TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

قتل اور دوسرے جرائم کے مسائل اور خونوں کے احکام - قتل اور دوسرے جرائم کے مسائل اور خونوں کے احکام - Book 109 of Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Book 109 of Musnad Ahmad, with 38 chapters and 181 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.

181 Hadith · 38 Chapters
اس چیز کا بیان کہ اِس رخصت کے بعد کون سے کتے پالنا جائز ہیں اور کون سے ناجائز
۔ (۶۵۲۰)۔ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنَّہُ قَالَ: ((مَنِ اتَّخَذَ (أَوْ قَالَ: اِقْتَنٰی کَلْبًا) لَیْسَ بِضَارٍ وَلَا کَلْبَ مَاشِیَۃٍ نَقَصَ مِنْ أَجْرِہِ کُلَّ یَوْمٍ قِیْرَاطَانَ۔)) فَقِیْلَ لَہُ: إِنَّ أَبَاھُرَیْرَۃَیَقُوْلُ: أَوْ کَلْبَ حَرْثٍ، فَقَالَ: أنّٰی لِأَبِیْ ھُرَیْرَۃَ حَرْثٌ۔ (مسند احمد: ۴۴۷۹)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس نے ایسا کتا پالا، جو نہ شکاری ہو اور نہ مویشیوں کی حفاظت کرنے والا، تو ہر روز اس کے اجر سے د و قیراط کی کمی ہو جاتی ہے۔ جب ان سے کہا گیا کہ سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ تو کھیتی والے کتے کا بھی ذکر کرتے ہیں، تو انھوں نے کہا: ابوہریرہ کی کھیتی کہاں سے آگئی۔
Takhreej
(۶۵۲۰) تخریج: أخرجہ مسلم: ۱۵۷۴(انظر: ۴۴۷۹)
6520
Sahih
اس چیز کا بیان کہ اِس رخصت کے بعد کون سے کتے پالنا جائز ہیں اور کون سے ناجائز
۔ (۶۵۲۱)۔ عَنْ اَبِیْ الْحَکْمِ الْبَجَلِیِّ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنِ اتَّخَذَ کَلْبًا غَیْرَ کَلْبِ زَرْعٍ أَوْ ضَرْعٍ أَوْ صَیْدٍ نَقَصَ مِنْ عَمَلِہِ کُلَّ یَوْمٍ قِیْرَاطٌ۔)) فَقُلْتُ لِاِبْنِ عُمَرَ: إِنْ کَانَ فِیْ دَارٍ وَأَنَا لَہُ کَارِہٌ؟ قَالَ: ھُوَ عَلٰی رَبِّ الدَّارِ الَّذِیْیَمْلِکُہَا۔ (مسند احمد: ۴۸۱۳)
۔ سیدنا عبداللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس نے کھیتی، مویشیوں کی حفاظت اور شکار کے مقصد کے علاوہ کتا پالا تو اس کے اعمال میں سے روزانہ ایک قیراط کا نقصان ہوگا۔ ابو الحکم کہتے ہیں: میں نے سیدنا ابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے کہا: اگر وہ کتا کسی گھر میں ہو، اور میں اسے ناپسند کروں؟ انھوں نے کہا: یہ وعید گھر کے مالک کے لیے ہے۔
Takhreej
(۶۵۲۱) تخریج: انظر الحدیث السابق
6521
Sahih
اس چیز کا بیان کہ اِس رخصت کے بعد کون سے کتے پالنا جائز ہیں اور کون سے ناجائز
۔ (۶۵۲۲)۔ حَدَّثَنَا عَفَّانُ ثَنَا سَلِیْمُ بْنُ حَیَّانَ قَالَ: سَمِعْتُ أَبِیْیُحَدِّثُ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَنِ اتَّخَذَ کَلْبًا لَیْسَ بِکَلْبِ زَرْعٍ وَلَا صَیْدٍ وَلَا مَاشِیَۃٍ فَاِنَّہُ یَنْقُصُ مِنْ أَجْرِہِ کُلَّ یَوْمٍ قِیْرَاطٌ۔)) قَالَ سَلِیْمٌ: وَاَحْسَبُہُ قَدْ قَالَ: وَالْقِیْرَاطُ مِثْلُ أُحُدٍ۔ (مسند احمد: ۸۵۲۸)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس نے ایسا کتا پالا، جو کھیتی، شکار اور مویشیوں کیلئے نہ ہو تو اس کے اجر سے روزانہ ایک قیراط کم ہوتا ہے۔ سلیم راوی کہتا ہے: میرا خیال ہے کہ انھوں نے یہ بھی کہا تھا کہ قیراط احد پہاڑ کی مانند ہوتا ہے۔
Takhreej
(۶۵۲۲) تخریج: أخرجہ مسلم: ۱۵۷۵(انظر: ۸۵۴۷)
Explanation
فوائد:… قیراط کو احد پہاڑ کی مانند قرار دینا،یہ راوی کو شبہ ہوا ہے، دراصل جنازے میںشرکت کرنے والے کے ثواب کے لیے جس قیراط کا ذکر کیا گیا، وہ احد پہاڑ کی مانند ہے۔ سلیم بن حیان راوی کے یہ الفاظ صحیح مسلم میں نہیں ہیں۔
6522
Sahih
اس چیز کا بیان کہ اِس رخصت کے بعد کون سے کتے پالنا جائز ہیں اور کون سے ناجائز
