TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

جہاد کے مسائل - جہاد کے مسائل - Book 77 of Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Book 77 of Musnad Ahmad, with 53 chapters and 348 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.

348 Hadith · 53 Chapters
لشکر کے سریہ کو زائد حصہ دینے اور پھر ان دونوں کو غنیمت میں شریک کرنے کا بیان
۔ (۵۰۶۲)۔ عَنْ اَبِیْ مُوْسَی الْاَشْعَرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَنَّہٗ کَانَ یَنْفُلُ فِیْ مَغَازِیْہِ۔ (مسند أحمد: ۱۹۸۳۰)
۔ سیدنا ابو موسی اشعری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اپنے غزووں میں زائد حصہ دیا کرتے تھے۔
Takhreej
(۵۰۶۲) تخریج: صحیح لغیرہ، أخرجہ الطبرانی فی الاوسط : ۵۳۷۹(انظر: ۱۹۶۰۱)
5062
Sahih
مالِ فے کے مصرف کا بیان
۔ (۵۰۶۳)۔ عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِکٍ الْأَشْجَعِیِّ، قَالَ: کَانَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم إِذَا جَائَ فَیْئٌ قَسَمَہُ مِنْ یَوْمِہِ، فَأَعْطَی الْآہِلَ حَظَّیْنِ، وَأَعْطَی الْعَزَبَ حَظًّا وَاحِدًا، فَدُعِینَا وَکُنْتُ أُدْعٰی قَبْلَ عَمَّارِ بْنِ یَاسِرٍ، فَدُعِیتُ فَأَعْطَانِی حَظَّیْنِ، وَکَانَ لِی أَہْلٌ، ثُمَّ دَعَا بِعَمَّارِ بْنِ یَاسِرٍ فَأُعْطِیَ حَظًّا وَاحِدًا، فَبَقِیَتْ قِطْعَۃُ سِلْسِلَۃٍ مِنْ ذَہَبٍ، فَجَعَلَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَرْفَعُہَا بِطَرَفِ عَصَاہُ ثُمَّ رَفَعَہَا وَہُوَ یَقُولُ: ((کَیْفَ أَنْتُمْ یَوْمَ یَکْثُرُ لَکُمْ مِنْ ہٰذَا۔)) (مسند أحمد: ۲۴۴۸۶)
۔ سیدنا عوف بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس مالِ فئے آتا تھا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس کو اسی دن اس طرح تقسیم کر دیا کرتے تھے کہ شادی شدہ کو دو حصے اور کنوارے کو ایک حصہ دیتے تھے، ، پس ایک دن ہمیں بلایا گیا اور مجھے سیدنا عمار بن یاسر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے پہلے بلایا جاتا تھا، پس مجھے بلایا گیا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے دو حصے دیئے، کیونکہ میں اہل و عیال والا تھا، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیدنا عمار بن یاسر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو بلایا اور ان کو ایک حصہ دیا، سونے کی چین کا ایک ٹکرا بچ گیا تھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس کو اپنی لاٹھی کے سرے سے اٹھاتے، لیکن وہ گر جاتا، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کو اٹھایا، جبکہ اس وقت آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یہ فرما رہے تھے: اس وقت تمہارا کیا بنے گا، جس دن تمہارے لیے یہ سونا بہت زیادہ ہو جائے گا۔
Takhreej
(۵۰۶۳) تخریج: اسنادہ صحیح علی شرط مسلم، أخرجہ أبوداود: ۲۹۵۳(انظر: ۲۳۹۸۶)
Explanation
فوائد:… آخری جملے سے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا مقصود یہ تھا کہ لوگوں کو دنیا کے فتنے سے اور اس کی زینت سے دھوکہ کھانے سے ڈرایا جائے۔
5063
Sahih
مالِ فے کے مصرف کا بیان
۔ (۵۰۶۴)۔ عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: کَانَتْ أَمْوَالُ بَنِی النَّضِیرِ مِمَّا أَفَائَ اللّٰہُ عَلٰی رَسُولِہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِمَّا لَمْ یُوجِفِ الْمُسْلِمُونَ عَلَیْہِ بِخَیْلٍ وَلَا رِکَابٍ، فَکَانَتْ لِرَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خَالِصَۃً، وَکَانَ یُنْفِقُ عَلٰی أَہْلِہِ مِنْہَا نَفَقَۃَ سَنَۃٍ، (وَفِیْ لَفْظٍ: قُوْتَ سَنَۃٍ) وَمَا بَقِیَ جَعَلَہُ فِی الْکُرَاعِ وَالسِّلَاحِ عُدَّۃً فِی سَبِیلِ اللّٰہِ عَزَّ وَجَلَََََّ۔ (مسند أحمد: ۱۷۱)
۔ سیدنا عمر بن خطاب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ بنو نضیر کے مال وہ تھے، جو اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو بطورِ مالِ فے دیئے تھے، مسلمانوں نے اس مال کو حاصل کرنے کے لیے گھوڑوں اور سواریوں کو نہیں دوڑایا تھا، پس یہ مال خالص رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے لیے تھا (اور اپنی مرضی کے مطابق اس میں تصرف کر سکتے تھے)، پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اپنے اہل و عیال کے لیے ایک سال کا دانہ پانی رکھ لیتے اور اس سے جو بچ جاتا، اس کو اللہ کی راہ میں تیاری کرتے ہوئے گھوڑوں اور اسلحہ پر خرچ کر دیتے۔
Takhreej
(۵۰۶۴) تخریج: أخرجہ البخاری: ۲۹۰۴، ۴۸۸۵، ومسلم: ۱۷۵۷(انظر: ۱۷۱)
Explanation
فوائد:… آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اپنی ذات، اپنے رشتہ داروں اور یتیموں، مسکینوں اور مسافروں کے لیے جیسے مناسب سمجھتے، مالِ فے میں تصرف کرتے تھے، اس مال کی تقسیم آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی مرضی پر موقوف تھی، اس میں کسی کا کوئی مخصوص حق نہیں ہوتا۔
5064
Sahih
مالِ فے کے مصرف کا بیان
۔ (۵۰۶۵)۔ عَنْ مَالِکِ بْنِ أَوْسِ بْنِ الْحَدَثَانِ قَالَ: کَانَ عُمَرُ یَحْلِفُ عَلَی أَیْمَانٍ ثَلَاثٍ یَقُولُ: وَاللّٰہِ! مَا أَحَدٌ أَحَقَّ بِہٰذَا الْمَالِ مِنْ أَحَدٍ، وَمَا أَنَا بِأَحَقَّ بِہِ مِنْ أَحَدٍ، وَاللّٰہِ مَا مِنْ الْمُسْلِمِینَ أَحَدٌ إِلَّا وَلَہُ فِی ہَذَا الْمَالِ نَصِیبٌ إِلَّا عَبْدًا مَمْلُوکًا، وَلٰکِنَّا عَلَی مَنَازِلِنَا مِنْ کِتَابِ اللّٰہِ تَعَالٰی، وَقَسْمِنَا مِنْ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، فَالرَّجُلُ وَبَلَاؤُہُ فِی الْإِسْلَامِ، وَالرَّجُلُ وَقَدَمُہُ فِی الْإِسْلَامِ، وَالرَّجُلُ وَغَنَاؤُہُ فِی الْإِسْلَامِ، وَالرَّجُلُ وَحَاجَتُہُ، وَ وَاللّٰہِ! لَئِنْ بَقِیتُ لَہُمْ لَیَأْتِیَنَّ الرَّاعِیَ بِجَبَلِ صَنْعَائَ حَظُّہُ مِنْ ہٰذَا الْمَالِ، وَہُوَ یَرْعٰی مَکَانَہُ۔ (مسند أحمد: ۲۹۲)
۔ مالک بن اوس بن حدثان سے مروی ہے کہ سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ تین امور پر قسمیں اٹھاتے اور کہتے تھے: اللہ کی قسم! کوئی ایک کسی دوسرے سے اس مالِ فے کا زیادہ مستحق نہیں ہے اور میں بھی کسی سے زیادہ اس کا حق نہیں رکھتا، اللہ کی قسم ہے، ہر مسلمان کا اس مال میں حصہ ہے، ما سوائے غلام کے، ہاں کتاب اللہ کی تفصیل اور رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی تقسیم کے مطابق ہمارے مرتبے مختلف ہے، مثلا: ایک آدمی اور اس کا اسلام میں آزمایا جانا ہے، ایک آدمی اور اس کا اسلام کی طرف سبقت کرنا ہے، ایک آدمی اور اس کا غنی ہونا ہے اور ایک آدمی اور اس کی حاجتمندی ہے، اللہ کی قسم ہے، اگر میں زندہ رہا تو صنعاء کے پہاڑ میں بکریاں چرانے والے تک اس کا حصہ پہنچ جائے گا، جبکہ وہ اسی جگہ پر بکریاں چرا رہا ہو گا۔
Takhreej
(۵۰۶۵) تخریج: اسنادہ ضعیف، محمد بن اسحاق مدلس، وقد عنعن، ومحمد بن میسر الصاغانی ضعیف، لکنہ تُوبِع، أخرجہ أبوداود: ۲۹۵۰(انظر: ۲۹۲)
Explanation
فوائد:… آدمی اور اس کا اسلام میں آزمایا جانا …۔ اس سے مراد یہ ہے کہ صحابۂ کرام کو ان کی نیکیوں اور ان کی اسلام میں سبقت یا قدامت کو دیکھ کر ان کو مال فئے میں سے حصہ دیا جائے گا۔ آخری جملے کا مفہوم یہ ہے کہ حقدار کو اس کا حق پہنچے گا، اگرچہ وہ یمن میں صنعاء کے پہاڑ میں بکریاں چرا رہا ہو۔
5065
Zaeef
مالِ فے کے مصرف کا بیان
۔ (۵۰۶۶)۔ عَنْ نَاشِرَۃَ بْنِ سُمَیٍّ الْیَزَنِیِّ، قَالَ: سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ یَقُولُ فِی یَوْمِ الْجَابِیَۃِ وَہُوَ یَخْطُبُ النَّاسَ: إِنَّ اللّٰہَ عَزَّ وَجَلَّ جَعَلَنِی خَازِنًا لِہٰذَا الْمَالِ وَقَاسِمَہُ لَہُ، ثُمَّ قَالَ: بَلِ اللّٰہُ یَقْسِمُہُ وَأَنَا بَادِئٌ بِأَہْلِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، ثُمَّ أَشْرَفِہِمْ فَفَرَضَ لِأَزْوَاجِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَشْرَۃَ آلَافٍ إِلَّا جُوَیْرِیَۃَ وَصَفِیَّۃَ ومَیْمُونَۃَ، فَقَالَتْ عَائِشَۃُ: إِنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ یَعْدِلُ بَیْنَنَا، فَعَدَلَ بَیْنَہُنَّ عُمَرُ ثُمَّ قَالَ: إِنِّی بَادِئٌ بِأَصْحَابِی الْمُہَاجِرِینَ الْأَوَّلِینَ، فَإِنَّا أُخْرِجْنَا مِنْ دِیَارِنَا ظُلْمًا وَعُدْوَانًا، ثُمَّ أَشْرَفِہِمْ فَفَرَضَ لِأَصْحَابِ بَدْرٍ مِنْہُمْ خَمْسَۃَ آلَافٍ، وَلِمَنْ کَانَ شَہِدَ بَدْرًا مِنْ الْأَنْصَارِ أَرْبَعَۃَ آلَافٍ، وَلِمَنْ شَہِدَ أُحُدًا ثَلَاثَۃَ آلَافٍ، قَالَ: وَمَنْ أَسْرَعَ فِی الْہِجْرَۃِ أَسْرَعَ بِہِ الْعَطَائُ، وَمَنْ أَبْطَأَ فِی الْہِجْرَۃِ أَبْطَأَ بِہِ الْعَطَائُ، فَلَا یَلُومَنَّ رَجُلٌ إِلَّا مُنَاخَ رَاحِلَتِہِ۔ (مسند أحمد: ۱۶۰۰۰)
۔ ناشرہ بن سمی یزنی سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: سیدنا عمر بن خطاب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے جابیہ والے دن لوگوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا: بیشک اللہ تعالیٰ نے مجھے اس مال کا خازن اور اس کو تقسیم کرنے والا بنایا ہے، بلکہ یوں سمجھئے کہ اللہ تعالیٰ ہی تقسیم کرنے والا ہے اور میں اب نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی آل سے اور پھر ان کے بعد شرف والے لوگوں سے شروع کرنے والا ہوں، پھر انھو ںنے امہات المؤمنین کو دس ہزار درہم دیئے، ما سوائے سیدہ جویریہ، سیدہ صفیہ اور سیدہ میمونہF کے، لیکن جب سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے کہا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تو ہمارے ما بین برابری کرتے تھے تو انھوں نے ان کو برابر برابر مال دے دیا، پھر سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اس کے بعد میں اپنے پہلے پہل ہجرت کرنے والے صحابہ سے شروع کرتا ہوں، کیونکہ ظلم و زیادتی سے ہمیں ہمارے گھروں سے نکال دیا گیا تھا، پھر ان کے بعد زیادہ شرف والے صحابہ کو مد نظر رکھا اور بدر والے مہاجرین کے پانچ پانچ ہزار اور انصار کے لیے چار چار ہزار درہم مقرر کیے، اور احد میں شریک ہونے والوں کو تین تین ہزار درہم دیئے۔ پھر سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: جس نے ہجرت میںجلدی کی، اس کے عطیہ میں جلدی کی جائے گی اور جس نے ہجرت میں تاخیر کی، اس کے عطیہ میں بھی تاخیر ہو گی، پس کوئی آدمی ملامت نہ کرے، مگر اپنی اونٹنی کی بیٹھنے والی جگہ پر، (یعنی اگر کسی آدمی کو تاخیر سے ہجرت کرنے کی بنا پر تھوڑا حصہ مل رہا ہے تو وہ اپنے پیچھے رہ جانے کی مذمت کرے)۔
Takhreej
(۵۰۶۶) تخریج: ھذا الاثر، رجالہ ثقات (انظر: ۱۵۹۰۵)
Explanation
فوائد:… سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ صحابۂ کرام کو اسلام میں ملنے والی سبقت، عظمت اور منزلت کے مطابق ان میں یہ مال تقسیم کرتے تھے۔
5066
Sahih
مالِ فے کے مصرف کا بیان
۔ (۵۰۶۷)۔ عن جَابِر بن عبد اللہ یَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَوْ جَائَ مَالُ الْبَحْرَیْنِ لَقَدْ أَعْطَیْتُکَ ہٰکَذَا وَہٰکَذَا وَہٰکَذَا۔)) قَالَ: فَلَمَّا جَائَ مَالُ الْبَحْرَیْنِ بَعْدَ وَفَاۃِ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ أَبُو بَکْرٍ: مَنْ کَانَ لَہُ عِنْدَ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم دَیْنٌ أَوْ عِدَۃٌ فَلْیَأْتِنِی، قَالَ: فَجِئْتُ، قَالَ: فَقُلْتُ: إِنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((لَوْ قَدْ جَائَ مَالُ الْبَحْرَیْنِ لَأَعْطَیْتُکَ ہٰکَذَا وَہٰکَذَا ثَلَاثًا۔)) قَالَ: فَخُذْ، قَالَ: فَأَخَذْتُ، قَالَ بَعْضُ مَنْ سَمِعَہُ: فَوَجَدْتُہَا خَمْسَ مِائَۃٍ فَأَخَذْتُ، ثُمَّ أَتَیْتُہُ فَلَمْ یُعْطِنِی، ثُمَّ أَتَیْتُہُ فَلَمْ یُعْطِنِی، ثُمَّ أَتَیْتُہُ الثَّالِثَۃَ فَلَمْ یُعْطِنِی، فَقُلْتُ: إِمَّا أَنْ تُعْطِیَنِی، وَإِمَّا أَنْ تَبْخَلَ عَنِّی، قَالَ: أَقُلْتَ تَبْخَلُ عَنِّی وَأَیُّ دَائٍ أَدْوَأُ مِنَ الْبُخْلِ، مَا سَأَلْتَنِی مَرَّۃً إِلَّا وَقَدْ أَرَدْتُ أَنْ أُعْطِیَکَ۔ (مسند أحمد: ۱۴۳۵۲)
۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگر بحرین کا مال آیا تو میں تجھے اتنا اتنا اور دوں گا۔ جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی وفات کے بعد بحرین کا مال آیا تو سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: جس آدمی کا رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر قرض ہو یا آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کسی سے وعدہ کیا ہو تو وہ میرے پاس آ جائے، پس میں ان کے پاس آیا اور کہا: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے فرمایا تھا کہ اگر بحرین کا مال آیا تو میں تجھے اتنا اتنا دوں گا۔ سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: تو لے لے، پس میں نے لے لیا اور اس حصے کو پانچ سو درہم پایا، پھر جب میں ان کے پاس آیا تو انھو ںنے مجھے کچھ نہ دیا، پھر آیا تو کچھ نہ دیا، پھر جب تیسری بار آیا اور انھوں نے کچھ نہ دیا تو میں نے کہا: آپ یا تو مجھے دیں یا پھر بخل کرتے ہوئے مجھے منع کر دیں، سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: کیا تو کہتا ہے کہ میں بخل کرتا ہوں، بھلا بخل سے بڑی بیماری کون سی ہو سکتی ہے، جب بھی تو نے مجھ سے سوال کیا تو میں نے تجھے دینے کا ارادہ کیا تھا، (لیکن دوسرے لوگوں کو زیادہ ضرورت مند پا کر ان کو دے دیا۔)
