TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

جہاد کے مسائل - جہاد کے مسائل - Book 77 of Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Book 77 of Musnad Ahmad, with 53 chapters and 348 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.

348 Hadith · 53 Chapters
غنیمت کے پانچ حصوں میں چار حصوں کی تقسیم، گھوڑ سوار اور پیادہ کا حق اور خاتون اور غلام وغیرہ کو معمولی مقدار میںعطیہ دینا
۔ (۵۰۴۲)۔ عَنْ فَضَالَۃَ بْنِ عُبَیْدٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ اَنَّھُمْ کَانُوْا مَعَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِیْ غَزْوَۃٍ، قَالَ: وَفِیْنَا مَمْلُوْکِیْنَ فَلَا یُقْسَمَ لَھُمْ۔ (مسند أحمد: ۲۴۴۶۱)
۔ سیدنا فضالہ بن عبید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم لوگ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ ایک غزوے میں تھے، ہم میں غلام بھی تھے، مالِ غنیمت میں سے ان کو کچھ نہیں دیا گیا۔
Takhreej
(۵۰۴۲) تخریج: صحیح لغیرہ (انظر: ۲۳۹۶۱)
Explanation
فوائد:… صحیح بات یہ ہے کہ غلاموں کا مالِ غنیمت میں معین حصہ نہیں ہے، امیرِ لشکراپنے اجتہاد کی روشنی میں ان کی حوصلہ افزائی کرے گا۔
5042
Sahih
غنیمت کے پانچ حصوں میں چار حصوں کی تقسیم، گھوڑ سوار اور پیادہ کا حق اور خاتون اور غلام وغیرہ کو معمولی مقدار میںعطیہ دینا
۔ (۵۰۴۳)۔ وَعَنْ اِمْرَأَۃٍ مِنْ بَنِیْ غِفَارٍ قَالَتْ: لَمَّا فَتَحَ رَسُوْلُ اللّٰہِ خَیْبَرَ رَضَّخَ لَنَا مِنَ الْفَیْئِ، اَلْحَدِیْثَ۔ (مسند أحمد: ۲۷۶۷۷)
۔ بنوغفار کی ایک خاتون سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے خیبر فتح کیا تو ہمیں بھی مالِ غنیمت میں سے تھوڑی مقدار میں عطیے دیئے۔
Takhreej
(۵۰۴۳) تخریج: اسنادہ ضعیف لجھالۃ امیۃ بنت ابی الصلت ، ثم انہ قد اختلف فیہ علی سلیمان، أخرجہ ابوداود: ۳۱۳ (انظر: ۲۷۱۳۶)
5043
Zaeef
غنیمت کے پانچ حصوں میں چار حصوں کی تقسیم، گھوڑ سوار اور پیادہ کا حق اور خاتون اور غلام وغیرہ کو معمولی مقدار میںعطیہ دینا
۔ (۵۰۴۴)۔ وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما وَقَدْ کَتَبَ اِلَیْہِ نَجْدَۃُ الْحَرُوْرِیُّ یَسْأَلُہٗ عَنْ خَمْسِ خِصَالٍ مِنْھَا: ہَلْ کَانَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَغْزُو بِالنِّسَائِ مَعَہُ؟ فَکَتَبَ إِلَیْہِ ابْنُ عَبَّاسٍ: إِنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَدْ کَانَ یَغْزُو بِالنِّسَائِ مَعَہُ، فَیُدَاوِینَ الْمَرْضٰی وَلَمْ یَکُنْ یَضْرِبُ لَہُنَّ بِسَہْمٍ، وَلٰکِنَّہُ کَانَ یُحْذِیہِنَّ مِنَ الْغَنِیمَۃِ۔ (مسند أحمد: ۲۸۱۱)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے، جبکہ نجدہ حروری نے ان کی طرف خط لکھا اور پانچ امور کے بارے میں پوچھا، ایک سوال یہ تھا: کیا عورتیں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ جہاد کرتی تھیں؟ سیدنا ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے جواباً لکھا: بیشک رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ عورتیں جہاد میں جاتی تھیں اور مریضوں کا دوا دارو کرتی تھیں اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ان کے لیے دوسرے مجاہدین کی طرح حصہ مقرر نہیں کرتے تھے، البتہ مالِ غنیمت میں سے تھوڑا بہت بطورِ عطیہ دے دیتے تھے۔
Takhreej
(۵۰۴۴) تخریج: أخرجہ مسلم: ۱۸۱۲ (انظر: ۲۸۱۱)
Explanation
فوائد:… جو خواتین، مجاہدین کی خدمت کے لیے لشکر ِ اسلام میں شرکت کرتی ہیں، مجاہد کی طرح ان کا حصہ معین نہیں ہے، امیر لشکر اپنی مرضی سے ان کو عطیہ دے سکتا ہے۔
5044
Sahih
غنیمت کے پانچ حصوں میں چار حصوں کی تقسیم، گھوڑ سوار اور پیادہ کا حق اور خاتون اور غلام وغیرہ کو معمولی مقدار میںعطیہ دینا
۔ (۵۰۴۵)۔ عَنْ عُمَیْرٍ مَوْلٰی آبِی اللَّحْمِ قَالَ: شَھِدْتُ خَیْبَرَ مَعَ سَادَتِیْ فَکَلَّمُوْا فِیَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ فَاَمَرَبِیْ فَقَلَّدْتُ سَیْفًا فَاِذَا اَنَا اَجُرُّہٗ، فَاُخْبِرَ اَنَّیْ مَمْلُوْکٌ فَاَمَرَ لِیْ بِشَیْئٍ مِنْ خُرْثِیِّ الْمَتَاعِ۔ (مسند أحمد: ۲۲۲۸۶)
۔ مولائے آبی اللحم سیدنا عمیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں اپنے آقاؤں کے ساتھ غزوۂ خیبر میں حاضر ہوا، جب انھوں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے میرے بارے میں بات کی توآپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے میرے بارے میں حکم دے دیا، میں نے اپنے ساتھ اس طرح تلوار لٹکائی کہ وہ گھسٹ رہی تھی، جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو بتلایا گیا کہ میں غلام ہوں تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے حکم دیا کہ مالِ غنیمت میں سے تھوڑی سی مقدار میں گھریلو ساز و سامان مجھے دے دیا جائے۔
Takhreej
(۵۰۴۵) تخریج: اسنادہ صحیح علی شرط مسلم، أخرجہ أبوداود: ۲۷۳۰،والترمذی: ۱۵۵۷، وابن ماجہ: ۲۸۵۵(انظر: ۲۱۹۴۰)
Explanation
فوائد:… مالِ غنیمت کا خُمُس تو امام لے لے گا، باقی چار حصے مجاہدین میں اس طرح تقسیم کے جائیں گے کہ گھوڑ سوار مجاہد کو کل تین حصے دیئے جائیں گے اور پیدل کو ایک حصہ، یعنی گھوڑے کی وجہ سے دو حصے زیادہ دیئے جائیں گے، لیکن ان حصوں کی تقسیم سے پہلے شرکت کرنے والے غلاموں اور خواتین کو بطور ِ عطیہ و حوصلہ افزائی مالِ غنیمت کی کچھ مقدار دی جائے گی۔