۔ (۶۵۲۳)۔ عَنْ یَزِیْدَ بْنِ خُصَیْفَۃَ عَنِ السَّائِبِ بْنِ یَزِیْدَ أَنَّہُ أَخْبَرَہُ أَنَّہُ سَمِعَ سُفْیَانَ بْنَ اَبِیْ زُھَیْرٍ وَھُوَ رَجُلٌ مِنْ شَنُوْئَ ۃَ مِنْ اَصْحَابِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُحَدِّثُ نَاسًا مَعَہُ عِنْدَ بَابِ الْمَسْجِدِ یَقُوْلُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((مَنِ اقْتَنٰی کَلْبًا لَا یُغْنِیْ عَنْہُ زَرْعًا وَلَا ضَرْعًا نَقَصَ مِنْ عَمَلِہِ کُلَّ یَوْمٍ قِیْرَاطٌ۔)) قَالَ: اَنْتَ سَمِعْتَ ھٰذَا مِنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ؟ قَالَ: إِیْ وَرَبِّ ھٰذَا الْمَسْجِدِ۔ (مسند احمد: ۲۲۲۶۳)
۔ سیدنا سفیان بن ابی زہیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ، جو شنوء ہ قبیلے سے تعلق رکھنے والے صحابی تھے، سے مروی ہے کہ انھوں نے مسجد کے دروازے کے پاس یہ حدیث بیان کی کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس نے ایسا کتا رکھا جو اسے کھیتی اور جانوروں سے کفایت نہیں کرتا تو اس کے عمل میں سے روزانہ ایک قیراط کم ہو گا۔ کسی نے کہا: کیا تم نے خود یہ حدیث رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سنی ہے؟ انھوں کہا: جی بالکل، اس مسجد کے رب کی قسم ہے۔
Takhreej
(۶۵۲۳) تخریج: أخرجہ البخاری:۲۳۲۳، ومسلم: ۱۵۷۶(انظر: ۲۱۹۱۸)
Explanation
فوائد:… اس باب کی پہلی حدیث کی شرح میں تمام احادیث کا خلاصہ بیان کیا جا چکا ہے، کسی بڑے مقصد کے بغیر کتے کو پالنا باعث ِ خسارہ ہے۔جو لوگ گھروں کی رکھوالی کے لیے کتا پالنے کا اہتمام کرتے ہیں، ان کو بار بار غور کرنا چاہیے کہ کیا وہ اپنے آپ کو اللہ تعالی کے سامنے معذور ثابت کر سکیں گے۔
6523
Sahih
جس گھر میں کتا یا تصویر ہو، اس میں فرشتوں کے داخل نہ ہونے کا بیان
۔ (۶۵۲۴)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ مَیْمُوْنَۃَ قَالَتْ: أَصْبَحَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خَاثِرًا فَقِیْلَ لَہُ: مَا لَکَ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ! أَصْبَحْتَ خَاثِرًا؟ قَالَ: ((وَعَدَنِیْ جِبْرِیْلُ أَنْ یَلْقَانِی فَلَمْیَلْقَنِیْ، وَمَا أَخْلَفَنِیْ۔)) فَلَمْ یَأْتِہِ تِلْکَ اللَّیْلَۃَ وَلَا الثَّانِیَۃَ وَلَا الثَّالِثَۃَ، ثُمَّ اتَّہَمَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جَرْوَ کَلْبٍ کَانَ تَحْتَ نَضَدِنَا فَأَمَرَبِہِ فَأُخْرِجَ ثُمَّ أَخَذَ مَائً فَرَشَّ مَکَانَہُ فَجَائَ جِبْرِیْلُ فَقَالَ: ((وَعَدْتَّنِیْ فَلَمْ أَرَکَ۔)) قَالَ: إِنَّا لَا نَدْخُلُ بَیْتًا فِیْہِ کَلْبٌ وَلَا صُوْرَۃٌ، فَأَمَرَ یَوْمَئِذٍ بِقَتْلِ الْکِلَابِ، قَالَ: حَتّٰی کَانَ یُسْتَأْذَنُ فِیْ کَلْبِ الْحَائِطِ الصَّغِیْرِ فَیَأْمُرُ بِہِ أَنْ یُقْتَلَ۔ (مسند احمد: ۲۷۳۳۶)
۔ سیدہ میمونہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے روایت ہے کہ ایک صبح کو یوں لگ رہا تھا کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی طبیعت بوجھل ہے، کسی نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے دریافت کیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! آج آپ کی طبیعت بوجھل کیوں ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: دراصل جبریل علیہ السلام نے مجھے ملنے کا وعدہ کیا تھا، اب نہ وہ مجھے ملے ہیں اور نہ انھوں نے کبھی وعدہ خلافی کی ہے۔ بہرحال جبریل علیہ السلام اس رات کو نہ آئے اور اگلی دو راتوں کو بھی تشریف نہ لائے، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کتے کے ایک پلے کو اس کا سبب قرار دیا، وہ ہماری ایک چارپائی کے نیچے پڑا تھا، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کو نکالنے کا حکم دیا اور پانی لے کر اس جگہ پر چھڑکا، اتنے میں جبریل علیہ السلام آگئے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان سے فرمایا: آپ نے میرے ساتھ وعدہ کیا تھا، لیکن پھر آئے نہیں؟ انھوں نے کہا: جی ہم اس گھر میں داخل نہیں ہوتے، جس میں کتا اورتصویر ہو۔ اس دن سے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کتوں کوقتل کرنے کا حکم دے دیا، (اور اس معاملے میں اتنی سختی برتی گئی کہ) جب چھوٹے باغ کے کتے کے بارے میں اجازت طلب کی جاتی تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس کو بھی قتل کرنے کا حکم دیتے۔