Takhreej
(۵۰۶۷) تخریج: أخرجہ البخاری: ۲۵۹۸، ۳۱۳۷، ومسلم: ۲۳۱۴(انظر: ۱۴۳۰۱)
Explanation
فوائد:… بعد میں جب بھی بحرین سے مال آتا تو سیدنا جابر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ پہنچ جاتے اور سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے ان سے وعدہ بھی کر رکھا ہوتا تھا، لیکن سیدنا صدیق ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کسی اور کو زیادہ محتاج سمجھ کر اس کو دے دیتے تھے، جبکہ حکمران کو اس مال کی تقسیم میںرد و بدل کرنے کا حق حاصل ہوتا ہے۔
5067
Sahih
مالِ فے کے مصرف کا بیان
۔ (۵۰۶۸)۔ عَنْ عُرْوَۃَ، عَنْ عَائِشَۃَ: أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أُتِیَ بِظَبْیَۃٍ فِیہَا خَرَزٌ، فَقَسَمَ لِلْحُرَّۃِ وَالْأَمَۃِ، قَالَتْ عَائِشَۃُ: وَکَانَ أَبِی یَقْسِمُ لِلْحُرِّ وَالْعَبْدِ، قَالَ أَبِی: قَالَ یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ: فَقَسَمَ بَیْنَ الْحُرَّۃِ وَالْأَمَۃِ سَوَائً۔ (مسند أحمد: ۲۵۷۷۵)
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس ایک چھوٹا سا مشکیزہ لایا گیا، اس میں موتی تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کو آزاد خاتون اور لونڈی میں تقسیم کیا، سیدہ کہتی ہیں: میرے باپ بھی آزاد اور غلام کے لیے تقسیم کرے تھے۔ یزید بن ہارون راوی کے الفاظ یہ ہیں: آزاد خاتون اور لونڈی کے درمیان برابر برابر تقسیم کرتے تھے۔
Takhreej
(۵۰۶۸) تخریج: اسنادہ صحیح، أخرجہ أبوداود: ۲۹۵۲ (انظر: ۲۵۲۶۱)
5068
Sahih
تالیف ِ قلبی کے لیے دینے کا بیان
۔ (۵۰۶۹)۔ عَنِ الزُّہْرِیِّ، قَالَ: أَخْبَرَنِی أَنَسُ بْنُ مَالِکٍ: أَنَّ نَاسًا مِنَ الْأَنْصَارِ قَالُوْا یَوْمَ حُنَیْنٍ حِینَ أَفَائَ اللّٰہُ عَلٰی رَسُولِہِ أَمْوَالَ ہَوَازِنَ، وَطَفِقَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُعْطِی رِجَالًا مِنْ قُرَیْشٍ الْمِائَۃَ مِنَ الْإِبِلِ کُلَّ رَجُلٍ، فَقَالُوْا: یَغْفِرُ اللّٰہُ لِرَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُعْطِی قُرَیْشًا وَیَتْرُکُنَا، وَسُیُوفُنَا تَقْطُرُ مِنْ دِمَائِہِمْ، قَالَ أَنَسٌ: فَحُدِّثَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِمَقَالَتِہِمْ، فَأَرْسَلَ إِلَی الْأَنْصَارِ فَجَمَعَہُمْ فِی قُبَّۃٍ مِنْ أَدَمٍ، وَلَمْ یَدْعُ أَحَدًا غَیْرَہُمْ، فَلَمَّا اجْتَمَعُوْا جَائَ ہُمْ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: ((مَا حَدِیثٌ بَلَغَنِی عَنْکُمْ؟)) فَقَالَتِ الْأَنْصَارُ: أَمَّا ذَوُوْ رَأْیِنَا فَلَمْ یَقُولُوْا شَیْئًا، وَأَمَّا نَاسٌ حَدِیثَۃٌ أَسْنَانُہُمْ فَقَالُوْا کَذَا وَکَذَا لِلَّذِی قَالُوْا، فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((إِنِّی لَأُعْطِی رِجَالًا حُدَثَاء َ عَہْدٍ بِکُفْرٍ أَتَأَلَّفُہُمْ، (أَوْ قَالَ: أَسْتَأْلِفُہُمْ) أَفَلَا تَرْضَوْنَ أَنْ یَذْہَبَ النَّاسُ بِالْأَمْوَالِ وَتَرْجِعُونَ بِرَسُولِ اللّٰہِ إِلٰی رِحَالِکُمْ؟ فَوَاللّٰہِ! لَمَا تَنْقَلِبُونَ بِہِ خَیْرٌ مِمَّا یَنْقَلِبُونَ بِہِ۔)) قَالُوْا: أَجَلْ یَا رَسُولَ اللّٰہِ! قَدْ رَضِینَا، فَقَالَ لَہُمْ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((إِنَّکُمْ سَتَجِدُونَ بَعْدِی أَثَرَۃً شَدِیدَۃً، فَاصْبِرُوْا حَتّٰی تَلْقَوُا اللّٰہَ وَرَسُولَہُ، فَإِنِّی فَرَطُکُمْ عَلَی الْحَوْضِ۔)) قَالَ أَنَسٌ: فَلَمْ نَصْبِرْ۔ (مسند أحمد: ۱۲۷۲۶)
۔ سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے ہوازن کے مال اپنے رسول کو بطورِ فئدیئے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس مال کو قریشیوں میں تقسیم کرتے ہوئے ایک ایک آدمی کو سو سو اونٹ دیئے تو بعض انصاریوں نے کہا: اللہ اپنے رسول کو معاف کرے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قریش کو دے رہے ہیں اور ہمیں چھوڑ رہے ہیں، جبکہ ہماری تلواریں ان کے خون سے ٹپک رہی ہیں، جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو ان کی بات کا پتہ چلا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے انصاریوں کو بلا بھیجا اور ان کو چمڑے کے ایک خیمے میں جمع کیا، انصاریوں کے علاوہ کسی کو نہیں بلایا تھا، جب وہ جمع ہو گئے تو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ان کے پاس تشریف لائے اور فرمایا: تمہاری طرف سے مجھے کچھ باتیں موصول ہو رہی ہے، کیا مسئلہ ہے؟ انھوں نے کہا: ہمارے سمجھ دار لوگوں نے تو ایسی کوئی بات نہیں کہی ہے، البتہ کم سن لوگوں نے اس قسم کی باتیں کی ہیں، یہ سن کر نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بیشک میں ایسے افراد کو یہ مال دے رہا ہوں، جنھوں نے ابھی ابھی کفر کو چھوڑا ہے، میں ان کی تالیف ِ قلبی کر رہا ہوں، بھلا تم لوگ کیا اس شرف پر راضی نہیں ہو کہ لوگ مال لے کر جائیں اور تم رسول اللہ کو لے کر اپنے گھروں کو لوٹو، اللہ کی قسم ! تم جو چیز لے کر لوٹ رہے ہو، یہ اس چیز سے بہتر ہے، جو وہ لوگ لے کر جا رہے ہیں۔ انھوں نے کہا: جی ہاں، اے اللہ کے رسول! ہم راضی ہیں، پھر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان سے فرمایا: تم میرے بعد ترجیحِ نفس اور خود غرضی پاؤ گے، پس صبر کرنا، یہاں تک کہ اللہ اور اس کے رسول کو جا ملو، پس بیشک میں حوض پر تمہارا پیش رو ہوں گا۔ سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: لیکن ہم نے صبر نہیں کیا۔
Takhreej
(۵۰۶۹) تخریج: أخرجہ البخاری: ۳۱۴۷، ۵۸۶۰، ومسلم: ۱۰۵۹(انظر: ۱۲۶۹۶)
5069
Sahih
تالیف ِ قلبی کے لیے دینے کا بیان
