۔ سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کوئی آدمی اپنے بھائی کے قیدی کے درپے نہ ہو کہ وہ اس کو قتل کر دے۔
Takhreej
(۵۱۰۲) تخریج: اسنادہ ضعیف لضعف بقیۃ بن الولید، واسحاق بن ثعلبۃ، ثم ھو منقطع، فمکحول الشامی لم یسمع من سمرۃ، أخرجہ الطبرانی فی الکبیر : ۷۰۹۹(انظر: ۲۰۲۰۱ )
۔ ابو عبد الرحمن حُبُلی سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم (روم کے علاقوں میں) سمندری جہاد کر رہے تھے، عبد اللہ بن قیس فزاری ہمارے امیر تھے اور سیدنا ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ بھی ہمارے ساتھ تھے، جس آدمی نے مالِ غنیمت تقسیم کرنا تھا، سیدنا ابو ایوب رضی اللہ عنہ اس کے پاس سے گزرے، اس نے قیدیوں کو کھڑا کیا ہوا تھا اور ان میں ایک خاتون رو رہی تھی، انھوں نے کہا: اس کو کیا ہوا ہے؟ لوگوں نے بتایا کہ مسلمانوں نے اس کے اور اس کے بچے کے ما بین جدائی ڈال دی ہے، پس سیدنا ابو ایوب رضی اللہ عنہ نے اس کے بچے کا ہاتھ پکڑا اور اس کو اس کی ماں کو پکڑا دیا، یہ دیکھ تقسیم کرنے والا عبد اللہ بن قیس کے پاس گیا اور اس سے شکایت کی، انھوں نے سیدنا ابو ایوب رضی اللہ عنہ کو بلایا اور پوچھا: کس چیز نے تمہیں ایسا کرنے پر آمادہ کیا ہے؟ انھوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ جس نے والدہ اور اس کے بچے کے مابین تفریق ڈالی، اللہ تعالیٰ روزِ قیامت اس کے اور اس کے محبوبوں کے درمیان تفریق ڈال دے گا۔
فوائد:… ایسے لگتا ہے کہ یہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے زمانے میں رومیوں سے کیا جانا والا ایک غزوہ ہے، جبکہ رومیوں سے کئی لڑائیاں ہوئی تھیں، ایک لڑائی میں سیدنا ابو ایوب انصاری فوت ہو گئے تھے، ان کو قسطنطنیہ میں دفن کیا گیا تھا۔ اب قسطنطنیہ کو استنبول کہتے ہیں، یہ ترکی میں واقع ہے۔
۔ سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس قیدی لائے جاتے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (آپس میں قرابت والے) قیدی ایک گھر والوں کو دے دیتے، اس چیز کو ناپسند کرتے ہوئے کہ ان کے درمیان جدائی ہو جائے۔
Takhreej
(۵۱۰۴) تخریج: حسن لغیرہ، أخرجہ ابن ماجہ: ۲۲۴۸(انظر: ۳۶۹۰)
Explanation
فوائد:… سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: أَمَرَنِیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم أَنْ اَبِیْعَ غُلَامَیْنِ أَخَوَیْنِ فَبِعْتُہُمَا فَفَرَّقْتُ بَیْنَہُمَا فَذَکَرْتُ ذٰلِکَ لِلنَّبِیِّ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فَقَالَ: ((أَدْرِکْہُمَا فَأَرْجِعْہُمَا وَلَا تَبِعْہُمَا اِلَّا جَمِیْعًا)) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے دو غلاموں کو بیچنے کا حکم دیا، وہ دو آپس میں بھائی تھے، میں
۔ سیدنا رویفع بن ثابت انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حنین والے دن ہمارے درمیان کھڑے ہوئے اور فرمایا: اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھنے والے آدمی کے لیے حلال نہیں ہے کہ وہ اپنا پانی دوسرے کی کھیتی کو پلائے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مراد یہ تھی کہ حاملہ قیدی خواتین سے مخصوص تعلق قائم نہ کیا جائے، نیز آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ بھی حلال نہیں ہے کہ آدمی خاوند والی قیدی خاتون سے مباشرت کرے، جب تک استبرائے رحم نہ کر لے، یعنی جب وہ ایسی خاتون خریدے تو استبرائے رحم سے پہلے اس سے خاص تعلق قائم نہ کرے، اور یہ بھی حلال نہیں ہے کہ آدمی تقسیم سے پہلے مالِ غنیمت کو بیچ دے۔
۔ سیدنا رویفع بن ثابت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے منع فرمایا کہ لونڈی سے اس کا حیض آنے تک اور حاملہ سے اس کا بچہ پیدا ہونے تک مباشرت کی جائے۔
