۔ (۱۱۳۵۸)۔ عَنْ عَلْقَمَۃَ، قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَۃَ رضی اللہ عنہا : أَکَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ یَخُصُّ شَیْئًا مِنَ الْأَیَّامِیَعْنِی بِالْعِبَادَۃِ؟ قَالَتْ: کَانَ عَمُلُہُ دِیْمَۃً، وَأَیُّکُمْ کَانَ یُطِیْقُ مَا کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یُطِیْقُ۔ (مسند احمد: ۲۶۰۷۷)
علقمہ سے مروی ہے کہ انہوں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے دریافت کیا کہ آیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عبادت کے لیے ایام مخصوص فرمایا کرتے تھے؟ انہوں نے جواب دیا: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عبادات کے لیے ایام مخصوص یا متعین نہیں کیا کرتے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اعمال دائمی ہوتے تھے۔ عمل کرنے کے لیے جس قدر استطاعت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رکھتے تھے تم میں سے کون اتنی استطاعت رکھتا ہے؟
Takhreej
(۱۱۳۵۸) تخریج: أخرجہ البخاری: ۱۹۸۷،ومسلم: ۷۸۳(انظر: ۲۵۵۶۲)
Explanation
فوائد:… زیادہ تر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عبادات دائمی اور مسلسل ہوتی تھیں، ما سوائے چند مواقع کے، جیسے شعبان میں روزے رکھنا، شب قدر میں قیام کرنا۔
11358
Sahih