۔ (۵۰۷۰)۔ عن عَمْرو بْنُ تَغْلِبَ، أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَتَاہُ شَیْئٌ فَأَعْطَاہُ نَاسًا وَتَرَکَ نَاسًا، وَقَالَ جَرِیرٌ: أَعْطٰی رِجَالًا وَتَرَکَ رِجَالًا، قَالَ: فَبَلَغَہُ عَنِ الَّذِینَ تَرَکَ أَنَّہُمْ عَتِبُوا وَقَالُوْا، قَالَ: فَصَعِدَ الْمِنْبَرَ فَحَمِدَ اللّٰہَ وَأَثْنٰی عَلَیْہِ ثُمَّ قَالَ: ((إِنِّی أُعْطِی نَاسًا وَأَدَعُ نَاسًا، وَأُعْطِی رِجَالًا وَأَدَعُ رِجَالًا، (قَالَ عَفَّانُ: قَالَ: ذِی وَذِی) وَالَّذِی أَدَعُ أَحَبُّ إِلَیَّ مِنَ الَّذِی أُعْطِی، أُعْطِی أُنَاسًا لِمَا فِی قُلُوبِہِمْ مِنَ الْجَزَعِ وَالْہَلَعِ، وَأَکِلُ قَوْمًا إِلٰی مَا جَعَلَ اللّٰہُ فِی قُلُوبِہِمْ مِنَ الْغِنَی وَالْخَیْرِ، مِنْہُمْ عَمْرُو بْنُ تَغْلِبَ۔)) قَالَ: وَکُنْتُ جَالِسًا تِلْقَائَ وَجْہِ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، فَقَالَ: مَا أُحِبُّ أَنَّ لِی بِکَلِمَۃِ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حُمْرَ النَّعَمِ۔ (مسند أحمد: ۲۰۹۴۸)
۔ سیدنا عمرو بن تغلب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو کچھ مال وصول ہوا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کچھ لوگوں کو دیا اور کچھ کو نہ دیا، جن لوگوں کو نہیں دیا گیا تھا، ان کی طرف سے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ خبر ملی کہ انھوں نے طعن کیا ہے، پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم منبر پر چڑھے، اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کی اور فرمایا: بیشک میں کچھ لوگوں کو دیتا ہوں اور بعض کو نہیں دیتا، میں کچھ مردوں کو عطا کرتا ہوں اور بعض کو چھوڑ دیتا ہوں، لیکن میں جن لوگوں کو چھوڑ دیتا ہوں، وہ مجھے ان سے زیادہ محبوب ہیں، جن کو میں دیتا ہوں، میں ان لوگوں کو عطا کرتا ہوں، جن کے دلوں میں جزع و فزع اور بے صبری و بے قراری ہے اور بعض لوگوں کو اس غِنا اور خیر کے سپرد کر دیتا ہوں، جو اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں میں رکھی ہے اور عمرو بن تغلب بھی ان میں سے ہے۔ سیدنا عمرو ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے سامنے بیٹھا ہوا تھا، میں یہ پسند نہیں کرتا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی اس بات کے عوض مجھے سرخ اونٹ مل جائیں۔
Takhreej
(۵۰۷۰) تخریج: أخرجہ البخاری: ۹۲۳، ۳۱۴۵، ۷۵۳۵ (انظر: ۲۰۶۷۲)
Explanation
فوائد:… اللہ تعالیٰ نے زکوۃ کے مصارف میں ایک مصرف {وَالْمُؤَلَّفَۃِ قُلُوْبُھُمْ} کا ذکر کیا ہے، جو تین قسم کے لوگوں کو شامل ہے: (۱)وہ کافر جو اسلام کی طرف میلان رکھتے ہوں اور یہ امید کی جاتی ہو کہ مالی امداد کی وجہ سے وہ مشرف باسلام ہو جائیں گے۔(۲)وہ نو مسلم افراد، جن کی امداد کر کے ان کو اسلام پر ڈٹ جانے کی ترغیب دینا مقصود ہو۔(۳)وہ غیر مسلم افراد، جن کے بارے میں یہ امید ہو کہ وہ اپنے علاقے کے لوگوں کو مسلمانوں پر حملہ آور ہونے سے روکیں گے، نیز وہ کمزور مسلمانوں کی کسی نہ کسی انداز میں حفاظت کریں گے۔ خلیفۂ وقت اسی غرض و غایت کو سامنے رکھ کر مال غنیمت کی تقسیم بھی کر سکتاہے، اس حدیث میں اسی چیز کو بیان کیا جارہا ہے کہ نومسلموں کی زیادہ سے زیادہ دلجوئی کی جائے تاکہ وہ اسی احسان کے عوض ایمان و ایقان پر ڈٹ جائیں اور اسلام کے سچے محافظ بن جائیں ۔
5070
Sahih
امیر اور عامل کے تحائف
۔ (۵۰۷۱)۔ عَنْ اَبِیْ حُمَیْدِ السَّاعَدِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((ھَدَایَا الْعُمَّالِ غُلُوْلٌ۔)) (مسند أحمد: ۲۳۹۹۹)
۔ سیّدنا حمید ساعدی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: عاملین کا ہدیہ لینا خیانت ہے۔
Takhreej
(۵۰۷۱) اسنادہ ضعیف، اسماعیل بن عیاش صدوق فی روایتہ عن اھل بلدہ، مخلّط فی غیرھم، وشیخہ ھنا یحیی بن سعید الانصاری حجازی، أخرجہ ابوعوانۃ: ۷۰۷۳، والبیھقی: ۱۰/ ۱۳۸ (انظر: ۲۳۶۰۱)
Explanation
فوائد:… یہ حدیث تو ضعیف ہے، لیکن درج ذیل دو احادیث سے ثابت ہوتا ہے کہ اس کا مفہوم درست ہے:
5071
Zaeef
امیر اور عامل کے تحائف
۔ (۵۰۷۲)۔ عَنْ عَاصِمِ بْنِ کُلَیْبٍ قَالَ: حَدَّثَنِی أَبُو الْجُوَیْرِیَۃِ، قَالَ: أَصَبْتُ جَرَّۃً حَمْرَائَ، فِیہَا دَنَانِیرُ، فِی إِمَارَۃِ مُعَاوِیَۃَ، فِی أَرْضِ الرُّومِ، قَالَ: وَعَلَیْنَا رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِنْ بَنِی سُلَیْمٍ یُقَالُ لَہُ: مَعْنُ بْنُ یَزِیدَ، قَالَ: فَأَتَیْتُ بِہَا یَقْسِمُہَا بَیْنَ الْمُسْلِمِینَ، فَأَعْطَانِی مِثْلَ مَا أَعْطٰی رَجُلًا مِنْہُمْ، ثُمَّ قَالَ: لَوْلَا أَنِّی سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَرَأَیْتُہُ یَفْعَلُہُ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُولُ: ((لَا نَفْلَ إِلَّا بَعْدَ الْخُمُسِ)) إِذًا لَأَعْطَیْتُکَ۔ قَالَ: ثُمَّ أَخَذَ فَعَرَضَ عَلَیَّ مِنْ نَصِیبِہِ، فَأَبَیْتُ عَلَیْہِ، قُلْتُ: مَا أَنَا بِأَحَقَّ بِہِ مِنْکَ۔ (مسند أحمد: ۱۵۹۵۶)
۔ ابو جویریہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: مجھے روم کی سرزمین میں سرخ رنگ کا ایک گھڑا ملا، اس میں دینار تھے، یہ سیدنا امیر معاویہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی خلافت کی بات ہے، بنو سلیم قبیلے کا معن بن یزید نامی ایک صحابی ہمارا امیر تھا، میں وہ گھڑا لے کر ان کے پاس لے کر آیا، تاکہ وہ اس کو مسلمانوں کے درمیان تقسیم کر دیں، پھر انھوں نے مجھے اتنا مال دیا، جتنا کہ دوسرے افراد کو دے رہے تھے اور کہا: اگر میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے یہ بات نہ سنی ہوتی اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو ایسا کرتے ہوئے نہ دیکھا ہوتا تو میں تجھے ہی دے دیتا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: زائد حصہ نہیں ہوتا، مگر خمس کے بعد۔ پھر انھوں نے مجھ پر میرا حصہ پیش کیا، لیکن میں نے انکار کر دیا اور کہا: میں تیری بہ نسبت اس کا زیادہ حقدار نہیں ہوں۔
Takhreej
(۵۰۷۲) تخریج: اسنادہ صحیح، أخرجہ أبوداود: ۲۷۵۴(انظر: ۱۵۸۶۲)
5072
Sahih
خیانت کے حرام ہونے اور اس میں سختی کا بیان، نیز خائن کا سامانِ سفر جلانے اور لوٹ مار کا بیان
