۔ سیدنا فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ایک غزوے میں تھے، ہم میں غلام بھی تھے، مالِ غنیمت میں سے ان کو کچھ نہیں دیا گیا۔
Takhreej
(۵۰۴۲) تخریج: صحیح لغیرہ (انظر: ۲۳۹۶۱)
Explanation
فوائد:… صحیح بات یہ ہے کہ غلاموں کا مالِ غنیمت میں معین حصہ نہیں ہے، امیرِ لشکراپنے اجتہاد کی روشنی میں ان کی حوصلہ افزائی کرے گا۔
۔ بنوغفار کی ایک خاتون سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خیبر فتح کیا تو ہمیں بھی مالِ غنیمت میں سے تھوڑی مقدار میں عطیے دیئے۔
Takhreej
(۵۰۴۳) تخریج: اسنادہ ضعیف لجھالۃ امیۃ بنت ابی الصلت ، ثم انہ قد اختلف فیہ علی سلیمان، أخرجہ ابوداود: ۳۱۳ (انظر: ۲۷۱۳۶)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے، جبکہ نجدہ حروری نے ان کی طرف خط لکھا اور پانچ امور کے بارے میں پوچھا، ایک سوال یہ تھا: کیا عورتیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ جہاد کرتی تھیں؟ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ نے جواباً لکھا: بیشک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ عورتیں جہاد میں جاتی تھیں اور مریضوں کا دوا دارو کرتی تھیں اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کے لیے دوسرے مجاہدین کی طرح حصہ مقرر نہیں کرتے تھے، البتہ مالِ غنیمت میں سے تھوڑا بہت بطورِ عطیہ دے دیتے تھے۔
Takhreej
(۵۰۴۴) تخریج: أخرجہ مسلم: ۱۸۱۲ (انظر: ۲۸۱۱)
Explanation
فوائد:… جو خواتین، مجاہدین کی خدمت کے لیے لشکر ِ اسلام میں شرکت کرتی ہیں، مجاہد کی طرح ان کا حصہ معین نہیں ہے، امیر لشکر اپنی مرضی سے ان کو عطیہ دے سکتا ہے۔
۔ مولائے آبی اللحم سیدنا عمیر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں اپنے آقاؤں کے ساتھ غزوۂ خیبر میں حاضر ہوا، جب انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے میرے بارے میں بات کی توآپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میرے بارے میں حکم دے دیا، میں نے اپنے ساتھ اس طرح تلوار لٹکائی کہ وہ گھسٹ رہی تھی، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بتلایا گیا کہ میں غلام ہوں تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حکم دیا کہ مالِ غنیمت میں سے تھوڑی سی مقدار میں گھریلو ساز و سامان مجھے دے دیا جائے۔
Takhreej
(۵۰۴۵) تخریج: اسنادہ صحیح علی شرط مسلم، أخرجہ أبوداود: ۲۷۳۰،والترمذی: ۱۵۵۷، وابن ماجہ: ۲۸۵۵(انظر: ۲۱۹۴۰)
Explanation
فوائد:… مالِ غنیمت کا خُمُس تو امام لے لے گا، باقی چار حصے مجاہدین میں اس طرح تقسیم کے جائیں گے کہ گھوڑ سوار مجاہد کو کل تین حصے دیئے جائیں گے اور پیدل کو ایک حصہ، یعنی گھوڑے کی وجہ سے دو حصے زیادہ دیئے جائیں گے، لیکن ان حصوں کی تقسیم سے پہلے شرکت کرنے والے غلاموں اور خواتین کو بطور ِ عطیہ و حوصلہ افزائی مالِ غنیمت کی کچھ مقدار دی جائے گی۔
۔ سیدنا ابو قتادہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے دو آدمیوں کو لڑتے ہوئے دیکھا، ان میں سے ایک مسلمان تھا اور دوسرا کافر، ایک مشرک آدمی چاہتا تھا کہ وہ مسلمان کے خلاف اپنے مشرک ساتھی کی مدد کرے، لیکن اُدھر سے میں آیا اور اس کے ہاتھ پر ضرب لگا کر اس کو کاٹ دیا، اس نے دوسرے ہاتھ سے مجھے اس طرح پکڑا جیسے معانقہ کرتے ہیں، پس اللہ کی قسم! اس نے مجھے اس وقت تک نہ چھوڑا، یہاں تک کہ میں نے اس سے موت کی بو محسوس کر لی، اگر اس کا خون نہ بہتا تو وہ مجھے قتل کر دیتا، پھر وہ گر پڑا اور میں نے اس کو ضرب لگائی اور قتل کر دیا، پھر میں قتال کی مصروفیت کی وجہ سے اس کا سلب نہ لے سکا، اور اس کے پاس سے اہل مکہ کا ایک آدمی گزرا اور اس نے اس کا سلب لے لیا، پس جب ہم فارغ ہوئے اور لڑائی ختم ہو گئی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے کسی شخص کو قتل کیا، اس کا سلب اس کے لیے ہو گا۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں نے ایک شخص کو قتل کیا ہے، لیکن پھر لڑائی میں مصروف ہو گیا، اب میں نہیں جانتا کہ کس نے اس کا سلب لے لیا ہے، اہل مکہ کا ایک آدمی کھڑا ہوا اور اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! یہ سچ کہہ رہا ہے، میں نے اس کا سلب لے لیا ہے، تو آپ اس کو میری طرف سے راضی کر دیں، سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ نے کہا: تو اللہ تعالیٰ کے شیروں میں سے ایک شیر کی طرف قصد کرتا ہے، جو اللہ تعالیٰ کی راہ میں لڑتا ہے اور پھر تو اس کا سلب تقسیم کرتا ہے، تو اس کے مقتول کا سلب اس پر لوٹا دے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ابو بکر سچ کہہ رہے ہیں، تو اس کے مقتول کا سلب اس پر لوٹا دے۔ سیدنا ابو قتادہ رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے اس سے وہ سامان لیا اور اس کو بیچ کر اس کی قیمت سے مدینہ منورہ میں ایک باغ خریدا، یہ پہلا مال تھا، جس کا میں مالک بنا تھا۔
۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے غزوۂ حنین کے موقع پر فرمایا: جو آدمی کسی کو قتل کرنے میں اکیلا ہو تو اسی کے لیے اس کا سلب ہو گا۔ سیدنا ابو طلحہ رضی اللہ عنہ اکیس افراد کا سلب لے کر آئے۔
۔ (دوسری سند) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے غزوۂ حنین کے موقع پر فرمایا: جس نے کسی کافر کو قتل کیا، اسی کے لیے اس کا سلب ہو گا۔ سیدنا ابو طلحہ رضی اللہ عنہ نے بیس کافر قتل کیے تھے۔
۔ سیدنا عوف بن مالک اشجعی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم نے شام کی طرف ایک غزوہ کیا، (یہ ۸ ھ میں لڑا جانے والا غزوۂ موتہ تھا)، سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ ہمارے امیر تھے، حمیر قبیلے کے اعوان و انصار میں سے ایک آدمی بھی ہمارے ساتھ مل گیا، وہ ہماری رہائش گاہ میں آگیا اور اس کے پاس صرف ایک تلوار تھی، اس کے علاوہ کوئی اور اسلحہ نہیں تھا، ایک مسلمان نے اونٹ نحر کیے، وہ آدمی حیلے بہانے کرتا رہا، یہاں تک کہ اس نے ان اونٹوں کے چمڑے سے ڈھال کی طرح کی ایک چیز بنائی، پھر اس کو زمین پر بچھایا اور اس پر آگ جلائی، یہاں تک کہ وہ خشک ہو گئی، پھر اس نے ڈھال کی طرح کا اس کو دستہ لگا دیا، پھر اللہ تعالیٰ کے فیصلے کے مطابق ہمارا دشمنوں سے مقابلہ شروع ہو گیا، ہمارا دشمن رومیوں اور عرب کے بنو قضاعہ قبیلے کے افراد پر مشتمل تھا، انھوں نے ہم سے بڑی سخت لڑائی لڑی، رومیوں میں ایک جنگجو ایسا تھا کہ وہ سرخ رنگ کے گھوڑے پر سنہری زین رکھ کر اس پر سوار تھا، اس گھوڑے کا تنگ بھی سونے سے لت پت تھا اور اس کی تلوار بھی ایسے ہی سنہری تھی، اس نے مسلمانوں پر حملہ کرنا اور لڑائی کی آگ بھڑکانا شروع کی، حمیر قبیلے کا یہ آدمی اس رومی کے لیے حیلے بہانے کرنے لگا، یہاں تک کہ جب وہ اس کے پاس سے گزرا تو یہ اس کے پیچھے چل پڑا، یہاں تک کہ اس کے گھوڑے کی پچھلی ٹانگ کا گھٹنا کاٹ دیا، پس وہ گھوڑا گر پڑا اور وہ شخص اس رومی پر تلوار کے ساتھ چڑھ دوڑا اور اس کوقتل کر