Takhreej
(۶۵۲۴) تخریج: أخرجہ مسلم: ۲۱۰۵(انظر: ۲۶۸۰۰)
Explanation
فوائد:… ’’نَضَد‘‘ ایسی چارپائی کو کہتے ہیں، جس پر تہہ بہ تہہ کپڑے رکھے گئے ہوں۔ صحیح مسلم میں ہے کہ آپa نے چھوٹے باغ کے کتے کو قتل کرنے کا حکم دیتے اور بڑے باغ کے کتے کو چھوڑ دیتے۔ بڑے اور چھوٹے باغ کا فرق اس لیے ہے کہ چھوٹے باغ کی ھفاظت اتنی مشکل نہیں۔ ہاں بڑے باغ کو سب اطراف سے محفوظ کرنا کتے کی مدد سے قدرے آسان ہے۔ (عبداللہ رفیق)
6524
Sahih
جس گھر میں کتا یا تصویر ہو، اس میں فرشتوں کے داخل نہ ہونے کا بیان
۔ (۶۵۲۵)۔ عَنْ أُسَامَۃَ بْنِ زَیْدٍ قَالَ: دَخَلْتُ عَلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَعَلَیْہِ الْکَآبَۃُ فَسَأَلْتُہُ مَا لَہُ؟ فَقَالَ: ((لَمْ یَأْتِنِیْ جِبْرِیْلُ مُنْذُ ثَلَاثٍ۔)) قَالَ: فَاِذَا جِرْوُ کَلْبٍ بَیْنَ بُیُوْتِہِ فَأَمَرَ بِہِ فَقُتِلَ فَبَدَا لَہُ جِبْرِیْلُ فَبَہَشَ إِلَیْہِ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حِیْنَ رَآہُ فَقَالَ: ((لَمْ تَأْتِنِیْ؟)) فَقَالَ: إِنَّا لَا نَدْخُلُ بَیْتًا فِیْہِ کَلْبٌ وَلَا تَصَاوِیْرُ۔ (مسند احمد: ۲۲۱۱۵)
۔ سیدنا اسامہ بن زید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس حاضر ہوا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر غمگین ہونے کے آثار دیکھے اور پوچھا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو کیا ہو گیا ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تین دنوں سے جبریل علیہ السلام میرے پاس نہیں آئے ہیں۔ جب دیکھا گیا تو کتے کا ایک بچہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے گھر میں پایا گیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اسے مارنے کا حکم دیا، اتنے میں جیریل علیہ السلام آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے سامنے آگئے، جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے انہیں دیکھا تو خوشی میں ان کی جانب لپکے اور فرمایا: آپ میرے پاس تشریف نہیں لائے؟ انہوں نے کہا: جس گھر میں کتا اور تصاویر ہوں، ہم اس میں داخل نہیں ہوتے۔
Takhreej
(۶۵۲۵) اسنادہ قوی۔ أخرجہ الطیالسی: ۶۲۷، وابن ابی شیبۃ: ۵/ ۴۰۶، والبزار: ۲۵۸۹(انظر: ۲۱۷۷۲)
6525
Sahih
جس گھر میں کتا یا تصویر ہو، اس میں فرشتوں کے داخل نہ ہونے کا بیان
۔ (۶۵۲۶)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ بُرَیْدَۃَ عَنْ اَبِیْہِ قَالَ: اِحْتَبَسَ جِبْرِیْلُ عَلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: ((مَا أَحْبَسَکَ؟)) قَالَ: إِنَّا لَا نَدْخُلُ بَیْتًا فِیْہِ کَلْبٌ۔ (مسند احمد: ۲۳۳۷۵)
۔ سیدنا بریدہ اسلمی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ جبریل علیہ السلام ، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے کچھ دیر رکے رہے،پھر جب وہ تشریف لائے تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کس چیز نے آپ کو روکے رکھا؟ انھوں نے کہا: ہم اس گھر میں داخل نہیں ہوا کرتے جس میں کتا ہو۔
Takhreej
(۶۵۲۶) صحیح لغیرہ۔ أخرجہ ابن ابی شیبۃ: ۵/ ۴۱۰، وابو یعلی فی ’’مسندہ الکبیر‘‘: ۷۳۲۲ (انظر: ۲۲۹۸۷)
Explanation
فوائد:… جو لوگ نبی کریمa کو عالم الغیب قرار دیتے ہیں،معلوم نہیں وہ ان صورتوں کا کیا جواب دیں گے۔
6526
Sahih