۔ (۵۰۷۳)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: وَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم غَزَا نَبِیٌّ مِنْ الْأَنْبِیَائِ، فَقَالَ لِقَوْمِہِ: لَا یَتَّبِعْنِی رَجُلٌ قَدْ مَلَکَ بُضْعَ امْرَأَۃٍ، وَہُوَ یُرِیدُ أَنْ یَبْنِیَ بِہَا، وَلَمْ یَبْنِ وَلَا أَحَدٌ قَدْ بَنٰی بُنْیَانًا، وَلَمَّا یَرْفَعْ سُقُفَہَا، وَلَا أَحَدٌ قَدِ اشْتَرٰی غَنَمًا أَوْ خَلِفَاتٍ وَہُوَ یَنْتَظِرُ أَوْلَادَہَا، فَغَزَا فَدَنَا مِنَ الْقَرْیَۃِ حِینَ صَلَاۃِ الْعَصْرِ أَوْ قَرِیبًا مِنْ ذٰلِکَ، فَقَالَ لِلشَّمْسِ: أَنْتِ مَأْمُورَۃٌ وَأَنَا مَأْمُورٌ، اللّٰہُمَّ احْبِسْہَا عَلَیَّ شَیْئًا، فَحُبِسَتْ عَلَیْہِ حَتّٰی فَتَحَ اللّٰہُ عَلَیْہِ، فَجَمَعُوْا مَا غَنِمُوْا، فَأَقْبَلَتِ النَّارُ لِتَأْکُلَہُ فَأَبَتْ أَنْ تَطْعَمَ، فَقَالَ: فِیکُمْ غُلُولٌ، فَلْیُبَایِعْنِی مِنْ کُلِّ قَبِیلَۃٍ رَجُلٌ، فَبَایَعُوْہُ فَلَصِقَتْ یَدُ رَجُلٍ بِیَدِہِ، فَقَالَ: فِیکُمْ الْغُلُولُ، فَلْتُبَایِعْنِی قَبِیلَتُکَ، فَبَایَعَتْہُ قَبِیلَتُہُ، قَالَ: فَلَصِقَ بِیَدِ رَجُلَیْنِ أَوْ ثَلَاثَۃٍ بِیَدِہِ، فَقَالَ: فِیکُمُ الْغُلُولُ، أَنْتُمْ غَلَلْتُمْ، فَأَخْرَجُوْا لَہُ مِثْلَ رَأْسِ بَقَرَۃٍ مِنْ ذَہَبٍ، قَالَ: فَوَضَعُوْہُ فِی الْمَالِ وَہُوَ بِالصَّعِیدِ، فَأَقْبَلَتِ النَّارُ فَأَکَلَتْہُ، فَلَمْ تَحِلَّ الْغَنَائِمُ لِأَحَدٍ مِنْ قَبْلِنَا، ذٰلِکَ لِأَنَّ اللّٰہَ عَزَّ وَجَلَّ رَأٰی ضَعْفَنَا وَعَجْزَنَا فَطَیَّبَہَا لَنَا۔ (مسند أحمد: ۸۲۲۱)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: انبیاء میں سے ایک نبی نے جہاد کیا اور اس نے اپنی قوم سے کہا: وہ آدمی میرے ساتھ نہ آئے، جو کسی عورت کی شرمگاہ کا مالک بنا ہو اور خلوت اختیار کرنے کا ارادہ رکھتا ہو، جبکہ اس نے ابھی تک خلوت اختیار نہ کی ہو، ایسا آدمی بھی میرے ساتھ نہ آئے، جس نے کوئی عمارت تعمیر کی ہو، لیکن ابھی تک چھت ڈالنا باقی ہو اور ایسا شخص بھی نہ آئے جس نے بکریاں یا گابھن جانور خریدے ہوں اور وہ ان کے بچے جنم دینے کا انتظار کر رہا ہو، پس وہ نبی جہاد کے لیے چلا اور ایک بستی کے قریب پہنچ گیا، یہ نمازِ عصر کا وقت تھا یا اس کے قریب کا، پس اس نے سورج سے کہا: تو بھی اللہ کے حکم کا پابند ہے اور میں بھی اسی کے حکم کا پابند ہوں، اے اللہ! اس سورج کو کچھ دیر کے لیے روک لے، پس اس کو اس کے لیے روک دیا گیا، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ ان کو فتح عطا کی اور انھوں نے مالِ غنیمت جمع کیا، اس کو کھانے کے لیے آگ تو آئی، لیکن اس نے اس کو کھانے سے انکار کر دیا، یہ منظر دیکھ کر اس نبی نے کہا: تم لوگوں میں خیانت ہے، سو ہر قبیلے میں سے ایک ایک آدمی میری بیعت کرے، پس انھوں نے بیعت کی اور ایک آدمی کا ہاتھ ان کے ہاتھ کے ساتھ چمٹ گیا، اس نبی نے کہا: تم لوگوں میں خیانت ہے، لہذا تمہارا پورا قبیلہ میری بیعت کرے، پس سارے قبیلے نے بیعت کی اور دو تین آدمیوں کے ہاتھ چمٹ گئے، اس نے کہا: تم افراد میں خیانت ہے، تم نے خیانت کی ہے، پس انھوں نے سونا نکالا، جو گائے کے سر کی مانند تھا اور اس کو مال میں رکھ دیا، جو کہ سطح سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: انبیاء میں سے ایک نبی نے جہاد کیا اور اس نے اپنی قوم سے کہا: وہ آدمی میرے ساتھ نہ آئے، جو کسی عورت کی شرمگاہ کا مالک بنا ہو اور خلوت اختیار کرنے کا ارادہ رکھتا ہو، جبکہ اس نے ابھی تک خلوت اختیار نہ کی ہو، ایسا آدمی بھی میرے ساتھ نہ آئے، جس نے کوئی عمارت تعمیر کی ہو، لیکن ابھی تک چھت ڈالنا باقی ہو اور ایسا شخص بھی نہ آئے جس نے بکریاں یا گابھن جانور خریدے ہوں اور وہ ان کے بچے جنم دینے کا انتظار کر رہا ہو، پس وہ نبی جہاد کے لیے چلا اور ایک بستی کے قریب پہنچ گیا، یہ نمازِ عصر کا وقت تھا یا اس کے قریب کا، پس اس نے سورج سے کہا: تو بھی اللہ کے حکم کا پابند ہے اور میں بھی اسی کے حکم کا پابند ہوں، اے اللہ! اس سورج کو کچھ دیر کے لیے روک لے، پس اس کو اس کے لیے روک دیا گیا، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ ان کو فتح عطا کی اور انھوں نے مالِ غنیمت جمع کیا، اس کو کھانے کے لیے آگ تو آئی، لیکن اس نے اس کو کھانے سے انکار کر دیا، یہ منظر دیکھ کر اس نبی نے کہا: تم لوگوں میں خیانت ہے، سو ہر قبیلے میں سے ایک ایک آدمی میری بیعت کرے، پس انھوں نے بیعت کی اور ایک آدمی کا ہاتھ ان کے ہاتھ کے ساتھ چمٹ گیا، اس نبی نے کہا: تم لوگوں میں خیانت ہے، لہذا تمہارا پورا قبیلہ میری بیعت کرے، پس سارے قبیلے نے بیعت کی اور دو تین آدمیوں کے ہاتھ چمٹ گئے، اس نے کہا: تم افراد میں خیانت ہے، تم نے خیانت کی ہے، پس انھوں نے سونا نکالا، جو گائے کے سر کی مانند تھا اور اس کو مال میں رکھ دیا، جو کہ سطح
Takhreej
(۵۰۷۳) آتخریج: أخرجہ البخاری: ۳۱۲۴، ۵۱۵۷، ومسلم: ۱۷۴۷(انظر: ۸۲۳۸)
Explanation
فوائد:… خیانت کی قباحت و شناعت واضح ہو رہی ہے، مزید قیمتی معلومات درج ذیل ہیں:
5073
Sahih
خیانت کے حرام ہونے اور اس میں سختی کا بیان، نیز خائن کا سامانِ سفر جلانے اور لوٹ مار کا بیان
۔ (۵۰۷۴)۔ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ قَالَ: قَامَ فِینَا رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَوْمًا فَذَکَرَ الْغُلُولَ فَعَظَّمَہُ وَعَظَّمَ أَمْرَہُ ثُمَّ قَالَ: ((لَا أُلْفِیَنَّ یَجِیئُ أَحَدُکُمْ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ عَلٰی رَقَبَتِہِ بَعِیرٌ لَہُ رُغَائٌ، فَیَقُولُ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ أَغِثْنِی، فَأَقُولُ: لَا أَمْلِکُ لَکَ شَیْئًا قَدْ أَبْلَغْتُکَ، لَا أُلْفِیَنَّ یَجِیئُ أَحَدُکُمْ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ عَلٰی رَقَبَتِہِ شَاۃٌ لَہَا ثُغَائٌ، فَیَقُولُ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! أَغِثْنِی، فَأَقُولُ: لَا أَمْلِکُ لَکَ شَیْئًا قَدْ أَبْلَغْتُکَ، لَا أُلْفِیَنَّ أَحَدَکُمْ یَجِیئُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ عَلٰی رَقَبَتِہِ فَرَسٌ لَہُ حَمْحَمَۃٌ، فَیَقُولُ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! أَغِثْنِی، فَأَقُولُ: لَا أَمْلِکُ لَکَ شَیْئًا قَدْ أَبْلَغْتُکَ، لَا أُلْفِیَنَّ یَجِیئُ أَحَدُکُمْ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ عَلٰی رَقَبَتِہِ نَفْسٌ لَہَا صِیَاحٌ، فَیَقُولُ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! أَغِثْنِی، فَأَقُولُ: لَا أَمْلِکُ لَکَ شَیْئًا قَدْ أَبْلَغْتُکَ، لَا أُلْفِیَنَّ یَجِیئُ أَحَدُکُمْ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ عَلٰی رَقَبَتِہِ رِقَاعٌ تَخْفِقُ، فَیَقُولُ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! أَغِثْنِی، فَأَقُولُ: لَا أَمْلِکُ لَکَ شَیْئًا قَدْ أَبْلَغْتُکَ لَا أُلْفِیَنَّ، یَجِیئُ أَحَدُکُمْ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ عَلٰی رَقَبَتِہِ صَامِتٌ، فَیَقُولُ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! أَغِثْنِی، فَأَقُولُ: لَا أَمْلِکُ لَکَ شَیْئًا قَدْ أَبْلَغْتُکَ۔)) (مسند أحمد: ۹۴۹۹)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہمارے اندر کھڑے ہوئے اور خیانت کا ذکر اور اس کے معاملے کو