TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

جہاد کے مسائل - جہاد کے مسائل - Book 77 of Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Book 77 of Musnad Ahmad, with 53 chapters and 348 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.

348 Hadith · 53 Chapters
مجاہد کی اعانت، اس کو تیار کرنے، اس کے اہل و عیال کا جانشیں بننے اور اللہ تعالیٰ کے راستے میں خرچ کرنے کی فضیلت
۔ (۴۸۶۲)۔ عَنْ أَبِی الدَّرْدَائِ، عَنِ ابْنِ الْحَنْظَلِیَّۃِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما قَالَ: قَالَ لَنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِنَّ الْمُنْفِقَ عَلَی الْخَیْلِ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ کَبَاسِطِ یَدَیْہِ بِالصَّدْقَۃِ لَا یَقْبِضُہَا۔)) (مسند أحمد: ۱۷۷۶۸)
۔ سیدنا ابن حظلیہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمیں فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ کے راستے میں موجود جماعت پر خرچ کرنے والا ایسے ہے، جیسے اس نے دونوں ہاتھ صدقہ کے ساتھ پھیلا رکھے ہوں اور وہ ان کو بند نہیں کرتا۔
Takhreej
(۴۸۶۲) تخریج: اسنادہ محتمل للتحسین، أخرجہ أبوداود: ۴۰۸۹(انظر: ۱۷۶۲۲)
4862
Sahih
مجاہد کی اعانت، اس کو تیار کرنے، اس کے اہل و عیال کا جانشیں بننے اور اللہ تعالیٰ کے راستے میں خرچ کرنے کی فضیلت
۔ (۴۸۶۳)۔ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ الْأَنْصَارِیِّ حَدَّثَ عَنْ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنَّہُ أَرَادَ الْغَزْوَ، فَقَالَ: ((یَا مَعْشَرَ الْمُہَاجِرِینَ وَالْأَنْصَارِ! إِنَّ مِنْ إِخْوَانِکُمْ قَوْمًا لَیْسَ لَہُمْ مَالٌ وَلَا عَشِیرَۃٌ، فَلْیَضُمَّ أَحَدُکُمْ إِلَیْہِ الرَّجُلَیْنِ أَوْ الثَّلَاثَۃَ)) فَمَا لِأَحَدِنَا مِنْ ظَہْرِ جَمَلِہِ إِلَّا عُقْبَۃٌ کَعُقْبَۃِ أَحَدِہِمْ۔ قَالَ: فَضَمَمْتُ اثْنَیْنِ أَوْ ثَلَاثَۃً اِلَیَّ وَمَا لِیْ اِلَّا عُقْبَۃٌ کَعُقْبَۃِ أَحَدِہِمْ۔ (مسند أحمد: ۱۴۹۲۴)
۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ انصاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایک غزوے کا ارادہ کیا اور فرمایا: اے مہاجروں اور انصاریوں کی جماعت! بیشک تمہارے بعض بھائی ایسے بھی ہیں، جن کے پاس نہ کوئی مال ہے، نہ ان کا کوئی رشتہ دار ہے، اس لیے ہر آدمی اپنے ساتھ دو یا تین افراد کو ملا لے۔ پس ہم میں سے ہر آدمی کی ان دو یا تین افراد کی وجہ سے اپنے اونٹ پر سواری کرنے کی باری ہوتی تھی، سیدنا جابر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: میں نے بھی اپنے ساتھ دو یا تین افراد ملا لیے اور میری بھی ان کی طرح سواری کرنے کی ایک باری ہوتی تھی۔
Takhreej
(۴۸۶۳) تخریج: اسنادہ صحیح، أخرجہ أبوداود: ۲۵۳۴(انظر: ۱۴۸۶۳)
Explanation
فوائد:… سواریوں کی قلت ہونے کی وجہ سے اونٹ کا مالک بھی دوسرے مجاہدین کی طرح صرف اپنی باری پر سواری کرتا تھا، یہ وہ پاکیزہ نفوس تھے، جو دوسروں کی ضروریات کو اپنی حاجات پر ترجیح دیتے تھے۔
4863
Sahih
مجاہد کی اعانت، اس کو تیار کرنے، اس کے اہل و عیال کا جانشیں بننے اور اللہ تعالیٰ کے راستے میں خرچ کرنے کی فضیلت
۔ (۴۸۶۴)۔ عَنْ رُوَیْفِعِ بْنِ ثَابِتِنِ الْأَنْصَارِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اَنَّہُ غَزَا مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: وَکَانَ أَحَدُنَا یَأْخُذُ النَّاقَۃَ عَلَی النِّصْفِ مِمَّا یُغْنَمُ حَتّٰی اِنَّ لِأَحَدِنَا الْقَدَحَ وَلِلْآخَرِ النَّصْلَ وَالرِّیْشَ۔ (مسند أحمد: ۱۷۱۱۹)
۔ سیدنا رویفع بن ثابت انصاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ انھوں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ ایک غزوہ کیا اور کہا: ہم میں سے ایک آدمی حاصل ہونے والی غنیمت کے نصف پر اونٹنی لیتا تھا، یہاں تک (بسااوقات ایسے ہوتا کہ) ہم میں سے ایک آدمی کو تیر کی لکڑی ملتی اور دوسرے کو پھلکا اور پر ملتے۔
Takhreej
(۴۸۶۴) تخریج: اسنادہ ضعیف لجھالۃ حال شیبان بن امیۃ،وقد اختلف فیہ علی عیاش بن عباس القتبانی، أخرجہ النسائی: ۸/ ۱۳۵(انظر: ۱۶۹۹۴)
