TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

جہاد کے مسائل - جہاد کے مسائل - Book 77 of Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Book 77 of Musnad Ahmad, with 53 chapters and 348 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.

348 Hadith · 53 Chapters
جہاد میں نیت کو خالص کرنا اور اس میں اجرت لینے کا بیان
۔ (۴۸۴۲)۔ عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ، عَنْ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنَّہُ قَالَ: ((الْغَزْوُ غَزْوَانِ، فَأَمَّا مَنْ ابْتَغٰی وَجْہَ اللّٰہِ وَأَطَاعَ الْإِمَامَ،وَأَنْفَقَ الْکَرِیمَۃَ وَیَاسَرَ الشَّرِیکَ وَاجْتَنَبَ الْفَسَادَ،فَإِنَّ نَوْمَہُ وَنُبْہَہُ أَجْرٌ کُلُّہُ، وَأَمَّا مَنْ غَزَا فَخْرًا وَرِیَائً وَسُمْعَۃً وَعَصَی الْإِمَامَ وَأَفْسَدَ فِی الْأَرْضِ فَإِنَّہُ لَمْ یَرْجِعْ بِالْکَفَافِ۔)) (مسند أحمد: ۲۲۳۹۲)
۔ سیدنا معاذ بن جبل ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جہاد کی دو قسمیں ہیں، (۱) جو آدمی اللہ تعالیٰ کی رضامندی تلاش کرتا ہے، امیر کی اطاعت کرتا ہے، عمدہ مال خرچ کرتا ہے، اپنے ساتھی پر آسانی کرتا ہے اور فساد سے گریز کرتا ہے، ایسے آدمی کا سونا اور جاگنا، غرضیکہ ہر چیز باعث ِ اجر ہے۔ (۲) جس نے فخر اور ریاکاری کرتے ہوئے جہاد کیا، امیر کی نافرمانی کی اور زمین میں فساد برپا کیا، وہ تو برابر سرابر بھی نہیں لوٹے گا۔
Takhreej
(۴۸۴۲) تخریج: اسنادہ ضعیف، بقیۃ بن الولید لیس بالقوی، وھو مدلس تدلیس التسویۃ، أخرجہ أبوداود: ۲۵۱۵، والنسائی: ۶/ ۴۹(انظر: ۲۲۰۴۲)
Explanation
فوائد:… آخری جملے کا مفہوم یہ ہے کہ اس نے اس سفر میں جتنی برائیاں کی ہیں، وہ اس کے اس سفر کی نیکیوں سے زائد ہیں۔
4842
Zaeef
جہاد میں نیت کو خالص کرنا اور اس میں اجرت لینے کا بیان
۔ (۴۸۴۳)۔ عَنْ عُبَادَۃَ بْنِ الصَّامِتِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌: أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَنْ غَزَا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ وَہُوَ لَا یَنْوِیْ فِیْ غَزَاتِہٖ اِلَّا عِقَالًا فَلَہٗ مَا نَوٰی)) (مسند أحمد: ۲۳۰۶۸)
۔ سیدنا عبادہ بن صامت ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس نے راہِ خدا میں جہاد کیا، جبکہ اس کی نیت صرف ایک رسی کا حصول تھا تو اس کو وہی کچھ ملے گا، جو اس نے نیت کی ہو گی۔
Takhreej
(۴۸۴۳) تخریج: حسن لغیرہ، أخرجہ النسائی: ۶/ ۲۴(انظر: ۲۲۶۹۲)
Explanation
فوائد:… عِقَال اس رسی کو کہتے ہیں، جس کے ذریعے اونٹ کا گھٹنا باندھا جاتا ہے۔
4843
Sahih
جہاد میں نیت کو خالص کرنا اور اس میں اجرت لینے کا بیان
۔ (۴۸۴۴)۔ عَنْ أَبِیْ مُوْسَی الْأَشْعَرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: جَائَ رَجُلٌ اِلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! رَأَیْتَ الرَّجُلَ یُقَاتِلُ شُجَاعَۃً، وَیُقَاتِلُ حَمْیَۃً، وَیُقَاتِلُ رِیَائً، فَأَیُّ ذٰلِکَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ؟ قَالَ: فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنْ قَاتَلَ لِتَکُوْنَ کَلِمَۃُ اللّٰہِ ہِیَ الْعُلْیَا، فَہُوَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ۔)) (مسند أحمد: ۱۹۷۷۲)
۔ سیدنا ابو موسی اشعری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا اور اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! ایک آدمی بہادری کا اظہار کرنے کے لیے، ایک حمیت کی خاطر اور ایک ریاکاری کرنے کے لیے قتال کرتا ہے، ان میں راہِ خدا میں کون سا ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو آدمی اس مقصد کے لیے قتال کرے گا کہ اللہ تعالیٰ کا کلمہ بلند ہو جائے، وہ اللہ تعالیٰ کے راستے میں ہو گا۔
Takhreej
(۴۸۴۴) تخریج: أخرجہ البخاری: ۷۴۵۸، ومسلم: ۱۹۰۴(انظر: ۱۹۵۴۳)
Explanation
فوائد:… اللہ تعالیٰ کے کلمے سے مراد اس کا پیغام اور دین ہے، اگرچہ ہر نیک عمل میں اخلاص نیت کی حیثیت کلیدی ہے، لیکن یہ حدیث ِ مبارکہ مجاہد کے قصد کی سمت کا تعین کرنے کے لیے کافی ہے۔
4844
Sahih
جہاد میں نیت کو خالص کرنا اور اس میں اجرت لینے کا بیان