5045
Sahih
اس چیز کا بیان کہ سلب قاتل کا ہو گا اور اس میں سے خُمُس نہیں لیا جائے گا
۔ (۵۰۴۶)۔ عَنْ أَبِی قَتَادَۃَ، قَالَ: قَالَ أَبُو قَتَادَۃَ: رَأَیْتُ رَجُلَیْنِ یَقْتَتِلَانِ مُسْلِمٌ وَمُشْرِکٌ، وَإِذَا رَجُلٌ مِنْ الْمُشْرِکِینَ یُرِیدُ أَنْ یُعِینَ صَاحِبَہُ الْمُشْرِکَ عَلَی الْمُسْلِمِ، فَأَتَیْتُہُ فَضَرَبْتُ یَدَہُ فَقَطَعْتُہَا وَاعْتَنَقَنِی بِیَدِہِ الْأُخْرٰی، فَوَاللّٰہِ! مَا أَرْسَلَنِی حَتّٰی وَجَدْتُ رِیحَ الْمَوْتِ، فَلَوْلَا أَنَّ الدَّمَ نَزَفَہُ لَقَتَلَنِی فَسَقَطَ فَضَرَبْتُہُ فَقَتَلْتُہُ وَأَجْہَضَنِی عَنْہُ الْقِتَالُ، وَمَرَّ بِہِ رَجُلٌ مِنْ أَہْلِ مَکَّۃَ، فَسَلَبَہُ فَلَمَّا فَرَغْنَا وَوَضَعَتِ الْحَرْبُ أَوْزَارَہَا، قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنْ قَتَلَ قَتِیلًا فَسَلَبُہُ لَہُ۔)) قَالَ: قُلْتُ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! قَدْ قَتَلْتُ قَتِیلًا وَأُسْلِبَ فَاَجْھَضَنِیْ عَنْہُ الْقِتَالُ، فَلَا اَدْرِیْ مَنِ اسْتَلَبَہُ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ أَہْلِ مَکَّۃَ: صَدَقَ یَا رَسُولَ اللّٰہِ! أَنَا سَلَبْتُہُ فَارْضِہِ عَنِّی مِنْ سَلَبِہِ، قَالَ: فَقَالَ أَبُو بَکْرٍ: تَعْمِدُ إِلٰی أَسَدٍ مِنْ أُسْدِ اللّٰہِ، یُقَاتِلُ عَنِ اللّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ، تُقَاسِمُہُ سَلَبَہُ ارْدُدْ عَلَیْہِ سَلَبَ قَتِیلِہِ، قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((صَدَقَ فَارْدُدْ عَلَیْہِ سَلَبَ قَتِیلِہِ)) قَالَ أَبُو قَتَادَۃَ: فَأَخَذْتُہُ مِنْہُ فَبِعْتُہُ فَاشْتَرَیْتُ بِثَمَنِہِ مَخْرَفًا بِالْمَدِینَۃِ، وَإِنَّہُ لَأَوَّلُ مَالٍ اعْتَقَدْتُہُ۔ (مسند أحمد: ۲۲۹۸۱)
۔ سیدنا ابو قتادہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے دو آدمیوں کو لڑتے ہوئے دیکھا، ان میں سے ایک مسلمان تھا اور دوسرا کافر، ایک مشرک آدمی چاہتا تھا کہ وہ مسلمان کے خلاف اپنے مشرک ساتھی کی مدد کرے، لیکن اُدھر سے میں آیا اور اس کے ہاتھ پر ضرب لگا کر اس کو کاٹ دیا، اس نے دوسرے ہاتھ سے مجھے اس طرح پکڑا جیسے معانقہ کرتے ہیں، پس اللہ کی قسم! اس نے مجھے اس وقت تک نہ چھوڑا، یہاں تک کہ میں نے اس سے موت کی بو محسوس کر لی، اگر اس کا خون نہ بہتا تو وہ مجھے قتل کر دیتا، پھر وہ گر پڑا اور میں نے اس کو ضرب لگائی اور قتل کر دیا، پھر میں قتال کی مصروفیت کی وجہ سے اس کا سلب نہ لے سکا، اور اس کے پاس سے اہل مکہ کا ایک آدمی گزرا اور اس نے اس کا سلب لے لیا، پس جب ہم فارغ ہوئے اور لڑائی ختم ہو گئی، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس نے کسی شخص کو قتل کیا، اس کا سلب اس کے لیے ہو گا۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں نے ایک شخص کو قتل کیا ہے، لیکن پھر لڑائی میں مصروف ہو گیا، اب میں نہیں جانتا کہ کس نے اس کا سلب لے لیا ہے، اہل مکہ کا ایک آدمی کھڑا ہوا اور اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! یہ سچ کہہ رہا ہے، میں نے اس کا سلب لے لیا ہے، تو آپ اس کو میری طرف سے راضی کر دیں، سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: تو اللہ تعالیٰ کے شیروں میں سے ایک شیر کی طرف قصد کرتا ہے، جو اللہ تعالیٰ کی راہ میں لڑتا ہے اور پھر تو اس کا سلب تقسیم کرتا ہے، تو اس کے مقتول کا سلب اس پر لوٹا دے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ابو بکر سچ کہہ رہے ہیں، تو اس کے مقتول کا سلب اس پر لوٹا دے۔ سیدنا ابو قتادہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: میں نے اس سے وہ سامان لیا اور اس کو بیچ کر اس کی قیمت سے مدینہ منورہ میں ایک باغ خریدا، یہ پہلا مال تھا، جس کا میں مالک بنا تھا۔
Takhreej
(۵۰۴۶) تخریج: أخرجہ البخاری: ۲۱۰۰، ۳۱۴۲،، ومسلم: ۱۷۵۱(انظر: ۲۲۶۰۷)
5046
Sahih
اس چیز کا بیان کہ سلب قاتل کا ہو گا اور اس میں سے خُمُس نہیں لیا جائے گا
۔ (۵۰۴۷)۔ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَوْمَ حُنَیْنٍ: ((مَنْ تَفَرَّدَ بِدَمِ رَجُلٍ فَقَتَلَہُ فَلَہُ سَلَبُہُ۔)) قَالَ: فَجَائَ أَبُو طَلْحَۃَ بِسَلَبِ أَحَدٍ وَعِشْرِینَ رَجُلًا۔ (مسند أحمد: ۱۳۰۷۲)
۔ سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے غزوۂ حنین کے موقع پر فرمایا: جو آدمی کسی کو قتل کرنے میں اکیلا ہو تو اسی کے لیے اس کا سلب ہو گا۔ سیدنا ابو طلحہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اکیس افراد کا سلب لے کر آئے۔
Takhreej
(۵۰۴۷) تخریج: أخرجہ مطولا مسلم: ۱۸۰۹(انظر: ۱۳۰۴۱)
5047
Sahih
اس چیز کا بیان کہ سلب قاتل کا ہو گا اور اس میں سے خُمُس نہیں لیا جائے گا
۔ (۵۰۴۸)۔ (وَعَنْہٗ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ یَوْمَ حُنَیْنٍ: ((مَنْ قَتَلَ کَافِرًا فَلَہٗ سُلْبُہٗ۔)) قَالَ: فَقَتَلَ اَبُوْ طَلْحَۃَ عِشْرِیْنَ۔ (مسند أحمد: ۱۲۱۵۵)
