قتل اور دوسرے جرائم کے مسائل اور خونوں کے احکام - قتل اور دوسرے جرائم کے مسائل اور خونوں کے احکام - Book 109 of Musnad Ahmad with Urdu and English Translation
Book 109 of Musnad Ahmad, with 38 chapters and 181 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے ایسا کتا پالا، جو نہ شکاری ہو اور نہ مویشیوں کی حفاظت کرنے والا، تو ہر روز اس کے اجر سے د و قیراط کی کمی ہو جاتی ہے۔ جب ان سے کہا گیا کہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ تو کھیتی والے کتے کا بھی ذکر کرتے ہیں، تو انھوں نے کہا: ابوہریرہ کی کھیتی کہاں سے آگئی۔
۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے کھیتی، مویشیوں کی حفاظت اور شکار کے مقصد کے علاوہ کتا پالا تو اس کے اعمال میں سے روزانہ ایک قیراط کا نقصان ہوگا۔ ابو الحکم کہتے ہیں: میں نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ سے کہا: اگر وہ کتا کسی گھر میں ہو، اور میں اسے ناپسند کروں؟ انھوں نے کہا: یہ وعید گھر کے مالک کے لیے ہے۔
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے ایسا کتا پالا، جو کھیتی، شکار اور مویشیوں کیلئے نہ ہو تو اس کے اجر سے روزانہ ایک قیراط کم ہوتا ہے۔ سلیم راوی کہتا ہے: میرا خیال ہے کہ انھوں نے یہ بھی کہا تھا کہ قیراط احد پہاڑ کی مانند ہوتا ہے۔
Takhreej
(۶۵۲۲) تخریج: أخرجہ مسلم: ۱۵۷۵(انظر: ۸۵۴۷)
Explanation
فوائد:… قیراط کو احد پہاڑ کی مانند قرار دینا،یہ راوی کو شبہ ہوا ہے، دراصل جنازے میںشرکت کرنے والے کے ثواب کے لیے جس قیراط کا ذکر کیا گیا، وہ احد پہاڑ کی مانند ہے۔ سلیم بن حیان راوی کے یہ الفاظ صحیح مسلم میں نہیں ہیں۔
۔ سیدنا سفیان بن ابی زہیر رضی اللہ عنہ ، جو شنوء ہ قبیلے سے تعلق رکھنے والے صحابی تھے، سے مروی ہے کہ انھوں نے مسجد کے دروازے کے پاس یہ حدیث بیان کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے ایسا کتا رکھا جو اسے کھیتی اور جانوروں سے کفایت نہیں کرتا تو اس کے عمل میں سے روزانہ ایک قیراط کم ہو گا۔ کسی نے کہا: کیا تم نے خود یہ حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنی ہے؟ انھوں کہا: جی بالکل، اس مسجد کے رب کی قسم ہے۔
فوائد:… اس باب کی پہلی حدیث کی شرح میں تمام احادیث کا خلاصہ بیان کیا جا چکا ہے، کسی بڑے مقصد کے بغیر کتے کو پالنا باعث ِ خسارہ ہے۔جو لوگ گھروں کی رکھوالی کے لیے کتا پالنے کا اہتمام کرتے ہیں، ان کو بار بار غور کرنا چاہیے کہ کیا وہ اپنے آپ کو اللہ تعالی کے سامنے معذور ثابت کر سکیں گے۔
۔ سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ایک صبح کو یوں لگ رہا تھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طبیعت بوجھل ہے، کسی نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے دریافت کیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! آج آپ کی طبیعت بوجھل کیوں ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: دراصل جبریل علیہ السلام نے مجھے ملنے کا وعدہ کیا تھا، اب نہ وہ مجھے ملے ہیں اور نہ انھوں نے کبھی وعدہ خلافی کی ہے۔ بہرحال جبریل علیہ السلام اس رات کو نہ آئے اور اگلی دو راتوں کو بھی تشریف نہ لائے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کتے کے ایک پلے کو اس کا سبب قرار دیا، وہ ہماری ایک چارپائی کے نیچے پڑا تھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو نکالنے کا حکم دیا اور پانی لے کر اس جگہ پر چھڑکا، اتنے میں جبریل علیہ السلام آگئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے فرمایا: آپ نے میرے ساتھ وعدہ کیا تھا، لیکن پھر آئے نہیں؟ انھوں نے کہا: جی ہم اس گھر میں داخل نہیں ہوتے، جس میں کتا اورتصویر ہو۔ اس دن سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کتوں کوقتل کرنے کا حکم دے دیا، (اور اس معاملے میں اتنی سختی برتی گئی کہ) جب چھوٹے باغ کے کتے کے بارے میں اجازت طلب کی جاتی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کو بھی قتل کرنے کا حکم دیتے۔
Takhreej
(۶۵۲۴) تخریج: أخرجہ مسلم: ۲۱۰۵(انظر: ۲۶۸۰۰)
Explanation
فوائد:… ’’نَضَد‘‘ ایسی چارپائی کو کہتے ہیں، جس پر تہہ بہ تہہ کپڑے رکھے گئے ہوں۔
صحیح مسلم میں ہے کہ آپa نے چھوٹے باغ کے کتے کو قتل کرنے کا حکم دیتے اور بڑے باغ کے کتے کو چھوڑ دیتے۔ بڑے اور چھوٹے باغ کا فرق اس لیے ہے کہ چھوٹے باغ کی ھفاظت اتنی مشکل نہیں۔ ہاں بڑے باغ کو سب اطراف سے محفوظ کرنا کتے کی مدد سے قدرے آسان ہے۔ (عبداللہ رفیق)
۔ سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس حاضر ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر غمگین ہونے کے آثار دیکھے اور پوچھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کیا ہو گیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تین دنوں سے جبریل علیہ السلام میرے پاس نہیں آئے ہیں۔ جب دیکھا گیا تو کتے کا ایک بچہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے گھر میں پایا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے مارنے کا حکم دیا، اتنے میں جیریل علیہ السلام آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے آگئے، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں دیکھا تو خوشی میں ان کی جانب لپکے اور فرمایا: آپ میرے پاس تشریف نہیں لائے؟ انہوں نے کہا: جس گھر میں کتا اور تصاویر ہوں، ہم اس میں داخل نہیں ہوتے۔
۔ سیدنا بریدہ اسلمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جبریل علیہ السلام ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کچھ دیر رکے رہے،پھر جب وہ تشریف لائے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کس چیز نے آپ کو روکے رکھا؟ انھوں نے کہا: ہم اس گھر میں داخل نہیں ہوا کرتے جس میں کتا ہو۔
۔ سیدنا ابو طلحہ انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس گھر میں فرشتے داخل نہیں ہوتے، جس میں تصویر اور کتا ہو۔
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک انصاری کے گھر تشریف لے جاتے تھے، اور اس کے گھر سے پہلے کچھ اور لوگوں کا گھر بھی پڑتا تھا، یہ بات اس گھر والوں پر بڑی گراں گزری اور انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! بڑا تعجب ہے کہ آپ فلاں کے گھر تو جاتے ہیں اور ہمارے گھر تشریف نہیں لاتے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس کی وجہ یہ ہے کہ تمہارے گھر میں کتا ہے۔ دراصل ان کے گھر میں بلی تھی، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ بلی بھی تو ایک درندہ ہے۔
