ہے، اس کی دیت مغلظہ (سخت) ہے، شبہ عمدکے قاتل کو قصاص میں قتل نہیں کیاجائے گا، اس کا یہ حکم ہوگا اگرچہ حرمت والا مہینہ ہو، یا حرمت والی جگہ ہو یا پڑوسی ہو اور جو غلطی سے قتل ہو گیا، اس کی دیت سو اونٹ ہے، اس کی تفصیلیہ ہے: تیس بنت ِ مخاض، تیس بنت ِ لبون، تیس حِقّے اور دس ابن لبون، جو کہ مذکرہوں، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بستی والوں پر اس دیت کے عوض چار سو دیناریا اس کے برابر چاندی مقرر کرتے تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اونٹوں کی قیمتوں کو دیکھ کر سونے چاندی کی مقدار کا تعین کرتے تھے، جب اونٹوں کی قیمت بڑھ جاتی تو سونے چاندی کی مقدار بھی زیادہ کر دی جاتی اور جب ان کی قیمت کم ہو جاتی تو نقدی کی مقدار بھی کم کر دی جاتی، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے زمانے میںیہ قیمت چار سو دینار سے آٹھ سو دینار تک یا اس کے برابر چاندی آٹھ ہزار درہم رہی ہے،نیز آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فیصلہ کیا کہ جس نے دیت میں گائیں دینی ہوں تو وہ دو سو گائے دے اور بکریوں کے مالک دو ہزار بکریاں دیں۔ جب کوئی کسی کی مکمل ناک کاٹ دے تو اس کی پوری دیتیعنی سو اونٹ ہوں گے اور جب کوئی کسی کے ناک کا کنارہ کاٹ دے تو نصف دیتیعنی پچاس اونٹ ہوں گے، ایک آنکھ کی نصف دیت ہو گی، جو کہ پچاس اونٹ ہے یا ان کے برابر سونا یا چاندییا سو گائے یا ہزار بکری ہے، پائوں کی دیت نصف ہے، ایک ہاتھ کی دیت نصف ہے، مامومہ (یعنی دماغ تک اتر جانے والے زخم) کی دیت کل دیت کا ایک تہائی ہے، یعنی تینتیس اونٹ یا سونے اور چاندی کی صورت میں ان کی قیمتیا گائیںیا بکریاں، وہ زخم جو پیٹ تک پہنچ جائے اس کی دیت کل دیت کا ایک تہائی ہے، ٹوٹ جانے والی ہڈی کی دیت پندرہ اونٹ ہے، جس زخم سے ہڈی ننگی ہو جائے، اس کی دیت پانچ اونٹ ہے اور ایک دانت کی دیت پانچ اونٹ ہے۔
Takhreej
(۶۵۸۰) تخریج: حدیث حسن (انظر: ۷۰۳۳)
Explanation
فوائد:… یہ حدیث، دیت کے کئی مسائل پر مشتمل ہے، اگر اس کا بار بار مطالعہ کیا جائے تو تمام احکام سمجھ آ جائیں گے۔ قتل کی تین صورتیں ہیں: (۱)قتل عمد:… ایسا قتل ہے، جس سے مکلّف شخص کسی آدمی کو ایسے آلے سے قتل کرنے کی نیت کرے، جس میں اغلب گمان یہی ہو کہ وہ اسے قتل کر دے گا، مثلا بندوق، تلوار یا تیر وغیرہ۔ صرف اس قتل میں قصاص ہے، وگرنہ دیت ِ مغلظہ (بھاری دیت) لی جائے گی اور وہ ہے: تیس حِقّے، تیس جذعے اور چالیس گابھن اونٹنیاں (۲) قتل شبہ عمد:… لڑائی وغیرہ میں کسی کو قتل کرنے کی نیت نہ ہو اور نہ اسلحہ استعمال کیا گیا ہو، ڈنڈے سونٹے وغیرہ چلائے گئے ہوں، لیکن اس سے کوئی شخص مر گیا ہو۔ اس قتل میں قصاص نہیں ہے، البتہ دیت قتل عمد کی دیت کی طرح بھاری ہی ہو گی۔ (۳) قتل خطا: وہ قتل ہے کہ مارنا کسی اور کو تھا، لیکن قتل کوئی اور ہو گیا، مثلا شکار کی طرف گولی چلائی، لیکن کسی انسان کو لگ گئی۔ اس قتل میں قصاص نہیں ہے اور دیت بھی ہلکی ہو گی،یعنی تیس بنت ِ مخاض، تیس بنت ِ لبون، تیس حِقّے اور دس ابن لبون، ایسے قاتل کو ایک غلام یا لونڈی کو آزاد کرکے کفارہ بھی دینا پڑے گا، اگر گردن آزاد کرنے کی طاقت نہ ہو تو مسلسل دو ماہ کے روزے رکھے جائیں گے، ملاحظہ ہو: سورۂ نسائ: آیت نمبر ۹۲
6580
Sahih
دیت کے ابواب نفس، اعضاء اور اعضاء کی منفعتوں کی دیت کا جامع تذکرہ اور اس میں قتل خطا، قتل عمد اور قتل شبہ عمد کا بیان
۔ (۶۵۸۱)۔ عَنْ عُبَادَۃَ بْنِ الصَّامِتِ قَالَ: قَضٰی رَسُوْلُ اللّٰہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِیْ دِیَۃِ الْکُبْرٰی الْمُغَلَّظَۃِ ثَلَاثِیْنَ اِبْنَۃَ لَبُوْنٍ وَثَلَاثِیْنَ حِقَّۃً وَأَرْبَعِیْنَ خَلِفَۃً، وَقَضٰی فِیْ دِیَۃِ الصُّغْرٰی ثَلَاثِیْنَ اِبَنَۃَ لَبُوْنٍ وَثَلَاثِیْنَ حِقَّۃً وَعِشْرِیْنَ اِبْنَۃَ مَخَاضٍ وَعِشْرِیْنَ بَنِیْ مَخَاضٍ ذُکُوْرٍ، ثُمَّ غَلَتِ الْاِبِلُ بَعْدَ وَفَاۃِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَھَانَتِ الدَّرَاھِمُ، فَقَوَّمَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ إِبِلَ الْمَدِیْنَۃِ سِتَّۃَ آلافِ دِرْھَمٍ حِسَابَ أَوْقِیَۃٍ لِکُلِّ بَعِیْرٍ، ثُمَّ غَلَتِ الْاِبِلُ وَھَانَ الْوَرِقُ فَزَادَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَابِ أَلْفَیْنِ حِسَابَ أُوْقِیَتَیْنِ لِکُلِّ بَعِیْرٍ، ثُمَّ غَلَتِ الْإِبِلُ وَھَانَتِ الدَّرَاھِمُ فَأَتَمَّہَا عُمَرُ اِثْنَیْ عَشَرَ أَلْفًا حِسَابَ ثَلَاثِ أَوَاقٍ لِکُلِّ بَعِیْرٍ، قَالَ: فَزَادَ ثُلُثَ الدِّیَۃِ فِی الشَّہْرِ الْحَرَامِ وَثُلُثًا آخَرَ فِی الْبَلَدِ الْحَرَامِ، قَالَ: فَتَمَّتْ دِیَۃُ الْحَرْمَیْنِ عِشْرِیْنَ أَلْفًا، قَالَ: فکَانَ یُقَالَ: یُؤْخَذُ مِنْ أَھْلِ الْبَادِیَۃِ مَاشِیَتُہُمْ لَا یُکَلَّفُوْنَ الْوَرِقَ وَلَا الذَّھَبَ، وَیُؤْخَذُ مِنْ کُلِّ قَوْمٍ مَالُھُمْ قِیْمَۃَ الْعدْلِ مِنْ أَمْوَالِھِمْ۔ (مسند احمد: ۲۳۱۵۹)