۔ (۴۸۴۵)۔ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ أَنَّ رَجُلًا قَالَ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! الرَّجُلُ یُرِیدُ الْجِہَادَ فِی سَبِیلِ اللّٰہِ، وَہُوَ یَبْتَغِی عَرَضَ الدُّنْیَا؟ فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَا أَجْرَ لَہُ۔)) فَأَعْظَمَ النَّاسُ ذٰلِکَ وَقَالُوْا لِلرَّجُلِ: عُدْ إِلٰی رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لَعَلَّہُ لَمْ یَفْہَمْ، فَعَادَ فَقَالَ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ الرَّجُلُ یُرِیدُ الْجِہَادَ فِی سَبِیلِ اللّٰہِ، وَہُوَ یَبْتَغِی عَرَضَ الدُّنْیَا؟، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَا أَجْرَ لَہُ۔)) ثُمَّ عَادَ الثَّالِثَۃَ فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَا أَجْرَ لَہُ)) (مسند أحمد: ۷۸۸۷)
۔ سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! ایک آدمی جہاد فی سبیل اللہ کا ارادہ کرتا ہے، لیکن وہ بیچ میں دنیا کا ساز و سامان بھی حاصل کرنا چاہتا ہے؟ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس کے لیے کوئی اجر نہیں ہے۔ جب لوگوں پر یہ بات گراں گزری تو انھوں نے اس آدمی سے کہا: تو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے دوبارہ سوال کر، شاید آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تیرا سمجھ نہیں پائے، اس نے دوبارہ سوال کیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! میں کہہ رہا ہوں کہ ایک آدمی جہاد فی سبیل اللہ کا ارادہ کرتا ہے، لیکن وہ دنیوی ساز و سامان بھی تلاش کرنا چاہتا ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس کے لیے کوئی اجر نہیں ہے۔ اس آدمی تیسری بار سوال دوہرا دیا، لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے وہی جواب دیتے ہوئے فرمایا: (میں کہہ تو رہا ہوں کہ) اس کے لیے کوئی اجر نہیں ہے۔
Takhreej
(۴۸۴۵) تخریج: حسن لغیرہ، أخرجہ أبوداود: ۲۵۱۶ (انظر: ۷۹۰۰)
Explanation
فوائد:… سب سے مشکل عمل اخلاص اور جہت ِ نیت کو درست رکھنا ہے، بالخصوص دورِ حاضر میں، کیونکہ اس دور میں جلد بازی، ظاہر پرستی، خوشامد، طلب ِ دنیا اور حرص جیسی قبیح خصلتیں پائی جاتی ہیں اور یہ ساری چیزیں اخلاص کے منافی ہیں۔
4845
Sahih
جہاد میں نیت کو خالص کرنا اور اس میں اجرت لینے کا بیان
۔ (۴۸۴۶)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما یَقُولُ: سَمِعْتُ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُولُ: ((مَا مِنْ غَازِیَۃٍ تَغْزُو فِی سَبِیلِ اللّٰہِ فَیُصِیبُونَ غَنِیمَۃً إِلَّا تَعَجَّلُوا ثُلُثَیْ أَجْرِہِمْ مِنَ الْآخِرَۃِ، وَیَبْقٰی لَہُمُ الثُّلُثُ، فَإِنْ لَمْ یُصِیبُوا غَنِیمَۃً تَمَّ لَہُمْ أَجْرُہُمْ۔)) (مسند أحمد: ۶۵۷۷)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو جماعت راہِ خدا میں قتال کرتی ہے اور مالِ غنیمت بھی حاصل کر لیتی ہے تو وہ آخرت میں ملنے والے اجر کا دو تہائی وصول کر لینے میںجلدی کر لیتی ہے، ایک تہائی اجر باقی رہ جاتا ہے اور اگر وہ مالِ غنیمت حاصل نہ کر سکیں تو ان کے لیے آخرت کا اجر پورا ہو جاتا ہے۔
Takhreej
(۴۸۴۶) تخریج: أخرجہ مسلم: ۱۹۰۶ (انظر: ۶۵۷۷)
Explanation
فوائد:… معلوم ہوا کہ کہ غنیمت حاصل کرنے والا کم اجر کا مستحق ہے، خواہ اس کی نیت غنیمت کی نہ ہو، پورا اجر اسی کو ملے گا جسے کچھ بھی دنیوی مفاد حاصل نہ ہوا ہو، البتہ جو شخص صرف غنیمت کے لیے جہاد کرے گا، وہ ثواب سے محروم رہے گا، غنیمت ملے یا نہ ملے، بلکہ عذاب کا مستحق ہو گا۔
4846
Sahih
جہاد میں نیت کو خالص کرنا اور اس میں اجرت لینے کا بیان
۔ (۴۸۴۷)۔ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ قَالَ: شَہِدْنَا مَعَ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَوْمَ خَیْبَرَ، فَقَالَٔٔ یَعْنِی لِرَجُلٍ یَدَّعِی الْإِسْلَامَ: ((ہٰذَا مِنْ أَہْلِ النَّارِ۔)) فَلَمَّا حَضَرْنَا الْقِتَالَ، قَاتَلَ الرَّجُلُ قِتَالًا شَدِیدًا، فَأَصَابَتْہُ جِرَاحَۃٌ، فَقِیلَ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! الرَّجُلُ الَّذِی قُلْتَ لَہُ إِنَّہُ مِنْ أَہْلِ النَّارِ، فَإِنَّہُ قَاتَلَ الْیَوْمَ قِتَالًا شَدِیدًا وَقَدْ مَاتَ، فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((إِلَی النَّارِ۔)) فَکَادَ بَعْضُ النَّاسِ أَنْ یَرْتَابَ، فَبَیْنَمَا ہُمْ عَلٰی ذٰلِکَ، إِذْ قِیلَ: فَإِنَّہُ لَمْ یَمُتْ وَلٰکِنْ بِہِ جِرَاحٌ شَدِیدٌ، فَلَمَّا کَانَ مِنَ اللَّیْلِ لَمْ یَصْبِرْ عَلَی الْجِرَاحِ فَقَتَلَ نَفْسَہُ، فَأُخْبِرَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِذٰلِکَ، فَقَالَ: ((اللّٰہُ أَکْبَرُ أَشْہَدُ أَنِّی عَبْدُاللّٰہِ وَرَسُولُہُ۔)) ثُمَّ أَمَرَ بِلَالًا فَنَادٰی فِی النَّاسِ: ((أَنَّہُ لَا یَدْخُلُ الْجَنَّۃَ إِلَّا نَفْسٌ مُسْلِمَۃٌ، وَأَنَّ اللّٰہَ عَزَّ وَجَلَّ یُؤَیِّدُ ہٰذَا الدِّینَ بِالرَّجُلِ الْفَاجِرِ)) (مسند أحمد: ۸۰۷۶)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم خیبر کے دن رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ موجود تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اسلام کا دعوی کرنے والے ایک شخص کے بارے میں فرمایا: یہ جہنمی ہے۔ جب ہم نے لڑنا شروع کیا، تو اس شخص نے بڑی سخت لڑائی لڑی اور وہ زخمی بھی ہو گیا، کسی نے کہا: اے اللہ کے رسول! جس شخص کے بارے میں آپ نے فرمایا تھا کہ وہ جہنمی ہے، اس نے تو آج بڑی سخت لڑائی لڑی ہے اور اب تو وہ وفات پا چکا ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: وہ آگ کی طرف گیا ہے۔ قریب تھا کہ اس فرمان کی وجہ سے بعض لوگ شک و شبہ میں پڑ جائیں، بہرحال لوگ اسی حالت میں تھے کہ کسی نے کہا: وہ آدمی ابھی تک مرا نہیںہے، البتہ بڑا سخت زخمی ہو چکا ہے، جب رات ہوئی تو وہ شخص زخم پر صبر نہ کر سکا اور اس نے خود کشی کر لی، جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو اس کے بارے میں بتلایا گیا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اَللَّہُ أَکْبَر، میں گواہی دیتا ہوں کہ بیشک میں اللہ تعالیٰ کا بندہ اور اس کا رسول ہوں۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیدنا بلال ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو حکم دیا اور انھوں نے لوگوں میں یہ اعلان کیا کہ بیشک صورتحال یہ ہے کہ صرف مسلمان جان جنت میں داخل ہو گی، اور اللہ تعالیٰ فاجر آدمی کے ذریعے بھی اس دین کی تائید کر دیتا ہے۔
Takhreej
(۴۸۴۷) تخریج: أخرجہ البخاری: ۶۰۰۶، ومسلم: ۱۱۱(انظر: ۸۰۹۰)
Explanation
فوائد:… نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اپنے صدق کے ظاہر ہو جانے اور لوگوںکے شک وشبہ کے دور ہو جانے کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کی بڑائی بیان کی اور اپنی رسالت کے حق میں گواہی دی۔
4847
Sahih
جہاد میں نیت کو خالص کرنا اور اس میں اجرت لینے کا بیان
۔ (۴۸۴۸)۔ عَنْ سَہْلِ بْنِ سَعْدٍ، قَالَ: کَانَ مَعَ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم رَجُلٌ فِی بَعْضِ مَغَازِیہِ، فَأَبْلٰی بَلَائً حَسَنًا، فَعَجِبَ الْمُسْلِمُونَ مِنْ بَلَائِہِ، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((أَمَا إِنَّہُ مِنْ أَہْلِ النَّارِ۔)) قُلْنَا: فِی سَبِیلِ اللّٰہِ مَعَ رَسُولِ اللّٰہِ اللّٰہُ وَرَسُولُہُ أَعْلَمُ، قَالَ: فَخَرَجَ الرَّجُلُ فَلَمَّا اشْتَدَّتْ بِہِ الْجِرَاحُ، وَضَعَ ذُبَابَ سَیْفِہِ بَیْنَ ثَدْیَیْہِ ثُمَّ اتَّکَأَ عَلَیْہِ، فَأُتِیَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقِیلَ لَہُ: الرَّجُلُ الَّذِی قُلْتَ لَہُ مَا قُلْتَ قَدْ رَأَیْتُہُ یَتَضَرَّبُ وَالسَّیْفُ بَیْنَ أَضْعَافِہِ، فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((إِنَّ الرَّجُلَ لَیَعْمَلُ بِعَمَلِ أَہْلِ الْجَنَّۃِ حَتّٰی یَبْدُوَ لِلنَّاسِ وَإِنَّہُ لَمِنْ أَہْلِ النَّارِ، وَإِنَّہُ لَیَعْمَلُ عَمَلَ أَہْلِ النَّارِ فِیمَا یَبْدُو لِلنَّاسِ وَإِنَّہُ لَمِنْ أَہْلِ الْجَنَّۃِ۔)) زَادَ فِیْ رِوَایَۃٍ: ((وَاِنَّمَا الْأَعْمَالُ بِالْخَوَاتِیْمِ۔))
۔ سیدنا سہل بن سعد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: کسی غزوے میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ہمراہ ایک آدمی تھا، اس نے جنگ میں پوری بہادری کا مظاہرہ کیا اور مسلمانوں کو اس کی اس بہادری پر بڑا تعجب ہوا، لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کے بارے میں فرمایا: خبردار! بیشک وہ آگ والوں میں سے ہے۔ ہم نے کہا: وہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ راہِ خدا میں ہے، بہرحال اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں، وہ آدمی نکلا، جب اس کے زخموں میں زیادہ تکلیف ہوئی تو اس نے اپنا سینہ تلوار کی دھار پر رکھا اور پھر اس کو اوپر سے دبایا، ایک آدمی رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا اور اس نے کہا: جس آدمی کے بارے میں آپ نے اس طرح فرمایا تھا، میں نے اس کو دیکھا کہ وہ حرکت کر رہا تھا اور تلوار اس کی ہڈیوں میں پیوست تھی، یہ سن کر نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بیشک ایک آدمی اہل جنت والے عمل کرتا رہتاہے، یہاں تک کہ وہ لوگوں کو ایسے معلوم ہوتا ہے، (کہ وہ جنتی ہے) جبکہ وہ جہنمی لوگوں میں سے ہوتا ہے، اسی طرح ایک آدمی لوگوں کی نظروں کے مطابق جنہمیوں کے عمل کر رہا ہوتا ہے، جبکہ وہ اہل جنت میں سے ہوتا ہے، دراصل اعمال کا دارومدار خاتموں پر ہے۔
Takhreej