4864
Zaeef
مجاہدوں کی بیویوں کی حرمت اور مجاہد کے اہل کے معاملے میں خیانت کرنے والے کی وعید کا بیان
۔ (۴۸۶۵)۔ عَنِ ابْنِ بُرَیْدَۃَ عَنْ أَبِیہِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((فَضْلُ نِسَائِ الْمُجَاہِدِینَ عَلَی الْقَاعِدِینَ فِی الْحُرْمَۃِ کَفَضْلِ أُمَّہَاتِہِمْ، وَمَا مِنْ قَاعِدٍ یَخْلُفُ مُجَاہِدًا فِی أَہْلِہِ فَیُخَبِّبُ فِی أَہْلِہِ إِلَّا وُقِفَ لَہُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ، قِیلَ لَہُ: إِنَّ ہٰذَا خَانَکَ فِی أَہْلِکَ فَخُذْ مِنْ عَمَلِہِ مَا شِئْتَ، قَالَ: فَمَا ظَنُّکُمْ۔)) (مسند أحمد: ۲۳۳۹۲)
۔ سیدنا بریدہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: پیچھے رہ جانے والوں پر حرمت کے لحاظ سے مجاہدین کی بیویوں کی فضیلت اس طرح ہے، جیسے ان کی ماؤں کی فضیلت ہے، پس جس پیچھے رہ جانے والے شخص نے خیانت کرتے ہوئے کسی مجاہد کی بیوی کو اس کے حق میں خراب کیا، اس کو قیامت کے دن کھڑا کر دیا جائے گا اور مجاہد سے کہا جائے گا: اس آدمی نے تیری بیوی کے معاملے میں تجھ سے خیانت کی تھی، لہذا تو اس کے عمل میں سے جو چاہتا ہے، لے لے۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: پس تمہارا کیا خیال ہے (وہ اس کا کوئی عمل چھوڑے گا، جبکہ وہاں ہر شخص کو نیکی کی اشد ضرورت ہو گی)؟
Takhreej
(۴۸۶۵) تخریج: أخرجہ مسلم: ۱۸۹۷(انظر: ۲۳۰۰۴)
Explanation
فوائد:… مجاہدین کی بیویوں کی حرمت دوسری مسلم خواتین سے زیادہ ہے، دوسرے لوگوں کو چاہیے کہ وہ ان کی اس حرمت کی حفاظت رکھیں، ان کے بارے میں کوئی غلط نظریہ نہ رکھیں، ان کو غلط نگاہ سے نہ دیکھیں، بلکہ ان کی ضروریات پوری کر کے ان کے ساتھ احسان کریں۔
4865
Sahih
مجاہدوں کی بیویوں کی حرمت اور مجاہد کے اہل کے معاملے میں خیانت کرنے والے کی وعید کا بیان
۔ (۴۸۶۶)۔ عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُولُ: ((إِذَا ضَنَّ النَّاسُ بِالدِّینَارِ وَالدِّرْہَمِ، وَتَبَایَعُوْا بِالْعِیْنَۃِ، وَاتَّبَعُوا أَذْنَابَ الْبَقَرِ، وَتَرَکُوا الْجِہَادَ فِی سَبِیلِ اللّٰہِ، أَنْزَلَ اللّٰہُ بِہِمْ بَلَائً فَلَمْ یَرْفَعْہُ عَنْہُمْ حَتّٰی یُرَاجِعُوْا دِینَہُمْ۔)) (مسند أحمد: ۴۸۲۵)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب لوگ درہم و دینار کے سلسلے میں بخل کریں گے، بیع عِینہ میں پڑ جائیں گے، گائیوں کی دموں کی پیروی کریں گے اور جہاد فی سبیل اللہ کو چھوڑ دیں گے تو اللہ تعالیٰ ان پر آزمائش نازل کر دے گا اور اس کو اس وقت تک نہیں ہٹائے گا، جب تک وہ اپنے دین کی طرف نہیں لوٹ آئیں گے۔
Takhreej
(۴۸۶۶) تخریج: اسنادہ ضعیف لانقطاعہ، عطاء بن ابی رباح لم یسمع من ابن عمر، أخرجہ أبوداود: ۳۴۶۲ (انظر: ۴۸۲۵)
Explanation
فوائد:… سنن ابو داود کی سند صحیح ہے، اس کے الفاظ درج ذیل ہیں:
4866
Zaeef
مجاہدوں کی بیویوں کی حرمت اور مجاہد کے اہل کے معاملے میں خیانت کرنے والے کی وعید کا بیان
۔ (۴۸۶۷)۔ عَنْ أَبِیْ ہُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَنْ مَاتَ وَلَمْ یَغْزُ، وَلَمْ یُحَدِّثْ نَفْسَہٗ بِغَزْوٍ، مَاتَ عَلٰی شُعْبَۃِ نِفَاقٍ۔)) (مسند أحمد: ۸۸۵۲)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو آدمی اس حال میں مرا کہ نہ اس نے جہاد کیا اور نہ اپنے نفس میں جہاد کرنے کا سوچا تو وہ نفاق کے ایک شعبے پر مرے گا۔
Takhreej
(۴۸۶۷) تخریج: أخرجہ مسلم: ۱۹۱۰(انظر: ۸۸۶۵)
Explanation
فوائد:… اس سے جہاد کی اہمیت واضح ہے، نیز اس سے یہ معلوم ہوا کہ ہر مسلمان کو کفر اور کفار کے خلاف دل میں بغض رکھنا اور یہ جذبہ رکھنا چاہیے کہ جب بھی جہاد کا مرحلہ پیش آیا تو میں جان و مال کی قربانی سے گریز نہیں کروں گا۔
4867
Sahih
مجاہدوں کی بیویوں کی حرمت اور مجاہد کے اہل کے معاملے میں خیانت کرنے والے کی وعید کا بیان