جس گھر میں کتا یا تصویر ہو، اس میں فرشتوں کے داخل نہ ہونے کا بیان
۔ (۶۵۲۷)۔ عَنْ عَلِیٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَنَّہُ قَالَ: ((لَا تَدْخُلُ الْمَلَائِکَۃُ بَیْتًا فِیْہِ کَلْبٌ وَلَا صُوْرَۃٌ۔)) (مسند احمد: ۸۱۵)
۔ سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس گھر میں کتا یا تصویر ہو، اس میں فرشتے داخل نہیں ہوتے۔
Takhreej
(۶۵۲۷) تخریج: حدیث حسن لغیرہ۔ أخرجہ ابوداود: ۲۲۷، ۴۱۵۲، والنسائی: ۱/۱۴۱، وابن ماجہ: ۳۶۵۰(انظر: ۸۱۵)
6527
Sahih
جس گھر میں کتا یا تصویر ہو، اس میں فرشتوں کے داخل نہ ہونے کا بیان
۔ (۶۵۲۸)۔ عَنْ اَبِیْ طَلْحَۃَ الْأَنْصَارِیِّیَبْلُغُ بِہِ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((لَا تَدْخُلُ الْمَلَائِکَۃُ بَیْتًا فِیْہِ صُوْرَۃٌ وَلَا کَلْبٌ)) (مسند احمد: ۱۶۴۶۶)
۔ سیدنا ابو طلحہ انصاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس گھر میں فرشتے داخل نہیں ہوتے، جس میں تصویر اور کتا ہو۔
Takhreej
(۶۵۲۸) تخریج: أخرجہ مسلم: ۲۱۰۶ (انظر: ۱۶۳۵۳)
6528
Sahih
جس گھر میں کتا یا تصویر ہو، اس میں فرشتوں کے داخل نہ ہونے کا بیان
۔ (۶۵۲۹)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ قَالَ: کَانَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَأْتِیْ دَارَ قَوْمٍ مِنَ الْأَنْصَارِ وَدُوْنَہُمْ دَارٌ، قَالَ: فَشَقَّ ذَالِکَ عَلَیْہِمْ، فَقَالُوْا: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! سُبْحَانَ اللّٰہِ تَأْتِیْ دَارَ فُلَانٍ وَلَا تَأْتِیْ دَارَنَا، قَالَ: فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لِأَنَّ فِیْ دَارِکُمْ کَلْبًا۔)) قَالُوْا: فَإِنَّ فِیْ دَارِھِمْ سِنَّوْرًا، فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِنَّ السِّنَّوْرَ سَبُعٌ۔)) (مسند احمد: ۸۳۲۴)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ایک انصاری کے گھر تشریف لے جاتے تھے، اور اس کے گھر سے پہلے کچھ اور لوگوں کا گھر بھی پڑتا تھا، یہ بات اس گھر والوں پر بڑی گراں گزری اور انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! بڑا تعجب ہے کہ آپ فلاں کے گھر تو جاتے ہیں اور ہمارے گھر تشریف نہیں لاتے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس کی وجہ یہ ہے کہ تمہارے گھر میں کتا ہے۔ دراصل ان کے گھر میں بلی تھی، پھر نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا کہ بلی بھی تو ایک درندہ ہے۔
Takhreej
(۶۵۲۹) تخریج: اسنادہ ضعیف لضعف عیسی بن المسیب۔ أخرجہ الحاکم: ۱/ ۱۸۳، والدار قطنی: ۱/ ۶۳، والبیھقی: ۱/ ۲۴۹ (انظر: ۸۳۴۲)
Explanation
فوائد:… کاٹنے والے درندے کو بھی ’’کَلْب‘‘ کہا جاتا ہے، اس لیے بلی پر ’’کَلْب‘‘ کے لفظ کا اطلاق کیا گیا۔ بلی حرام ہے، لیکن پاک ہے اور اس کا جوٹھا بھی پاک ہے، اس کو گھروں میں رکھنا جائز ہے۔ کتے کا معاملہ تو واضح ہے، پچھلے باب میں چار قسم کے کتوں کو مستثنی کیا گیا ہے، ان کے علاوہ ہر کتا فرشتوںکے دخول کو مانع ہو گا۔ تصویر سے مراد ذی روح چیز کی تصویر ہے، خواہ وہ آدمی کی ہو یا حیوان کی، مجسم ہو یا نقش و نگار کی صورت میں ہو، کپڑے پر بنائی گئی ہو یا وہ شمسی تصویر ہو، یہ سب اقسام حرام ہیں، لیکن اس سے وہ تصویریں مستثنی ہیں، جو ناگزیر مقاصد کے لیے ہوں اور جن کے بغیر کوئی چارۂ کار نہ ہو، مثلا پاسپورٹ، شناختی کارڈ، لائسنس وغیرہ کے لیے، لیکن بہتر یہ ہے کہ ان کو بھی محفوظ یا بند جگہ میں رکھا جائے اور آویزاں نہ کیا جائے۔ جو فرشتے کتے اور تصویر کی وجہ سے گھروں میں نہیں آتے، ان سے مراد رحمت کے فرشتے ہیں۔ اعمال لکھنے والے، موت والے اور حفاظت کرنے والے فرشتے انسان کے ساتھ ہیرہتے ہیں۔
6529
Zaeef
ان حیوانات کا بیان، جن کا قتل کرنا جائز نہیں ہے