(۴۸۴۸) (مسند أحمد:۲۳۲۰۱)، تخریج: أخرجہ البخاری: ۲۸۹۸، ۴۲۰۲، ۴۲۰۷، ومسلم: ۱۱۲(انظر: ۲۲۸۱۳)
Explanation
فوائد:… ہر وقت اللہ تعالیٰ سے خیر کا سوال کرنا چاہیے، یہ اس آدمی کی مثال ہے، جو نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی طرف سے لڑ رہا تھا۔ ہم اللہ تعالیٰ سے بخشش اور حسن انجام کا سوال کرتے ہیں، بیشک وہ معاف کرنے والا اور بہت مہربان ہے۔
4848
Sahih
جہاد میں نیت کو خالص کرنا اور اس میں اجرت لینے کا بیان
۔ (۴۸۴۹)۔ عَنْ یَعْلَی بْنِ أُمَیَّۃَ قَالَ: کَانَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَبْعَثُنِی فِی سَرَایَا، فَبَعَثَنِی ذَاتَ یَوْمٍ فِی سَرِیَّۃٍ، وَکَانَ رَجُلٌ یَرْکَبُ ثَقْلِیْ، فَقُلْتُ لَہُ: ارْحَلْ، فَإِنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَدْ بَعَثَنِی فِی سَرِیَّۃٍ، فَقَالَ: مَا أَنَا بِخَارِجٍ مَعَکَ، قُلْتُ: وَلِمَ؟ قَالَ: حَتّٰی تَجْعَلَ لِی ثَلَاثَۃَ دَنَانِیرَ، قُلْتُ: الْآنَ حَیْثُ وَدَّعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مَا أَنَا بِرَاجِعٍ إِلَیْہِ ارْحَلْ وَلَکَ ثَلَاثَۃُ دَنَانِیرَ، فَلَمَّا رَجَعْتُ مِنْ غَزَاتِی ذَکَرْتُ ذٰلِکَ لِلنَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: ((لَیْسَ لَہُ مِنْ غَزَاتِہِ ہٰذِہِ وَمِنْ دُنْیَاہُ وَمِنْ آخِرَتِہِ إِلَّا ثَلَاثَۃُ الدَّنَانِیرِ۔)) (مسند أحمد: ۱۸۱۲۱)
۔ سیدنا یعلی بن امیہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مجھے مختلف سریوں میں بھیجتے رہتے تھے، ایک دن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے ایک سریہ میں بھیجا، ایک آدمی میرا سامان مرتّب کرنے اور اس کو اونٹ پر لادنے میں میری مدد کر رہا تھا، میں نے اس سے کہا: تو بھی میرے ساتھ چل، بیشک نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے ایک سریہ میں بھیجا ہے، اس نے کہا: میں تو تمہارے ساتھ نہیں جاؤں گا، میں نے کہا: وہ کیوں؟ اس نے کہا: یہاں تکہ کہ تو میرے لیے تین دیناروں کا تعین نہیں کر دے گا، میں نے کہا: میں نے ابھی رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو الوداع کہا تھا، اب میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی طرف تو نہیں لوٹ سکتا، بہرحال تو ہمارے ساتھ چل اور تجھے تین دینار مل جائیں گے، پس جب میں اپنے غزوے سے واپس لوٹا تو میں نے یہ بات نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو بتلائی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس کے لیے اس غزوے میں سے اور اس کی دنیا و آخرت میں سے نہیں ہے، مگر یہی تین دینار۔
Takhreej
(۴۸۴۹) تخریج: حدیث حسن، أخرجہ أبوداود: ۲۵۲۷(انظر: ۱۷۹۵۷)
4849
Sahih
جہاد میں نیت کو خالص کرنا اور اس میں اجرت لینے کا بیان
۔ (۴۸۵۰)۔ عَنْ أَبِی أَیُّوبَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُولُ: ((إِنَّہَا سَتُفْتَحُ عَلَیْکُمُ الْأَمْصَارُ، وَسَیَضْرِبُونَ عَلَیْکُمْ بُعُوثًا، یُنْکِرُ الرَّجُلُ مِنْکُمُ الْبَعْثَ، فَیَتَخَلَّصُ مِنْ قَوْمِہِ، وَیَعْرِضُ نَفْسَہُ عَلَی الْقَبَائِلِ، یَقُولُ: مَنْ أَکْفِیہِ بَعْثَ کَذَا وَکَذَا، َٔلَا وَذٰلِکَ الْأَجِیرُ إِلٰی آخِرِ قَطْرَۃٍ مِنْ دَمِہِ۔)) (مسند أحمد:۲۳۸۹۶)
۔ سیدنا ابو ایوب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بیشک شہروں کو تم پر فتح کیا جائے گا، پھر (جہاد کے لیے امراء کو) کئی لشکر بھیجنے کی ضرورت پڑے گی، لیکن ایک آدمی اس لشکر میں جانے سے انکار کر دے گا، پھر وہ اپنے قوم سے نکل کر اپنے نفس کو دوسرے قبیلوں پر پیش کرے گا اور کہے گا: میں فلاں فلاں لشکر کے لیے کس کو کفایت کروں، خبردار! یہ شخص اپنے خون کا آخری قطرہ بہنے تک مزدور ہی رہے گا۔
Takhreej
(۴۸۵۰) تخریج: اسنادہ ضعیف لضعف ابن اخی ابی ایوب، أخرجہ أبوداود: ۲۵۲۵(انظر: ۲۳۵۰۰)
Explanation
فوائد:… اس حدیث ِ مبارکہ کا مفہوم یہ ہے کہ جب اسلام ہر طرف پھیلے گا اور خلیفہ کو مختلف جہات کی طرف لشکر بھیجنے کی ضرورت پڑے گی تو یہ آدمی نکلنے پر راضی نہیں ہو گا اور حیلے بہانے کر کے اپنی قوم سے نکل کر مختلف قبائل پر اپنے آپ کو پیش کرے گا، تاکہ وہ اس کو مناسب اجرت دیں، ایسے آدمی کا قتال دنیا کی خاطر ہو گا، نہ کہ سربلندیٔ دین کے لیے، ایسے آدمی کی حیثیت دنیوی مزدور کی ہے، نہ کہ غازی یا شہید کی۔
4850
Zaeef
جہاد میں نیت کو خالص کرنا اور اس میں اجرت لینے کا بیان
۔ (۴۸۵۱)۔ عَنْ رُوَیْفَعِ بْنِ ثَابِتٍ، أَنَّہُ غَزَا مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: وَکَانَ أَحَدُنَا یَأْخُذُ النَّاقَۃَ عَلَی النِّصْفِ مِمَّا یُغْنَمُ حِتّٰی اِنَّ لِأَحَدِنَا الْقَدَحَ وَلِلْآخَرِ النَّصْلَ وَالرِّیْشَ۔ (مسند أحمد:۱۷۱۱۹ )