۔ سیدنا عبادہ بن صامت ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے بڑی اور مغلظہ دیت کے بارے میںیہ فیصلہ فرمایا کہ اس میں تیس بنت ِ لبون، تیس حِقّے اور چالیس حاملہ اونٹنیاں ہوں، چھوٹی دیت میں آپ کا فیصلہیہ ہے کہ تیس بنت ِ لبون، تیس حِقّے، بیس بنت ِ مخاض اور بیس ابن مخاض یعنی مذکر اونٹ۔ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی وفات کے بعد اونٹ مہنگے ہوگئے اور درہم سستے ہو گئے، سیدنا عمر بن خطاب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے مدینہ کے اونٹوں کی قیمت چھ ہزار درہم مقرر کی، ہر اونٹ کی قیمت ایک اوقیہ تھی، پھر اونٹ مہنگے ہوگئے اور چاندی کی قیمت گر گئی تو سیدنا عمر بن خطاب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے دیت میں اضافہ کر کے دو ہزار اور بڑھا دیئے اور ہر اونٹ کی قیمت دو اوقیون کے حساب سے لگائی، اونٹ پھر مہنگے ہوگئے اور درہم گر گئے، اس بارسیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے بارہ ہزار درہم پور ے کر دیے، ہر اونٹ کی قیمت تین اوقیوں کے حساب سے لگائی اور حرمت والے مہینے میں دیت کی ادائیگی میں دیت کا تیسرا حصہ زیادہ وصول کرتے تھے اور حرمت والے شہر میں ایک اور تیسرے حصہ کا اضافہ کر دیتے تھے، اس طرح حرمین شریفین(مکہ و مدینہ) کی دیت بیس ہزار درہم مکمل ہوگئی تھی، دیہات والوں سے ان کے مویشیوں سے دیت لی جاتی تھی انہیں سونا یا چاندی دینے کا ہی مکلف نہ کیا جاتا تھا، اور ہر قوم سے ان کے مالوں سے دیت عادلانہ قیمت لگا کر وصول کی جاتی تھی۔
Takhreej
(۶۵۸۱) تخریج: اسنادہ ضعیف،الفضیل بن سلیمان النمیری لین الحدیث، واسحاق بن یحیی الولید مجھول الحال، ثم روایتہ عن جدہ عبادۃ مرسلۃ، لکن قصۃ دیۃ الکبری صحیحۃ بالشواھد۔ أخرج الدیۃ الکبری والصغری البیہقی: ۸/ ۷۴ (انظر: ۲۲۷۷۸)
6581
Zaeef
دیت کے ابواب نفس، اعضاء اور اعضاء کی منفعتوں کی دیت کا جامع تذکرہ اور اس میں قتل خطا، قتل عمد اور قتل شبہ عمد کا بیان
۔ (۶۵۸۲)۔ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَیْرِ قَالَ: سَمِعْتُ زَیَادَ بْنَ ضُمَیْرَۃَ بْنِ سَعْدٍ السُّلَبِیَّیُحَدِّثُ عُرْوَۃَ بْنَ الزُّبَیْرِ قَالَ: حَدَّثَنِیْ اَبِیْ وَجَدِّیْ وَکَانَا قَدْ شَہِدَا حُنَیْنًا مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، قَالَا: صَلّٰی بِنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم الظُّہْرَ، ثُمَّ جَلَسَ إِلٰی ظِلِّ شَجَرَۃٍ فَقَامَ إِلَیْہِ الْأَقْرَعُ بْنُ حَابِسٍ وَعُیَیْنَۃُ بْنُ حِصْنِ بْنِ بَدْرٍ یَطْلُبُ بِدَمِ الْأَشْجَعِیِّ عَامِرِ بْنِ الْأَضْبَطِ وَھُوَ یَؤْمَئِذٍ سَیِّدُ قَیْسٍ، وَالْأَقْرَعُ بْنُ حَابِسٍ یَدْفَعُ عَنْ مُحَلِّمِ بْنِ جَثَامَۃَ لِخِنْدِفٍ (وَفِیْ لَفْظٍ: بِمَکَانِہِ مِنْ خِنْدِفٍ) فَاخْتَصَمَا بَیْنَیَدَیْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَسَمِعْنَا رَسُوْلَ اللّٰہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((تَأْخُذُوْنَ الدِّیَۃَ خَمْسِیْنَ فِی سَفَرِنَا ھٰذَا وَخَمْسِیْنَ إِذَا رَجَعْنَا۔)) قَالَ: یَقُوْلُ عُیَیْنَۃُ: وَاللّٰہِ، یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! لَا أَدَعُہُ حَتَّی أُذِیْقَ نِسَائَہُ مِنَ الْحُزْنِ مَا ذَاقَ نِسَائِیْ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((بَلْ تَأْخُذُوْنَ الدِّیَۃَ۔)) فَأَبٰی عُیَیْنَۃُ، فَقَامَ رَجُلٌ مِنْ لَیْثٍیُقَالُ لَہُ مُکَیْتِلٌ رَجُلٌ قَصِیْرٌ مَجْمُوْع،ٌ فَقَالَ: یَا نَبِیَّ اللّٰہِ! مَا وَجَدْتُ لِھٰذَا الْقَتِیْلِشَبِیْہًا فِیْ غُرَّۃِ الْاِسْلَامِ اِلَّا کَغَنَمٍ وَرَدَتْ فَرُمِیَ أَوَّلُھَا فَنَفَرَ آخِرُھَا، اسْنُنِ الْیَوْمَ وَغَیِِّرْ غَدًا، قَالَ: فَرَفَعَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَدَہُ ثُمَّ قَالَ: ((بَلْ تَقْبَلُوْنَ الدِّیَۃَ فِیْ سَفَرِنَا ھٰذَا خَمْسِیْنَ وَخَمْسِیْنَ إِذَا رَجَعْنَا۔)) فَلَمْ یَزَلْ بِالْقَوْمِ حَتّٰی قَبِلُوْا الدِّیَۃَ، فَلَمَّا قَبِلُوْا الدِّیَۃَ، قَالَ: قَالُوْا: اَیْنَ صَاحِبُکُمْ یَسْتَغْفِرُ لَہُ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، فَقَامَ رَجُلٌ آدَمُ طَوِیْلٌ ضَرَبَ عَلَیْہِ حُلَّۃً کَأَنْ تَہَیَّأَ لِلْقَتْلِ حَتّٰی جَلَسَ بَیْنَیَدَیْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَلَمَّا جَلَسَ، قَالَ لَہُ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَا اسْمُکَ؟)) قَالَ: اَنَا مُحَلِّمُ بْنُ جَثَّامَۃَ، قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَللّٰھُمَّ لَا تَغْفِرْ لِمُحَلِّمٍ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ فَقَامَ مِنْ بَیْنَیَدَیْہِ وَھُوَ یَتَلَقّٰی دَمْعَہُ بِفَضْلِ رِدَائِہِ، فَأَمَّا نَحْنُ بَیْنَنَا فَنَقُوْلُ: قَدِ اسْتَغْفَرَ لَہُ وَلٰکِنَّہُ أَظْہَرَ مَا اَظْہَرَ لِیَدَعَ النَّاسُ بَعْضُہُمْ مِنْ بَعْضٍ۔ (مسند احمد: ۲۱۳۹۶)
۔ سیدنا عروہ بن زبیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ روایت کرتے ہیں کہ میرے باپ اور میرے دادا، جو کہ جنگ حنین میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ حاضر تھے، کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمیں نماز ظہر پڑھائی اور ایک درخت کے سائے میں تشریف لے گئے، اقرع بن حابس آپ کے سامنے کھڑے ہوئے، وہ اور عینیہ بن حصن بن بدر دونوں قیس قبیلہ کے سردار عامر بن اضبط اشجعی کے خون کا مطالبہ کرنے لگے، اقرع بن حابس خندف کی وجہ سے محلم بن جثامہ کا دفاع کر رہا تھا، یہ دونوں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے سامنے مقدمہ لے کر پیش ہوئے، ہم نے سنا: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم پچاس اونٹ اب دوران سفر لے لو اور پچاس واپس جا کر لے لینا۔ عینیہ نے کہا: اے اللہ کے رسول ! اللہ کی قسم میں اسے نہیں چھوڑوں گا حتیٰ کہ اس کی عورتوں کو وہ غم نہ پہنچائوں، جو اس نے ہماری عورتوں کو پہنچایا ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: دیت لے لو۔ مگر عینیہ نے انکار کر دیا، لیث قبیلہ کا مکیتل نامی ایک آدمی کھڑا ہوا،وہ چھوٹے قد کا آدمی تھا اور مختلف ہتھیاروں سے مسلح تھا، اس نے کہا: اے اللہ کے رسول ! اسلام کی ابتداء میں اس جیسا مقتول آپ کو نہ ملا ہوگا، مگر بکریوں کی مانند جو پانی کے گھاٹ پر وارد ہوں، ان سے پہلے بکریوں پر تیر پھینکا جائے تو آخر والی بھی بھاگنے لگتی ہیں،( یعنی ہم قصاص لیں گے، چھوڑیں گے نہیں) آج طریقہ جاری کیجیے، کل کلاں اسے بدل لینا،یعنی آج تو قصاص کے حکم پر عمل ہوگا، اس کے بعد رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے دعاء کے لیے ہاتھ اٹھا لیے آپ نے فرمایا: نہیں، بلکہ ایسا کرو کہ دیت قبول کر لیں، پچاس اونٹ اب لے لو اور پچاس واپسی پر۔ آپ انہیں نر م کرتے رہے، یہاں تک کہ وہ لوگ دیت قبول کرنے پر رضا مند ہوگئے، جب انہوں نے دیت قبول کر لی تو کہنے لگے: وہ تمہارا قاتل کہاں ہے، تاکہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس کے لیے استغفار کردیں، پس گندمی رنگ کا دراز قد آدمی کھڑا ہو، اس نے پوشاک پہنی ہوئی تھی، ایسے لگ رہا تھا کہ وہ قتل کے لیے تیار ہو رہا ہے، جب وہ رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے سامنے آ کر بیٹھ گیا، آپ نے پوچھا: تمہارا نام کیا ہے؟ اس نے کہا: میں محلم بن جثامہ ہوں، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے میرے اللہ! محلم کو معاف نہ کر۔ آپ نے تین مرتبہ یہ بد دعا کی، وہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے سامنے سے کھڑا کر چلنے لگا اور وہ اپنی چادر کے ایک کنارے سے اپنے آنسو صاف کر رہا تھا، ہم نے آپس میں ایک دوسرے سے کہا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کے لیے استغفار ہی کیا تھا، بس ان الفاظ کا اظہار کیا کہ لوگ ایک دوسرے کو چھوڑ دیں۔
Takhreej
(۶۵۸۲) تخریج: اسنادہ ضعیف لجھالۃ زیاد بن ضمیرہ۔ أخرجہ ابوداود:۴۵۰۳، وابن ماجہ: ۲۶۲۵(انظر: ۲۱۰۸۱)
6582
Zaeef
شبہ عمد کے مقتول کی دیت کا بیان