۔ (دوسری سند) رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے غزوۂ حنین کے موقع پر فرمایا: جس نے کسی کافر کو قتل کیا، اسی کے لیے اس کا سلب ہو گا۔ سیدنا ابو طلحہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے بیس کافر قتل کیے تھے۔
Takhreej
(۵۰۴۸) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الأول
5048
Sahih
اس چیز کا بیان کہ سلب قاتل کا ہو گا اور اس میں سے خُمُس نہیں لیا جائے گا
۔ (۵۰۴۹)۔ عَبْدُ الرَّحْمٰنِ بْنُ جُبَیْرِ بْنِ نُفَیْرٍ، عَنْ أَبِیہِ جُبَیْرٍ، عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِکٍ الْأَشْجَعِیِّ، قَالَ: غَزَوْنَا غَزْوَۃً إِلٰی طَرَفِ الشَّامِ، فَأُمِّرَ عَلَیْنَا خَالِدُ بْنُ الْوَلِیدِ، قَالَ: فَانْضَمَّ إِلَیْنَا رَجُلٌ مِنْ أَمْدَادِ حِمْیَرَ، فَأَوٰی إِلٰی رَحْلِنَا، لَیْسَ مَعَہُ شَیْئٌ إِلَّا سَیْفٌ، لَیْسَ مَعَہُ سِلَاحٌ غَیْرُہُ، فَنَحَرَ رَجُلٌ مِنْ الْمُسْلِمِینَ جَزُورًا، فَلَمْ یَزَلْ یَحْتَلْ حَتَّی أَخَذَ مِنْ جِلْدِہِ کَہَیْئَۃِ الْمِجَنِّ حَتّٰی بَسَطَہُ عَلَی الْأَرْضِ ثُمَّ وَقَدَ عَلَیْہِ حَتّٰی جَفَّ، فَجَعَلَ لَہُ مُمْسِکًا کَہَیْئَۃِ التُّرْسِ، فَقُضِیَ أَنْ لَقِینَا عَدُوَّنَا فِیہِمْ أَخْلَاطٌ مِنْ الرُّومِ وَالْعَرَبِ مِنْ قُضَاعَۃَ فَقَاتَلُونَا قِتَالًا شَدِیدًا، وَفِی الْقَوْمِ رَجُلٌ مِنَ الرُّومِ عَلٰی فَرَسٍ لَہُ أَشْقَرَ وَسَرْجٍ مُذَہَّبٍ وَمِنْطَقَۃٍ مُلَطَّخَۃٍ ذَہَبًا وَسَیْفٌ مِثْلُ ذٰلِکَ، فَجَعَلَ یَحْمِلُ عَلَی الْقَوْمِ، وَیُغْرِی بِہِمْ، فَلَمْ یَزَلْ ذٰلِکَ الْمَدَدِیُّ یَحْتَالُ لِذٰلِکَ الرُّومِیِّ حَتّٰی مَرَّ بِہِ فَاسْتَقْفَاہُ فَضَرَبَ عُرْقُوبَ فَرَسِہِ بِالسَّیْفِ فَوَقَعَ، ثُمَّ أَتْبَعَہُ ضَرْبًا بِالسَّیْفِ حَتّٰی قَتَلَہُ، فَلَمَّا فَتَحَ اللّٰہُ الْفَتْحَ أَقْبَلَ یَسْأَلُ لِلسَّلَبِ، وَقَدْ شَہِدَ لَہُ النَّاسُ بِأَنَّہُ قَاتِلُہُ، فَأَعْطَاہُ خَالِدٌ بَعْضَ سَلَبِہِ وَأَمْسَکَ سَائِرَہُ، فَلَمَّا رَجَعَ إِلَی رَحْلِ عَوْفٍ ذَکَرَہُ، فَقَالَ لَہُ عَوْفٌ: ارْجِعْ إِلَیْہِ فَلْیُعْطِکَ مَا بَقِیَ، فَرَجَعَ إِلَیْہِ فَأَبٰی عَلَیْہِ، فَمَشٰی عَوْفٌ حَتّٰی أَتٰی خَالِدًا، فَقَالَ: أَمَا تَعْلَمُ أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَضٰی بِالسَّلَبِ لِلْقَاتِلِ؟ قَالَ: بَلٰی، قَالَ: فَمَا یَمْنَعُکَ أَنْ تَدْفَعَ إِلَیْہِ سَلَبَ قَتِیلِہِ؟ قَالَ خَالِدٌ: اسْتَکْثَرْتُہُ لَہُ، قَالَ عَوْفٌ: لَئِنْ رَأَیْتُ وَجْہَ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لَأَذْکُرَنَّ ذٰلِکَ لَہُ، فَلَمَّا قَدِمَ الْمَدِینَۃَ بَعَثَہُ عَوْفٌ فَاسْتَعْدٰی إِلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَدَعَا خَالِدًا وَعَوْفٌ قَاعِدٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَا یَمْنَعُکَ یَا خَالِدُ أَنْ تَدْفَعَ إِلٰی ہٰذَا سَلَبَ قَتِیلِہِ؟)) قَالَ: اسْتَکْثَرْتُہُ لَہُ یَا رَسُولَ اللّٰہِ، فَقَالَ: ((ادْفَعْہُ إِلَیْہِ۔)) قَالَ: فَمَرَّ بِعَوْفٍ فَجَرَّ عَوْفٌ بِرِدَائِہِ، فَقَالَ: اَنْجَزْتُ لَکَ مَا ذَکَرْتُ لَکَ مِنْ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، فَسَمِعَہُ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَاسْتُغْضِبَ فَقَالَ: ((لَا تُعْطِہِ یَا خَالِدُ! ہَلْ أَنْتُمْ تَارِکِی أُمَرَائِی، إِنَّمَا مَثَلُکُمْ وَمَثَلُہُمْ کَمَثَلِ رَجُلٍ اسْتُرْعِیَ إِبِلًا أَوْ غَنَمًا، فَرَعَاہَا ثُمَّ تَخَیَّرَ سَقْیَہَا، فَأَوْرَدَہَا حَوْضًا، فَشَرَعَتْ فِیہِ فَشَرِبَتْ صَفْوَۃَ الْمَائِ، وَتَرَکَتْ کَدَرَہُ، فَصَفْوُہُ لَکُمْ وَکَدَرُہُ عَلَیْہِمْ۔)) (مسند أحمد: ۲۴۴۸۷)
۔ سیدنا عوف بن مالک اشجعی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم نے شام کی طرف ایک غزوہ کیا، (یہ ۸ ؁ھ میں لڑا جانے والا غزوۂ موتہ تھا)، سیدنا خالد بن ولید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ہمارے امیر تھے، حمیر قبیلے کے اعوان و انصار میں سے ایک آدمی بھی ہمارے ساتھ مل گیا، وہ ہماری رہائش گاہ میں آگیا اور اس کے پاس صرف ایک تلوار تھی، اس کے علاوہ کوئی اور اسلحہ نہیں تھا، ایک مسلمان نے اونٹ نحر کیے، وہ آدمی حیلے بہانے کرتا رہا، یہاں تک کہ اس نے ان اونٹوں کے چمڑے سے ڈھال کی طرح کی ایک چیز بنائی، پھر اس کو زمین پر بچھایا اور اس پر آگ جلائی، یہاں تک کہ وہ خشک ہو گئی، پھر اس نے ڈھال کی طرح کا اس کو دستہ لگا دیا، پھر اللہ تعالیٰ کے فیصلے کے مطابق ہمارا دشمنوں سے مقابلہ شروع ہو گیا، ہمارا دشمن رومیوں اور عرب کے بنو قضاعہ قبیلے کے افراد پر مشتمل تھا، انھوں نے ہم سے بڑی سخت لڑائی لڑی، رومیوں میں ایک جنگجو ایسا تھا کہ وہ سرخ رنگ کے گھوڑے پر سنہری زین رکھ کر اس پر سوار تھا، اس گھوڑے کا تنگ بھی سونے سے لت پت تھا اور اس کی تلوار بھی ایسے ہی سنہری تھی، اس نے مسلمانوں پر حملہ کرنا اور لڑائی کی آگ بھڑکانا شروع کی، حمیر قبیلے کا یہ آدمی اس رومی کے لیے حیلے بہانے کرنے لگا، یہاں تک کہ جب وہ اس کے پاس سے گزرا تو یہ اس کے پیچھے چل پڑا، یہاں تک کہ اس کے گھوڑے کی پچھلی ٹانگ کا گھٹنا کاٹ دیا، پس وہ گھوڑا گر پڑا اور وہ شخص اس رومی پر تلوار کے ساتھ چڑھ دوڑا اور اس کوقتل کر دیا، جب اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو فتح عطا کر دی تو وہ شخص سلب کا سوال کرنے لگا، جبکہ لوگ اس کے حق میں یہ گواہی دے رہے تھے کہ واقعی اس نے اس کو قتل کیا ہے، لیکن سیدنا خالد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے اس کو کچھ سامان دے دیا اور باقی روک لیا، پھر جب وہ سیدنا عوف ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی رہائش گاہ کی طرف لوٹا اور ان کو یہ بات بتلائی تو انھوں نے کہا: تو سیدنا خالد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی طرف لوٹا جا، ان کو چاہیے کہ باقی حصہ بھی تجھے دے دیں، پس وہ لوٹ کر تو گیا، لیکن انھوں نے اس کو باقی حصہ دینے سے انکار کر دیا، پس سیدنا عوف ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ خود چل کر سیدنا خالد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس گئے اور کہا: کیا تم نہیں جانتے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سلب کا فیصلہ قاتل کے حق میں کیا ہے؟ انھوں نے کہا: جی،کیوں نہیں، مجھے پتہ ہے، انھوں نے کہا: تو پھر تجھے اس کو اس کے مقتول کا سلب دینے سے کون سی چیز مانع ہے؟ سیدنا خالد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: دراصل میں نے اس حصے کو بہت زیادہ سمجھا ہے (اور سارے کا سارا اس کو نہیں دیا)، سیدنا عوف ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اگر میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا چہرہ دیکھا تو میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو ضرور ضرور بتلاؤں گا، پھر جب وہ مدینہ منورہ پہنچے تو سیدنا عوف ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے اس شخص کو بھیجا اور اس نے جا کر سیدنا خالد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی شکایت کی اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے مدد طلب کی، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیدنا خالد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو بلایا، جبکہ سیدنا عوف ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیٹھے ہوئے تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: خالد! کس چیز نے تجھے اس شخص کو اس کا سلب دینے سے روکا؟ انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں نے اس سلب کو زیادہ سمجھا تھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تو اس کو دے دے۔ جب سیدنا خالد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ، سیدنا عوف ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس سے گزرے تو انھوں نے سیدنا خالد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی چادر گھسیٹی اور کہا: میں نے جو بات تم کو کہی تھی، اب میں نے اس کو تیرے لیے پورا کر دیا ہے، جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے (سیدنا عوف ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ) کا یہ طعن سنا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو غصے آ گیا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: خالد! تو اس کو نہ دے، کیا تم میرے امراء کو میرے لیے چھوڑنے والے ہو، میری اور میرے امراء کی مثال اس شخص کی سی ہے، جس کو اونٹ یا بکریاں چرانے کا کہا گیا، پس اس نے ان کو چرایا، پھر اس نے ان کو پانی پلانے کا وقت مقرر کیا اور ان کو حوض پر لے آیا، پس انھوں نے پانی پینا شروع کیا اور سارا صاف پانی پی گئے اور گدلا پانی رہ گیا، (ایسے سمجھو کہ) میرے امراء کا صاف پن تمہارے لیے ہے اور گدلا پن ان پر ہے۔
Takhreej
(۵۰۴۹) تخریج: اسنادہ صحیح علی شرط مسلم، أخرجہ مختصرا مسلم: ۱۷۵۳ (انظر: ۲۳۹۸۷)
Explanation
فوائد:… یہ غزوۂ موتہ کا واقعہ ہے، جو ۸ ؁ھ میں ہوا تھا۔
5049
Sahih
اس چیز کا بیان کہ سلب قاتل کا ہو گا اور اس میں سے خُمُس نہیں لیا جائے گا
۔ (۵۰۵۰)۔ حَدَّثَنَا إِیَاسُ بْنُ سَلَمَۃَ بْنِ الْأَکْوَعِ، عَنْ أَبِیہِ قَالَ: غَزَوْنَا مَعَ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہَوَازِنَ وَغَطَفَانَ، فَبَیْنَمَا نَحْنُ کَذٰلِکَ إِذْ جَائَ رَجُلٌ عَلٰی جَمَلٍ أَحْمَرَ، فَانْتَزَعَ شَیْئًا مِنْ حَقَبِ الْبَعِیرِ، فَقَیَّدَ بِہِ الْبَعِیرَ، ثُمَّ جَائَ یَمْشِی حَتّٰی قَعَدَ مَعَنَا یَتَغَدّٰی، قَالَ: فَنَظَرَ فِی الْقَوْمِ فَإِذَا ظَہْرُہُمْ فِیہِ قِلَّۃٌ وَأَکْثَرُہُمْ مُشَاۃٌ، فَلَمَّا نَظَرَ إِلَی الْقَوْمِ خَرَجَ یَعْدُو، قَالَ: فَأَتٰی بَعِیرَہُ فَقَعَدَ عَلَیْہِ، قَالَ: فَخَرَجَ یَرْکُضُہُ وَہُوَ طَلِیعَۃٌ لِلْکُفَّارِ، فَاتَّبَعَہُ رَجُلٌ مِنَّا مِنْ أَسْلَمَ عَلٰی نَاقَۃٍ لَہُ وَرْقَائَ، قَالَ إِیَاسٌ: قَالَ أَبِی: فَاتَّبَعْتُہُ أَعْدُو عَلٰی رِجْلَیَّ، قَالَ: وَرَأْسُ النَّاقَۃِ عِنْدَ وَرِکِ الْجَمَلِ، قَالَ: وَلَحِقْتُہُ فَکُنْتُ عِنْدَ وَرِکِ النَّاقَۃِ، وَتَقَدَّمْتُ حَتَّی کُنْتُ عِنْدَ وَرِکِ الْجَمَلِ، ثُمَّ تَقَدَّمْتُ حَتَّی أَخَذْتُ بِخِطَامِ الْجَمَلِ، فَقُلْتُ لَہُ: إِخْ! فَلَمَّا وَضَعَ الْجَمَلُ رُکْبَتَہُ إِلَی الْأَرْضِ اخْتَرَطْتُ سَیْفِی فَضَرَبْتُ رَأْسَہُ فَنَدَرَ ثُمَّ جِئْتُ بِرَاحِلَتِہِ أَقُودُہَا، فَاسْتَقْبَلَنِی رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مَعَ النَّاسِ، قَالَ:(( مَنْ قَتَلَ ہٰذَا الرَّجُلَ؟)) قَالُوْا ابْنُ الْأَکْوَعِ، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَہُ سَلَبُہُ أَجْمَعُ۔)) (مسند أحمد: ۱۶۶۵۱)