دیا، جب اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو فتح عطا کر دی تو وہ شخص سلب کا سوال کرنے لگا، جبکہ لوگ اس کے حق میں یہ گواہی دے رہے تھے کہ واقعی اس نے اس کو قتل کیا ہے، لیکن سیدنا خالد رضی اللہ عنہ نے اس کو کچھ سامان دے دیا اور باقی روک لیا، پھر جب وہ سیدنا عوف رضی اللہ عنہ کی رہائش گاہ کی طرف لوٹا اور ان کو یہ بات بتلائی تو انھوں نے کہا: تو سیدنا خالد رضی اللہ عنہ کی طرف لوٹا جا، ان کو چاہیے کہ باقی حصہ بھی تجھے دے دیں، پس وہ لوٹ کر تو گیا، لیکن انھوں نے اس کو باقی حصہ دینے سے انکار کر دیا، پس سیدنا عوف رضی اللہ عنہ خود چل کر سیدنا خالد رضی اللہ عنہ کے پاس گئے اور کہا: کیا تم نہیں جانتے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سلب کا فیصلہ قاتل کے حق میں کیا ہے؟ انھوں نے کہا: جی،کیوں نہیں، مجھے پتہ ہے، انھوں نے کہا: تو پھر تجھے اس کو اس کے مقتول کا سلب دینے سے کون سی چیز مانع ہے؟ سیدنا خالد رضی اللہ عنہ نے کہا: دراصل میں نے اس حصے کو بہت زیادہ سمجھا ہے (اور سارے کا سارا اس کو نہیں دیا)، سیدنا عوف رضی اللہ عنہ نے کہا: اگر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا چہرہ دیکھا تو میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ضرور ضرور بتلاؤں گا، پھر جب وہ مدینہ منورہ پہنچے تو سیدنا عوف رضی اللہ عنہ نے اس شخص کو بھیجا اور اس نے جا کر سیدنا خالد رضی اللہ عنہ کی شکایت کی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے مدد طلب کی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا خالد رضی اللہ عنہ کو بلایا، جبکہ سیدنا عوف رضی اللہ عنہ بیٹھے ہوئے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: خالد! کس چیز نے تجھے اس شخص کو اس کا سلب دینے سے روکا؟ انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں نے اس سلب کو زیادہ سمجھا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو اس کو دے دے۔ جب سیدنا خالد رضی اللہ عنہ ، سیدنا عوف رضی اللہ عنہ کے پاس سے گزرے تو انھوں نے سیدنا خالد رضی اللہ عنہ کی چادر گھسیٹی اور کہا: میں نے جو بات تم کو کہی تھی، اب میں نے اس کو تیرے لیے پورا کر دیا ہے، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے (سیدنا عوف رضی اللہ عنہ ) کا یہ طعن سنا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو غصے آ گیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: خالد! تو اس کو نہ دے، کیا تم میرے امراء کو میرے لیے چھوڑنے والے ہو، میری اور میرے امراء کی مثال اس شخص کی سی ہے، جس کو اونٹ یا بکریاں چرانے کا کہا گیا، پس اس نے ان کو چرایا، پھر اس نے ان کو پانی پلانے کا وقت مقرر کیا اور ان کو حوض پر لے آیا، پس انھوں نے پانی پینا شروع کیا اور سارا صاف پانی پی گئے اور گدلا پانی رہ گیا، (ایسے سمجھو کہ) میرے امراء کا صاف پن تمہارے لیے ہے اور گدلا پن ان پر ہے۔