۔ (۴۸۶۸)۔ (وَعَنْہٗ أَیْضًا) قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُولُ لِثَوْبَانَ: ((کَیْفَ أَنْتَ یَا ثَوْبَانُ؟ إِذْ تَدَاعَتْ عَلَیْکُمُ الْأُمَمُ کَتَدَاعِیکُمْ عَلَی قَصْعَۃِ الطَّعَامِ یُصِیبُونَ مِنْہُ۔)) قَالَ ثَوْبَانُ: بِأَبِی وَأُمِّی یَا رَسُولَ اللّٰہِ! أَمِنْ قِلَّۃٍ بِنَا؟ قَالَ: ((لَا أَنْتُمْ یَوْمَئِذٍ کَثِیرٌ وَلٰکِنْ یُلْقٰی فِی قُلُوبِکُمُ الْوَہَنُ۔)) قَالُوْا: وَمَا الْوَہَنُ، یَا رَسُولَ اللّٰہِ؟ قَالَ: ((حُبُّکُمُ الدُّنْیَا وَکَرَاہِیَتُکُمُ الْقِتَالَ۔)) (مسند أحمد: ۸۶۹۸)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ہی بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیدنا ثوبان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے فرمایا: اے ثوبان! اس وقت تیرا کیا حال ہو گا جب دوسری امتیں تم پر یوں ٹوٹ پڑیں گی، جیسے تم کھانے کے پیالے پر ٹوٹ پڑتے ہو؟ انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، کیا ہماری کم تعداد کی وجہ سے ایسے ہو گا؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: نہیں، تم اس وقت بہت زیادہ ہو گے، لیکن تمہارے دلوں میں وَھَن ڈال دیا جائے گا۔ انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! وَھَن کیا ہوتا ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تمہارا دنیا سے محبت کرنا اور قتال کو ناپسند کرنا۔
Takhreej
(۴۸۶۸) تخریج: حسن لغیرہ، أخرجہ أبوداود: ۴۲۹۷ (انظر: ۸۷۱۳)
Explanation
فوائد:… نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنی امت کی کمزوری کے جو دو اسباب بیان کیے، دورِ حاضر کا مسلم معاشرہ ان ہی دو چیزں کا اسیر بن کر رہ گیا ہے، دنیا سے اس قدر محبت ہے کہ اللہ تعالیٰ کے فرائض اور واجبات تک کا خیال نہیں رکھا جاتا، رہا مسئلہ قتال کو ناپسند کرنے کا تو گزارش ہے کہ اکثر و بیشتر مسلمانوں کا رویہ یہی بن چکا ہے۔
4868
Sahih
شہادت اور شہداء کی فضیلت کے ابواب اللہ تعالیٰ کی راہ میں ملنے والی شہادت کی فضیلت
۔ (۴۸۶۹)۔ عَنْ أَنَسٍ قَالَ: لَمَّا رَجَعَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِنْ غَزْوَۃِ تَبُوکَ، فَدَنَا مِنْ الْمَدِینَۃِ قَالَ: ((إِنَّ بِالْمَدِینَۃِ لَقَوْمًا مَا سِرْتُمْ مَسِیرًا وَلَا قَطَعْتُمْ وَادِیًا إِلَّا کَانُوْا مَعَکُمْ فِیہِ۔)) قَالُوْا: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! وَہُمْ بِالْمَدِینَۃِ؟ قَالَ: ((وَہُمْ بِالْمَدِینَۃِ حَبَسَہُمْ الْعُذْرُ۔)) (مسند أحمد: ۱۲۹۰۵)
۔ سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم غزوۂ تبوک سے لوٹے اور مدینہ منورہ کے قریب پہنچے تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بیشک مدینہ میں ایسے لوگ بھی موجود ہیں کہ جب بھی تم چلے اور تم نے جو وادی بھی عبور کی، وہ تمہارے ساتھ تھے۔ لوگوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! جبکہ وہ مدینہ میں ہیں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ہاں وہ مدینہ میں ہیں، دراصل ان کو عذر نے روک رکھا ہے۔
Takhreej
(۴۸۶۹) تخریج: أخرجہ البخاری: ۲۸۳۸، ۲۸۳۹، ۴۴۲۳ (انظر: ۱۲۸۷۴)
Explanation
فوائد:… بعض صحابۂ کرام معذور ہونے کی وجہ سے جہاد نہ کرسکتے، لیکن ان کی شدید تمنا اور خواہش یہ ہوتی کہ کاش وہ معذور نہ ہوتے تاکہ جہاد میں شرکت کرتے، اس خواہش کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے ان کو جہاد کا ثواب عطا کر دیا۔
4869
Sahih
شہادت اور شہداء کی فضیلت کے ابواب اللہ تعالیٰ کی راہ میں ملنے والی شہادت کی فضیلت
۔ (۴۸۷۰)۔ عَنْ أَنَسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((یُؤْتٰی بِالرَّجُلِ مِنْ أَہْلِ الْجَنَّۃِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ، فَیَقُولُ اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ: یَا ابْنَ آدَمَ کَیْفَ وَجَدْتَ مَنْزِلَکَ؟ فَیَقُولُ: یَا رَبِّ خَیْرَ مَنْزِلٍ، فَیَقُولُ: سَلْ وَتَمَنَّہْ، فَیَقُولُ: مَاأَسْأَلُ وَأَتَمَنّٰی إِلَّا أَنْ تَرُدَّنِی إِلَی الدُّنْیَا فَأُقْتَلَ فِی سَبِیلِکَ عَشْرَ مَرَّاتٍ لِمَا یَرٰی مِنْ فَضْلِ الشَّہَادَۃِ۔)) (مسند أحمد: ۱۲۳۶۷)
۔ سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: قیامت کے روز اہل جنت میں سے ایک آدمی کو لایا جائے گا اور اللہ تعالیٰ اس سے کہے گا: اے ابن آدم! تو نے اپنی منزل کو کیسا پایا؟ وہ کہے گا: اے میرے ربّ! بہترین منزل ہے، اللہ تعالیٰ کہے گا: تو مزید سوال کر اور تمنا کر، وہ کہے گا: میں کون سا سوال کروں اور کون سی تمنا کروں، ہاں تو مجھے دنیا میں لوٹا دے، تاکہ میں تیرے راستے میں دس بار شہید ہو سکوں، وہ یہ بات شہادت کی فضیلت کو دیکھ کر کہے گا۔