فوائد:… کاٹنے والے درندے کو بھی ’’کَلْب‘‘ کہا جاتا ہے، اس لیے بلی پر ’’کَلْب‘‘ کے لفظ کا اطلاق کیا گیا۔ بلی حرام ہے، لیکن پاک ہے اور اس کا جوٹھا بھی پاک ہے، اس کو گھروں میں رکھنا جائز ہے۔ کتے کا معاملہ تو واضح ہے، پچھلے باب میں چار قسم کے کتوں کو مستثنی کیا گیا ہے، ان کے علاوہ ہر کتا فرشتوںکے دخول کو مانع ہو گا۔ تصویر سے مراد ذی روح چیز کی تصویر ہے، خواہ وہ آدمی کی ہو یا حیوان کی، مجسم ہو یا نقش و نگار کی صورت میں ہو، کپڑے پر بنائی گئی ہو یا وہ شمسی تصویر ہو، یہ سب اقسام حرام ہیں، لیکن اس سے وہ تصویریں مستثنی ہیں، جو ناگزیر مقاصد کے لیے ہوں اور جن کے بغیر کوئی چارۂ کار نہ ہو، مثلا پاسپورٹ، شناختی کارڈ، لائسنس وغیرہ کے لیے، لیکن بہتر یہ ہے کہ ان کو بھی محفوظ یا بند جگہ میں رکھا جائے اور آویزاں نہ کیا جائے۔ جو فرشتے کتے اور تصویر کی وجہ سے گھروں میں نہیں آتے، ان سے مراد رحمت کے فرشتے ہیں۔ اعمال لکھنے والے، موت والے اور حفاظت کرنے والے فرشتے انسان کے ساتھ ہیرہتے ہیں۔
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے چار جانداروں کو قتل کرنے سے منع فرمایاہے،چیونٹی، شہد کی مکھی،ہد ہد اور ممولہ۔
Takhreej
(۶۵۳۰) اسنادہ صحیح علی شرط الشیخین۔ أخرجہ ابوداود: ۵۲۶۷، وابن ماجہ: ۳۲۲۴ (انظر: ۳۰۶۶)
Explanation
فوائد:… ’’صُرَد‘‘ (ممولہ) ایک پرندہ ہے، جو کیڑوں کو کھاتا اور چڑیا کا شکار کرتا ہے، اس کو لٹورا بھی کہتے ہیں۔ چیونٹی اور شہد کی مکھی کا قتل بلا مقصد ہو گا، اس لیے ان کو قتل کرنے سے منع کر دیا گیا، جب یہ نقصان پہنچا رہی ہوں تو ان کے نقصان سے بچنے کے لیے ان کو قتل کرنا جائز ہوگا، اس معاملے میں چیونٹی کے بارے میں واضح نص موجود ہے۔ رہا مسئلہ ہدہد اور ممولہ کا، تو یادر ہے کہ جب کسی حیوان کو قتل کرنے سے روک دیا جائے اور یہ اس کی حرمت اور ضرر کی بنا پر نہ ہو تو اس حکم کی وجہ اس جانور کا حرام ہونا ہے۔
۔ سیدنا عبد الرحمن بن عثمان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک طبیب نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس ایسی دواء کا ذکر کیا، جس میں وہ مینڈک ملاتا تھا، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مینڈک کو قتل کرنے سے منع فرمادیا۔
فوائد:… مینڈک کے متعلق شرعی حکم یہ ہے کہ یہ حرام ہے، کیونکہ بوقت ِ ضرورت بھی رسول اللہa نے اس کے استعمال کی اجازت نہیں دی، آپ a کا اجازت نہ دینا ہی اس کی حرمت کی دلیل ہے۔ مینڈک اگرچہ آبی جانور ہے، لیکنیہ پانی سے باہر بھی زندہ رہ سکتا ہے، بلکہ عرصۂ دراز تک باہر پھرتا رہتا ہے، لہذا اس کو آبی جانوروں والا حکم نہیں دیا جا سکتا۔
۔ سعید بن عمرو کہتے ہیں: سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ ، یحییٰ بن سعید کے پاس گئے اور ان کا ایک بیٹا مرغی کو باندھ کر اس کو نشانہ بنا رہا تھا، سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ نے جاکر مرغی کھول دی اور مرغی اور اس لڑکے کو سامنے لا کر یحییٰ سے کہا: اپنے اس لڑکے کو منع کرو کہیہ اس پرندے کو باندھ کر قتل کا نشانہ نہ بنائے، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جانورکو باندھ کر قتل کرنے سے منع فرمایا ہے، اگر تم اس کو ذبح کرنا چاہتے ہو تو ذبح کے طریقے کے مطابق ذبح کر لو۔