۔ سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہوازن اور غطفان کے ساتھ جہاد کیا، ہم ایک مقام پر بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک آدمی سرخ اونٹ پر آیا اور اونٹ کے تنگ میں سے کوئی چیز نکالی اور اس کے ساتھ اپنے اونٹ کو باندھا، پھر آیا اور ہمارے ساتھ دوپہر کا کھانا کھانے لگا، اس نے ہمارے لوگوں کا جائزہ لیا اور دیکھا کہ ہمارے سوار تھوڑے ہیں اور زیادہ تر لوگ پیدل ہیں، یہ جائزہ لے کر وہ دوڑتا ہوا نکلا، اپنے اونٹ کے پاس گیا اور اس پر بیٹھ کر اس کو دوڑانے لگا، یہ دراصل کافروں کا جاسوس تھا، بنواسلم قبیلے کا ایک آدمی اپنی سیاہی نما اونٹنی پر سوار ہوا اور اس کا پیچھا کیا، سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ نے کہا: میں اپنی ٹانگوں پر دوڑا، اس آدمی کی اونٹنی کا سر جاسوس کے اونٹ کے پچھلی ٹانگ تک پہنچ چکا تھے، پیچھے سے میں بھی ملا جا رہا تھا اور اس کی اونٹنی کی پچھلی ٹانگ کے برابر تک پہنچ چکا تھا، میں میں اور آگے بڑھا اور جاسوس کے اونٹ کے پچھلے حصے کے برابر ہو گیا، پھر میں اور آگے بڑھا اور اونٹ کی لگام پکڑ لی اور اس کو بیٹھنے کی آواز دی، جب اونٹ نے اپنا گھٹنا زمین پر رکھا تو میں نے اپنی تلوار سونتی اور اس کے سر پر ماری اوروہ گر پڑا، پھر میں اونٹنی لے کر واپس آ گیا، آگے سے کچھ لوگوں سمیت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آ رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کس نے اس آدمی کو قتل کیا ہے؟ لوگوں نے کہا: ابن اکوع نے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس کا سارا سلب اس کے لیے ہے۔
۔ سیدنا ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے اپنے مقتول پر دلیل قائم کر دی تو اس کا سلب اس کے لیے ہو گا۔
۔ سیدنا ابو قتادہ انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انھوں نے ایک کافر کو قتل کیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کافر کا سلب اور زرہ ان کو دی، پھر انھوں نے وہ زرہ پانچ اوقیوں کے عوض فروخت کی تھی۔
۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سیدنا ابو قتادہ رضی اللہ عنہ کے پاس سے گزرے، جبکہ وہ اپنے مقتول کے پاس موجود تھے، اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس کو اور اس کے سلب کو چھوڑ دو۔
۔ سیدنا عوف بن مالک اشجعی اور سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سلب میں سے خمس وصول نہیں کیا۔
فوائد:… اس باب میں سلب کا بیان ہے، جس کا مفہوم یہ ہے کہ مقتول کافر سے چھینا ہوا مال قاتل مسلمان کا حق ہو گا اور اس حق میں سے خُمُس بھی نہیں لیا جائے گا، لیکن ایسی صورت میں مجاہد سے دلیل کا مطالبہ کیا جائے گا کہ واقعی اس نے قتل کیا ہے۔
۔ سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، پھر انھوں نے عبدالرحمن فزاری کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مویشیوں پر ڈاکہ مارنے اور ان کے بچانے کا واقعہ ذکر کیا،سیدنا سلمہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: جب ہم نے صبح کی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: آج ابو قتادہ بہترین گھوڑ سوار اور سلمہ بہترین پیادہ ثابت ہوئے۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے پیادہ اور گھوڑ سوار دونوں کا حصہ دیا۔
Takhreej
(۵۰۵۵) تخریج: أخرجہ مسلم: ۱۸۰۷(انظر: ۱۶۵۳۹)
Explanation
فوائد:… سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ پیدل تھے، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو پیادہ اور گھوڑ سوار دونوں کا حصہ دیا، یہ ان کی زیادہ مشقت بہادری کا مظاہرہ کرنے کی وجہ سے دیا۔