بڑا اور سنگین کر کے پیش کیا اور پھر فرمایا: میں تم میں سے کسی کو اس حالت میں ہر گز نہ پاؤں کہ وہ قیامت کے دن اس طرح آئے کہ اس کی گردن پر بلبلاتا ہوا اونٹ ہو اور وہ یہ کہہ رہا ہو: اے اللہ کے رسول! میری مدد کرو، میں جواباً کہہ دوں گا کہ میں تیرے لیے کسی چیز کا مالک نہیں ہوں، میں نے تجھے پیغام پہنچا دیا تھا، میں تم میں سے کسی کو اس حال میں ہر گز نہ پاؤں کہ وہ روزِ قیامت اس طرح آئے کہ اس کی گردن پر مماتی ہوئی بکری ہو اور وہ کہہ رہا ہو: اے اللہ کے رسول! میری مدد کرو، میں کہوں گا: میں تیرے لیے کوئی اختیار نہیں رکھتا، میں نے تجھے پیغام پہنچا دیا تھا، میں تم میں سے کسی کو اس حال میں ہر گز نہ پاؤں کہ وہ قیامت کے روز اس طرح آئے کہ اس کی گردن پر گھوڑا ہو، جو ہنہنا رہا ہو اور وہ آدمی کہہ رہا ہو: اے اللہ کے رسول! میری مدد کرو، میں تو کہہ دوں گا کہ میں تیرے لیے کسی چیز کامالک نہیں ہوں، میں نے تو اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچا دیا تھا،میں تم میں کسی کو قیامت کے دن ہر گز اس حالت میں نہ پاؤں کہ اس کی گردن پر چیختی ہوئی کوئی جان ہو اور وہ کہہ رہا ہو: اے اللہ کے رسول! میری مدد کر دو، میں کہہ دوں گا کہ میں تیرے حق میں کسی اختیار کا مالک نہیں ہوں، میں نے پیغام پہنچا دیا تھا، میں روزِ قیامت کسی کو اس حال میں نہ دیکھوں کہ وہ اس دن اس طرح آئے کہ اس کی گردن پر کپڑوںکے ٹکڑے ہوں، جو ہل رہے ہوں اور وہ کہہ رہا ہو: اے اللہ کے رسول! میری مدد کر دو، میں کہہ دوں گا کہ میں تیرے لیے کسی چیز کا مالک نہیں ہوں، میں نے تجھے پیغام پہنچا دیا تھا اور میں کسی کو اس حالت میں نہ پاؤں کہ وہ روزِ قیامت اس حال میں آئے کہ اس کے کندھے پر سونا اور چاندی ہو اور وہ کہہ رہا ہو: اے اللہ کے رسول! میری مدد تو کر دو، میں کہوں گا: میں تیری لیے کسی چیز کامالک نہیں ہوں، میں نے تجھے متنبہ کر دیا تھا۔
Takhreej
(۵۰۷۴) تخریج: أخرجہ البخاری: ۳۰۷۳، ومسلم: ۱۸۳۱(انظر: ۹۵۰۳)
5074
Sahih
خیانت کے حرام ہونے اور اس میں سختی کا بیان، نیز خائن کا سامانِ سفر جلانے اور لوٹ مار کا بیان
۔ (۵۰۷۵)۔ حَدَّثَنِی عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: لَمَّا کَانَ یَوْمُ خَیْبَرَ، أَقْبَلَ نَفَرٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالُوْا: فُلَانٌ شَہِیدٌ، فُلَانٌ شَہِیدٌ حَتّٰی مَرُّوْا عَلٰی رَجُلٍ فَقَالُوْا فُلَانٌ شَہِیدٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((کَلَّا إِنِّی رَأَیْتُہُ فِی النَّارِ فِی بُرْدَۃٍ غَلَّہَا أَوْ عَبَائَ ۃٍ، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((یَا ابْنَ الْخَطَّابِ اذْہَبْ فَنَادِ فِی النَّاسِ أَنَّہُ لَا یَدْخُلُ الْجَنَّۃَ إِلَّا الْمُؤْمِنُونَ۔)) قَالَ: فَخَرَجْتُ فَنَادَیْتُ أَلَا إِنَّہُ لَا یَدْخُلُ الْجَنَّۃَ إِلَّا الْمُؤْمِنُونَ۔ (مسند أحمد: ۲۰۳)
۔ سیدنا عمر بن خطاب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ جب خیبر کا دن تھا اور صحابۂ کرام کا ایک گروہ آیا اور اس نے کہا: فلاں شہید ہے، فلاں شہید ہے، اسی اثناء میں وہ ایک اور مقتول کے پاس سے گزرے اور اس کے بارے میں بھی یہی کہا کہ وہ شہید ہے، لیکن رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ہر گز نہیں، میں نے اس کو اس دھاری دار چادر یا چوغے کی وجہ سے آگ میں دیکھا، جو اس نے خیانت کی تھی۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے ابن خطا ب! جاؤ اور لوگوں میں یہ اعلان کر دو کہ جنت میں صرف مومن داخل ہوں گے۔ پس میں وہاں سے نکل پڑا اور یہ اعلان کیا کہ خبردار! جنت میں صرف مومن داخل ہوں گے۔
Takhreej
(۵۰۷۵) تخریج: أخرجہ مسلم: ۱۱۴(انظر: ۲۰۳)
5075
Sahih
خیانت کے حرام ہونے اور اس میں سختی کا بیان، نیز خائن کا سامانِ سفر جلانے اور لوٹ مار کا بیان
۔ (۵۰۷۶)۔ عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ، أَنَّہُ کَانَ مَعَ مَسْلَمَۃَ بْنِ عَبْدِ الْمَلِکِ فِی أَرْضِ الرُّومِ، فَوُجِدَ فِی مَتَاعِ رَجُلٍ غُلُولٌ، فَسَأَلَ سَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللّٰہِ، فَقَالَ حَدَّثَنِی عَبْدُ اللّٰہِ، عَنْ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَنْ وَجَدْتُمْ فِی مَتَاعِہِ غُلُولًا فَأَحْرِقُوہُ۔)) قَالَ: وَأَحْسَبُہُ قَالَ: وَاضْرِبُوہُ، قَالَ: فَأَخْرَجَ مَتَاعَہُ فِی السُّوقِ، قَالَ: فَوَجَدَ فِیہِ مُصْحَفًا، فَسَأَلَ سَالِمًا فَقَالَ: بِعْہُ وَتَصَدَّقْ بِثَمَنِہِ۔ (مسند أحمد: ۱۴۴)
۔ سالم بن عبد اللہ سے مروی ہے کہ روم کے علاقے میں مسلمہ بن عبد الملک کے ساتھ تھے، ایک آدمی کے سامان میں خیانت والا مال بھی پایا گیا، مسلمہ نے اس کے بارے میں سالم بن عبد اللہ سے سوال کیا، انھوں نے کہا: مجھے سیدنا عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے بیان کیا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم جس کے سامان میں خیانت والا مال پاؤ، اس کے سامان کو جلا دو۔ راوی کہتا ہے: میرا خیال ہے کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یہ بھی فرمایا تھا کہ اس کی پٹائی بھی کرو، پس جب انھوں نے اس کا سامان بازار میںنکالا، لیکن جب دیکھا کہ اس میں ایک مصحف بھی ہے تو انھوں نے پھر سالم سے سوال کیا، جس کے جواب میں انھوں نے کہا کہ اس کو بیچ کر اس کی قیمت صدقہ کر دو۔
Takhreej
(۵۰۷۶) تخریج: اسنادہ ضعیف لضعف صالح بن محمد بن زائدۃ، أخرجہ ابوداود: ۲۷۱۳، والترمذی: ۱۴۶۱(انظر: ۱۴۴)
5076
Zaeef
خیانت کے حرام ہونے اور اس میں سختی کا بیان، نیز خائن کا سامانِ سفر جلانے اور لوٹ مار کا بیان
۔ (۵۰۷۷)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، وَکَانَ عَلٰی رَحْلِ، وَقَالَ مَرَّۃً: عَلٰی ثَقَلِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم رَجُلٌ یُقَالُ لَہُ: کِرْکِرَۃُ فَمَاتَ، فَقَالَ: ہُوَ فِی النَّارِ، فَنَظَرُوْا فَإِذَا عَلَیْہِ عَبَائَ ۃٌ، قَدْ غَلَّہَا وَقَالَ مَرَّۃً: أَوْ کِسَائٌ قَدْ غَلَّہُ۔ (مسند أحمد: ۶۴۹۳)
۔ سیدناعبد اللہ بن عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ کرکرہ نامی ایک آدمی رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے سامانِ سفر یا آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے اہل و عیال اور ساز و سامان پر مقرر تھا، جب وہ فوت ہوا تو نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کے بارے میں فرمایا: وہ آگ میں ہے۔ جب صحابہ نے اس کا جائزہ لیا تو اس پر ایسا چوغہ پایا، جو اس نے خیانت کیا تھا۔ ایک روایت میں چادر کے الفاظ ہیں۔