۔ سیدنا سلمہ بن اکوع ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہوازن اور غطفان کے ساتھ جہاد کیا، ہم ایک مقام پر بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک آدمی سرخ اونٹ پر آیا اور اونٹ کے تنگ میں سے کوئی چیز نکالی اور اس کے ساتھ اپنے اونٹ کو باندھا، پھر آیا اور ہمارے ساتھ دوپہر کا کھانا کھانے لگا، اس نے ہمارے لوگوں کا جائزہ لیا اور دیکھا کہ ہمارے سوار تھوڑے ہیں اور زیادہ تر لوگ پیدل ہیں، یہ جائزہ لے کر وہ دوڑتا ہوا نکلا، اپنے اونٹ کے پاس گیا اور اس پر بیٹھ کر اس کو دوڑانے لگا، یہ دراصل کافروں کا جاسوس تھا، بنواسلم قبیلے کا ایک آدمی اپنی سیاہی نما اونٹنی پر سوار ہوا اور اس کا پیچھا کیا، سیدنا سلمہ بن اکوع ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: میں اپنی ٹانگوں پر دوڑا، اس آدمی کی اونٹنی کا سر جاسوس کے اونٹ کے پچھلی ٹانگ تک پہنچ چکا تھے، پیچھے سے میں بھی ملا جا رہا تھا اور اس کی اونٹنی کی پچھلی ٹانگ کے برابر تک پہنچ چکا تھا، میں میں اور آگے بڑھا اور جاسوس کے اونٹ کے پچھلے حصے کے برابر ہو گیا، پھر میں اور آگے بڑھا اور اونٹ کی لگام پکڑ لی اور اس کو بیٹھنے کی آواز دی، جب اونٹ نے اپنا گھٹنا زمین پر رکھا تو میں نے اپنی تلوار سونتی اور اس کے سر پر ماری اوروہ گر پڑا، پھر میں اونٹنی لے کر واپس آ گیا، آگے سے کچھ لوگوں سمیت رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم آ رہے تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کس نے اس آدمی کو قتل کیا ہے؟ لوگوں نے کہا: ابن اکوع نے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس کا سارا سلب اس کے لیے ہے۔
Takhreej
(۵۰۵۰) تخریج: اسنادہ صحیح علی شرط مسلم، أخرجہ مسلم: ۱۷۵۴ (انظر: ۱۶۵۳۶)
Explanation
فوائد:… اِخْ اونٹ کو بٹھانے کی آواز ہے، جیسے ہمارے ہاں ہُش ہُش کہتے ہیں۔
5050
Sahih
اس چیز کا بیان کہ سلب قاتل کا ہو گا اور اس میں سے خُمُس نہیں لیا جائے گا
۔ (۵۰۵۱)۔ عن ابی قَتَادَۃَ، أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَنْ أَقَامَ الْبَیِّنَۃَ عَلٰی قَتِیلٍ فَلَہُ سَلَبُہُ۔)) (مسند أحمد: ۲۲۸۸۵)
۔ سیدنا ابو قتادہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس نے اپنے مقتول پر دلیل قائم کر دی تو اس کا سلب اس کے لیے ہو گا۔
Takhreej
(۵۰۵۱) تخریج: أخرجہ البخاری: ۲۱۰۰، ۳۱۴۲، ۴۳۲۱، ومسلم: ۱۷۵۱(انظر: ۲۲۵۱۸)
5051
Sahih
اس چیز کا بیان کہ سلب قاتل کا ہو گا اور اس میں سے خُمُس نہیں لیا جائے گا
۔ (۵۰۵۲)۔ عَنْ أَبِی قَتَادَۃَ الْأَنْصَارِیِّ، أَنَّہُ قَتَلَ رَجُلًا مِنَ الْکُفَّارِ، فَنَفَّلَہُ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سَلَبَہُ وَدِرْعَہُ، فَبَاعَہُ بِخَمْسِ أَوَاقٍ۔ (مسند أحمد: ۲۲۹۸۸)
۔ سیدنا ابو قتادہ انصاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ انھوں نے ایک کافر کو قتل کیا اور رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کافر کا سلب اور زرہ ان کو دی، پھر انھوں نے وہ زرہ پانچ اوقیوں کے عوض فروخت کی تھی۔
Takhreej
(۵۰۵۲) تخریج: حدیث صحیح (انظر: ۲۲۶۱۴)
5052
Sahih
اس چیز کا بیان کہ سلب قاتل کا ہو گا اور اس میں سے خُمُس نہیں لیا جائے گا
۔ (۵۰۵۳)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما اَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مَرَّ عَلٰی اَبِیْ قَتَادَۃَ وَھُوَ عِنْدَ رَجُلٍ قَدْ قَتَلَہٗ فَقَالَ: ((دَعُوْہٗ وَسَلْبَہٗ۔)) (مسند أحمد: ۲۶۲۰)
۔ سیدنا عبداللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سیدنا ابو قتادہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس سے گزرے، جبکہ وہ اپنے مقتول کے پاس موجود تھے، اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس کو اور اس کے سلب کو چھوڑ دو۔
Takhreej
(۵۰۵۳) تخریج: حدیث صحیح، أخرجہ ابویعلی: ۲۶۸۲، والطبرانی: ۱۲۰۵۸(انظر: ۲۶۲۰)
5053
Sahih
اس چیز کا بیان کہ سلب قاتل کا ہو گا اور اس میں سے خُمُس نہیں لیا جائے گا
۔ (۵۰۵۴)۔ عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِکٍ الْاَشْجَعِیِّ وَخَالِدِ بْنِ الْوَلِیْدِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما : اَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لَمْ یُخَمِّسِ السَّلْبَ۔ (مسند أحمد: ۲۴۴۸۸)
۔ سیدنا عوف بن مالک اشجعی اور سیدنا خالد بن ولید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سلب میں سے خمس وصول نہیں کیا۔
Takhreej
(۵۰۵۴) تخریج: اسنادہ صحیح علی شرط مسلم، أخرجہ أبوداود: ۲۷۲۱(انظر: ۲۳۹۸۸)
Explanation
فوائد:… اس باب میں سلب کا بیان ہے، جس کا مفہوم یہ ہے کہ مقتول کافر سے چھینا ہوا مال قاتل مسلمان کا حق ہو گا اور اس حق میں سے خُمُس بھی نہیں لیا جائے گا، لیکن ایسی صورت میں مجاہد سے دلیل کا مطالبہ کیا جائے گا کہ واقعی اس نے قتل کیا ہے۔
5054
Sahih
لشکر کے بعض افراد کو اس بنا پر زائد حصہ دینے کا بیان کہ انھوں نے لڑائی لڑی یا مشکلات کو برداشت کیا