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس شخص پر لعنت کی، جو اس چیز پر نشانہ بازی کرتا ہے، جس میں روح ہو۔
۔ سیدنا شرید بن سوید ثقفی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے کسی چڑیا کو بے مقصد قتل کر دیا تو وہ روز قیامت اللہ تعالی کی بارگاہ میں چلا کر کہے گی: بیشک فلاں آدمی نے مجھے کسی مقصد کے بغیر قتل کر دیا اوراس نے مجھے کسی منفعت کے لیے قتل نہیں کیا۔
Takhreej
(۶۵۳۴) اسنادہ ضعیف لجھالۃ صالح بن دینار الجعفی۔ أخرجہ النسائی: ۷/۲۳۹ (انظر: ۱۹۴۷۰)
۔ سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قتل کرتے وقت سب سے زیادہ رحم کرنے والے اہل ایمان ہوتے ہیں۔
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے کسی ذی روح چیز کامثلہ کیا اور پھر توبہ نہ کی تو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کا مثلہ کرے گا۔
فوائد:… حیوان کا مثلہ کرنے کی صورت یہ ہے کہ اس کو ذبح کرنے سے پہلے اس کے اعضا کاٹ لیے جائیں، شریعت ِ مطہرہ کا قانون ہے کہ زندہ جانور کا جو حصہ کاٹ کر علیحدہ کر دیا جائے، وہ حرام ہو گا۔
۔ ابو احوص اپنے باپ سیدنا مالک بن نضلہ رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں: میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے اوپر سے نیچے تک بغو ر دیکھا اور فرمایا: تم اونٹوں کے مالک ہو یا بکریوں کے ؟ میں نے کہا: اللہ تعالیٰ نے مجھے ہر قسم کے مال سے نواز رکھاہے، بہت زیادہ اور عمدہ مال دیاہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ جانور پوری آنکھوں اور کانوں والے بچے جنم دیتے ہیں اور تم لوگ ان کے کان وغیرہ کاٹ دیتے ہیں اور پھر ان کو کان کٹے کا نام دے دیتے ہو اور یہ کہنا شروع کر دیتے ہو کہ یہ اللہ کا بحیرہ ہے، پس اللہ تعالیٰ کا بازو بہت طاقتور ہے اور اس کا استرابہت تیز دھار ہے، اگر اس نے تجھے کان کٹا جانور دینا چاہا تو وہ دے دے گا۔ میں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کس چیز کی دعوت دیتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالی اور صلہ رحمی کی طرف۔ الحدیث
۔ سیدنایعلی بن مرہ رضی اللہ عنہ ، زیاد کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، اسی اثناء میں ایک آدمی کو لایا گیا، اس نے گواہی دی اور اپنی گواہی کو بدل دیا، زیاد نے کہا: میں تیری زبان کاٹ دوں گا، لیکن سیدنایعلی رضی اللہ عنہ نے کہا: میں تجھے ایسی حدیث بیان کرتا ہوں جو میں نے خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ نے فرمایا کہ میرے بندوں کا مثلہ نہ کیا کرو۔ یہ حدیث سن کر زیاد نے اسے چھوڑ دیا۔
Takhreej
(۶۵۳۸) تخریج: اسنادہ ضعیف لجھالۃ عبد اللہ بن حفص، ثم ان عطاء کان قد اختلط بآخرہ، وروایۃ محمد بن فضیل عنہ بعد الاختلاط۔ أخرجہ الطبرانی فی ’’الکبیر‘‘: ۲۲/ ۶۹۸، ورواہ ابن ابی شیبۃ: ۹/ ۴۳۲ دون ذکر القصۃ (انظر: ۱۷۵۵۷)