۔ (۶۵۳۰)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: نَہٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَنْ قَتْلِ أَرْبَعٍ مِنَ الدَّوَّابِ النَّمْلَۃِ وَالنَّحْلَۃِ وَالْھُدْھُدِ وَالصُّرَدِ۔ (مسند احمد: ۳۰۶۶)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے چار جانداروں کو قتل کرنے سے منع فرمایاہے،چیونٹی، شہد کی مکھی،ہد ہد اور ممولہ۔
Takhreej
(۶۵۳۰) اسنادہ صحیح علی شرط الشیخین۔ أخرجہ ابوداود: ۵۲۶۷، وابن ماجہ: ۳۲۲۴ (انظر: ۳۰۶۶)
Explanation
فوائد:… ’’صُرَد‘‘ (ممولہ) ایک پرندہ ہے، جو کیڑوں کو کھاتا اور چڑیا کا شکار کرتا ہے، اس کو لٹورا بھی کہتے ہیں۔ چیونٹی اور شہد کی مکھی کا قتل بلا مقصد ہو گا، اس لیے ان کو قتل کرنے سے منع کر دیا گیا، جب یہ نقصان پہنچا رہی ہوں تو ان کے نقصان سے بچنے کے لیے ان کو قتل کرنا جائز ہوگا، اس معاملے میں چیونٹی کے بارے میں واضح نص موجود ہے۔ رہا مسئلہ ہدہد اور ممولہ کا، تو یادر ہے کہ جب کسی حیوان کو قتل کرنے سے روک دیا جائے اور یہ اس کی حرمت اور ضرر کی بنا پر نہ ہو تو اس حکم کی وجہ اس جانور کا حرام ہونا ہے۔
6530
Sahih
ان حیوانات کا بیان، جن کا قتل کرنا جائز نہیں ہے
۔ (۶۵۳۱)۔ عَنْ عَبْدِالرَّحْمٰن بْنِ عُثْمَانَ قَالَ: ذَکَرَ طَبِیْبٌ عِنْدَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم دَوَائً ا وَذَکَرَ فِیْہِ الضِفْدَعَ یُجْعَلُ فِیْہِ، فَنَہٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَنْ قَتْلِ الضِفْدَعِ۔ (مسند احمد: ۱۵۸۴۹)
۔ سیدنا عبد الرحمن بن عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ ایک طبیب نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس ایسی دواء کا ذکر کیا، جس میں وہ مینڈک ملاتا تھا، لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مینڈک کو قتل کرنے سے منع فرمادیا۔
Takhreej
(۶۵۳۱) تخریج: اسنادہ صحیح۔ أخرجہ ابوداود: ۳۸۷۱، ۵۲۶۹، والنسائی: ۷/ ۲۱۰(انظر: ۱۵۷۵۷)
Explanation
فوائد:… مینڈک کے متعلق شرعی حکم یہ ہے کہ یہ حرام ہے، کیونکہ بوقت ِ ضرورت بھی رسول اللہa نے اس کے استعمال کی اجازت نہیں دی، آپ a کا اجازت نہ دینا ہی اس کی حرمت کی دلیل ہے۔ مینڈک اگرچہ آبی جانور ہے، لیکنیہ پانی سے باہر بھی زندہ رہ سکتا ہے، بلکہ عرصۂ دراز تک باہر پھرتا رہتا ہے، لہذا اس کو آبی جانوروں والا حکم نہیں دیا جا سکتا۔
6531
Sahih
حیوانیا انسان کو باندھ کر قتل کرنے یا اذیت والی چیز سے قتل کرنے اور پھر انسان کا مثلہ کرنے سے ممانعت کا بیان
۔ (۶۵۳۲)۔ عَنْ اِسْحَاقَ بْنِ سَعِیْدٍ عَنْ اَبِیْہِ قَالَ: دَخَلَ ابْنُ عُمَرَ عَلٰییَحْیَی بْنِ سَعِیْدٍ وَغُلَامٌ مِنْ بَنِیْہِ رَابِطٌ دَجَاجَۃًیَرْمِیْہَا، فَمَشٰی إِلَی الدَّجَاجَۃِ فَحَلَّہَا ثُمَّ أَقْبَلَ بِہَا وَبِالْغُلَامِ وَقَالَ لِیْحْیٰی: ازْجُرُوْا غُلَامَکُمْ ھٰذَا مِنْ أَنْ یَصْبِرَ ھٰذَا الطَّیْرَ عَلَی الْقَتْلِ فَاِنِّیْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَنْہٰی اَنْ تُصْبَرَ بَہِیْمَۃٌ أَوْ غَیْرُھَا لِقَتْلٍ، وَإِذَا أَرَدْتُمْ ذَبْحَہَا فَاذْبَحُوْھَا۔ (مسند احمد: ۵۶۸۲)
۔ سعید بن عمرو کہتے ہیں: سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ، یحییٰ بن سعید کے پاس گئے اور ان کا ایک بیٹا مرغی کو باندھ کر اس کو نشانہ بنا رہا تھا، سیدنا ابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے جاکر مرغی کھول دی اور مرغی اور اس لڑکے کو سامنے لا کر یحییٰ سے کہا: اپنے اس لڑکے کو منع کرو کہیہ اس پرندے کو باندھ کر قتل کا نشانہ نہ بنائے، کیونکہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے جانورکو باندھ کر قتل کرنے سے منع فرمایا ہے، اگر تم اس کو ذبح کرنا چاہتے ہو تو ذبح کے طریقے کے مطابق ذبح کر لو۔
Takhreej
(۶۵۳۲) تخریج:أخرجہ البخاری: ۵۵۱۴(انظر: ۵۶۸۲)