Takhreej
(۵۰۷۷) تخریج: أخرجہ البخاری: ۳۰۷۴(انظر: ۶۴۹۳)
5077
Sahih
خیانت کے حرام ہونے اور اس میں سختی کا بیان، نیز خائن کا سامانِ سفر جلانے اور لوٹ مار کا بیان
۔ (۵۰۷۸)۔ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ: قَالُوْا: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! اسْتُشْہِدَ مَوْلَاکَ فُلَانٌ، قَالَ: ((کَلَّا إِنِّی رَأَیْتُ عَلَیْہِ عَبَائَ ۃً غَلَّہَا یَوْمَ کَذَا وَکَذَا۔)) (مسند أحمد: ۱۲۵۵۶)
۔ سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ لوگوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ کا فلاں غلام شہید ہو گیا ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ہر گزنہیں، میں نے اس پر ایک چوغہ دیکھا، جس کی اس نے فلاں دن خیانت کی تھی۔
Takhreej
(۵۰۷۸) تخریج: صحیح لغیرہ، أخرجہ ابن ابی شیبۃ: ۱۲/ ۴۹۲ (انظر: ۱۲۵۲۸)
5078
Sahih
خیانت کے حرام ہونے اور اس میں سختی کا بیان، نیز خائن کا سامانِ سفر جلانے اور لوٹ مار کا بیان
۔ (۵۰۷۹)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ قَالَ: کَانَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم إِذَا أَرَادَ أَنْ یَقْسِمَ غَنِیمَۃً، أَمَرَ بِلَالًا ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ فَنَادٰی ثَلَاثًا، فَأَتٰی رَجُلٌ بِزِمَامٍ مِنْ شَعَرٍ إِلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بَعْدَ أَنْ قَسَمَ الْغَنِیمَۃَ، فَقَالَ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! ہٰذِہِ مِنْ غَنِیمَۃٍ کُنْتُ أَصَبْتُہَا، قَالَ: ((أَمَا سَمِعْتَ بِلَالًا یُنَادِی ثَلَاثًا؟۔)) قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: ((فَمَا مَنَعَکَ أَنْ تَأْتِیَنِی بِہِ؟)) فَاعْتَلَّ لَہُ۔ فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((إِنِّی لَنْ أَقْبَلَہُ حَتّٰی تَکُونَ أَنْتَ الَّذِی تُوَافِینِی بِہِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ۔)) (مسند أحمد: ۶۹۹۶)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مالِ غنیمت تقسیم کرنے کا ارادہ کرتے تو سیدنا بلال ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو حکم دیتے، پس وہ تین بار اعلان کرتے (کہ جس آدمی کے پاس مالِ غنیمت میں سے کوئی چیز ہے تو وہ پیش کر دے)۔ جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مالِ غنیمت کی تقسیم سے فارغ ہوئے تو پھر ایک آدمی وہ ڈوری لے کر آیا جو ناک کے سوراخ میں سے نکال کر باگ سے باندھی جاتی ہے اور اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! یہ بھی مالِ غنیمت میں سے ہے، میں نے لے لی تھی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس سے پوچھا: کیا تو نے سنا نہیں کہ اس کے بارے میں بلال نے تین بار اعلان کیا؟ اس نے کہا: جی ہاں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تو پھر کس چیز نے تجھ کو روک دیا کہ تو اس کو لے کر آئے؟ اس نے عذر تو پیش کیا، لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اب میں ہر گز اس کو قبول نہیں کروں گا اور تو خود اس کو قیامت کے دن پورا پورا ادا کرے گا۔
Takhreej
(۵۰۷۹) تخریج: اسنادہ حسن، أخرجہ أبوداود: ۲۷۱۲(انظر: ۶۹۹۶)
Explanation
فوائد:… جب اس آدمی نے اعلان کے باوجود مالِ غنیمت کی ڈوری پیش نہیں کی اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی اطاعت کرنے میں جلدی نہیں کی تو بعد میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کا عذر قبول نہیں کیا اور اس کو وعید بھی سنا دی۔
5079
Sahih
خیانت کے حرام ہونے اور اس میں سختی کا بیان، نیز خائن کا سامانِ سفر جلانے اور لوٹ مار کا بیان
۔ (۵۰۸۰)۔ عَنْ زَیْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُہَنِیَّ، یُحَدِّثُ أَنَّ رَجُلًا مِنْ الْمُسْلِمِینَ تُوُفِّیَ بِخَیْبَرَ، وَأَنَّہُ ذُکِرَ لِرَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: ((صَلُّوا عَلٰی صَاحِبِکُمْ)) قَالَ: فَتَغَیَّرَتْ وُجُوہُ الْقَوْمِ لِذٰلِکَ، فَلَمَّا رَأَی الَّذِی بِہِمْ، قَالَ: ((إِنَّ صَاحِبَکُمْ غَلَّ فِی سَبِیلِ اللّٰہِ۔)) فَفَتَّشْنَا مَتَاعَہُ فَوَجَدْنَا فِیہِ خَرَزًا مِنْ خَرَزِ الْیَہُودِ، مَا یُسَاوِی دِرْہَمَیْنِ۔ (مسند أحمد: ۱۷۱۵۶)
۔ سیدنا زید بن خالد جہنی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ ایک مسلمان آدمی خیبر کے دن فوت ہو گیا، جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے سامنے اس کا ذکر کیا گیا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم خود اپنے ساتھی کی نمازِ جنازہ ادا کر لو۔ یہ بات سن کر لوگوں کے چہرے فق ہو گئے، جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کی یہ کیفیت دیکھی تو فرمایا: تمہارے ساتھی نے اللہ کی راہ میں خیانت کی ہے۔ پس جب ہم نے اس کے سامان کو کھولا تو یہودیوں کے موتیوں میں سے کچھ موتی اس کے پاس پائے، وہ دو درہم کی قیمت کے تھے۔
Takhreej
(۵۰۸۰) تخریج: اسنادہ محتمل للتحسین، أخرجہ أبوداود: ۲۷۱۰، والنسائی: ۴/۶۴، وابن ماجہ: ۲۸۴۸(انظر: ۱۷۰۳۱)
5080
Zaeef
خیانت کے حرام ہونے اور اس میں سختی کا بیان، نیز خائن کا سامانِ سفر جلانے اور لوٹ مار کا بیان
۔ (۵۰۸۱)۔ عَنْ عِرْبَاضِ بْنِ سَارِیَۃَ أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ یَأْخُذُ الْوَبَرَۃَ مِنْ قُصَّۃٍ مِنْ فَیْئِ اللّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ فَیَقُولُ: ((مَا لِی مِنْ ہٰذَا إِلَّا مِثْلَ مَا لِأَحَدِکُمْ إِلَّا الْخُمُسَ، وَہُوَ مَرْدُودٌ فِیکُمْ، فَأَدُّوا الْخَیْطَ وَالْمِخْیَطَ فَمَا فَوْقَہُمَا، وَإِیَّاکُمْ وَالْغُلُولَ، فَإِنَّہُ عَارٌ وَشَنَارٌ عَلٰی صَاحِبِہِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ۔)) (مسند أحمد: ۱۷۲۸۵)
۔ سیدنا عرباض بن ساریہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مالِ فئے کے بالوں کے ایک گچھے میں سے ایک بال پکڑا اور فرمایا: اس مالِ غنیمت میں سے میرا بھی وہی حصہ ہے، جو تم میں سے کسی ایک کا ہے، ما سوائے خُمُس کے اور وہ بھی تم پر لوٹا دیا جائے گا، لہذا دھاکہ اور سوئی اور ان سے چھوٹی بڑی چیزیں سب کچھ ادا کردو، اور خیانت سے بچو، کیونکہ خیانت قیامت کے دن خائن کے لیے عار وشنار اور عیب و رسوائی کا باعث ہو گی۔
Takhreej
(۵۰۸۱) حدیث حسن لغیرہ، أخرجہ البزار: ۱۷۳۴، والطبرانی فی الکبیر : ۱۸/ ۶۴۹ (انظر: ۱۷۱۵۴)