Takhreej
(۴۸۷۰) تخریج: اسنادہ صحیح، أخرجہ النسائی: ۶/ ۳۶ (انظر: ۱۲۳۴۲)
Explanation
فوائد:… سبحان اللہ! اللہ تعالیٰ کے امورِ اطاعت کی کیا شان ہے، وہ موت جس سے ہر آدمی دور بھاگتا ہے، لیکن شہید اللہ تعالیٰ سے اس کا بار بار سوال کرتاہے۔
4870
Sahih
شہادت اور شہداء کی فضیلت کے ابواب اللہ تعالیٰ کی راہ میں ملنے والی شہادت کی فضیلت
۔ (۴۸۷۱)۔ عَنِ ابْنِ أَبِی عَمِیرَۃَ، أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَا مِنَ النَّاسِ نَفْسُ مُسْلِمٍ یَقْبِضُہَا اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ تُحِبُّ أَنْ تَعُودَ إِلَیْکُمْ وَأَنَّ لَہَا الدُّنْیَا وَمَا فِیہَا غَیْرُ الشَّہِیدِ۔)) و قَالَ ابْنُ أَبِی عَمِیرَۃَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَأَنْ أُقْتَلَ فِی سَبِیلِ اللّٰہِ أَحَبُّ إِلَیَّ مِنْ أَنْ یَکُونَ لِی الْمَدَرُ وَالْوَبَرُ۔)) (مسند أحمد: ۱۸۰۵۴)
۔ سیدنا ابن ابو عمیرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: لوگوں میں کوئی ایسا مسلمان نہیں ہے جو یہ چاہتا ہو کہ اللہ تعالیٰ اس کو فوت کرے اور پھر وہ تمہاری طرف دوبارہ لوٹے اور اس کو دنیا اور اس کی تمام چیزیں ملیں، ما سوائے شہید کے۔ پھر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگر مجھے اللہ تعالیٰ کے راستے میں شہید کر دیا جائے تو یہ عمل مجھے اس سے زیادہ پسند ہے کہ تمام شہر و دیہات مجھے مل جائیں۔
Takhreej
(۴۸۷۱) تخریج: صحیح لغیرہ، أخرجہ النسائی: ۶/۳۳(انظر: ۱۷۸۹۴)
Explanation
فوائد:… سنن نسائی کی روایت میں أَھْلُ الْوَبَرِ وَالْمَدَر کے الفاظ ہیں، اول الذکر سے مراد بدو اور مؤخر الذکر سے مراد بستیوں اور شہروں والے ہیں، اس سے مراد دنیا اور اس کے خزانے ہیں، یہ سب فانی ہے اور شہادتکا ثواب باقی اور دائم رہے گا۔ فنا اور بقا کا آپس میں کوئی موازنہ نہیں کیا جا سکتا۔
4871
Sahih
شہادت اور شہداء کی فضیلت کے ابواب اللہ تعالیٰ کی راہ میں ملنے والی شہادت کی فضیلت
۔ (۴۸۷۲)۔ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَا مِنْ أَحَدٍ یَدْخُلُ الْجَنَّۃَ یُحِبُّ أَنْ یَخْرُجَ مِنْہَا، وَأَنَّ لَہٗ مَا عَلَی الْأَرْضِ مِنْ شَیْئٍ غَیْرُ الشَّہِیْدِ، یُحِبُّ أَنْ یُخْرَجَ فَیُقْتَلَ لِمَا یَرٰی مِنَ الْکَرَامَۃِ۔)) أَوْ مَعْنَاہٗ۔ (مسند أحمد: ۱۲۰۲۶)
۔ سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کوئی بھی ایسا نہیں ہے، جو جنت میں داخل ہو اور پھر وہ یہ پسند کرے کہ وہ وہاں سے نکل آئے اور زمین پر جو کچھ ہے، وہ سب کچھ اس کو مل جائے، ما سوائے شہید کے، وہ شہادت کی کرامت کا اندازہ کر کے یہ پسند کرے گا کہ اس کو جنت سے نکال لیا جائے، تاکہ اس کو دوبارہ شہید کر دیا جائے۔
Takhreej
(۴۸۷۲) تخریج:أخرجہ البخاری: ۲۸۱۷، ومسلم: ۱۸۷۷(انظر: ۱۲۰۰۳)
4872
Sahih
شہادت اور شہداء کی فضیلت کے ابواب اللہ تعالیٰ کی راہ میں ملنے والی شہادت کی فضیلت
۔ (۴۸۷۳)۔ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((انْتَدَبَ اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ لِمَنْ خَرَجَ فِی سَبِیلِہِ، لَا یَخْرُجُ إِلَّا جِہَادًا فِی سَبِیلِی وَإِیمَانًا بِی وَتَصْدِیقًا بِرَسُولِی، فَہُوَ عَلَیَّ ضَامِنٌ أَنْ أُدْخِلَہُ الْجَنَّۃَ، أَوْ أَرْجِعَہُ إِلٰی مَسْکَنِہِ الَّذِی خَرَجَ مِنْہُ نَائِلًا مَا نَالَ مِنْ أَجْرٍ أَوْ غَنِیمَۃٍ، وَالَّذِی نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِیَدِہِ مَا مِنْ کَلْمٍ یُکْلَمُ فِی سَبِیلِ اللّٰہِ إِلَّا جَائَ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ کَہَیْئَتِہِ یَوْمَ کُلِمَ لَوْنُہُ لَوْنُ دَمٍ وَرِیحُہُ رِیحُ مِسْکٍ، وَالَّذِی نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِیَدِہِ لَوْلَا أَنْ أَشُقَّ عَلَی الْمُسْلِمِینَ، مَا قَعَدْتُ خِلَافَ سَرِیَّۃٍ تَغْزُو فِی سَبِیلِ اللّٰہِ أَبَدًا، وَلٰکِنِّی لَا أَجِدُ سَعَۃً فَیَتْبَعُونِی وَلَا تَطِیبُ أَنْفُسُہُمْ فَیَتَخَلَّفُونَ بَعْدِی، وَالَّذِی نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِیَدِہِ لَوَدِدْتُ أَنْ أَغْزُوَ فِی سَبِیلِ اللّٰہِ فَأُقْتَلَ ثُمَّ أَغْزُوَ فَأُقْتَلَ ثُمَّ أَغْزُوَ فَأُقْتَلَ۔)) (مسند أحمد: ۸۹۶۸)