6532
Sahih
حیوانیا انسان کو باندھ کر قتل کرنے یا اذیت والی چیز سے قتل کرنے اور پھر انسان کا مثلہ کرنے سے ممانعت کا بیان
۔ (۶۵۳۳)۔ عَنِ ابْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لَعَنَ مَنِ اتَّخَذَ شَیْئًا فِیْہِ الرُّوْحُ غَرَضًا۔ (مسند احمد: ۵۵۸۷)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس شخص پر لعنت کی، جو اس چیز پر نشانہ بازی کرتا ہے، جس میں روح ہو۔
Takhreej
(۶۵۳۳) تخریج: أخرجہ مسلم: ۱۹۵۸(انظر: ۵۵۸۷)
6533
Sahih
حیوانیا انسان کو باندھ کر قتل کرنے یا اذیت والی چیز سے قتل کرنے اور پھر انسان کا مثلہ کرنے سے ممانعت کا بیان
۔ (۶۵۳۴)۔ عَنِ الشَّرِیْدِ بْنِ سُوَیْدٍ الثَّقَفِیِّ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((مَنْ قَتَلَ عُصْفُوْرًا عَبَثًا، عَجَّ إِلَی اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ مِنْہُ یَقُوْلُ: اِنَّ فُلَانًا قَتَلَنِیْ عَبَثًا وَلَمْ یَقْتُلْنِیْلِمَنْفَعَۃٍ)) (مسند احمد: ۱۹۶۹۹)
۔ سیدنا شرید بن سوید ثقفی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس نے کسی چڑیا کو بے مقصد قتل کر دیا تو وہ روز قیامت اللہ تعالی کی بارگاہ میں چلا کر کہے گی: بیشک فلاں آدمی نے مجھے کسی مقصد کے بغیر قتل کر دیا اوراس نے مجھے کسی منفعت کے لیے قتل نہیں کیا۔
Takhreej
(۶۵۳۴) اسنادہ ضعیف لجھالۃ صالح بن دینار الجعفی۔ أخرجہ النسائی: ۷/۲۳۹ (انظر: ۱۹۴۷۰)
6534
Zaeef
حیوانیا انسان کو باندھ کر قتل کرنے یا اذیت والی چیز سے قتل کرنے اور پھر انسان کا مثلہ کرنے سے ممانعت کا بیان
۔ (۶۵۳۵)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنَّہُ قَالَ: ((أَعَفُّ (وَفِیْ لَفْظٍ: إنَّ أَعَفَّ) النَّاسِ قِتْلَۃً أَھْلُ الْاِیْمَانِ۔)) (مسند احمد: ۳۷۲۸)
۔ سیدنا عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: قتل کرتے وقت سب سے زیادہ رحم کرنے والے اہل ایمان ہوتے ہیں۔
Takhreej
(۶۵۳۵) تخریج: حدیث حسن۔ أخرجہ ابوداود: ۲۶۶۶، وابن ماجہ: ۲۶۸۲ (انظر: ۳۷۲۸)
Explanation
فوائد:… معلوم ہوا کہ ہمیں ذبح کرنے کے لیے ایسا انداز اختیار کرنا چاہیے، جس میں جانور کے لیے تکلیف کم سے کم ہو۔
6535
Sahih
حیوانیا انسان کو باندھ کر قتل کرنے یا اذیت والی چیز سے قتل کرنے اور پھر انسان کا مثلہ کرنے سے ممانعت کا بیان
۔ (۶۵۳۶)۔ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((مَنْ مَثَّلَ بِذِیْ رُوْحٍ ثُمَّ لَمْ یَتُبْ مَثَّلَ اللّٰہُ بِہِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ۔)) (مسند احمد: ۵۶۶۱)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس نے کسی ذی روح چیز کامثلہ کیا اور پھر توبہ نہ کی تو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کا مثلہ کرے گا۔
Takhreej
(۶۵۳۶) تخریج: حدیث صحیح۔ أخرجہ الطبرانی فی ’’الاوسط‘‘ (انظر: ۵۶۶۱)
Explanation
فوائد:… حیوان کا مثلہ کرنے کی صورت یہ ہے کہ اس کو ذبح کرنے سے پہلے اس کے اعضا کاٹ لیے جائیں، شریعت ِ مطہرہ کا قانون ہے کہ زندہ جانور کا جو حصہ کاٹ کر علیحدہ کر دیا جائے، وہ حرام ہو گا۔
6536
Sahih
حیوانیا انسان کو باندھ کر قتل کرنے یا اذیت والی چیز سے قتل کرنے اور پھر انسان کا مثلہ کرنے سے ممانعت کا بیان
۔ (۶۵۳۷)۔ عَنْ اَبِیْ الْأَحْوَصِ عَنْ اَبِیْہِ قَالَ: أَتَیْتُ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَصَعَّدَ فِیَّ النَّظْرَ وَصَوَّبَ وَقَالَ: ((أَ رَبُّ اِبِلٍ اَنْتَ أَوْ رَبُّ غَنَمٍ؟)) قَالَ: مِنْ کُلٍّ قَدْ آتَانِیَ اللّٰہُ فَأَکْثَرَ وَأَطْیَبَ، قَالَ: ((فَتُنْتِجُہَا وَافِیَۃً أَعْیُنُہَا وَآذَانُہَا فَتَجْدَعُ ھٰذِہٖفَتَقُوْلُصَرْمَائَ( ثُمَّتَکَلَّمَسُفْیَانُ بِکَلِمَۃٍ لَمْ أَفْہَمْہَا) وَتَقُوْلُ بَحِیْرَۃَ اللّـہِ فَسَاعِدُ اللّـہِ أَشَدُّ، وَمُوْسَاہُ أَحَدُّ، وَلَوْ شَائَ أَنْ یَأْتِیَکَ بِہَا صَرْمَائَ آتَاکَ۔)) قُلْتُ: إِلٰی مَاتَدْعُوْ ؟ قَالَ: ((إِلَی اللّٰہِ وَإِلَی الرَّحِمِ۔)) الحدیث۔ (مسند احمد: ۱۷۳۶۰)