۔ (۵۰۵۵)۔ عَنْ سَلْمَۃَ بْنِ الْاَکْوَعِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ وَذَکَرَ قِصَّۃَ اِغَارَۃِ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ الْفَزَارِیِّ عَلٰی سَرْحِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَاسْتِنْقَاذِہِ مِنْہٗ، قَالَ: فَلَمَّا اَصْبَحْنَا، قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((خَیْرُ فُرْسَانِنَا الْیَوْمَ اَبُوْ قَتَادَۃَ وَخَیْرُ رِجَالَتِنَا سَلَمَۃُ۔)) فَاَعْطَانِیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سَھْمَ الرَّاجِلِ وَالْفَارِسِ جَمِیْعًا۔ (مسند أحمد: ۱۶۶۵۴)
۔ سیدنا سلمہ بن اکوع ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، پھر انھوں نے عبدالرحمن فزاری کے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے مویشیوں پر ڈاکہ مارنے اور ان کے بچانے کا واقعہ ذکر کیا،سیدنا سلمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: جب ہم نے صبح کی تو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: آج ابو قتادہ بہترین گھوڑ سوار اور سلمہ بہترین پیادہ ثابت ہوئے۔ پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے پیادہ اور گھوڑ سوار دونوں کا حصہ دیا۔
Takhreej
(۵۰۵۵) تخریج: أخرجہ مسلم: ۱۸۰۷(انظر: ۱۶۵۳۹)
Explanation
فوائد:… سیدنا سلمہ بن اکوع ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ پیدل تھے، جبکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کو پیادہ اور گھوڑ سوار دونوں کا حصہ دیا، یہ ان کی زیادہ مشقت بہادری کا مظاہرہ کرنے کی وجہ سے دیا۔
5055
Sahih
لشکر کے بعض افراد کو اس بنا پر زائد حصہ دینے کا بیان کہ انھوں نے لڑائی لڑی یا مشکلات کو برداشت کیا
۔ (۵۰۵۶)۔ عَنْ سَعْدِ بْنِ مَالِکٍ، قَالَ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! قَدْ شَفَانِی اللّٰہُ مِنْ الْمُشْرِکِینَ، فَہَبْ لِی ہَذَا السَّیْفَ، قَالَ: ((إِنَّ ہٰذَا السَّیْفَ لَیْسَ لَکَ وَلَا لِی ضَعْہُ۔)) قَالَ: فَوَضَعْتُہُ ثُمَّ رَجَعْتُ، قُلْتُ: عَسٰی أَنْ یُعْطٰی ہٰذَا السَّیْفَ الْیَوْمَ مَنْ لَمْ یُبْلِ بَلَائِی، قَالَ: إِذَا رَجُلٌ یَدْعُونِی مِنْ وَرَائِی، قَالَ: قُلْتُ: قَدْ أُنْزِلَ فِیَّ شَیْئٌ، قَالَ: ((کُنْتَ سَأَلْتَنِی السَّیْفَ وَلَیْسَ ہُوَ لِی وَإِنَّہُ قَدْ وُہِبَ لِی فَہُوَ لَکَ۔)) قَالَ: وَأُنْزِلَتْ ہٰذِہِ الْآیَۃُ: {یَسْأَلُونَکَ عَنْ الْأَنْفَالِ قُلِ الْأَنْفَالُ لِلّٰہِ وَالرَّسُولِ} (مسند أحمد: ۱۵۳۸)
۔ سیدنا سعد بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، انھوں نے کہا: اے اللہ رسول! تحقیق اللہ تعالیٰ نے مجھے مشرکوں سے شفا دے دی ہے، پس آپ یہ تلوار مجھے ہبہ کر دیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ تلوار میری ہے نہ تیری، سو اس کو یہیں رکھ دے۔ پس میں نے اس کو رکھ دیا، پھر واپس لوٹ گیا اور میں نے کہا: ممکن ہے کہ یہ تلوار ایسے بندے کو دے دی جائے، جو میری طرح کی بہادری کا مظاہرہ نہ کر سکے، اتنے میں ایک آدمی نے میرے پیچھے سے مجھے بلایا ، میں نے کہا: لگتا ہے کہ میرے بارے میں کوئی خاص حکم اترا ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تو نے مجھ سے اس تلوار کا سوال کیا تھا، جبکہ یہ میری نہیں تھی، اب یہ مجھے ہبہ کر دی گئی ہے، لہذا اب یہ تیری ہے۔ پھر یہ آیت نازل ہوئی : لوگ آپ سے انفال کے بارے میں سوال کرتے ہیں، پس کہہ دیجئے کہ انفال، اللہ اور اس کے رسول کے لیے ہیں۔
Takhreej
(۵۰۵۶) تخریج: اسنادہ حسن، أخرجہ ابوداود: ۲۷۴۰، والترمذی: ۳۰۷۹(انظر: ۱۵۳۸)
Explanation
فوائد:… حکمران کو یہ حق حاصل ہے کہ بعض مجاہدین کی حوصلہ افزائی کرنے کے لیے ان کو دوسرے مجاہدین سے زائد حصہ دے دے۔
5056
Sahih
لشکر کے سریہ کو زائد حصہ دینے اور پھر ان دونوں کو غنیمت میں شریک کرنے کا بیان
۔ (۵۰۵۷)۔ عَنْ حَبِیبِ بْنِ مَسْلَمَۃَ، أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نَفَّلَ الرُّبُعَ بَعْدَ الْخُمُسِ فِی بَدْأَتِہِ، وَنَفَّلَ الثُّلُثَ بَعْدَ الْخُمُسِ فِی رَجْعَتِہِ۔ (مسند أحمد: ۱۷۶۰۴)
۔ سیدنا حبیب بن مسلمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے (غزوے کے سفر کی) ابتداء میں خمس نکالنے کے بعد ایک چوتھائی حصہ اور واپسی پر خمس نکالنے کے بعد ایک تہائی حصہ زائد دیا۔
Takhreej
(۵۰۵۷) تخریج: اسنادہ صحیح، أخرجہ ابوداود: ۲۷۴۹(انظر: ۱۷۴۶۵)
5057
Sahih
لشکر کے سریہ کو زائد حصہ دینے اور پھر ان دونوں کو غنیمت میں شریک کرنے کا بیان
۔ (۵۰۵۸)۔ عَنْ حَبِیبِ بْنِ مَسْلَمَۃَ، قَالَ: شَہِدْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نَفَّلَ الرُّبُعَ فِی الْبَدْأَۃِ وَالثُّلُثَ فِی الرَّجْعَۃِ، قَالَ أَبُو عَبْدالرَّحْمٰنِ: سَمِعْتُ أَبِی یَقُولُ: لَیْسَ فِی الشَّامِ رَجُلٌ أَصَحُّ حَدِیثًا مِنْ سَعِیدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِیزِ یَعْنِی التَّنُوخِیَّ۔ (مسند أحمد: ۱۷۶۰۸)