۔ سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے اس آدمی کی ضمانت اٹھائی ہے جو اس کے راستے میں نکلتا ہے اور (اللہ تعالیٰ کہتا ہے کہ) جب یہ آدمی صرف میرے راستے میں جہاد کرنے، مجھے پر ایمان لانے اور میرے رسول کی تصدیق کرنے کی وجہ سے نکلتا ہے تو میںبھی ضمانت دیتا ہوں کہ اسے جنت میں داخل کروں گا یا اس کو اجر یا غنیمت، جو بھی اس نے حاصل کیا، سمیت اس کے گھر لوٹا دوں گا۔ (پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا:)اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! جو زخم بھی اللہ کے راستے میں لگتاہے تو زخمی جس حالت میں زخمی ہوا تھا، اسی حالت میں روزِ قیامت آئے گا ، زخم سے بہنے والے خون کا رنگ تو وہی ہو گا جو خون کا ہوتا ہے، لیکن اس کی خوشبو کستوری کی طرح کی ہو گی۔ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے! اگر مسلمانوں پر گراں نہ گزرتا تو میں کبھی بھی اللہ کے راستے میں جہاد کرنے والے لشکر سے پیچھے نہ رہتا، لیکن میرے پاس (اسباب کی) وسعت نہیں کہ وہ سب میرے ساتھ آ سکیں اور مجھ سے پیچھے رہنا وہ پسند نہیں کرتے۔ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے! میں تو چاہتا ہوں کہ اللہ کے راستے میں جہاد کروں اور قتل کر دیاجاؤں، پھر (زندہ ہو کر) جہاد کروں اور قتل کر دیا جاؤں، پھر (زندہ ہو کر) جہاد کروں اور قتل کر دیا جاؤں۔
Takhreej
(۴۸۷۳) تخریج: أخرجہ البخاری: ۳۶، ۵۵۳۳، ۲۷۸۷، ۲۷۹۷، ومسلم: ۱۸۷۶(انظر: ۸۹۸۰، ۸۹۸۱، ۸۹۸۲، ۸۹۸۳)
4873
Sahih
شہادت اور شہداء کی فضیلت کے ابواب اللہ تعالیٰ کی راہ میں ملنے والی شہادت کی فضیلت
۔ (۴۸۷۴)۔ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَجُلٌ یَوْمَ أُحُدٍ لِرَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : اِنْ قُتِلْتُ فَأَیْنَ أَنَا؟ قَالَ: ((فِی الْجَنَّۃِ۔)) فَاَلْقٰی تَمَرَاتٍ کُنَّ فِیْ یَدِہٖ، فَقَاتَلَ حَتّٰی قُتِلَ(وَقَالَ غَیْرُ عَمْرٍو) وَتَخَلّٰی مِنْ طَعَامِ الدُّنْیَا۔ (مسند أحمد: ۱۴۳۶۵)
۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے احد والے دن رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے کہا: اگر میں شہید ہو جاؤں تو میں کہاں ہوں گا؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جنت میں۔ پس اس نے اپنے ہاتھ میں موجود کھجوریں ڈال دیں اور قتال کرنا شروع کر دیا، یہاں تک کہ وہ شہید ہو گیا اور دنیا کے کھانے سے الگ ہو گیا۔
Takhreej
(۴۸۷۴) تخریج: أخرجہ البخاری: ۴۰۴۶، ومسلم: ۱۸۹۹(انظر: ۱۴۳۱۴)
Explanation
فوائد:… یہ صحابۂ کرام کا نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے فرمودات پر یقین تھا، اس یقین کی وجہ سے ان کے لیے موت کو قبول کرنا بہت آسان تھا۔
4874
Sahih
شہداء کی فضیلت
۔ (۴۸۷۵)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَلشُّہَدَائُ عَلٰی بَارِقِ نَہْرٍ بِبَابِ الْجَنَّۃِ فِیْ قُبَّۃٍ خضْرَائَ، یَخْرُجُ عَلَیْہِمْ رِزْقُہَم مِنَ الْجَنَّۃِ بُکْرَۃً وَّعَشِیًّا۔)) (مسند أحمد: ۲۳۹۰)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: شہداء جنت کے دروازے پر سبز قبے میں نہر کی ایک طرف ہوتے ہیں، صبح و شام ان کا رزق جنت سے آتا ہے۔
Takhreej
(۴۸۷۵) اسنادہ حسن، أخرجہ ابن حبان: ۴۶۵۸، وابن ابی شیبۃ: ۵/ ۲۹۰، والحاکم: ۲/ ۷۴ (انظر: ۲۳۹۰)
Explanation
فوائد:… اس نعمت کی کیفیت اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتے ہیں، بہرحال یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے بہت بڑا اکرام ہے۔
4875
Sahih
شہداء کی فضیلت
۔ (۴۸۷۶)۔ عَنِ ابْنِ کَعْبِ بْنِ مَالِکٍ، عَنْ أَبِیْہٖ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، یَبْلُغُ بِہِ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَعْنِیْ ((أَنَّ أَرْوَاحَ الشُّہَدَائِ فِیْ طَیْرٍ خُضْرٍ تَعْلُقُ مِنْ ثَمَرِ الْجَنَّۃِ)) وَقُرِیئَ عَلٰی سُفْیَانَ: نَسَمَۃٌ تَعْلُقُ فِیْ ثَمَرَۃٍ أَوْ شَجَرِ الْجَنَّۃِ۔ (مسند أحمد: ۲۷۷۰۸)