فوائد:… اگر کسی آدمی کو حاملہ قیدی خاتون یا ایسی عورت مل جاتی ہے، جس سے مباشرت کی جاتی رہی، یا کوئی ایسی خواتین خرید لیتا ہے، تو اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ حاملہ قیدی کا بچہ پیدا ہونے تک انتظار کرے اور غیر حاملہ خاتون کا حیض آنے کا انتظار کرے، تاکہ پتہ چل جائے کہ رحم خالی ہے یا نہیں۔
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ آدمی ہم میں سے نہیں ہے، جو حاملہ لونڈی سے مباشرت کرتا ہے۔
۔ سیدنا ابو درداء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خیمے کے دروازے پر یا اس کے ایک کونے میں ایسی خاتون دیکھی، جس کا بچہ جنم دینے کا وقت لگ رہا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: شاید اس کا مالک اس سے مباشرت کرتا ہو؟ لوگوں نے کہا: جی ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں نے ارادہ کیا کہ اس شخص پر ایسی لعنت کروں، جو اس کے ساتھ اس کی قبر میں بھی گھس جائے، وہ اس کا کیسے وارث بنے گا، جبکہ وہ اس کیلئے حلال نہیں ہے، وہ اس سے کیسے خدمت لے گا، جبکہ وہ اس کیلئے حلال نہیں ہے۔
۔ عبید بن تعلی سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم نے عبد الرحمن بن خالد بن ولید کی قیادت میں غزوہ کیا، ان کے پاس عجمی لوگوں میں چار کافر لائے گئے اور انھوں نے ان کے بارے میں حکم دیا، پس ان کو باندھ کر تیر کے ساتھ قتل کر دیا گیا، جب یہ بات سیدنا ابو ایوب رضی اللہ عنہ کو پتہ چلی تو انھوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سنا تھا کہ آپ باندھ کر قتل کرنے سے منع کر رہے تھے۔
Takhreej
(۵۱۰۹) تخریج: المرفوع منہ صحیح لغیرہ، وھذا اسناد ضعیف،فان فیہ علی الصواب بین بکیر بن عبد اللہ وبین ابن تِعلی والدَ بکیر عبدَ اللہ بن الاشج وھو مجھول، أخرجہ أبوداود: ۲۶۸۷(انظر: ۲۳۵۹۰)
Explanation
فوائد:… معلوم ایسے ہوتا ہے کہ روم کے علاقے میں لڑا جانے والا غزوۂ قسطنطنیہ ہے، کیونکہ اس کے امیر عبد الرحمن بن خالد تھے، یہ ۴۴ ھ میںپیش آ یا تھا۔
۔ سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب غزوۂ بدر والے دن قیدیوں کو لایا گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ان میں سے کوئی شخص بھاگنے نہ پائے، مگر فدیہ دے کر، یا گردن اتروا کر۔ میں (عبد اللہ) نے کہہ دیا: اے اللہ کے رسول! مگر سہیل بن بیضا، کیونکہ میں نے اس کو قبولیت ِ اسلام کی بات کرتے ہوئے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ بات سن کر خاموش ہو گئے، میں نے اس دن اپنے آپ کو دیکھا کہ مجھے اس چیز سے سب سے زیادہ ڈر لگ رہا تھا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ مجھ پر آسمان سے پتھر گرنے لگ جائیں، (بس اسی کیفیت میں تھا کہ) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ما سوائے سہیل بن بیضاء کے۔
Takhreej
(۵۱۱۰) تخریج: اسنادہ ضعیف لانقطاعہ، ابو عبیدۃ لم یسمع من ابیہ عبد اللہ بن مسعود، أخرجہ الترمذی: ۱۷۱۴، ۳۰۸۴(انظر: ۳۶۳۲)
Explanation
فوائد:… سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے سمجھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے غصے کی وجہ سے خاموشی اختیار کی ہے، اس لیے وہ خوفزدہ ہو گئے، پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کی رائے سے موافقت کی تو وہ مطمئن ہو گئے۔
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ابو القاسم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہمارے ربّ کو ان لوگوں سے تعجب ہوا ہے، جن کو زنجیروں میںجکڑ کر جنت کی طرف لایا جا رہا ہے۔
Takhreej
(۵۱۱۱) تخریج: أخرجہ البخاری: ۳۰۱۰(انظر: ۸۰۱۳)
Explanation
فوائد:… اس حدیث ِ مبارکہ کا مفہوم یہ ہے کہ کچھ لوگوں کو ان کی کفر کی حالت میںقید کیا جائے گا، پھر جب ان کو اسلام کی صحت و حقیقت کا پتہ چلے گا تو وہ بخوشی اسلام قبول کر لیں گے، گویا کہ قید کی مجبوری ان کے اسلام کا سبب بنے گی، لیکن ان کے حق میں اس مجبوری کا انجام جنت کی صورت میںنکلا۔