۔ سیدنا رویفع بن ثابت ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ انھوں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ غزوہ کیا، وہ کہتے ہیں: ایسے ہوتا تھا کہ ہم میں سے ایک آدمی ملنے والی غنیمت کے نصف پر اونٹنی لے لیتا تھا اور اس میں سے کسی کو تیر کی لکڑی ملتی، کسی کو پھلکا ملتا اور کسی کو پر۔
Takhreej
(۴۸۵۱) تخریج: اسنادہ ضعیف لجھالۃ حال شیبان بن امیۃ،وقد اختلف فیہ علی عیاش بن عباس القتبانی، أخرجہ النسائی: ۸/ ۱۳۵(انظر: ۱۶۹۹۴)
4851
Zaeef
جہاد میں نیت کو خالص کرنا اور اس میں اجرت لینے کا بیان
۔ (۴۸۵۲)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لِلْغَازِیْ أَجْرُہٗ وَلِلْجَاعِلِ أَجْرُہٗ وَأَجْرُ الْغَازِیْ۔)) (مسند أحمد: ۶۶۲۴)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جہاد کرنے والے کے لیے اس کا اجر ہے اور اس کو تیار کرنے والے کو اپنا اجر بھی ملے گا اور غازی کا اجر بھی ملے گا۔
Takhreej
(۴۸۵۲) تخریج: اسنادہ صحیح، أخرجہ أبوداود: ۲۵۲۶(انظر: ۶۶۲۴)
Explanation
فوائد:… مجاہد کو تیار کرنے والے کو دو اجر ملتے ہیں، تیار کرنے کا اجر اور جہاد کا سبب بننے کی وجہ سے مجاہد کا اجر۔ لیکن عملی طور پر جہاد کرنے والے کا اجر بے مثال ہے۔
4852
Sahih
مجاہد کی اعانت، اس کو تیار کرنے، اس کے اہل و عیال کا جانشیں بننے اور اللہ تعالیٰ کے راستے میں خرچ کرنے کی فضیلت
۔ (۴۸۵۳)۔ عَنْ زَیْدِ بْنِ خَالِدِ نِ الْجُہَنِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنْ جَہَّزَ غَازِیًا أَوْ خَلَفَہٗ فِیْ أَہْلِہٖ کُتِبَ لَہُ مِثْلُ أَجْرِہٖ اِلَّا أَنَّہٗ لَا یُنْقَصُ مِنْ أَجْرِ الْغَازِیْ شَیْئٌ۔)) (مسند أحمد:۱۷۱۵۸)
۔ سیدنا زیدبن خالد جہنی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس نے غازی کو تیار کیا یا اس کے اہل میں اس کا جانشیں بنا، اس کو غازی کے اجر جتنا ثواب ملے گا، جبکہ غازی کے اجر میں کوئی کمی واقع نہیں ہو گی۔
Takhreej
(۴۸۵۳) تخریج: صحیح لغیرہ، أخرجہ الترمذی: ۸۰۷، ۱۶۳۰النسائی:۳۳۳۱، وابن ماجہ: ۲۷۵۹(انظر: ۱۷۰۳۳)
Explanation
فوائد:… ہر آدمی جنگ کے لیے جا سکتا ہے نہ اس کی ضرورت ہے، لہٰذا جو لوگ باقی بچ جائیں وہ مجاہدین کا تیاری کا سامان تیار کریں اور ان کے اہل و عیال کے لیے ضروریات مہیا کریں، اس طرح سب لوگ جہاد میں شریک ہو جائیں گے۔
4853
Sahih
مجاہد کی اعانت، اس کو تیار کرنے، اس کے اہل و عیال کا جانشیں بننے اور اللہ تعالیٰ کے راستے میں خرچ کرنے کی فضیلت
۔ (۴۸۵۴)۔ عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِیْدٍ، حَدَّثَنِی ابْنُ خَالِدِ نِ الْجُہَنِیُّ: أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَنْ جَہَّزَ غَازِیًا فَقَدَ غَزَا، وَمَنْ خَلَفَ غَازِیًا فِیْ أَہْلِہٖ بِخَیْرٍ فَقَدْ غَزَا۔)) (مسند أحمد: ۲۲۰۲۳)
۔ سیدنا زید بن خالد جہنی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس نے غازی کوتیار کیا، اس نے جہاد کیا اور جو مجاہد کے اہل میں خیر و بھلائی کے ساتھ اس کا جانشیں بنا، اس نے بھی یقینا جہاد کیا۔
Takhreej
(۴۸۵۴) تخریج: أخرجہ البخاری: ۲۸۴۳، ومسلم: ۱۸۹۵(انظر: ۲۱۶۸۱)
4854
Sahih
مجاہد کی اعانت، اس کو تیار کرنے، اس کے اہل و عیال کا جانشیں بننے اور اللہ تعالیٰ کے راستے میں خرچ کرنے کی فضیلت
۔ (۴۸۵۵)۔ عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنْ جَہَّزَ غَازِیًا أَوْ خَلَفَہٗ فِیْ أَہْلِہٖ بِخَیْرٍ فَاِنَّہٗ مَعَنَا۔)) (مسند أحمد: ۲۲۳۸۸)
۔ سیدنا معاذ بن جبل ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس نے مجاہد کو تیار کیا، یا اس کے اہل کا خیر و بھلائی کے ساتھ جانشیں بنا، پس بیشک وہ ہمارے ساتھ ہے۔
Takhreej
(۴۸۵۵) تخریج: صحیح لغیرہ، أخرجہ الطبرانی فی الکبیر : ۲۰/ ۳۵۷(انظر: ۲۲۰۳۸)
Explanation
فوائد:… معلوم ہوا کہ مجاہدین کے اہل و عیال کے حقوق اور ضروریات پوری کرنا بڑے اجر و ثواب کا باعث ہے۔
4855
Sahih
مجاہد کی اعانت، اس کو تیار کرنے، اس کے اہل و عیال کا جانشیں بننے اور اللہ تعالیٰ کے راستے میں خرچ کرنے کی فضیلت
۔ (۴۸۵۶)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَا مِنْ مُسْلِمٍ یُنْفِقُ مِنْ کُلِّ مَالٍ لَہُ زَوْجَیْنِ فِی سَبِیلِ اللّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ إِلَّا اسْتَقْبَلَتْہُ حَجَبَۃُ الْجَنَّۃِ، کُلُّہُمْ یَدْعُوہُ إِلٰی مَا عِنْدَہُ)) قُلْتُ: وَکَیْفَ ذَاکَ؟ قَالَ: ((إِنْ کَانَتْ رِحَالًا فَرَحْلَانِ، وَإِنْ کَانَتْ إِبِلًا فَبَعِیرَیْنِ، وَإِنْ کَانَتْ بَقَرًا فَبَقَرَتَیْنِ)) (مسند أحمد: ۲۱۷۴۲)