۔ سیدنا کعب بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بیشک شہداء کی روحیں سبز پرندوں میں جنت کے پھلوں یا درختوں سے لٹکتی ہیں۔
Takhreej
(۴۸۷۶) تخریج: حدیث صحیح دون لفظ الشھدائ والصحیح ان نسمۃ المؤمن ، أخرجہ الترمذی:۱۶۴۱(انظر: ۲۷۱۶۶)
4876
Sahih
شہداء کی فضیلت
۔ (۴۸۷۷)۔ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ، قَالَ: وَعَدَنَا رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی غَزْوَۃِ الْہِنْدِ، فَإِنْ اسْتُشْہِدْتُ کُنْتُ مِنْ خَیْرِ الشُّہَدَائِ، وَإِنْ رَجَعْتُ فَأَنَا أَبُو ہُرَیْرَۃَ الْمُحَرَّرُ۔ (مسند أحمد: ۷۱۲۸)
۔ سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہم سے غزوۂ ہند کا وعدہ کیا، اگر میں اس میں شہید ہو گیا تو میں بہترین شہید ہوں گا اور اگر میں اس سے واپس آ گیا تو ابو ہریرہ (آگ سے) آزاد ہو کر واپس آئے گا۔
Takhreej
(۴۸۷۷) اسنادہ ضعیف، جبر بن عیبدۃ لم یعرف من ذا ، أخرجہ النسائی: ۶/ ۴۲(انظر: ۷۱۲۸)
Explanation
فوائد:… غزوۂ ہند کے بارے میں درج ذیل حدیث صحیح ہے، جو مذکورہ بالا حدیث کے الفاظ وَعَدَنَا رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی غَزْوَۃِ الْہِنْدِ کا شاہد بن سکتی ہے۔
4877
Zaeef
شہداء کی فضیلت
۔ (۴۸۷۸)۔ (وَعَنْہٗ أَیْضًا) أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَا یَجِدُ الشَّہِیْدُ مِنْ مَسِّ الْقَتْلِ اِلَّا کَمَا یَجِدُ أَحَدُکُمْ مَسَّ الْقَرْصَۃِ۔)) (مسند أحمد: ۷۹۴۰) (۴۸۷۸)۔ (وَعَنْہٗ أَیْضًا) أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَا یَجِدُ الشَّہِیْدُ مِنْ مَسِّ الْقَتْلِ اِلَّا کَمَا یَجِدُ أَحَدُکُمْ مَسَّ الْقَرْصَۃِ۔)) (مسند أحمد: ۷۹۴۰)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: شہید قتل کی ضرب سے کوئی تکلیف نہیں پاتا، مگر اتنی جنتی تم میں سے کوئی چٹکی یا ڈنک کی تکلیف محسوس کرتا ہے۔
Takhreej
(۴۸۷۸) اسنادہ قوی، أخرجہ النسائی:۶/ ۳۶، والترمذی: ۱۶۶۸، وابن ماجہ: ۲۸۰۲(انظر: ۷۹۵۳)
Explanation
فوائد:… شہادت کی خوشی اور جذبۂ ایمان کی شدت قتل کی تکلیف کا احساس ختم کر دیتی ہے۔
4878
Sahih
شہداء کی فضیلت
۔ (۴۸۷۹)۔ (وَعَنْہٗ أَیْضًا) قَالَ:قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((کُلُّ کَلْمٍ یُکْلَمُہُ الْمُسْلِمُ فِی سَبِیلِ اللّٰہِ، ثُمَّ یَکُونُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ کَہَیْئَتِہَا إِذَا طُعِنَتْ تَنْفَجِرُ دَمًا اللَّوْنُ لَوْنُ الدَّمِ وَالْعَرْفُ عَرْفُ الْمِسْکِ۔)) قَالَ أَبِی: یَعْنِی الْعَرْفَ الرِّیحَ۔ (مسند أحمد: ۸۱۹۰)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ہر زخم جو اللہ تعالیٰ کے راستے میں مسلمان کو لگتا ہے، یہ قیامت کے دن اسی ہیئت پر ہو گا، جب وہ زخم لگا گیا لیکن اس سے خون بہہ رہا ہو گا کہ اس کا رنگ تو خون والا ہو گا، لیکن خوشبو کستوری کی ہو گی۔
Takhreej
(۴۸۷۹) تخریج: أخرجہ البخاری: ۲۳۷، ومسلم: ۱۸۷۶(انظر: ۸۲۰۵)
Explanation
فوائد:… زخموں کا اس طرح تازہ ہونا اور خون بہانا، یہ دراصل شہید کی فضیلت ہو گی اور شہادت کی دلیل بھی ہو گی۔
4879
Sahih
شہداء کی فضیلت
۔ (۴۸۸۰)۔ (وَعَنْہٗ أَیْضًا) قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((یَضْحَکُ اللّٰہُ لِرَجُلَیْنِ، یَقْتُلُ أَحَدُہُمَا الْآخَرَ کِلَاہُمَا یَدْخُلُ الْجَنَّۃَ۔)) قَالُوْا کَیْفَ یَا رَسُولَ اللّٰہِ؟ قَالَ: ((یَقْتُلُ ہٰذَا فَیَلِجُ الْجَنَّۃَ، ثُمَّ یَتُوبُ اللّٰہُ عَلَی الْآخَرِ فَیَہْدِیہِ إِلَی الْإِسْلَامِ، ثُمَّ یُجَاہِدُ فِی سَبِیلِ اللّٰہِ فَیُسْتَشْہَدُ۔)) (مسند أحمد: ۸۲۰۸)
۔ سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ یہ بھی بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ دو آدمیوں کی طرف ہنستے ہیں، حالانکہ ان میں سے ایک دوسرے کو قتل کرتا ہے، لیکن وہ دونوں جنت میں داخل ہو جاتے ہیں۔ لوگوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! وہ کیسے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ایک شہید ہو کر جنت میں داخل ہو جاتا ہے، پھر اللہ تعالیٰ دوسرے یعنی قاتل پر رجوع کرتا ہے اور اس کو اسلام کی طرف ہدایت دے دیتا ہے، پھر وہ اللہ کی راہ میں جہاد کرتا ہے اور شہید ہو جاتا ہے۔