۔ (۶۵۸۳)۔ عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خَطَبَ النَّاسَ یَوْمَ الْفَتْحِ فَقَالَ: ((أَلَا اِنَّ دِیَۃَ الْخَطَأِ الْعَمْدِ بِالسَّوْطِ أَوِ الْعَصَا مُغَلَّظَۃٌ مِائَۃٌ، مِنْہَا أَرْبَعُوْنَ خَلِفَۃً فِیْ بُطُوْنِہَا أَوْلَادُھَا، أَلَا اِنَّ کُلَّ دَمٍ وَمَالٍ وَمَأْثُرَۃٍ کَانَتْ فِی الْجَاھِلِیَّۃِ تَحْتَ قَدَمِیْ اِلَّا مَا کَانَ مِنْ سِقَایَۃِ الْحَاجِّ وَسِدَانَۃِ الْبَیْتِ فَاِنِّیْ قَدْ أَمْضَیْتُہَا لِأَھْلِہَا)) (مسند احمد: ۵۸۰۵)
۔ سیدنا عبداللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فتح مکہ کے روز لوگوں کو خطبہ دیا اور فرمایا: کوڑے یا لاٹھی وغیرہ سے ہو جانے والے خطأ عمد کے قتل کی دیت مغلظہ ہے، کل سو اونٹ ہوں گے، ان میں چالیس اونٹنیاں گابھن ہوں گی، خبر دار!ہر خون، مال، جاہلیت کا فخر میرے قدموں کے نیچے کچل دیا گیا ہے، ہاں میں حاجیوں کو پانی پلانے اوربیت اللہ کی خدمت کرنے کا عہدہ ان ہی کے سپرد کرتا ہوں، جو پہلے سے یہ خدمت کر رہے ہیں۔
Takhreej
(۶۵۸۳) تخریج: اسنادہ ضعیف لضعف علی بن زید بن جدعان۔ أخرجہ ابوداود معلقا باثر الحدیث: ۴۵۴۹، والدارقطنی: ۳/ ۱۰۴، والبیھقی: ۸/ ۶۸ (انظر: ۵۸۰۵)
Explanation
فوائد:… قتل شبہ عمد میں صرف سو اونٹ دیت ہے، اس حدیث میں چالیس کی کیفیت تو بتا دی گئی ہے کہ وہ حاملہ اونٹنیاں ہوں، باقی ساٹھ اونٹوں کی تفصیل حدیث نمبر (۶۵۸۰) میں بیان کی گئی ہے، ان دو احادیث کے مطابق کل (۱۰۰) اونٹوں کی دیتیہ بنتی ہے: تیس حِقّے، تیس جذعے اور چالیس گابھن اونٹنیاں اس قتل میں قصاص نہیں ہے، البتہ دیت قتل عمد کی دیت کی طرح بھاری ہے۔
6583
Zaeef
شبہ عمد کے مقتول کی دیت کا بیان
۔ (۶۵۸۴)۔ عَنْ عَبْدِ اللُّہِ بْنِ عَمْرٍو أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اِنَّ قَتِیْلَ الْخَطَأِ شِبْہُ الْعَمَدِ قَتِیْلُ السَّوْطِ وَالْعَصَا، فِیْہِ مِائَۃٌ مِنْہَا أَرْبَعُوْنَ فِیْ بُطُوْنِہَا أَوْلَادُھَا۔)) (مسند احمد: ۶۵۵۲)
۔ سیدنا عبداللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا: کوڑے یا لاٹھی وغیرہ سے ہو جانے والا قتل خطأ شبہ عمد ہے، اس کی دیت سو اونٹ ہے، ان میں چالیس اونٹنیاں گابھن ہوں گی۔
Takhreej
(۶۵۸۴) تخریج: اسنادہ صحیح۔ أخرجہ ابوداود: ۴۵۴۷، ۴۵۴۸، ۴۵۸۸، وابن ماجہ: ۲۶۲۷، والنسائی: ۸/ ۴۰(انظر: ۶۵۵۲)
6584
Sahih
شبہ عمد کے مقتول کی دیت کا بیان
۔ (۶۵۸۵)۔ عَنْ عُقْبَۃَ بْنِ أَوْسٍ عَنْ رَجُلٍ مِنْ اَصْحَابِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خَطَبَ یَوْمَ فَتْحِ مَکَّۃَ فَذَکَرَ حَدِیْثًا وَفِیْہِ: ((أَلَا وَإِنَّ قَتِیْلَ خَطَأٍ الْعَمْدِ بِالسَّوْطِ وَالْعَصَا وَالْحَجَرِ دِیَۃٌ مُغَلَّظَۃٌ مِائَۃٌ مِنَ الْاِبِلِ مِنْہَا أَرْبَعُوْنَ فِیْ بُطُوْنِہَا أَوْلَادُھَا (وَفِیْ لَفْظٍ) أَرْبَعُوْنَ مِنْ ثَنِیَّۃٍ اِلٰی بَازِلِ عَامِہَا کُلُّہُنَّ خَلِفَۃٌ۔)) (مسند احمد: ۱۵۴۶۳)
۔ سیدنا عقبہ بن اوس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ایک صحابی ٔ رسول سے بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فتح مکہ کے دن ایک خطبہ دیا اور اس میں فرمایا:خبردار! خطا عمد کا مقتول جو کہ کوڑے، لاٹھییا پتھر سے مارا جائے، اس کی دیت مغلظہّ (سخت)ہے جو کہ سو اونٹ ہے، ان میں چالیس اونٹنیاں حاملہ ہوں گی، ایک روایت میں ہے: چالیس اونٹنیاں ثنیہ سے بازل کے درمیان درمیان ہوں گی اور سب کی سب حاملہ ہوں گی۔
Takhreej
(۶۵۸۵) تخریج: حدیث صحیح۔ أخرجہ النسائی: ۸/ ۴۱ (انظر: ۱۵۳۸۸)
Explanation
فوائد:… ساتویں سال میں داخل ہونے والی اونٹنی کو ثَنِیّۃ کہتے ہیں اور عمر کے نویں سال میں داخل ہونے والی اونٹنی کو بَازِل کہتے ہیں۔
6585
Sahih
شبہ عمد کے مقتول کی دیت کا بیان
۔ (۶۵۸۵)۔ عَنْ عُقْبَۃَ بْنِ أَوْسٍ عَنْ رَجُلٍ مِنْ اَصْحَابِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خَطَبَ یَوْمَ فَتْحِ مَکَّۃَ فَذَکَرَ حَدِیْثًا وَفِیْہِ: ((أَلَا وَإِنَّ قَتِیْلَ خَطَأٍ الْعَمْدِ بِالسَّوْطِ وَالْعَصَا وَالْحَجَرِ دِیَۃٌ مُغَلَّظَۃٌ مِائَۃٌ مِنَ الْاِبِلِ مِنْہَا أَرْبَعُوْنَ فِیْ بُطُوْنِہَا أَوْلَادُھَا (وَفِیْ لَفْظٍ) أَرْبَعُوْنَ مِنْ ثَنِیَّۃٍ اِلٰی بَازِلِ عَامِہَا کُلُّہُنَّ خَلِفَۃٌ۔)) (مسند احمد: ۱۵۴۶۳)
۔ قاسم بن ربیعہ نے اس حدیث کو یوں بیان کیا: آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کوڑے، لاٹھی اور پتھر سے ہو جانے والے خطأ عمد کے مقتول کی دیت سو اونٹ ہے، ان میں سے چالیس اونٹنیاں گابھن ہوں گی، جس نے ایک اونٹ بھی زائد طلب کیا، وہ جاہلیت والوں میں سے ہو گا۔