۔ (دوسری سند) رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس مسلمان نے اللہ تعالیٰ کے راستے میں اپنے ہر مال میں سے ایک ایک جوڑا خرچ کیا، جنت کے دربان اس کا استقبال کریں گے اور ان میں سے ہر ایک اس کو اپنے پاس والی چیز کی طرف بلائے گا۔ میں نے کہا: (یہ جوڑا جوڑا) کیسے ہو گا؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگر وہ سواریاں ہیں تو دو سواریاں، اگر وہ اونٹ ہیں تو دو اونٹ اور اگر وہ گائیں ہیں تو دو گائیں۔
Takhreej
(۴۸۵۶) تخریج: اسنادہ صحیح، أخرجہ النسائی: ۴/۲۴ (۲۱۴۱۳)
4856
Sahih
مجاہد کی اعانت، اس کو تیار کرنے، اس کے اہل و عیال کا جانشیں بننے اور اللہ تعالیٰ کے راستے میں خرچ کرنے کی فضیلت
۔ (۴۸۵۷)۔ عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنْ أَظَلَّ رَأْسَ غَازٍ أَظَلَّہُ اللّٰہُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ، وَمَنْ جَہَّزَ غَازِیًا حَتَّی یَسْتَقِلَّ بِجَہَازِہِ کَانَ لَہُ مِثْلُ أَجْرِہِ، وَمَنْ بَنٰی مَسْجِدًا یُذْکَرُ فِیہِ اسْمُ اللّٰہِ بَنَی اللّٰہُ لَہُ بَیْتًا فِی الْجَنَّۃِ۔)) (مسند أحمد: ۱۲۶)
۔ سیدنا عمر بن خطاب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس نے مجاہد کے سر پر سایہ کیا، اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس پر سایہ کرے گا، جس نے مجاہد کو تیار کیا، یہاں تک کہ وہ مستقل بالذات اور خود مختار ہو گیا، اس کے لیے اس کے اجر جتنا اجر ہو گا اور جس نے ایسی مسجد بنائی، جس میں اللہ تعالیٰ کا نام لیا جاتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کے لیے جنت میں گھر بنائے گا۔
Takhreej
(۴۸۵۷) تخریج: حدیث صحیح، أخرجہ ابن ماجہ: ۷۳۵(انظر: ۱۲۶)
4857
Sahih
مجاہد کی اعانت، اس کو تیار کرنے، اس کے اہل و عیال کا جانشیں بننے اور اللہ تعالیٰ کے راستے میں خرچ کرنے کی فضیلت
۔ (۴۸۵۸)۔ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، أَنَّ فَتًی مِنْ الْأَنْصَارِ قَالَ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! إِنِّی أُرِیدُ الْجِہَادَ وَلَیْسَ لِی مَالٌ أَتَجَہَّزُ بِہِ، فَقَالَ: ((اذْہَبْ إِلٰی فُلَانٍ الْأَنْصَارِیِّ، فَإِنَّہُ قَدْ کَانَ تَجَہَّزَ وَمَرِضَ فَقُلْ: إِنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُقْرِئُکَ السَّلَامَ، وَیَقُولُ لَکَ: ادْفَعْ إِلَیَّ مَا تَجَہَّزْتَ بِہِ۔)) فَقَالَ لَہُ ذٰلِکَ، فَقَالَ: یَا فُلَانَۃُ! ادْفَعِی إِلَیْہِ مَا جَہَّزْتِنِی بِہِ، وَلَا تَحْبِسِی عَنْہُ شَیْئًا، فَإِنَّکِ وَاللّٰہِ إِنْ حَبَسْتِ عَنْہُ شَیْئًا لَا یُبَارِکُ اللّٰہُ لَکِ فِیہِ۔)) قَالَ عَفَّانُ: إِنَّ فَتًی مِنْ أَسْلَمَ۔ (مسند أحمد: ۱۳۱۹۲)
۔ سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ ایک انصاری نوجوان نے کہا: اے اللہ کے رسول! بیشک میں جہاد تو کرنا چاہتا ہوں، لیکن میرے پاس مال نہیں ہے کہ میں تیار کر سکوں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم فلاں انصاری کے پاس جاؤ، اس نے جہاد کی تیاری کر رکھی تھی، لیکن وہ بیمار پڑ گیا ہے اور اس سے کہو کہ اللہ کے رسول تم کو سلام کہہ رہے ہیں اور تم سے یہ مطالبہ کر رہے ہیں کہ جو تم نے تیاری کر رکھی ہے، وہ مجھے دے دو۔ اس نے جا کر یہی پیغام دیا، اس نے جواباً اپنی بیوی سے کہا: اے فلاں خاتون! تونے میرے لیے جو کچھ تیاری کی تھی، وہ سارا کچھ اس آدمی کو دے دے، اور کوئی چیز مت روک، اللہ کی قسم! اگر تو نے کوئی چیز روکی تو اللہ تعالیٰ تیرے لیے اس میں برکت نہیں ڈالے گا۔ عفان راوی نے کہا: یہ نوجوان بنو اسلم قبیلے سے تھا۔
Takhreej
(۴۸۵۸) تخریج: أخرجہ مسلم: ۱۸۹۴(انظر: ۱۳۱۶۰)
4858
Sahih
مجاہد کی اعانت، اس کو تیار کرنے، اس کے اہل و عیال کا جانشیں بننے اور اللہ تعالیٰ کے راستے میں خرچ کرنے کی فضیلت
۔ (۴۸۵۹)۔ عَنْ أَبِیْ سَعِیْدِ نِ الْخُدْرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ بَعَثَ اِلٰی بَنِیْ لِحْیَانِ لِیَخْرُجَ مِنْ کُلِّ رَجُلَیْنِ رَجُلٌ، ثُمَّ قَالَ لِلْقَاعِدِ: ((أَیُّکُمْ خَلَفَ الْخَارِجَ فِیْ أَہْلِہٖ وَمَالِہٖ بِخَیْرٍ کَانَ لَہٗ مِثْلُ نِصْفِ أَجْرِ الْخَارِجِ۔)) (مسند أحمد: ۱۱۱۲۶)
۔ سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے بنو لحیان کی طرف یہ پیغام بھیجا کہ ہر دو آدمیوں میں ایک آدمی نکلے، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پیچھے رہنے والے آدمیوں سے فرمایا: تم میں جو آدمی نکلنے والے مجاہد کے اہل و مال میں خیر و بھلائی کے ساتھ جانشیں بنے گا، اس کے لیے نکلنے والے کے نصف اجر کے برابر ثواب ہو گا۔