5081
Sahih

Chapters

53
01
جہاد، رباط اور مجاہدین کی فضیلت جہاد کی فضیلت اور اس کی ترغیب
11 Hadith
02
جہاد کا واجب ہونا اور اس کی رغبت دلانا
8 Hadith
03
اللہ تعالیٰ کی راہ میں رباط اور پہرے کی فضیلت کا بیان
12 Hadith
04
اللہ تعالیٰ کی راہ میں جہاد کرنے والوں کی فضیلت
24 Hadith
05
بحری جہاد کرنے والوں کی فضیلت
4 Hadith
06
جہاد میں نیت کو خالص کرنا اور اس میں اجرت لینے کا بیان
12 Hadith
07
مجاہد کی اعانت، اس کو تیار کرنے، اس کے اہل و عیال کا جانشیں بننے اور اللہ تعالیٰ کے راستے میں خرچ کرنے کی فضیلت
12 Hadith
08
مجاہدوں کی بیویوں کی حرمت اور مجاہد کے اہل کے معاملے میں خیانت کرنے والے کی وعید کا بیان
4 Hadith
09
شہادت اور شہداء کی فضیلت کے ابواب اللہ تعالیٰ کی راہ میں ملنے والی شہادت کی فضیلت
6 Hadith
10
شہداء کی فضیلت
13 Hadith
11
ایسے شخص کا بیان، جو اللہ کی راہ میں شہید ہو جائے اور اس پر قرضہ بھی ہو
4 Hadith
12
اللہ کے راستہ کے شہداء کی اقسام اور ان کی نیتوں کے اعتبار سے ان کے درجات کا بیان
6 Hadith
13
شہداء کا جامع تذکرہ اور اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والوں کے علاوہ شہداء کی اقسام کا بیان
18 Hadith
14
اس بات کا بیان کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے شہید کی وفات پائی
2 Hadith
15
اس آدمی کا بیان جو جہاد کا ارادہ کرے اور اس کے والدین زندہ ہوں
7 Hadith
16
اس چیز کا بیان کہ امام لشکر کے سپہ سالاروں سے مشورہ کرے، ان کی خیرخواہی کرے، ان کے ساتھ نرمی برتے اور ان سے ان کی ذمہ داریاں نبھانے کا عہد لے
3 Hadith
17
اس امر کا بیان کہ لشکر والوں پر ان کے امیر کی اطاعت فرض ہے، جب تک وہ ان کو نافرمانی کا حکم نہ دے اور پڑاؤ ڈالتے وقت بکھر جانے کی کراہت کا بیان
6 Hadith
18
قتال سے پہلے اسلام کی دعوت دینے اور امام کا لشکر کے امیر کو وصیت کرنے کا بیان
6 Hadith
19
لڑائی میں دھوکہ دینے، توریہ کرنے، بات کو چھپانے اور جاسوسوں کو بھیجنے کے جواز کا بیان
7 Hadith
20
سرایا اور جیوش کو ترتیب دینے اور جھنڈوں اور ان کے رنگوں کا اہتمام کرنے کا بیان
4 Hadith
21
مجاہد کو الوداع کہنے، اس کا استقبال کرنے اور امام کا اس کو وصیت کرنے کا بیان
12 Hadith
22
مخصوص اوقات میں غزوہ کے لیے روانہ ہونے کے مستحب ہونے، دشمن سے لڑائی شروع کرنے، صفوں کو ترتیب دینے اور مسلمانوں کے شعار کا بیان
10 Hadith
23
جنگ میں فخر کرنے کے مستحب ہونے اور دشمنوں سے مقابلہ کرنے کی تمنا کرنے اور لشکر کی اکثریت سے دھوکہ کھانے کی ممانعت کا بیان
5 Hadith
24
جس کے ہاں اسلام کی علامت موجود ہو، اس پر شب خون مارنے کے وقت رک جانے کا بیان
2 Hadith
25
اسلام کی معرفت ہو جانے کے بعد لڑائی کرنے والے سے رک جانے، اس کو قتل کر دینے کی وعید اور اس کا کلام نہ سمجھنے کی وجہ سے غلطی سے اس کو قتل کر دینے والے کے عذر کا بیان
8 Hadith
26
کافروں پر اچانک حملہ کرنے کا بیان، اگرچہ اس میں ان کے بچے قتل ہو جائیں
5 Hadith
27
عورتوں، بچوں، پادریوں اور انتہائی بوڑھے لوگوں کو بالارادہ قتل کرنے سے روکنے کا بیان
8 Hadith
28
مثلہ، جلانے، درخت کاٹنے اور عمارتیں گرانے سے ممانعت کا بیان، الا یہ کہ کوئی ضرورت اور مصلحت ہو
9 Hadith
29
لڑائی کے وقت بھاگ جانے کی حرمت کا بیان، الا یہ کہ آدمی نے اپنی جماعت کو ملنا ہو، اگرچہ وہ جماعت دور ہو
3 Hadith
30
فتح والے مقام میں تین دن ٹھہرنے کے مستحب ہونے کا بیان
2 Hadith
31
اس امر کا بیان کہ غنیمت کا حلال ہونانبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اور آپ کی امت کے خصائص میں سے ہے اور تقسیم سے قبل غنیمت سے متعلقہ احکام کاذکر
9 Hadith
32
جس جس عامل نے میدان جنگ میں اپنی طاقت کے بقدر کام کیا،ان میں برابری کے ساتھ مالِ غنیمت تقسیم کرنے کا بیان
4 Hadith
33
غنیمت کے خُمُس کا اللہ اور اس کے رسول کے لیے فرض ہونے اور اس کی تقسیم کا بیان
9 Hadith
34
غنیمت کے پانچ حصوں میں چار حصوں کی تقسیم، گھوڑ سوار اور پیادہ کا حق اور خاتون اور غلام وغیرہ کو معمولی مقدار میںعطیہ دینا
9 Hadith
35
اس چیز کا بیان کہ سلب قاتل کا ہو گا اور اس میں سے خُمُس نہیں لیا جائے گا
9 Hadith
36
لشکر کے بعض افراد کو اس بنا پر زائد حصہ دینے کا بیان کہ انھوں نے لڑائی لڑی یا مشکلات کو برداشت کیا
2 Hadith
37
لشکر کے سریہ کو زائد حصہ دینے اور پھر ان دونوں کو غنیمت میں شریک کرنے کا بیان
6 Hadith
38
مالِ فے کے مصرف کا بیان
6 Hadith
39
تالیف ِ قلبی کے لیے دینے کا بیان
2 Hadith
40
امیر اور عامل کے تحائف
2 Hadith
41
خیانت کے حرام ہونے اور اس میں سختی کا بیان، نیز خائن کا سامانِ سفر جلانے اور لوٹ مار کا بیان
12 Hadith
42
قیدیوں کے حق میں احسان کرنے، ان سے فدیہ لینے اور ان سے متعلقہ دوسرے احکام کے ابواب ہوازن کے وفود پر ان کے قیدیوں کے معاملے میں احسان کرنے کا باب
2 Hadith
43
سیدنا عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی قید اور فدیے اور اس معاملے میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ایک معجزے کا بیان
2 Hadith
44
اس آدمی کا بیان جس نے اپنے باپ کے فدیے میں چار ہزار درہم دیئے
3 Hadith
45
سیدہ زینب بنت رسول ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے خاوند سیدنا ابو العاص کا فدیہ
1 Hadith
46
ایک مشرک کے فدیے میں دو مسلمان لینے کا بیان ان قیدیوں کا بیان جنھوں نے اپنے فدیے میں انصاریوں کے بچوں کو کتابت کی تعلیم دی
4 Hadith
47
بدر کے قیدیوں کے فدیے اور اس کی وجہ سے نازل ہونے والے قرآن کا بیان
3 Hadith
48
ان امور سے ممانعت کابیان: احتلام ہونے یا زیر ناف بالوں کے اگنے سے پہلے قیدی کو قتل کرنا، دوسرے کے قیدی کو قتل کرنا، قیدیوں میں والدہ اور اس کی اولاد میں تفریق ڈالنا، حاملہ قیدی خواتین سے جماع کرنا اور قیدی کو باندھ کر مارنا
10 Hadith
49
اس قیدی کا بیان جو قید سے پہلے قبولیت ِ اسلام کا دعوی کر دے، نیز اسلام قبول کرنے والے قیدی کی فضیلت کا بیان
4 Hadith
50
مسلمان ہونے والے قیدی کا مسلمانوں کی ملکیت میں ہی رہنے کا اور عربوں کو غلام بنانے کے جواز کا بیان
3 Hadith
51
اس چیز کا بیان کہ جاسوس کے ساتھ کیا کیا جائے، وہ مسلمان ہو یا حربی یا ذمی
3 Hadith
52
اس چیز کا بیان کہ جب کافر کا غلام مسلمان ہو کر ہمارے پاس آ جائے تو وہ آزاد ہو گا
4 Hadith
53
اس چیز کا بیان کہ اگر حربی قابو میں آنے سے پہلے مسلمان ہو گیا تو اپنے مال کو بچا لے گا، نیز غنیمت والی زمین کا حکم
6 Hadith
No chapter matched that.