۔ سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہنس پڑے، کسی نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہا: اے اللہ کے رسول! کس چیز نے آپ کو ہنسا دیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کچھ لوگوں کو اس حال میں جنت کی طرف لایا جا رہا ہے کہ وہ زنجیروں میں جکڑے ہوئے ہیں۔
۔ سیدنا سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں خندق کھودنے کے موقع پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کلہاڑا پکڑا اور اس سے کھدائی شروع کی، اچانک سامنے پتھر آ گیا، اتنے میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہنس پڑے، کسی نے کہا: اے اللہ کے رسول! کس چیز نے آپ کو ہنسا دیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں ان لوگوں کی وجہ سے ہنسا ہوں، جن کو بیڑیاں ڈال کر مشرق سے لایا جا رہا ہے اور ان کو جنت کی طرف چلایا جا رہا ہے۔
۔ سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: بنو ثقیف، بنو عُقیل کے حلیف تھے، بنو ثقیف نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دو صحابہ کو قید کر لیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ نے بنو عقیل کا ایک آدمی گرفتار کر لیا، اس کے ساتھ عَضْبَاء نامی اونٹنی بھی پکڑی گئی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب اس قیدی کے پاس آئے، جبکہ وہ بیڑیوں میں جکڑا ہوا تھا تو اس نے کہا: اے محمد! اے محمد! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تیرا کیا معاملہ ہے؟ اس نے کہا: آپ نے مجھے کیوں پکڑا ہے، آپ نے اس اونٹنی کو کیوں پکڑ لیا، جو حاجیوں کے قافلے سے آگے گزر جاتی تھی؟ وہ اس گرفتاری کو بڑا خیال کر رہا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں نے تجھے تیر حلیف بنو ثقیف کے جرم میں پکڑا ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس سے پھر گئے، لیکن اس نے پھر کہا: اے محمد! اے محمد! چونکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رحم دل اور نرم تھے، اس لیے اس کے پاس آ گئے اور اس سے پوچھا: تجھے کیا ہو گیا ہے ؟ اس نے کہا: میں مسلمان ہو گیا ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر تو یہ بات اس وقت کرتا، جب تو اپنے معاملے کامالک اور آزاد تھا تو تو مکمل طور پر کامیاب ہو جاتا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم چلے گئے، اس نے پھر آواز دی: اے محمد! اے محمد! پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کے پاس تشریف لائے اور پوچھا: کیا ہو گیا ہے تجھے؟ اس نے کہا: جی میں بھوکا ہوں، مجھے کھانا کھلائیے اور میں پیاسا ہوں، مجھے پانی پلائیے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ تیری ضرورت ابھی پوری کر دی جاتی ہے۔ اس قیدی کے فدیے میں دو آدمی لیے گئے تھے۔
Takhreej
(۵۱۱۴) تخریج: أخرجہ مسلم: ۱۶۴۱(انظر: ۱۹۸۹۴)
Explanation
فوائد:… اگر تو یہ بات اس وقت کرتا، جب تو اپنے معاملے کامالک …۔ یعنی اگر وہ قیدی بننے سے پہلے مسلمان ہو جاتا تو اس کو آزاد مسلمان سمجھا جاتا اور وہ کامل فلاح پا جاتا، قیدی ہو جانے کے بعدمسلمان ہونا، ظاہر ہے کہ یہ بھی سعادت ہی ہے، لیکن غلامی برقرار رہے گی۔
۔ ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بنو مصطلق کے قیدی تقسیم کیے تو جویریہ بنت حارث، سیدنا ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ یا ان کے چچا زاد بھائی کے حصے میں آئی اور پھر اس نے ان سے مکاتبت بھی کر لی، یہ بڑی ہی خوب رو خاتون تھی، کوئی بھی اسے دیکھتا تو وہ اسے اپنی طرف مائل کر لیتی، پس وہ اپنی مکاتبت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے مدد لینے کے لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پاس آئی، اللہ کی قسم! جب میں (عائشہ) نے اس کو اپنے حجرے کے دروازے پر