Takhreej
(۴۸۵۹) تخریج: أخرجہ مسلم: ۱۸۹۶(انظر: ۱۱۱۱۰)
4859
Sahih
مجاہد کی اعانت، اس کو تیار کرنے، اس کے اہل و عیال کا جانشیں بننے اور اللہ تعالیٰ کے راستے میں خرچ کرنے کی فضیلت
۔ (۴۸۶۰)۔ عَنْ أَبِیْ ہُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ أَبُوْالْقَاسِمِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَوْ کَانَ أُحُدٌ عِنْدِیْ ذَہَبًا لَسَرَّنِیْ أَنْ أُنْفِقَہٗ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ، وَأَنْ لَّا یَأْتِیَ عَلَیْہِ ثَلَاثَۃٌ وَعِنْدِیْ مِنْہُ دِیْنَارٌ وَلَا دِرْہَمٌ اِلَّا شَیْئٌ أُرْصِدُہٗ فِیْ دَیْنٍ یَکُوْنُ عَلَیَّ۔)) (مسند أحمد: ۷۴۷۸)
۔ سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ حضرت ابو القاسم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگر میرے پاس احد پہاڑ کے برابر سونا ہو تو یہ بات مجھے خوش کرے گی کہ میں اس کو اللہ تعالیٰ کے راستے میں خرچ کر دوں اور اس حال میں مجھ پر تیسرا دن نہ آئے کہ میرے پاس ااس میں سے کوئی دینار اور درہم ہو، ما سوائے اس چیز کے، جس کو میں قرضہ کی ادائیگی کے لیے روک لوں۔
Takhreej
(۴۸۶۰) تخریج: صحیح، أخرجہ بنحوہ البخاری: ۲۳۸۹، ۶۴۴۵(انظر: ۷۴۸۴)
Explanation
فوائد:… یہ صرف نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خواہش تھی، لیکن عملی طور پر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس جتنا مال و دولت آیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کو بہت جلد تقسیم کر دیا، جہاد کے لیے بھی اور دوسرے مقاصد کے لیے بھی۔
4860
Sahih
مجاہد کی اعانت، اس کو تیار کرنے، اس کے اہل و عیال کا جانشیں بننے اور اللہ تعالیٰ کے راستے میں خرچ کرنے کی فضیلت
۔ (۴۸۶۱)۔ عَنْ أَبِیْ مَسْعُوْدِ نِ الْأَنْصَارِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، أَنَّ رَجُلًا تَصَدَّقَ بِنَاقَۃٍ مَخْطُوْطَۃٍ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَتَأْتِیَنَّ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ بِسَبْعِمِائَۃِ نَاقَۃٍ مَخْطُوْطَۃٍ۔)) (مسند أحمد: ۲۲۷۱۴)
۔ سیدنا ابو مسعود انصاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے لگام زدہ اونٹنی اللہ تعالیٰ کے راستے میں خرچ کی، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کے بارے میں فرمایا: تو قیامت کے روز سات سو لگام زدہ اونٹنیوں کے ساتھ آئے گا۔
Takhreej
(۴۸۶۱) تخریج: أخرجہ مسلم: ۱۸۹۲(انظر: ۲۲۳۵۷)
Explanation
فوائد:… عام طور پر اونٹنی کو اس وقت لگام ڈالی جاتی ہے، جب وہ قوی ہو جائے اور اس قابل ہو جائے کہ اس پر سامان وغیرہ لادا جا سکے۔
4861
Sahih

Chapters

53
01
جہاد، رباط اور مجاہدین کی فضیلت جہاد کی فضیلت اور اس کی ترغیب
11 Hadith
02
جہاد کا واجب ہونا اور اس کی رغبت دلانا
8 Hadith
03
اللہ تعالیٰ کی راہ میں رباط اور پہرے کی فضیلت کا بیان
12 Hadith
04
اللہ تعالیٰ کی راہ میں جہاد کرنے والوں کی فضیلت
24 Hadith
05
بحری جہاد کرنے والوں کی فضیلت
4 Hadith
06
جہاد میں نیت کو خالص کرنا اور اس میں اجرت لینے کا بیان
12 Hadith
07
مجاہد کی اعانت، اس کو تیار کرنے، اس کے اہل و عیال کا جانشیں بننے اور اللہ تعالیٰ کے راستے میں خرچ کرنے کی فضیلت
12 Hadith
08
مجاہدوں کی بیویوں کی حرمت اور مجاہد کے اہل کے معاملے میں خیانت کرنے والے کی وعید کا بیان
4 Hadith
09
شہادت اور شہداء کی فضیلت کے ابواب اللہ تعالیٰ کی راہ میں ملنے والی شہادت کی فضیلت
6 Hadith
10
شہداء کی فضیلت
13 Hadith
11
ایسے شخص کا بیان، جو اللہ کی راہ میں شہید ہو جائے اور اس پر قرضہ بھی ہو
4 Hadith
12
اللہ کے راستہ کے شہداء کی اقسام اور ان کی نیتوں کے اعتبار سے ان کے درجات کا بیان
6 Hadith
13
شہداء کا جامع تذکرہ اور اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والوں کے علاوہ شہداء کی اقسام کا بیان
18 Hadith
14
اس بات کا بیان کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے شہید کی وفات پائی
2 Hadith
15
اس آدمی کا بیان جو جہاد کا ارادہ کرے اور اس کے والدین زندہ ہوں
7 Hadith
16
اس چیز کا بیان کہ امام لشکر کے سپہ سالاروں سے مشورہ کرے، ان کی خیرخواہی کرے، ان کے ساتھ نرمی برتے اور ان سے ان کی ذمہ داریاں نبھانے کا عہد لے
3 Hadith
17
اس امر کا بیان کہ لشکر والوں پر ان کے امیر کی اطاعت فرض ہے، جب تک وہ ان کو نافرمانی کا حکم نہ دے اور پڑاؤ ڈالتے وقت بکھر جانے کی کراہت کا بیان
6 Hadith
18
قتال سے پہلے اسلام کی دعوت دینے اور امام کا لشکر کے امیر کو وصیت کرنے کا بیان