Takhreej
(۴۸۸۰) تخریج: أخرجہ البخاری: ۲۸۲۶، ومسلم: ۱۸۹۰(انظر: ۸۲۲۴)
4880
Sahih
شہداء کی فضیلت
۔ (۴۸۸۱)۔ عَنْ طَلْحَۃَ بْنِ عُبَیْدِ اللّٰہِ، قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حَتّٰی أَشْرَفْنَا عَلٰی حَرَّۃِ وَاقِمٍ قَالَ: فَدَنَوْنَا مِنْہَا فَإِذَا قُبُورٌ بِمَحْنِیَّۃٍ، فَقُلْنَا: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! قُبُورُ إِخْوَانِنَا ہٰذِہِ، قَالَ: ((قُبُورُ أَصْحَابِنَا۔)) ثُمَّ خَرَجْنَا حَتّٰی إِذَا جِئْنَا قُبُورَ الشُّہَدَائِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((ہٰذِہِ قُبُورُ إِخْوَانِنَا۔)) (مسند أحمد: ۱۳۸۷)
۔ سیدنا طلحہ بن عبید اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ نکلے، یہاں تک کہ (مدینہ کے) واقم ٹیلے کے پاس موجود حرّہ ہمیں نظر آنے لگا، جب ہم اس کے قریب پہنچے تو نظر آیا کہ وہاں وادی کے پست مقام پر چند قبریں تھیں، ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول! یہ ہمارے بھائیوں کی قبریں ہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ ہمارے ساتھیوں کی قبریں ہیں۔ پھر ہم آگے بڑھے، یہاں تک کہ شہداء کی قبروں کے پاس پہنچ گئے، وہاں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ ہمارے بھائیوں کی قبریں ہیں۔
Takhreej
(۴۸۸۱) تخریج:اسنادہ حسن، أخرجہ أبوداود: ۲۰۴۳(انظر: ۱۳۸۷)
Explanation
فوائد:… آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجاہدین کی فضیلت و کرامت کو ثابت کرنے کے لیے ان کو اخوت کے ساتھ خاص کیا۔
4881
Sahih

Chapters

53
01
جہاد، رباط اور مجاہدین کی فضیلت جہاد کی فضیلت اور اس کی ترغیب
11 Hadith
02
جہاد کا واجب ہونا اور اس کی رغبت دلانا
8 Hadith
03
اللہ تعالیٰ کی راہ میں رباط اور پہرے کی فضیلت کا بیان
12 Hadith
04
اللہ تعالیٰ کی راہ میں جہاد کرنے والوں کی فضیلت
24 Hadith
05
بحری جہاد کرنے والوں کی فضیلت
4 Hadith
06
جہاد میں نیت کو خالص کرنا اور اس میں اجرت لینے کا بیان
12 Hadith
07
مجاہد کی اعانت، اس کو تیار کرنے، اس کے اہل و عیال کا جانشیں بننے اور اللہ تعالیٰ کے راستے میں خرچ کرنے کی فضیلت
12 Hadith
08
مجاہدوں کی بیویوں کی حرمت اور مجاہد کے اہل کے معاملے میں خیانت کرنے والے کی وعید کا بیان
4 Hadith
09
شہادت اور شہداء کی فضیلت کے ابواب اللہ تعالیٰ کی راہ میں ملنے والی شہادت کی فضیلت
6 Hadith
10
شہداء کی فضیلت
13 Hadith
11
ایسے شخص کا بیان، جو اللہ کی راہ میں شہید ہو جائے اور اس پر قرضہ بھی ہو
4 Hadith
12
اللہ کے راستہ کے شہداء کی اقسام اور ان کی نیتوں کے اعتبار سے ان کے درجات کا بیان
6 Hadith
13
شہداء کا جامع تذکرہ اور اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والوں کے علاوہ شہداء کی اقسام کا بیان
18 Hadith
14
اس بات کا بیان کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے شہید کی وفات پائی
2 Hadith
15
اس آدمی کا بیان جو جہاد کا ارادہ کرے اور اس کے والدین زندہ ہوں
7 Hadith
16
اس چیز کا بیان کہ امام لشکر کے سپہ سالاروں سے مشورہ کرے، ان کی خیرخواہی کرے، ان کے ساتھ نرمی برتے اور ان سے ان کی ذمہ داریاں نبھانے کا عہد لے
3 Hadith
17
اس امر کا بیان کہ لشکر والوں پر ان کے امیر کی اطاعت فرض ہے، جب تک وہ ان کو نافرمانی کا حکم نہ دے اور پڑاؤ ڈالتے وقت بکھر جانے کی کراہت کا بیان
6 Hadith
18
قتال سے پہلے اسلام کی دعوت دینے اور امام کا لشکر کے امیر کو وصیت کرنے کا بیان
6 Hadith
19
لڑائی میں دھوکہ دینے، توریہ کرنے، بات کو چھپانے اور جاسوسوں کو بھیجنے کے جواز کا بیان
7 Hadith
20
سرایا اور جیوش کو ترتیب دینے اور جھنڈوں اور ان کے رنگوں کا اہتمام کرنے کا بیان
4 Hadith
21
مجاہد کو الوداع کہنے، اس کا استقبال کرنے اور امام کا اس کو وصیت کرنے کا بیان
12 Hadith
22