دیکھا تو میں نے اس کے آنے کو ناپسند کیا اور میں جان گئی کہ جو چیز میں دیکھ رہی ہوں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نظر بھی اسی چیز پر پڑے گی، پس جب وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئی اور کہا: اے اللہ کے رسول! میں جویریہ بنت حارث بن ابی ضرار ہوں، میرے باپ اپنی قوم کے سردار ہیں اور میں ایسی آزمائش میں پھنس گئی ہوں کہ اس کا معاملہ آپ پر بھی واضح ہے، میں سیدنا ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ یا ان کے چچا زاد بھائی حصے میں آئی ہوں اور میں نے ان سے مکاتبت کر لی ہے، اب میں آپ کے پاس آئی ہوں، تاکہ آپ مکاتبت پر میرا تعاون کریں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اچھا یہ بتاؤ کہ کیا تمہیں اس سے بہتر چیز کی رغبت ہے؟ اس نے کہا: جی وہ کیا؟ اے اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں تمہاری مکاتبت کی قیمت ادا کر کے تم سے شادی کر لیتا ہوں۔ اس نے کہا: جی ہاں، اے اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تحقیق میں نے ایسے ہی کر دیا ہے۔ اتنے میں لوگوں تک یہ خبر پہنچ گئی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدہ جویریہ رضی اللہ عنہا سے شادی کر لی ہے، لوگوں نے کہا: بنو مصطلق، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سسرال بن گئے ہیں، پس اس وجہ سے انھوں نے وہ غلام اور لونڈیاں آزاد کر دیں، جو ان کے ہاتھ میں تھے، سیدہ جویریہ رضی اللہ عنہا کی اس شادی کی وجہ سے بنو مصطلق کے سو گھرانوں کے افراد کو آزاد کیا گیا، میں ایسی کوئی خاتون نہیں جانتی جو اپنی قوم کے لیے سب سے زیادہ برکت والی ثابت ہوئی ہو، ما سوائے سیدہ جویریہ رضی اللہ عنہا کے۔
۔ سیدنا ابو رافع رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے (زخمی ہونے کے بعد) سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کے ساتھ ٹیک لگائی ہوئی تھی اور ان کے پاس سیدنا ابن عمر اور سیدنا سعید بن زید رضی اللہ عنہما بھی بیٹھے ہوئے تھے، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: تم سب لوگ جان لو کہ میں نے کلالہ کے بارے میں کوئی رائے نہیں دی، اپنے بعد کسی ایک کو خلیفہ مقرر نہیں کیا اور عرب کے جو قیدی میری ملکیت میں میری وفات پا لیں، وہ اللہ تعالیٰ کے لیے آزاد ہوں گے۔
Takhreej
(۵۱۱۶) تخریج: اسنادہ ضعیف لضعف علی بن زید بن جدعان (انظر: ۱۲۹)
۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے، سیدنا زبیر اور سیدنا مقدار کو بھیجا اور فرمایا: تم چلو، یہاں تک کہ روضۂ خاخ تک پہنچ جاؤ، وہاں ایک مسافر خاتون کے پاس ایک خط ہو گا، وہ خط اس سے لے لو۔ سو ہم چل پڑے، ہمارے گھوڑے دوڑتے گئے، یہاں تک کہ ہم اس روضہ کے پاس پہنچے، وہاں تو واقعی ایک خاتون موجود تھی، ہم نے اس سے کہا: خط نکال دے، اس نے کہا: میرے پاس تو کوئی خط نہیں ہے، ہم نے کہا: خط نکال دے، وگرنہ ہم تیرے کپڑے اتار دیں گے، یہ سن کر اس نے اپنے بالوں کی لٹ سے خط نکال دیا، ہم نے وہ لیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس پہنچ گئے، اس خط میں یہ عبارت لکھی ہوئی تھی: یہ خط حاطب بن ابو بلتعہ کی طرف سے مکہ کے مشرکوں کی طرف ہے، …۔ وہ ان کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعض امور کی خبر دے رہے تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے حاطب! یہ کیا ہے؟ انھوں نے کہا: مجھ پر جلدی نہ کرنا (میں تفصیل بتاتا ہوں)، بات یہ ہے کہ میں معاہدے کی بنا پر قریشیوں سے ملا ہوا تھا اور میں ان میں سے نہیں تھا، آپ کے ساتھ جو مہاجرین ہیں، ان کی قریشیوں سے رشتہ داریاں ہیں، جن کی وجہ سے وہ مکہ میں ان کے رشتہ داروں کی حفاظت کرتے ہیں، جب میں نے دیکھا کہ قریشیوں سے میرا نسب تو ملتا نہیں ہے، اس لیے میں نے سوچا کہ اگر میں ان پر کوئی ایسا احسان کر دوں کہ جس کی وجہ سے وہ میرے رشتہ داروں کی بھی حفاظت کریں (اس مقصد کے لیے میں نے یہ کام کیا ہے)، نہ میں نے یہ کاروائی کفر کرتے ہوئے کی، نہ اپنے دین سے مرتد ہوتے ہوئے اور نہ اسلام کے بعد کفر کو پسند کرتے ہوئے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک شان یہ ہے کہ اس آدمی نے تم سے سچ بولا ہے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: چھوڑیئے مجھے، میں اس منافق کی گردن اتار پھینکوں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ بدر میں حاضر ہوا تھا، اور تجھے پتہ نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اہل بدر کی طرف جھانکا اور کہا: آج کے بعد جو چاہو کر گزرو، میں نے تم کو معاف کر دیا ہے۔
۔ سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک مقام پر پڑاؤ ڈالا، اتنے میں مشرکوں کا ایک جاسوس پہنچ گیا، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آپ کے صحابہ دوپہر کا کھانا کھا رہے تھے، صحابۂ کرام نے اس کو کھانے کی طرف بلایا، جب وہ کھانے سے فارغ ہوا تو اپنی سواری پر سوار ہوا اور جلدی سے واپس ہونا شروع کر دیا، دراصل وہ اپنے ساتھیوں کو متنبہ کرنا چاہتا تھا۔ سیدنا سلمہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں اس کے پیچھے دوڑا اور اس کو پا لیا اور اس کے اونٹ کو بٹھا کر اس کی گردن قلم کر دی، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کا سلب مجھے بطورِ غنیمت دے دیا۔
فوائد:… یہ غزوۂ ہوازن و غطفان کا واقعہ ہے۔ صحیح بخاری کی روایت کے الفاظ یہ ہیں: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس شخص کے بارے میں حکم دیا: ((اُطْلُبُوْہُ وَاقْتُلُوْہُ۔)) … اس کو تلاش کر کے قتل کر دو۔
۔ سیدنا فرات بن حیان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو قتل کرنے کا حکم دیا، وہ ابو سفیان کا جاسوس اور حلیف تھا، بعد میں جب وہ انصاریوںکی ایک مجلس کے پاس سے گزرا تو اس نے کہا: بیشک میں تو مسلمان ہوں، جب انصار نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بتلایا کہ وہ تو کہتا ہے کہ وہ مسلمان ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک تم میں بعض افراد ایسے ہیں کہ ہم ان کو ان کے ایمان کے سپرد کرتے ہیں، ان میں سے ایک فرات بن حیان بھی ہے۔
فوائد:… غزوۂ خندق کے موقع پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا فرات رضی اللہ عنہ کو قتل کرنے کا حکم دیا تھا، پھر یہ مسلمان ہو گئے تھے اور بہترین مسلمان بن گئے تھے، بعد میں انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف ہجرت کی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تمام غزووں میں شرکت کی، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وفات پا گئے تو انھوں نے کوفہ میںسکونت اختیار کر لی تھی۔
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جو غلام اپنے مالکوں سے پہلے مسلمان ہو کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس پہنچ جاتے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کو آزاد کر دیتے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے طائف والے دن اس طرح کے دو آدمیوں کو آزاد کیا تھا۔
Takhreej
(۵۱۲۰) تخریج: حسن لغیرہ، أخرجہ ابن ابی شیبۃ: ۱۲/ ۵۱۱، وابویعلی: ۲۵۶۴،والطبرانی: ۱۲۰۷۹، والدارمی: ۲۵۰۸ (انظر: ۲۱۱۱)
۔ (دوسری سند) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اہل طائف کا محاصرہ کر لیا، ان کے دو غلام آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس پہنچ گئے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو آزاد کر دیا، ان میں سے ایک سیدنا ابو بکرہ رضی اللہ عنہ تھے۔ ویسے جب بھی غلام مسلمان ہو کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آتے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کو آزاد کر دیتے تھے۔