6 Hadith
19
لڑائی میں دھوکہ دینے، توریہ کرنے، بات کو چھپانے اور جاسوسوں کو بھیجنے کے جواز کا بیان
7 Hadith
20
سرایا اور جیوش کو ترتیب دینے اور جھنڈوں اور ان کے رنگوں کا اہتمام کرنے کا بیان
4 Hadith
21
مجاہد کو الوداع کہنے، اس کا استقبال کرنے اور امام کا اس کو وصیت کرنے کا بیان
12 Hadith
22
مخصوص اوقات میں غزوہ کے لیے روانہ ہونے کے مستحب ہونے، دشمن سے لڑائی شروع کرنے، صفوں کو ترتیب دینے اور مسلمانوں کے شعار کا بیان
10 Hadith
23
جنگ میں فخر کرنے کے مستحب ہونے اور دشمنوں سے مقابلہ کرنے کی تمنا کرنے اور لشکر کی اکثریت سے دھوکہ کھانے کی ممانعت کا بیان
5 Hadith
24
جس کے ہاں اسلام کی علامت موجود ہو، اس پر شب خون مارنے کے وقت رک جانے کا بیان
2 Hadith
25
اسلام کی معرفت ہو جانے کے بعد لڑائی کرنے والے سے رک جانے، اس کو قتل کر دینے کی وعید اور اس کا کلام نہ سمجھنے کی وجہ سے غلطی سے اس کو قتل کر دینے والے کے عذر کا بیان
8 Hadith
26
کافروں پر اچانک حملہ کرنے کا بیان، اگرچہ اس میں ان کے بچے قتل ہو جائیں
5 Hadith
27
عورتوں، بچوں، پادریوں اور انتہائی بوڑھے لوگوں کو بالارادہ قتل کرنے سے روکنے کا بیان
8 Hadith
28
مثلہ، جلانے، درخت کاٹنے اور عمارتیں گرانے سے ممانعت کا بیان، الا یہ کہ کوئی ضرورت اور مصلحت ہو
9 Hadith
29
لڑائی کے وقت بھاگ جانے کی حرمت کا بیان، الا یہ کہ آدمی نے اپنی جماعت کو ملنا ہو، اگرچہ وہ جماعت دور ہو
3 Hadith
30
فتح والے مقام میں تین دن ٹھہرنے کے مستحب ہونے کا بیان
2 Hadith
31
اس امر کا بیان کہ غنیمت کا حلال ہونانبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اور آپ کی امت کے خصائص میں سے ہے اور تقسیم سے قبل غنیمت سے متعلقہ احکام کاذکر
9 Hadith
32
جس جس عامل نے میدان جنگ میں اپنی طاقت کے بقدر کام کیا،ان میں برابری کے ساتھ مالِ غنیمت تقسیم کرنے کا بیان
4 Hadith
33
غنیمت کے خُمُس کا اللہ اور اس کے رسول کے لیے فرض ہونے اور اس کی تقسیم کا بیان
9 Hadith
34
غنیمت کے پانچ حصوں میں چار حصوں کی تقسیم، گھوڑ سوار اور پیادہ کا حق اور خاتون اور غلام وغیرہ کو معمولی مقدار میںعطیہ دینا
9 Hadith
35
اس چیز کا بیان کہ سلب قاتل کا ہو گا اور اس میں سے خُمُس نہیں لیا جائے گا
9 Hadith
36
لشکر کے بعض افراد کو اس بنا پر زائد حصہ دینے کا بیان کہ انھوں نے لڑائی لڑی یا مشکلات کو برداشت کیا
2 Hadith
37
لشکر کے سریہ کو زائد حصہ دینے اور پھر ان دونوں کو غنیمت میں شریک کرنے کا بیان
6 Hadith
38
مالِ فے کے مصرف کا بیان
6 Hadith
39
تالیف ِ قلبی کے لیے دینے کا بیان
2 Hadith
40
امیر اور عامل کے تحائف
2 Hadith
41
خیانت کے حرام ہونے اور اس میں سختی کا بیان، نیز خائن کا سامانِ سفر جلانے اور لوٹ مار کا بیان
12 Hadith
42
قیدیوں کے حق میں احسان کرنے، ان سے فدیہ لینے اور ان سے متعلقہ دوسرے احکام کے ابواب ہوازن کے وفود پر ان کے قیدیوں کے معاملے میں احسان کرنے کا باب
2 Hadith
43
سیدنا عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی قید اور فدیے اور اس معاملے میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ایک معجزے کا بیان
2 Hadith
44
اس آدمی کا بیان جس نے اپنے باپ کے فدیے میں چار ہزار درہم دیئے
3 Hadith
45
سیدہ زینب بنت رسول ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے خاوند سیدنا ابو العاص کا فدیہ
1 Hadith
46
ایک مشرک کے فدیے میں دو مسلمان لینے کا بیان ان قیدیوں کا بیان جنھوں نے اپنے فدیے میں انصاریوں کے بچوں کو کتابت کی تعلیم دی
4 Hadith
47
بدر کے قیدیوں کے فدیے اور اس کی وجہ سے نازل ہونے والے قرآن کا بیان
3 Hadith
48
ان امور سے ممانعت کابیان: احتلام ہونے یا زیر ناف بالوں کے اگنے سے پہلے قیدی کو قتل کرنا، دوسرے کے قیدی کو قتل کرنا، قیدیوں میں والدہ اور اس کی اولاد میں تفریق ڈالنا، حاملہ قیدی خواتین سے جماع کرنا اور قیدی کو باندھ کر مارنا
10 Hadith
49
اس قیدی کا بیان جو قید سے پہلے قبولیت ِ اسلام کا دعوی کر دے، نیز اسلام قبول کرنے والے قیدی کی فضیلت کا بیان
4 Hadith
50
مسلمان ہونے والے قیدی کا مسلمانوں کی ملکیت میں ہی رہنے کا اور عربوں کو غلام بنانے کے جواز کا بیان
3 Hadith
51
اس چیز کا بیان کہ جاسوس کے ساتھ کیا کیا جائے، وہ مسلمان ہو یا حربی یا ذمی
3 Hadith
52
اس چیز کا بیان کہ جب کافر کا غلام مسلمان ہو کر ہمارے پاس آ جائے تو وہ آزاد ہو گا
4 Hadith
53
اس چیز کا بیان کہ اگر حربی قابو میں آنے سے پہلے مسلمان ہو گیا تو اپنے مال کو بچا لے گا، نیز غنیمت والی زمین کا حکم
6 Hadith
No chapter matched that.