Takhreej
(۶۵۸۶) تخریج: حدیث صحیح۔ أخرجہ النسائی: ۸/ ۴۲ (انظر: ۱۵۳۸۹)
6586
Sahih
شبہ عمد کے مقتول کی دیت کا بیان
۔ (۶۵۸۷)۔ وَعَنْہُ اَیُضًا عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِقَرِیْبٍ مِنْ ذَالِکَ اِلَّا أَنَّہُ قَالَ: ((مِائَۃٌ مِنَ الْاِبِلِ ثَلَاثُوْنَ حِقَّۃً وَثَلَاثُوْنَ جَذَعَۃً وَثَلَاثُوْنَ بِنَاتِ لَبُوْنٍ وَأَرْبَعُوْنَ ثَنِیَّۃً خَلِفَۃً اِلٰی بَازِلِ عَامِہِ۔)) (مسند احمد: ۱۵۴۶۵)
۔ یہ بھی مذکورہ بالا حدیث کے قریب قریب ہی ہے، البتہ اس میں ہے: آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کل سو اونٹ ہوں گے، ان میں سے تیس حِقّے، تیس جذعے، تیس بنت ِ لبون اور چالیس اونٹنیاں ثَنِیّۃ سے بَازِل تک ہوں، لیکن ہوں گابھن۔
Takhreej
(۶۵۸۷) تخریج: اسنادہ ضعیف لانقطاعہ، القاسم بن ربیعۃ،یروی عن عقبۃ بن اوس، عن رجل من اصحاب النبیV (انظر: ۱۵۳۹۰)
6587
Zaeef
شبہ عمد کے مقتول کی دیت کا بیان
۔ (۶۵۸۸)۔ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَیْبٍ عَنْ اَبِیْہِ عَنْ جَدِّہٖأَنَّرَسُوْلَاللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((عَقْلُ شِبْہِ الْعَمْدِ مُغَلَّظٌ مِثْلُ عَقْلِ الْعَمْدِ وَلَا یُقْتَلُ صَاحِبُہُ، وَذَالِکَ أَنْ یَنْزُوَ الشَّیْطَانُ بَیْنَ النَّاسِ۔)) قَالَ أَبُوْ النَّضْرِ: فَیَکُوْنُ رِمِّیًا فِیْ عِمِّیًا فِیْ غَیْرِ فِتْنَۃٍ وَلَا حَمْلِ سَلَاحٍ۔ (مسند احمد: ۶۷۱۸)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: قتل عمد کی دیت کی طرح قتل شبہ عمد کی دیت بھی سخت ہے، البتہ شبہ عمد میں قاتل کو قتل نہیں کیا جاسکتا، یہ اس طرح ہوتا ہے کہ شیطان لوگوں کے درمیان شر انگیزی کرنا ہے۔ ابو نضر کہتے ہیں: پھر اندھادھند لڑائی (لاٹھی، کوڑا اور پتھر جیسی چیزوں) کو پھینکا جاتا ہے، جبکہ بیچ میں نہ کوئی فتنہ ہوتا ہے اور نہ اسلحہ۔
Takhreej
(۶۵۸۸) تخریج: اسنادہ حسن۔ أخرجہ ابوداود: ۴۵۶۵ (انظر: ۶۷۱۸)
6588
Sahih
محض قتلِ خطا کی دیت کا بیان
۔ (۶۵۸۹)۔ عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِیْرٍ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لِکُلِّ شَیْئٍ خَطَأٌ اِلَّا السَّیْفَ وَلِکُلِّ خَطَإٍ اَرْشٌ۔)) (مسند احمد: ۱۸۵۸۵)
۔ سیدنا نعمان بن بشیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تلوار کے علاوہ ہر چیز میں خطا ہوتی ہے اور ہر خطا میں دیت ہے۔
Takhreej
(۶۵۸۹) تخریج: اسنادہ ضعیف جدا لضعف جابر الجعفی۔ أخرجہ ابن ماجہ: ۲۶۶۷ (انظر: ۱۸۳۹۵)
Explanation
فوائد:… قتل خطا میں قصاص نہیں ہے اور دیت بھی ہلکی ہو گی،یعنی تیس بنت ِ مخاض، تیس بنت ِ لبون، تیس حِقّے اور دس ابن لبون، اس دیت کی تفصیل حدیث نمبر (۶۵۸۰)میں گزر چکی ہے۔ ایسے قاتل کو ایک غلام یا لونڈی کو آزاد کرکے کفارہ بھی دینا پڑے گا۔
6589
Zaeef
محض قتلِ خطا کی دیت کا بیان
۔ (۶۵۹۰)۔ عَنِ ابْنِ مَسْعُوْدٍ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جَعَلَ الدِّیَۃَ فِی الْخَطَائِ اَخْمَاسًا۔ (مسند احمد: ۳۶۳۵)
۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے قتل خطا کی دیت کی پانچ قسم بنائی ہیں۔
Takhreej
(۶۵۹۰) اسنادہ ضعیف، الحجاج بن ارطاۃ مدلس وقد عنعن، وخشف بن مالک مجھول۔ أخرجہ الدارمی: ۲۳۶۷، والدارقطنی فی ’’السنن‘‘: ۳/ ۱۷۵، والبیھقی فی ’’السنن‘‘: ۸/ ۷۵ (انظر: ۳۶۳۵)
6590
Zaeef
محض قتلِ خطا کی دیت کا بیان
۔ (۶۵۹۱)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) قَالَ: قَضٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِیْ دِیَۃِ الْخَطَإِ عِشْرِیْنَ بِنْتَ مَخَاضٍ، وَعِشْرِیْنَ ابْنَ مَخَاضٍ، وَعِشْرِیْنَ ابْنَۃَ لُبُوْنٍ، وَعِشْرِیْنَ حِقَّۃً، وَعِشْرِیْنَ جَذَعَۃً۔ (مسند احمد: ۴۳۰۳
۔ (دوسری سند)رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے قتل خطا کی دیت میں بیس بنت ِ مخاض، بیس ابن مخاض، بیس بنت ِ لبون، بیس حِقّے اور بیس جذعے مقرر کیے۔
Takhreej
(۶۵۹۱) تخریج: اسنادہ ضعیف، الحجاج بن ارطاۃ مدلس وقد عنعن، وخشف بن مالک مجھول۔ أخرجہ ابوداود: ۴۵۴۵، والترمذی: ۱۳۸۶، والنسائی: ۸/ ۴۳، وابن ماجہ: ۲۶۳۱(انظر: ۴۳۰۳)
Explanation
فوائد:… پہلے دیت میں جو جانور بیان ہوئے تھے وہ شبہ عمد قتل میں تھے۔ یہ قتل خطا کی دیت ہے۔ اس لئے اس میں جانوروں کی عمریں ان سے الگ ہیں، لہٰذا کوئی تعارض نہیں، لیکنیہ حدیث ہی ضعیف ہے، لہذا جمع و تطبیق کی ضرورت ہی نہیں۔
