۔ (۱۰۹۵۸)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ بُرَیْدَۃَ قَالَ: غَزَوْتُ مَعَ عَلِیٍّ الْیَمَنَ فَرَأَیْتُ مِنْہُ جَفْوَۃً، فَلَمَّا قَدِمْتُ عَلٰی رَسُولِ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ذَکَرْتُ عَلِیًّا فَتَنَقَّصْتُہُ، فَرَأَیْتُ وَجْہَ رَسُولِ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یَتَغَیَّرُ، فَقَالَ: ((یَا بُرَیْدَۃُ! أَلَسْتُ أَوْلٰی بِالْمُؤْمِنِینَ مِنْ أَنْفُسِہِمْ۔)) قُلْتُ: بَلٰییَا رَسُولَ اللّٰہِ! قَالَ: ((مَنْ کُنْتُ مَوْلَاہُ فَعَلِیٌّ مَوْلَاہُ، مَنْ کُنْتُ وَلِیَّہٗ فَعَلِیٌّ وَلِیُّہٗ۔)) (مسند احمد: ۲۳۳۳۳)
سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں علی رضی اللہ عنہ کی معیت میںیمن کی طرف ایک غزوہ میں گیا، میں نے ان کے رویہ میں سختی دیکھی، سو جب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں آیا تو میں نے آپ کے سامنے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا ذکر کر کے ان کی شان میں کچھ نازیبا الفاظ کہے۔ پھر میں نے دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا چہرہ متغیر ہو نے لگا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے بریدہ! کیا میں مومنین پر ان کی جانوں سے زیادہ حق نہیں رکھتا؟ میں نے عرض کیا: کیوں نہیں، اے اللہ کے رسول، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں جس کامولیٰ ہوں، علی بھی اس کا مولیٰ ہے۔ دوسری روایت کے الفاظ یہ ہیں: میں جس کا دوست ہوں، علی رضی اللہ عنہ بھی اس کا دوست ہے۔
Takhreej
(۱۰۹۵۸) تخریج: اسنادہ صحیح علی شرط الشیخین، أخرجہ ابن ابی شیبۃ: ۱۲/ ۸۳، والنسائی فی الکبری : ۸۱۴۵، وفی خصائص علی : ۸۲، والحاکم: ۳/ ۱۱۰ (انظر: ۲۲۹۴۵)
Explanation
فوائد:…سیدنا علی رضی اللہ عنہ ورع اور تقوی سے متصف تھے، ممکن ہے ان کے کسی معاملے سے سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ متاثر ہو گئے ہو، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے قول و فعل کی روشنی میں وضاحت کر دی کہ کسی کو سیدنا علی رضی اللہ عنہ پر اعتراض کرنے کی گنجائش نہیں ہے۔
10958
Sahih