۔ سیدنا حبیب بن مسلمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں خود رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس موجود تھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے شروع میں ایک چوتھائی اور واپسی پر ایک تہائی حصہ زائد دیا۔ ابو عبد الرحمن نے کہا: میں نے اپنے باپ کو یہ کہتے ہوئے سنا: میں نے شام میں کوئی ایسا آدمی نہیں دیکھا جو سعید بن عبد العزیز تنوخی سے زیادہ صحیح احادیث والا ہو۔
Takhreej
(۵۰۵۸) تخریج: حدیث صحیح، أخرجہ ابن ماجہ: ۲۸۵۳(انظر: ۱۷۴۶۹)
5058
Sahih
لشکر کے سریہ کو زائد حصہ دینے اور پھر ان دونوں کو غنیمت میں شریک کرنے کا بیان
۔ (۵۰۵۹)۔ وَعَنْ عُبَادَۃَ بْنِ صَامِتٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ اَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نَفَّلَ فِی الْبَدَائَۃِ الرُّبْعَ وَفِی الرَّجْعَۃِ الثُّلُثَ۔ (مسند أحمد: ۲۳۱۰۵)
۔ سیدنا عبادہ بن صامت ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ابتدا میں ایک چوتھائی حصہ اور واپسی پر ایک تہائی حصہ زائد دیا۔
Takhreej
(۵۰۵۹) تخریج: صحیح لغیرہ، أخرجہ الترمذی: ۱۵۶۱، وابن ماجہ: ۲۸۵۲(انظر: ۲۲۷۲۶)
Explanation
فوائد:… ان احادیث میں مال غنیمت کی تقسیم کی ایک اور استثنائی صورت بیان کی گئی ہے، جب لشکر ِ اسلام اپنی جہت کی طرف جا رہا ہوتا اور بیچ میں سے ایک سریّہ کو الگ کر کے گرد و نواح کے کسی علاقے کی طرف بھیج دیا جاتا تو وہ جو مالِ غنیمت لے کر آتے، اس کا چوتھاحصہ ان کو زائد دیا جاتا، باقی تین حصے تمام مجاہدین میں برابر تقسیم کر دیئے جاتے، اگر جہاد سے واپسی پر یہی صورت حال پیش آتی تو ایک تہائی حصہ زائد دیا جاتا، لیکن اس تیسرے یا چوتھے حصے سے پہلے خُمُس نکالا جائے گا ہے۔
5059
Sahih
لشکر کے سریہ کو زائد حصہ دینے اور پھر ان دونوں کو غنیمت میں شریک کرنے کا بیان
۔ (۵۰۶۰)۔ (وَعَنْہُ اَیْضًا) قَالَ: وَکَانَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم إِذَا أَغَارَ فِی أَرْضِ الْعَدُوِّ نَفَّلَ الرُّبُعَ، وَإِذَا أَقْبَلَ رَاجِعًا وَکَلَّ النَّاسُ نَفَلَ الثُّلُثَ، وَکَانَ یَکْرَہُ الْأَنْفَالَ، وَیَقُولُ: ((لِیَرُدَّ قَوِیُّ الْمُؤْمِنِینَ عَلٰی ضَعِیفِہِم۔)) (مسند أحمد: ۲۳۱۴۲)
۔ سیدنا عبادہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے ہی مروی ہے کہ جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم دشمن کی زمین میں حملے کے لیے جا رہے ہوتے تھے تو ایک چوتھائی حصہ زائد دیتے اور جب لوٹ رہے ہوتے تھے، اور لوگ تھکے ہوئے ہوتے تو ایک تہائی حصہ زائد دیتے، دراصل آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم زائد حصوں کو ناپسند کرتے اور فرماتے: چاہیے کہ قوی مؤمن، کمزوروں پر لوٹا دے۔
Takhreej
(۵۰۶۰) تخریج: حسن لغیرہ (انظر: ۲۲۷۶۲)
Explanation
فوائد:… اس حدیث ِ مبارکہ کا مفہوم یہ ہے کہ مجاہدین کو زائد حصے کی حرص نہیں ہونی چاہیے اور اس معاملے میں ان کو ایثار کی راہ اختیار کرنی چاہیے تاکہ کمزور جنگجوؤں کو بھی قوی مجاہدین کی طرح حصہ مل سکے۔ نیز اس حدیث کا یہ معنی بھی ہو سکتا ہے کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مجاہدین کو ان کے زائد جہاد اور محنت کی وجہ سے زائد حصے تو دیتے تھے، لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی تمنا یہ تھی کہ وہ لشکر ِ اسلام کے تمام افراد کو ترجیح دیتے ہوئے وصول نہ کریں، تاکہ سب کو برابر حصہ مل سکے۔
5060
Sahih
لشکر کے سریہ کو زائد حصہ دینے اور پھر ان دونوں کو غنیمت میں شریک کرنے کا بیان
۔ (۵۰۶۱)۔ وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: بَعَثَنَا نَبِیُّ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِیْ سَرِیَّۃٍ بَلَغَتْ سُھْمَانُنَا اِثْنَیْ عَشَرَ بَعِیْرًا، وَنَفَّلَنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بَعِیْرًا بَعِیْرًا۔ (مسند أحمد: ۵۱۸۰)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمیں ایک لشکر میں بھیجا، ہمارے حصوں میں بارہ بارہ اونٹ آئے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایک ایک اونٹ ہمیں زائد بھی دیا۔
Takhreej
(۵۰۶۱) تخریج: أخرجہ البخاری: ۴۳۳۸، ومسلم: ۱۷۴۹(انظر: ۵۱۸۰)
5061
Sahih

Chapters

53
01
جہاد، رباط اور مجاہدین کی فضیلت جہاد کی فضیلت اور اس کی ترغیب
11 Hadith
02
جہاد کا واجب ہونا اور اس کی رغبت دلانا
8 Hadith
03
اللہ تعالیٰ کی راہ میں رباط اور پہرے کی فضیلت کا بیان
12 Hadith
04
اللہ تعالیٰ کی راہ میں جہاد کرنے والوں کی فضیلت
24 Hadith
05
بحری جہاد کرنے والوں کی فضیلت
4 Hadith
06
جہاد میں نیت کو خالص کرنا اور اس میں اجرت لینے کا بیان
12 Hadith
07
مجاہد کی اعانت، اس کو تیار کرنے، اس کے اہل و عیال کا جانشیں بننے اور اللہ تعالیٰ کے راستے میں خرچ کرنے کی فضیلت
12 Hadith
08
مجاہدوں کی بیویوں کی حرمت اور مجاہد کے اہل کے معاملے میں خیانت کرنے والے کی وعید کا بیان
4 Hadith
09
شہادت اور شہداء کی فضیلت کے ابواب اللہ تعالیٰ کی راہ میں ملنے والی شہادت کی فضیلت
6 Hadith
10
شہداء کی فضیلت
13 Hadith
11
ایسے شخص کا بیان، جو اللہ کی راہ میں شہید ہو جائے اور اس پر قرضہ بھی ہو
4 Hadith
12
اللہ کے راستہ کے شہداء کی اقسام اور ان کی نیتوں کے اعتبار سے ان کے درجات کا بیان
6 Hadith
13
شہداء کا جامع تذکرہ اور اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والوں کے علاوہ شہداء کی اقسام کا بیان
18 Hadith