6591
Zaeef
محض قتلِ خطا کی دیت کا بیان
۔ (۶۵۹۲)۔ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَیْبٍ عَنْ اَبِیْہِ عَنْ جَدِّہٖاَنَّالنَّبِیّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَضٰی أَنَّ مَنْ قُتِلَ خَطَأً فَدِیَتُہُ مِائَۃٌ مِنَ الْاِبِلِ ثَلَاثُوْنَ بِنْتَ مَخَاضٍ، وَثَلَاثُوْنَ بِنْتَ لَبُوْنٍ، وَثَلَاثُوْنَ حِقَّۃً، وَعَشَرَۃٌ بَنُوْ لَبُوْنٍ ذُکُوْرٍ۔ (مسند احمد: ۶۶۶۳)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فیصلہ فرمایا کہ جو آدمی خطأً قتل ہو گیا، اس کی دیت سو اونٹ ہو گی، جس کی تفصیلیہ ہے: تیس بنت ِ مخاض، تیس بنت ِ لبون، تیس حِقّے اور دس ابن لبون مذکر۔
Takhreej
(۶۵۹۲) اسنادہ حسن۔ أخرجہ ابوداود: ۴۵۴۱، والنسائی: ۸/ ۴۲، وابن ماجہ: ۲۶۳۰(انظر: ۶۶۶۳)
6592
Sahih
قتل کے علاوہ اعضا اور زخموں وغیرہ کی دیت کا بیان
۔ (۶۵۹۳)۔ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَیْبٍ عَنْ اَبِیْہِ عَنْ جَدِّہٖأَنَّرَسُوْلَاللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَضٰی فِی الْأَنْفِ اِذَا جُدِعَ کُلُّہُ الدِّیَۃً کَامِلَۃً، وَاِذَا جُدِعَتْ أَرْنَبَتُہُ فَنِصْفَ الدِّیَۃِ، وَفِی الْعَیْنِ نِصْفَ الدِّیَۃِ، وَفِی الْیَدِ نِصْفَ الدِّیَۃِ، وَفِی الرِّجْلِ نِصْفَ الدِّیَۃِ، وَقَضٰی أَنْ یَعْقِلَ عَنِ الْمَرْأَۃِ عَصَبَتُہَا مَنْ کَانُوْا، وَلَا یَرِثُوْنَ مِنْہَا اِلَّا مَا فَضَلَ عَنْ وَرَثَتِہَا، وَإِنْ قُتِلَتْ فَعَقْلُہَا بَیْنَ وَرَثَتِہَا وَھُمْ یَقْتُلُوْنَ قَاتِلَہَا، وَقَضٰی أَنَّ عَقْلَ أَھْلِ الْکِتَابِ نِصْفُ عَقْلِ الْمُسْلِمِیْنَ وَھُمُ الْیَہُوْدُ وَالنَّصَارٰی۔ (مسند احمد: ۷۰۹۲)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فیصلہ فرمایاکہ جب کسی کا ناک مکمل کٹ جائے تو اس کی پوری دیت ہے،جب ناک کی نوک کٹ جائے تو نصف دیت ہے، ایک آنکھ میں نصف دیت ہے، ایک ہاتھ میں نصف دیت ہے اور ایک پائوں میں نصف دیت ہے، نیز آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فیصلہ فرمایاکہ عورت کی دیت اس کے عصبہ ادا کریں گے اور وہ جو بھی ہوں اور یہ عصبہ اس عورت کے اصحاب الفروض سے بچنے والے مال کے وارث بنیں گے، اور اگر خاتون قتل ہو جائے تو اس کی دیت اس کے وارثوں کو ملے گی اور وہی اس کے قاتل کو قتل کریں گے، اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یہ فیصلہ بھی کیا کہ اہل کتاب یعنییہود ونصاریٰ کی دیت مسلمانوں کی دیت کی بہ نسبت نصف ہے۔
Takhreej
(۶۵۹۳) اسنادہ حسن۔ أخرجہ ابوداود: ۴۵۶۴، والنسائی: ۸/ ۴۳، وابن ماجہ: ۲۶۴۷(انظر: ۷۰۹۲)
Explanation
فوائد:… حدیث مبارکہ میںمذکورہ احکام واضح ہیں، بعض اعضا کی دیت بیان کی گئی ہے، اس حدیث میں ایک اہم مسئلہ یہ بیان کیا گیا ہے کہ قتل خطا اور قتل شبہ عمد والے قاتل پر جو دیت پڑے گی، وہ یہ دیت خود ادا نہیں کرے گا، بلکہ یہ دیت اس کے ’’عَاقِلہ‘‘ (عصبہ) ادا کریں گے، بعض روایات میں ’’عَاقِلَہ‘‘ کے الفاظ ہیں اور بعض میں عصبہ کے۔ ’’عَاقِلہ‘‘:… کسی کے باپ کی طرف سے وہ رشتہ دار جو دیت کی ادائیگی میں شریک ہوں، مثلا بھائی، بھتیجے، چچے، چچا زادے وغیرہ۔ لیکن ان رشتہ داروں میں اس قاتل کا بیٹا داخل ہے نہ باپ، جب قبیلہ ہذیل کی دو عورتوں میں سے ایک نے دوسری کو قتل کیا تو ہر ایک کا خاوند بھی تھا اور اولاد بھی تھی، لیکن راوی کہتے ہیں: فَجَعَلَ رَسُوْلُ اللّٰہِ V دِیَۃَ الْمَقْتُوْلَۃِ عَلٰی عَاقِلَۃِ الْقَاتِلَۃِ وَبَزَأَ زَوْجَھَا وَوَلَدَھَا۔… رسول اللہa نے مقتول خاتون کی دیت قاتل خاتون کے عاقلہ پر ڈال دی اور اس کے خاوند اور اولاد کو دیت کی ادائیگی سے مستثنی کر دیا۔ (ابوداود: ۴۵۷۵، ابن ماجہ: ۲۲۴۸) یہ مسئلہ شریعت کے عام قوانین سے ہٹ کر ہے، عام قانون یہ ہے کہ مجرم اپنے جرم کا خود ذمہ دار ہو گا، لیکن قتل خطا کی دیت میں شریعت ِ مطہرہ نے یہ رخ اختیار کیا ہے، دراصل شریعت کا مقصود یہ ہے کہ قتل خطا والا قاتل مجرم نہیں ہے اور قتل شبہ عمد والا مجرم تو ہے کہ اس کے ہاتھ سے مسلمان قتل ہو گیا، لیکن اس کا ارادہ قتل کا نہیں تھا، اس لیے اگر ساری دیت ان پر ڈال دی جائے تو ممکن ہے کہ ان کا سارا مال ختم ہو جائے یا وہ مقروض ہو جائیں اور پھر دست ِ سوال پھیلانا شروع کر دیں، لیکن جن لوگوں کا قتل ہو گیا ہے، ان کے مقتول کے خون کو بھی رائیگاں نہیں چھوڑا جا سکتا، پس شریعت نے نرمی کرتے ہوئے ایک نئی راہ نکالی کہ ایسے قاتل کے مخصوص رشتہ دار اس کی طرف سے دیت ادا کریں۔ علم میراث میں ’’عصبہ‘‘ کی جو تعریف کی جاتی ہے وہ اور ہے، اس میں باپ، بیٹا اور پوتا داخل ہیں۔ ایک میراث کا مسئلہ بیانکیا گیا کہ اگر کوئی عورت قتل ہو جائے تو اس کے اپنے ترکہ کی طرح اس کی دیت کا مال بھی علم میراث کے قوانین کے مطابق اس کے ورثاء میں تقسیم کیا جائے گا، عصبہ کو اصحاب الفروض سے بچا ہوا مال ملتا ہے، اس حدیث میں اسی نقطے کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔
6593
Sahih
قتل کے علاوہ اعضا اور زخموں وغیرہ کی دیت کا بیان
۔ (۶۵۹۴)۔ عَنْ عَبْدِ اللُّہِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((فِیْ کُلِّ إِصْبَعٍ عَشْرٌ مِنَ الْاِبِلِ، وَفِیْ کُلِّ سِنٍّ خَمْسٌ مِنَ الْاِبِلِ وَالْاَصَابِعُ سَوَائٌ، وَالْأَسْنَانُ سَوَائٌ۔)) (مسند احمد: ۶۷۱۱)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ہر ایک انگلی کی دیت دس اونٹ اور ہر ایک دانت کی دیت پانچ اونٹ ہے، انگلیاں اور دانت سب دیت میں برابر ہیں۔
Takhreej
(۶۵۹۴) تخریج: صحیح۔ أخرجہ النسائی: ۸/۵۵(انظر: ۶۷۱۱)
Explanation
فوائد:… دانت اور داڑھ اور انگوٹھے اور چھنگلی انگلی میں دیت کے اعتبار سے کوئی فرق نہیں ہے۔
6594
Sahih
قتل کے علاوہ اعضا اور زخموں وغیرہ کی دیت کا بیان
۔ (۶۵۹۵)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سَوَّی بَیْنَ الْأَسْنَانِ وَالْأَصَابِعِ فِی الدِّیَۃِ۔ (مسند احمد: ۲۶۲۱)
۔ سیدنا ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے دانتوں اور انگلیوں کو دیت میں برابر قرار دیا ہے۔
Takhreej
(۶۵۹۵) تخریج: اسنادہ صحیح۔ أخرجہ ابوداود: ۴۵۶۰، وأخرجہ بنحوہ ابوداود: ۴۵۶۱، والترمذی: ۱۳۹۱ (انظر: ۲۶۲۱)
6595
Sahih
قتل کے علاوہ اعضا اور زخموں وغیرہ کی دیت کا بیان
۔ (۶۵۹۶)۔ وَعَنْہُ اَیُضًا عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((ھٰذِہٖوھٰذِہٖسَوَائٌ۔)) الْخِنْصَرُوَالْاِبْہَامُ۔ (مسنداحمد: ۱۹۹۹)
۔ سیدنا ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے اس طرح بھی روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ چھنگلی انگلی اور یہ انگوٹھا دیت میں برابر ہیں (یعنی ہر ایک کی دیت دس دس اونٹ ہو گی)۔
Takhreej
(۶۵۹۶) تخریج:أخرجہ البخاری: ۶۸۹۵(انظر: ۱۹۹۹)
6596
Sahih
قتل کے علاوہ اعضا اور زخموں وغیرہ کی دیت کا بیان
۔ (۶۵۹۷)۔ عَنْ اَبِیْ مُوْسَی الْاَشْعَرِیِّ حَدَّثَ أَنَ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَضٰی فِی الْأَصَابِعِ عَشْرًا عَشْرًا مِنَ الْاِبِلِ۔ (مسند احمد: ۱۹۸۳۹)
۔ سیدنا ابوموسیٰ اشعری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے انگلیوں کے بارے میںیہ فیصلہ فرمایا کہ ہر ہر انگلی کی دیت دس اونٹ ہے۔
Takhreej
(۶۵۹۷) تخریج: حدیث صحیح لغیرہ۔ أخرجہ ابویعلی: ۷۳۳۴ (انظر: ۱۹۶۱۰)
6597
Sahih
قتل کے علاوہ اعضا اور زخموں وغیرہ کی دیت کا بیان
۔ (۶۵۹۸)۔ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَیْبٍ عَنْ اَبِیْہِ عَنْ جَدِّہٖأَنَّرَسُوْلَاللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((فِی الْمَأْمُوْمَۃِ ثُلُثُ الْعَقْلِ ثَلَاثٌ وَثَلَاثُوْنَ مِنَ الْاِبِلِ أَوْ قِیْمَتُہَا مِنَ الذَّھَبِ أَوِ الْوَرِقِ أَوِ الْبَقَرِ أَوِ الشَّائِ، وَالْجَائِفَۃُ ثُلُثُ الْعَقْلِ، وَالْمُنَقِّلَۃُ خَمْسَ عَشْرَۃَ مِنَ الْاِبِلِ، وَالْمُوْضِحَۃُ خَمْسٌ مِنَ الْاِبِلِ وَالْاَسْنَانُ خَمْسٌ مِنَ الْاِبِلِ۔)) (مسند احمد: ۷۰۳۳)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مامومہ (یعنی دماغ تک اتر جانے والے زخم) کی دیت کل دیت کا ایک تہائی ہے، یعنی تینتیس اونٹ یا سونے اور چاندی کی صورت میں ان کی قیمتیا گائیںیا بکریاں، وہ زخم جو پیٹ تک پہنچ جائے اس کی دیت کل دیت کا ایک تہائی ہے، ٹوٹ جانے والی ہڈی کی دیت پندرہ اونٹ ہے، جس زخم سے ہڈی ننگی ہو جائے، اس کی دیت پانچ اونٹ ہے اور ایک دانت کی دیت پانچ اونٹ ہے۔
Takhreej
(۶۵۹۸) تخریج: حدیث حسن، وھو حدیث طویلیشتمل علی کثیر من الاحکام، انظر لتخریجہ المفصل الحدیث رقم ۷۰۳۳
6598
Sahih
ذمیوں اور مکاتَب کی دیت کا بیان