۔ ابو احوص اپنے باپ سیدنا مالک بن نضلہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے بیان کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں: میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے اوپر سے نیچے تک بغو ر دیکھا اور فرمایا: تم اونٹوں کے مالک ہو یا بکریوں کے ؟ میں نے کہا: اللہ تعالیٰ نے مجھے ہر قسم کے مال سے نواز رکھاہے، بہت زیادہ اور عمدہ مال دیاہے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ جانور پوری آنکھوں اور کانوں والے بچے جنم دیتے ہیں اور تم لوگ ان کے کان وغیرہ کاٹ دیتے ہیں اور پھر ان کو کان کٹے کا نام دے دیتے ہو اور یہ کہنا شروع کر دیتے ہو کہ یہ اللہ کا بحیرہ ہے، پس اللہ تعالیٰ کا بازو بہت طاقتور ہے اور اس کا استرابہت تیز دھار ہے، اگر اس نے تجھے کان کٹا جانور دینا چاہا تو وہ دے دے گا۔ میں نے کہا: آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کس چیز کی دعوت دیتے ہیں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالی اور صلہ رحمی کی طرف۔ الحدیث
Takhreej
(۶۵۳۷) تخریج: اسنادہ صحیح۔ أخرجہ النسائی: ۷/ ۱۱(انظر: ۱۷۲۲۸)
Explanation
فوائد:… کان کاٹ کر چھوڑی ہوئی اونٹنی کو ’’بَحِیْرَہ‘‘ کہتے ہیں۔
6537
Sahih
حیوانیا انسان کو باندھ کر قتل کرنے یا اذیت والی چیز سے قتل کرنے اور پھر انسان کا مثلہ کرنے سے ممانعت کا بیان
۔ (۶۵۳۸)۔ عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ حَفْصٍ عَنْ یَعْلَی بْنِ مُرَّۃَ أَنَّہُ کَانَ عِنْدَ زَیَادٍ جَالِسًا فَاُتِیَ بِرَجُلٍ شَہِدَ فَغَیَّرَ شَہَادَتَہُ، فَقَالَ: لَأَقْطَعَنَّ لِسَانَکَ، فَقَالَ لَہُ یَعْلٰی: أَلَا أُحَدِّثُکَ حَدِیْثًا سَمِعْتُہُ مِنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ؟ سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((قَالَ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ: لَا تُمَثِّلُوْا بِعِبَادِیْ۔)) قَالَ: فَتَرَکَہُ۔ (مسند احمد: ۱۷۷۰۰)
۔ سیدنایعلی بن مرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ، زیاد کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، اسی اثناء میں ایک آدمی کو لایا گیا، اس نے گواہی دی اور اپنی گواہی کو بدل دیا، زیاد نے کہا: میں تیری زبان کاٹ دوں گا، لیکن سیدنایعلی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: میں تجھے ایسی حدیث بیان کرتا ہوں جو میں نے خود رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سنی ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ نے فرمایا کہ میرے بندوں کا مثلہ نہ کیا کرو۔ یہ حدیث سن کر زیاد نے اسے چھوڑ دیا۔
Takhreej
(۶۵۳۸) تخریج: اسنادہ ضعیف لجھالۃ عبد اللہ بن حفص، ثم ان عطاء کان قد اختلط بآخرہ، وروایۃ محمد بن فضیل عنہ بعد الاختلاط۔ أخرجہ الطبرانی فی ’’الکبیر‘‘: ۲۲/ ۶۹۸، ورواہ ابن ابی شیبۃ: ۹/ ۴۳۲ دون ذکر القصۃ (انظر: ۱۷۵۵۷)
6538
Zaeef
حیوانیا انسان کو باندھ کر قتل کرنے یا اذیت والی چیز سے قتل کرنے اور پھر انسان کا مثلہ کرنے سے ممانعت کا بیان
۔ (۶۵۳۹)۔ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِاللّٰہِ قَالَ: نَہٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنْ یُقْتَلَ شَیْئٌ مِنَ الدَّوَابِّ صَبْرًا۔ (مسند احمد: ۱۴۷۰۰)
۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس سے منع کیا کہ کسی جانور کو باندھ کر قتل کیا جائے۔
Takhreej
(۶۵۳۹) تخریج: أخرجہ مسلم: ۱۹۵۹(انظر: ۱۴۶۴۶)
6539
Sahih

Chapters

38
01