۔ سیدنا سعد بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، انھوں نے کہا: اے اللہ رسول! تحقیق اللہ تعالیٰ نے مجھے مشرکوں سے شفا دے دی ہے، پس آپ یہ تلوار مجھے ہبہ کر دیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ تلوار میری ہے نہ تیری، سو اس کو یہیں رکھ دے۔ پس میں نے اس کو رکھ دیا، پھر واپس لوٹ گیا اور میں نے کہا: ممکن ہے کہ یہ تلوار ایسے بندے کو دے دی جائے، جو میری طرح کی بہادری کا مظاہرہ نہ کر سکے، اتنے میں ایک آدمی نے میرے پیچھے سے مجھے بلایا ، میں نے کہا: لگتا ہے کہ میرے بارے میں کوئی خاص حکم اترا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو نے مجھ سے اس تلوار کا سوال کیا تھا، جبکہ یہ میری نہیں تھی، اب یہ مجھے ہبہ کر دی گئی ہے، لہذا اب یہ تیری ہے۔ پھر یہ آیت نازل ہوئی : لوگ آپ سے انفال کے بارے میں سوال کرتے ہیں، پس کہہ دیجئے کہ انفال، اللہ اور اس کے رسول کے لیے ہیں۔
۔ سیدنا حبیب بن مسلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے (غزوے کے سفر کی) ابتداء میں خمس نکالنے کے بعد ایک چوتھائی حصہ اور واپسی پر خمس نکالنے کے بعد ایک تہائی حصہ زائد دیا۔
۔ سیدنا حبیب بن مسلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس موجود تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے شروع میں ایک چوتھائی اور واپسی پر ایک تہائی حصہ زائد دیا۔ ابو عبد الرحمن نے کہا: میں نے اپنے باپ کو یہ کہتے ہوئے سنا: میں نے شام میں کوئی ایسا آدمی نہیں دیکھا جو سعید بن عبد العزیز تنوخی سے زیادہ صحیح احادیث والا ہو۔
Takhreej
(۵۰۵۸) تخریج: حدیث صحیح، أخرجہ ابن ماجہ: ۲۸۵۳(انظر: ۱۷۴۶۹)
۔ سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ابتدا میں ایک چوتھائی حصہ اور واپسی پر ایک تہائی حصہ زائد دیا۔
فوائد:… ان احادیث میں مال غنیمت کی تقسیم کی ایک اور استثنائی صورت بیان کی گئی ہے، جب لشکر ِ اسلام اپنی جہت کی طرف جا رہا ہوتا اور بیچ میں سے ایک سریّہ کو الگ کر کے گرد و نواح کے کسی علاقے کی طرف بھیج دیا جاتا تو وہ جو مالِ غنیمت لے کر آتے، اس کا چوتھاحصہ ان کو زائد دیا جاتا، باقی تین حصے تمام مجاہدین میں برابر تقسیم کر دیئے جاتے، اگر جہاد سے واپسی پر یہی صورت حال پیش آتی تو ایک تہائی حصہ زائد دیا جاتا، لیکن اس تیسرے یا چوتھے حصے سے پہلے خُمُس نکالا جائے گا ہے۔
۔ سیدنا عبادہ رضی اللہ عنہ سے ہی مروی ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دشمن کی زمین میں حملے کے لیے جا رہے ہوتے تھے تو ایک چوتھائی حصہ زائد دیتے اور جب لوٹ رہے ہوتے تھے، اور لوگ تھکے ہوئے ہوتے تو ایک تہائی حصہ زائد دیتے، دراصل آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم زائد حصوں کو ناپسند کرتے اور فرماتے: چاہیے کہ قوی مؤمن، کمزوروں پر لوٹا دے۔
Takhreej
(۵۰۶۰) تخریج: حسن لغیرہ (انظر: ۲۲۷۶۲)
Explanation
فوائد:… اس حدیث ِ مبارکہ کا مفہوم یہ ہے کہ مجاہدین کو زائد حصے کی حرص نہیں ہونی چاہیے اور اس معاملے میں ان کو ایثار کی راہ اختیار کرنی چاہیے تاکہ کمزور جنگجوؤں کو بھی قوی مجاہدین کی طرح حصہ مل سکے۔ نیز اس حدیث کا یہ معنی بھی ہو سکتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مجاہدین کو ان کے زائد جہاد اور محنت کی وجہ سے زائد حصے تو دیتے تھے، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تمنا یہ تھی کہ وہ لشکر ِ اسلام کے تمام افراد کو ترجیح دیتے ہوئے وصول نہ کریں، تاکہ سب کو برابر حصہ مل سکے۔
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں ایک لشکر میں بھیجا، ہمارے حصوں میں بارہ بارہ اونٹ آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک ایک اونٹ ہمیں زائد بھی دیا۔