مخصوص اوقات میں غزوہ کے لیے روانہ ہونے کے مستحب ہونے، دشمن سے لڑائی شروع کرنے، صفوں کو ترتیب دینے اور مسلمانوں کے شعار کا بیان
10 Hadith
23
جنگ میں فخر کرنے کے مستحب ہونے اور دشمنوں سے مقابلہ کرنے کی تمنا کرنے اور لشکر کی اکثریت سے دھوکہ کھانے کی ممانعت کا بیان
5 Hadith
24
جس کے ہاں اسلام کی علامت موجود ہو، اس پر شب خون مارنے کے وقت رک جانے کا بیان
2 Hadith
25
اسلام کی معرفت ہو جانے کے بعد لڑائی کرنے والے سے رک جانے، اس کو قتل کر دینے کی وعید اور اس کا کلام نہ سمجھنے کی وجہ سے غلطی سے اس کو قتل کر دینے والے کے عذر کا بیان
8 Hadith
26
کافروں پر اچانک حملہ کرنے کا بیان، اگرچہ اس میں ان کے بچے قتل ہو جائیں
5 Hadith
27
عورتوں، بچوں، پادریوں اور انتہائی بوڑھے لوگوں کو بالارادہ قتل کرنے سے روکنے کا بیان
8 Hadith
28
مثلہ، جلانے، درخت کاٹنے اور عمارتیں گرانے سے ممانعت کا بیان، الا یہ کہ کوئی ضرورت اور مصلحت ہو
9 Hadith
29
لڑائی کے وقت بھاگ جانے کی حرمت کا بیان، الا یہ کہ آدمی نے اپنی جماعت کو ملنا ہو، اگرچہ وہ جماعت دور ہو
3 Hadith
30
فتح والے مقام میں تین دن ٹھہرنے کے مستحب ہونے کا بیان
2 Hadith
31
اس امر کا بیان کہ غنیمت کا حلال ہونانبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اور آپ کی امت کے خصائص میں سے ہے اور تقسیم سے قبل غنیمت سے متعلقہ احکام کاذکر
9 Hadith
32
جس جس عامل نے میدان جنگ میں اپنی طاقت کے بقدر کام کیا،ان میں برابری کے ساتھ مالِ غنیمت تقسیم کرنے کا بیان
4 Hadith
33
غنیمت کے خُمُس کا اللہ اور اس کے رسول کے لیے فرض ہونے اور اس کی تقسیم کا بیان
9 Hadith
34
غنیمت کے پانچ حصوں میں چار حصوں کی تقسیم، گھوڑ سوار اور پیادہ کا حق اور خاتون اور غلام وغیرہ کو معمولی مقدار میںعطیہ دینا
9 Hadith
35
اس چیز کا بیان کہ سلب قاتل کا ہو گا اور اس میں سے خُمُس نہیں لیا جائے گا
9 Hadith
36
لشکر کے بعض افراد کو اس بنا پر زائد حصہ دینے کا بیان کہ انھوں نے لڑائی لڑی یا مشکلات کو برداشت کیا
2 Hadith
37
لشکر کے سریہ کو زائد حصہ دینے اور پھر ان دونوں کو غنیمت میں شریک کرنے کا بیان
6 Hadith
38
مالِ فے کے مصرف کا بیان
6 Hadith
39
تالیف ِ قلبی کے لیے دینے کا بیان
2 Hadith
40
امیر اور عامل کے تحائف
2 Hadith
41
خیانت کے حرام ہونے اور اس میں سختی کا بیان، نیز خائن کا سامانِ سفر جلانے اور لوٹ مار کا بیان
12 Hadith
42
قیدیوں کے حق میں احسان کرنے، ان سے فدیہ لینے اور ان سے متعلقہ دوسرے احکام کے ابواب ہوازن کے وفود پر ان کے قیدیوں کے معاملے میں احسان کرنے کا باب
2 Hadith
43
سیدنا عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی قید اور فدیے اور اس معاملے میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ایک معجزے کا بیان
2 Hadith
44
اس آدمی کا بیان جس نے اپنے باپ کے فدیے میں چار ہزار درہم دیئے
3 Hadith
45
سیدہ زینب بنت رسول ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے خاوند سیدنا ابو العاص کا فدیہ
1 Hadith
46
ایک مشرک کے فدیے میں دو مسلمان لینے کا بیان ان قیدیوں کا بیان جنھوں نے اپنے فدیے میں انصاریوں کے بچوں کو کتابت کی تعلیم دی
4 Hadith
47
بدر کے قیدیوں کے فدیے اور اس کی وجہ سے نازل ہونے والے قرآن کا بیان
3 Hadith
48
ان امور سے ممانعت کابیان: احتلام ہونے یا زیر ناف بالوں کے اگنے سے پہلے قیدی کو قتل کرنا، دوسرے کے قیدی کو قتل کرنا، قیدیوں میں والدہ اور اس کی اولاد میں تفریق ڈالنا، حاملہ قیدی خواتین سے جماع کرنا اور قیدی کو باندھ کر مارنا
10 Hadith
49
اس قیدی کا بیان جو قید سے پہلے قبولیت ِ اسلام کا دعوی کر دے، نیز اسلام قبول کرنے والے قیدی کی فضیلت کا بیان
4 Hadith
50
مسلمان ہونے والے قیدی کا مسلمانوں کی ملکیت میں ہی رہنے کا اور عربوں کو غلام بنانے کے جواز کا بیان
3 Hadith
51
اس چیز کا بیان کہ جاسوس کے ساتھ کیا کیا جائے، وہ مسلمان ہو یا حربی یا ذمی
3 Hadith
52
اس چیز کا بیان کہ جب کافر کا غلام مسلمان ہو کر ہمارے پاس آ جائے تو وہ آزاد ہو گا
4 Hadith
53
اس چیز کا بیان کہ اگر حربی قابو میں آنے سے پہلے مسلمان ہو گیا تو اپنے مال کو بچا لے گا، نیز غنیمت والی زمین کا حکم
6 Hadith
No chapter matched that.