مؤمن کے قتل پر سخت وعید اور سختی کا بیان
13 Hadith
02
مسلمانوں پر ہتھیار اٹھانے والے کی وعید کا بیان
8 Hadith
03
مسلمان کا خون کو جائز قرار دینے والے امور کا بیان
5 Hadith
04
ذمیوں اورمعاہدہ والوں کے قتل کے حرام ہونے اور اس معاملے میں سختی کا بیان
4 Hadith
05
خود کشی کرنے پر وعید کا بیان، وہ جس چیز سے مرضی خود کشی کرے
8 Hadith
06
نفس کی حفاظت کرنے اوراسے ہلاکت سے بچانے کے واجب ہونے کا بیان
3 Hadith
07
اس چیز کے ابواب کہ کون سے حیوان قتل کرنا جائز ہیں اور کون سے ناجائز فاسق حیوانات کو قتل کرنے کے حکم کا بیان
13 Hadith
08
گھریلو سانپوں کو مارنے کی ممانعت کا بیان، الا یہ کہ پہلے ان کو متنبہ کیا جائے، مگر چھوٹی دم والا موذی سانپ اور وہ سانپ جس کی پشت پر دو دھاریاں ہوں، ان دونوں کو ہر صورت میں قتل کیا جائے گا
8 Hadith
09
چھپکلی کو قتل کرنے کے مستحب ہونے اور اس کو مارنے والے کے اجر و ثواب کا بیان
6 Hadith
10
کتوں کو قتل کرنے اور انہیں پالنے کا بیان کتوں کو قتل کرنے کے حکم اور اس کے سبب کا بیان
7 Hadith
11
کالے سیاہ کتے کے علاوہ باقی کتوں کو قتل نہ کرنے کی رخصت کا بیان
4 Hadith
12
اس چیز کا بیان کہ اِس رخصت کے بعد کون سے کتے پالنا جائز ہیں اور کون سے ناجائز
5 Hadith
13
جس گھر میں کتا یا تصویر ہو، اس میں فرشتوں کے داخل نہ ہونے کا بیان
6 Hadith
14
ان حیوانات کا بیان، جن کا قتل کرنا جائز نہیں ہے
2 Hadith
15
حیوانیا انسان کو باندھ کر قتل کرنے یا اذیت والی چیز سے قتل کرنے اور پھر انسان کا مثلہ کرنے سے ممانعت کا بیان
10 Hadith
16
ہر روح والی چیز کو آگ سے جلانے کی ممانعت کا بیان
3 Hadith
17
قصاص کے ابواب قتل عمد پر قصاص کے ثابت ہونے اور اس کے مستحق کو قصاص اور دیت میں اختیار دینے کا بیان
3 Hadith
18
اس چیز کا بیان کہ مسلمان کو کافر کے بدلے قتل نہیں کیا جائے گا اور آزاد کو غلام کے بدلے قتل کیے جانے کا مسئلہ
5 Hadith
19
مرد کو عورت کے بدلے اور عورت کو عورت کے بدلے قتل کرنے اور بھاری آلے سے قتل کرنے اور قاتل کو اسی انداز میں قتل کرنے کا بیان، جس میں اس نے کیا ہو
4 Hadith
20
والدین کو اولاد کے بدلے میں قتل نہ کرنے اور ایک مقتول کے قصاص میں دو افراد کو قتل کرنے کا بیان
4 Hadith
21
حکمرانوں سے قصاص لیے جانے کا بیان، الا یہ کہ مستحق صلح کر لے یا معاف کر دے
3 Hadith
22
قصاص لینے کا مستحق ہونے کے بعد معاف کر دینے والے کی فضیلت کا بیان
3 Hadith
23
دانت توڑنے کے قصاص کا بیان
2 Hadith
24
کان کا بعض حصہ کاٹنے میں قصاص لینے کا بیان
1 Hadith
25
اس چیز کا بیان کہ ایک آدمی کسی کا ہاتھ کاٹنے کے لیے منہ میں ڈالے اور وہ اپنا ہاتھ کھینچے جس کے نتیجے میں اس کے سامنے والا دانت گر جائے
3 Hadith
26
زخم کے درست ہونے سے پہلے قصاص لینے کی ممانعت کا بیان
1 Hadith
27
کیا حرم یا دیگر مساجد میںقصاصیا حدیں لگائی جا سکتی ہیں؟
3 Hadith
28
قسامہ کا بیان
3 Hadith
29
دیت کے ابواب نفس، اعضاء اور اعضاء کی منفعتوں کی دیت کا جامع تذکرہ اور اس میں قتل خطا، قتل عمد اور قتل شبہ عمد کا بیان
3 Hadith
30
شبہ عمد کے مقتول کی دیت کا بیان
6 Hadith
31
محض قتلِ خطا کی دیت کا بیان
4 Hadith
32
قتل کے علاوہ اعضا اور زخموں وغیرہ کی دیت کا بیان
6 Hadith
33
ذمیوں اور مکاتَب کی دیت کا بیان
6 Hadith
34
جنین کی دیت کا بیان
5 Hadith
35
اس شخص کا بیان کہ جس کے والد کو از راہِ خطا قتل کر دیا گیا اور پھر اس نے اس کی دیت کو مسلمانوں پر خیرات کر دیا
1 Hadith
36
قتل کا سبب بننے کی وجہ سے دیت کے واجب ہونے کا بیان اورگڑھے میں گرنے والوں کا واقعہ
1 Hadith
37
عاقلہ اور دیت کی ذمہ داری اٹھانے والوں کا بیان
5 Hadith
38
کسی شخص کا دوسرے کے جرم کی وجہ سے مؤاخذہ نہیں ہو گا، اگرچہ وہ اس کا سب سے قریبی رشتہ دار ہو
4 Hadith
No chapter matched that.