14
اس بات کا بیان کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے شہید کی وفات پائی
2 Hadith
15
اس آدمی کا بیان جو جہاد کا ارادہ کرے اور اس کے والدین زندہ ہوں
7 Hadith
16
اس چیز کا بیان کہ امام لشکر کے سپہ سالاروں سے مشورہ کرے، ان کی خیرخواہی کرے، ان کے ساتھ نرمی برتے اور ان سے ان کی ذمہ داریاں نبھانے کا عہد لے
3 Hadith
17
اس امر کا بیان کہ لشکر والوں پر ان کے امیر کی اطاعت فرض ہے، جب تک وہ ان کو نافرمانی کا حکم نہ دے اور پڑاؤ ڈالتے وقت بکھر جانے کی کراہت کا بیان
6 Hadith
18
قتال سے پہلے اسلام کی دعوت دینے اور امام کا لشکر کے امیر کو وصیت کرنے کا بیان
6 Hadith
19
لڑائی میں دھوکہ دینے، توریہ کرنے، بات کو چھپانے اور جاسوسوں کو بھیجنے کے جواز کا بیان
7 Hadith
20
سرایا اور جیوش کو ترتیب دینے اور جھنڈوں اور ان کے رنگوں کا اہتمام کرنے کا بیان
4 Hadith
21
مجاہد کو الوداع کہنے، اس کا استقبال کرنے اور امام کا اس کو وصیت کرنے کا بیان
12 Hadith
22
مخصوص اوقات میں غزوہ کے لیے روانہ ہونے کے مستحب ہونے، دشمن سے لڑائی شروع کرنے، صفوں کو ترتیب دینے اور مسلمانوں کے شعار کا بیان
10 Hadith
23
جنگ میں فخر کرنے کے مستحب ہونے اور دشمنوں سے مقابلہ کرنے کی تمنا کرنے اور لشکر کی اکثریت سے دھوکہ کھانے کی ممانعت کا بیان
5 Hadith
24
جس کے ہاں اسلام کی علامت موجود ہو، اس پر شب خون مارنے کے وقت رک جانے کا بیان
2 Hadith
25
اسلام کی معرفت ہو جانے کے بعد لڑائی کرنے والے سے رک جانے، اس کو قتل کر دینے کی وعید اور اس کا کلام نہ سمجھنے کی وجہ سے غلطی سے اس کو قتل کر دینے والے کے عذر کا بیان
8 Hadith
26
کافروں پر اچانک حملہ کرنے کا بیان، اگرچہ اس میں ان کے بچے قتل ہو جائیں
5 Hadith
27
عورتوں، بچوں، پادریوں اور انتہائی بوڑھے لوگوں کو بالارادہ قتل کرنے سے روکنے کا بیان
8 Hadith
28
مثلہ، جلانے، درخت کاٹنے اور عمارتیں گرانے سے ممانعت کا بیان، الا یہ کہ کوئی ضرورت اور مصلحت ہو
9 Hadith
29
لڑائی کے وقت بھاگ جانے کی حرمت کا بیان، الا یہ کہ آدمی نے اپنی جماعت کو ملنا ہو، اگرچہ وہ جماعت دور ہو
3 Hadith
30
فتح والے مقام میں تین دن ٹھہرنے کے مستحب ہونے کا بیان
2 Hadith
31
اس امر کا بیان کہ غنیمت کا حلال ہونانبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اور آپ کی امت کے خصائص میں سے ہے اور تقسیم سے قبل غنیمت سے متعلقہ احکام کاذکر
9 Hadith
32
جس جس عامل نے میدان جنگ میں اپنی طاقت کے بقدر کام کیا،ان میں برابری کے ساتھ مالِ غنیمت تقسیم کرنے کا بیان
4 Hadith
33
غنیمت کے خُمُس کا اللہ اور اس کے رسول کے لیے فرض ہونے اور اس کی تقسیم کا بیان
9 Hadith
34
غنیمت کے پانچ حصوں میں چار حصوں کی تقسیم، گھوڑ سوار اور پیادہ کا حق اور خاتون اور غلام وغیرہ کو معمولی مقدار میںعطیہ دینا
9 Hadith
35
اس چیز کا بیان کہ سلب قاتل کا ہو گا اور اس میں سے خُمُس نہیں لیا جائے گا
9 Hadith
36
لشکر کے بعض افراد کو اس بنا پر زائد حصہ دینے کا بیان کہ انھوں نے لڑائی لڑی یا مشکلات کو برداشت کیا
2 Hadith
37
لشکر کے سریہ کو زائد حصہ دینے اور پھر ان دونوں کو غنیمت میں شریک کرنے کا بیان
6 Hadith
38
مالِ فے کے مصرف کا بیان
6 Hadith
39
تالیف ِ قلبی کے لیے دینے کا بیان
2 Hadith
40
امیر اور عامل کے تحائف
2 Hadith
41
خیانت کے حرام ہونے اور اس میں سختی کا بیان، نیز خائن کا سامانِ سفر جلانے اور لوٹ مار کا بیان
12 Hadith
42
قیدیوں کے حق میں احسان کرنے، ان سے فدیہ لینے اور ان سے متعلقہ دوسرے احکام کے ابواب ہوازن کے وفود پر ان کے قیدیوں کے معاملے میں احسان کرنے کا باب
2 Hadith
43
سیدنا عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی قید اور فدیے اور اس معاملے میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ایک معجزے کا بیان
2 Hadith
44
اس آدمی کا بیان جس نے اپنے باپ کے فدیے میں چار ہزار درہم دیئے
3 Hadith
45
سیدہ زینب بنت رسول ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے خاوند سیدنا ابو العاص کا فدیہ
1 Hadith
46
ایک مشرک کے فدیے میں دو مسلمان لینے کا بیان ان قیدیوں کا بیان جنھوں نے اپنے فدیے میں انصاریوں کے بچوں کو کتابت کی تعلیم دی
4 Hadith
47
بدر کے قیدیوں کے فدیے اور اس کی وجہ سے نازل ہونے والے قرآن کا بیان
3 Hadith
48
ان امور سے ممانعت کابیان: احتلام ہونے یا زیر ناف بالوں کے اگنے سے پہلے قیدی کو قتل کرنا، دوسرے کے قیدی کو قتل کرنا، قیدیوں میں والدہ اور اس کی اولاد میں تفریق ڈالنا، حاملہ قیدی خواتین سے جماع کرنا اور قیدی کو باندھ کر مارنا
10 Hadith
49
اس قیدی کا بیان جو قید سے پہلے قبولیت ِ اسلام کا دعوی کر دے، نیز اسلام قبول کرنے والے قیدی کی فضیلت کا بیان
4 Hadith
50
مسلمان ہونے والے قیدی کا مسلمانوں کی ملکیت میں ہی رہنے کا اور عربوں کو غلام بنانے کے جواز کا بیان
3 Hadith
51
اس چیز کا بیان کہ جاسوس کے ساتھ کیا کیا جائے، وہ مسلمان ہو یا حربی یا ذمی
3 Hadith
52
اس چیز کا بیان کہ جب کافر کا غلام مسلمان ہو کر ہمارے پاس آ جائے تو وہ آزاد ہو گا
4 Hadith
53
اس چیز کا بیان کہ اگر حربی قابو میں آنے سے پہلے مسلمان ہو گیا تو اپنے مال کو بچا لے گا، نیز غنیمت والی زمین کا حکم
6 Hadith
No chapter matched that.