۔ (۶۵۹۹)۔ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَیْبٍ عَنْ اَبِیْہِ عَنْ جَدِّہٖأَنَّرَسوُلَاللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَضٰی أَنَّ عَقْلَ أَھْلِ الْکِتَابَیْنِ نِصْفُ عَقْلِ الْمُسْلِمِیْنَ وَھُمُ الْیَہُوْدُ وَالنَّصَارٰی۔ (مسند احمد: ۶۷۱۶)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یہ فیصلہ فرمایا کہ اہل کتاب یعنییہود و نصاریٰ کی دیت مسلمانوں کی دیت سے نصف ہے۔
Takhreej
(۶۵۹۹) تخریج: اسنادہ حسن۔ أخرجہ النسائی: ۸/ ۴۵(انظر: ۶۷۱۶)
Explanation
فوائد:… یہود و نصاری کا حکم غیر مسلم والا ہی ہے، حدیث نمبر (۶۵۵۰) میںیہ مسئلہ گزر چکا ہے۔
6599
Sahih

Chapters

38
01
مؤمن کے قتل پر سخت وعید اور سختی کا بیان
13 Hadith
02
مسلمانوں پر ہتھیار اٹھانے والے کی وعید کا بیان
8 Hadith
03
مسلمان کا خون کو جائز قرار دینے والے امور کا بیان
5 Hadith
04
ذمیوں اورمعاہدہ والوں کے قتل کے حرام ہونے اور اس معاملے میں سختی کا بیان
4 Hadith
05
خود کشی کرنے پر وعید کا بیان، وہ جس چیز سے مرضی خود کشی کرے
8 Hadith
06
نفس کی حفاظت کرنے اوراسے ہلاکت سے بچانے کے واجب ہونے کا بیان
3 Hadith
07
اس چیز کے ابواب کہ کون سے حیوان قتل کرنا جائز ہیں اور کون سے ناجائز فاسق حیوانات کو قتل کرنے کے حکم کا بیان
13 Hadith
08
گھریلو سانپوں کو مارنے کی ممانعت کا بیان، الا یہ کہ پہلے ان کو متنبہ کیا جائے، مگر چھوٹی دم والا موذی سانپ اور وہ سانپ جس کی پشت پر دو دھاریاں ہوں، ان دونوں کو ہر صورت میں قتل کیا جائے گا
8 Hadith
09
چھپکلی کو قتل کرنے کے مستحب ہونے اور اس کو مارنے والے کے اجر و ثواب کا بیان
6 Hadith
10
کتوں کو قتل کرنے اور انہیں پالنے کا بیان کتوں کو قتل کرنے کے حکم اور اس کے سبب کا بیان
7 Hadith
11
کالے سیاہ کتے کے علاوہ باقی کتوں کو قتل نہ کرنے کی رخصت کا بیان
4 Hadith
12
اس چیز کا بیان کہ اِس رخصت کے بعد کون سے کتے پالنا جائز ہیں اور کون سے ناجائز
5 Hadith
13
جس گھر میں کتا یا تصویر ہو، اس میں فرشتوں کے داخل نہ ہونے کا بیان
6 Hadith
14
ان حیوانات کا بیان، جن کا قتل کرنا جائز نہیں ہے
2 Hadith
15
حیوانیا انسان کو باندھ کر قتل کرنے یا اذیت والی چیز سے قتل کرنے اور پھر انسان کا مثلہ کرنے سے ممانعت کا بیان
10 Hadith
16
ہر روح والی چیز کو آگ سے جلانے کی ممانعت کا بیان
3 Hadith
17
قصاص کے ابواب قتل عمد پر قصاص کے ثابت ہونے اور اس کے مستحق کو قصاص اور دیت میں اختیار دینے کا بیان
3 Hadith
18
اس چیز کا بیان کہ مسلمان کو کافر کے بدلے قتل نہیں کیا جائے گا اور آزاد کو غلام کے بدلے قتل کیے جانے کا مسئلہ
5 Hadith
19
مرد کو عورت کے بدلے اور عورت کو عورت کے بدلے قتل کرنے اور بھاری آلے سے قتل کرنے اور قاتل کو اسی انداز میں قتل کرنے کا بیان، جس میں اس نے کیا ہو
4 Hadith
20
والدین کو اولاد کے بدلے میں قتل نہ کرنے اور ایک مقتول کے قصاص میں دو افراد کو قتل کرنے کا بیان
4 Hadith
21
حکمرانوں سے قصاص لیے جانے کا بیان، الا یہ کہ مستحق صلح کر لے یا معاف کر دے
3 Hadith
22
قصاص لینے کا مستحق ہونے کے بعد معاف کر دینے والے کی فضیلت کا بیان
3 Hadith
23
دانت توڑنے کے قصاص کا بیان
2 Hadith
24
کان کا بعض حصہ کاٹنے میں قصاص لینے کا بیان
1 Hadith
25
اس چیز کا بیان کہ ایک آدمی کسی کا ہاتھ کاٹنے کے لیے منہ میں ڈالے اور وہ اپنا ہاتھ کھینچے جس کے نتیجے میں اس کے سامنے والا دانت گر جائے
3 Hadith
26
زخم کے درست ہونے سے پہلے قصاص لینے کی ممانعت کا بیان
1 Hadith
27
کیا حرم یا دیگر مساجد میںقصاصیا حدیں لگائی جا سکتی ہیں؟
3 Hadith
28
قسامہ کا بیان
3 Hadith
29
دیت کے ابواب نفس، اعضاء اور اعضاء کی منفعتوں کی دیت کا جامع تذکرہ اور اس میں قتل خطا، قتل عمد اور قتل شبہ عمد کا بیان
3 Hadith
30
شبہ عمد کے مقتول کی دیت کا بیان
6 Hadith
31
محض قتلِ خطا کی دیت کا بیان
4 Hadith
32
قتل کے علاوہ اعضا اور زخموں وغیرہ کی دیت کا بیان
6 Hadith
33
ذمیوں اور مکاتَب کی دیت کا بیان
6 Hadith
34
جنین کی دیت کا بیان
5 Hadith
35
اس شخص کا بیان کہ جس کے والد کو از راہِ خطا قتل کر دیا گیا اور پھر اس نے اس کی دیت کو مسلمانوں پر خیرات کر دیا
1 Hadith
36
قتل کا سبب بننے کی وجہ سے دیت کے واجب ہونے کا بیان اورگڑھے میں گرنے والوں کا واقعہ
1 Hadith
37
عاقلہ اور دیت کی ذمہ داری اٹھانے والوں کا بیان
5 Hadith
38
کسی شخص کا دوسرے کے جرم کی وجہ سے مؤاخذہ نہیں ہو گا، اگرچہ وہ اس کا سب سے قریبی رشتہ دار ہو
4 Hadith
No chapter matched that.